Baaghi TV

Tag: غلاف کعبہ

  • حج سیزن،حرمِ میں غلافِ کعبہ کا نچلا حصہ حسبِ روایت  بلند کر دیا گیا

    حج سیزن،حرمِ میں غلافِ کعبہ کا نچلا حصہ حسبِ روایت بلند کر دیا گیا

    حرمِ میں غلافِ کعبہ (کسوہ) کے نچلے حصے کو ہر سال کی طرح اس سال بھی حج سیزن کے دوران زمین سے تین میٹر بلند کر دیا گیا ہے، جبکہ نیچے کے حصے کو سفید سوتی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

    حرمین شریفین کے امور کی نگران سعودی جنرل پریذیڈنسی کے مطابق یہ قدم غلافِ کعبہ کو زائرین کے ممکنہ لمس، دھکم پیل، گردوغبار اور دیگر عوامل سے محفوظ رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ عمل نہایت احتیاط اور احترام کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے تاکہ غلاف کی حفاظت اور تقدس برقرار رہے۔یہ روایتی اقدام ہر سال حج سے قبل انجام دیا جاتا ہے، جس کا مقصد کسوہ کی صفائی، حفاظت اور اس کے طویل مدتی تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس عمل میں کسوہ فیکٹری کے ماہرین، منتظمین اور متعلقہ عملہ خصوصی پروٹوکول کے تحت حصہ لیتا ہے۔

    حج سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر سے لاکھوں زائرین مکہ مکرمہ پہنچ رہے ہیں، جن میں سے اکثر غلافِ کعبہ کو چھونے یا اس سے برکت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی ممکنہ ہجوم سے غلاف کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کا نچلا حصہ وقتی طور پر بلند کر دیا جاتا ہے۔دوسری جانب سعودی وزارتِ مذہبی امور نے بھی حجاج کی سہولت کے لیے حج پروازوں کے شیڈول سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ پر آن لائن مذاکرات کا آغاز

    برطانیہ میں اسرائیل کو ایف-35 طیاروں کے پرزے دینے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج

    پاکستان کا جوابی وار،اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارتی اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم

    ڈیرہ اسماعیل خان،فورسز پر حملے کی کوشش ناکام، شرپسندوں کے ٹھکانے تباہ

    ٹرمپ کی ایک بار پھر پاک بھارت امن کی پیشکش،جنگ نہیں، تجارت کریں

  • غلاف کعبہ کی تیاری میں زائرین بھی حصہ لے سکیں گے

    غلاف کعبہ کی تیاری میں زائرین بھی حصہ لے سکیں گے

    ریاض: غلاف کعبہ کی کڑھائی، سلائی اور بنائی میں زائرین بھی حصہ لے سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سعودی عرب میں حرمین شریفین انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے الاخباریہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غلاف کعبہ کی کڑھائی، سلائی اور بنائی میں کسوہ نمائش کے وزیٹرز حصہ لے سکتے ہیں، انہیں اس کا موقع دیا جائے گا-

    حرمین شریفین انتظامیہ کے ماتحت نمائشوں اور عجائب گھروں کے ادارے کے سیکریٹری سطام المطرفی نے کہا کہ زائرین غلاف کعبہ کی تیاری کے تمام مراحل کا تعارف دیکھ سکیں گے نمائش میں اس کا اہتمام کیا گیا ہے علاوہ ازیں غلاف کعبہ کے مختلف حصوں کا انتخاب بھی نمائش میں سجایا گیا ہے۔

    سالانہ غسلِ کعبہ کی تقریب 15 محرم الحرام کو ہو گی

    سطام المطرفی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ دنیا بھر کے زائرین نمائش دیکھ کرمسجد الحرام، خانہ کعبہ اور غلاف کعبہ کے حوالے سے سعودی حکومت کی کاوشوں سے واقف ہوں‘ انہوں نے کہا کہ غلاف کعبہ کے مختلف حصوں کو دکھانے، غسل کعبہ کی رسم اور دیگر تقریبات کے حوالے سے ورچول نمائش اور ای ایپلی کیشنز کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔

    یوم عاشورہ جلوس میں لوہےکاعلم تار سےٹکرانے پرکرنٹ لگنےسے 4 افراد جاں بحق

    دوسری جانب سالانہ غسلِ کعبہ کی تقریب کا اہتمام 15 محرم الحرام یعنی 2 اگست کو نمازِ فجر کے بعد کیا جائے گا،سالانہ غسلِ کعبہ کی تقریب کے دوران مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد ا لفیصل خانہ کعبہ کی اندرونی دیواروں کو آبِ زم زم، عرقِ گلاب اور مشک سے دھوئیں گے جب کہ خانہ کعبہ کے فرش کو آبِ زم زم، عرقِ گلب اور عود کے عطر سے دھویا جائے گا۔

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کی اندرونی دیواروں اور فرش کو آبِ زم زم سے دھونے کے بعد ہاتھوں اور کھجور کے پتوں کی مدد سے خشک کیا جائے گا جب کہ سفید کپڑے کا استعمال دیواروں کو صاف کرنے کے لیے کیا جائے گا خیال رہے کہ غسلِ کعبہ کی یہ مقدس روایت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔

    یہ داستان غم سنو حضرت حسین کی ،کرتا ہوں میں بیاں شہادت حسین کی

  • یکم محرم کو غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کی تیاری مکمل

    یکم محرم کو غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کی تیاری مکمل

    سعودی عرب: مکہ مکرمہ میں غلاف خانہ کعبہ یکم محرم کو تبدیل کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق مسجد حرام میں خانہ کعبہ کے غلاف کی تبدیلی کی تیاری کرلی گئی کسوہ فیکٹری کی انتظامیہ کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے 670 کلو ریشم استعمال کیا گیا ہے غلاف کعبہ میں 120 کلوگرام سونا اور 100 کلوگرام چاندی کا بھی استعمال استعمال کیا گیا ہے-

    مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے سے متعلق تمام محکموں کی تیاری کو یقینی بنایا ہے خانہ کعبہ کے غلاف کو تبدیل کرنے کی ورک ٹیم میں غلاف بنانے والے، انجینئرز اور ٹیکنیشنز شامل ہیں۔ ٹیم کی ارکان کی مہارتوں کو تصدیق کر لی گئی ہے، غلاف کعبہ کی تبدیلی کیلئے 15 افراد کو فنی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔

    سویڈن: مقصدمقدس کتابوں کوجلانا نہیں تھا،صرف قرآن کی بیحرمتی کیخلاف آواز اٹھانا تھا.مسلم نوجوان

    فیکٹری انتظامیہ کے مطابق کمپلیکس نے نئے ہجری سال کے آغاز پر غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کی مکمل تیاری کرلی ہے غلاف کعبہ کی تیاری اور اس کی سلائی میں تربیت یافتہ اور اعلی مہارت رکھنے والے افراد حصہ لیتے ہیں نئے غلاف کعبہ کی ظاہری شکل کو بھی انتہائی شاندار معیار پر تیار کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال سے خانہ کعبہ کا غلاف یکم محرم کو تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ اس سے قبل 9 ذی الحجہ کو ہر سال اس وقت تبدیل کیا جاتا تھا جب عازمین میدان عرفات میں وقوف کیلئے جمع ہوتے تھے اور مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔

    امریکا کا ایف 16 طیارے خلیج بھیجنے کا اعلان

    غلاف کعبہ کی تیاری میں متعدد مشہور شخصیات حصہ لے چکی ہیں جن میں پاکستانی شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات سمیت قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی شامل ہیں جبکہ متعدد سیاسی شخصیات بھی کسوہ کی تیاری کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ کسوہ فیکٹری مسجد الحرام سے 10 منٹ کے فاصلے پر قائم ہے۔

  • غلاف کعبہ کو 3 میٹر اوپر اٹھا دیا گیا

    غلاف کعبہ کو 3 میٹر اوپر اٹھا دیا گیا

    مکہ: غلاف کعبہ کو 3 میٹر اوپر اٹھا دیا گیا،غلاف کعبہ جسے ’کسوہ‘ کہا جاتا ہے کو اوپراٹھانے کا مقصد حج کے دوران رش کے باعث اسے نقصان سے بچانا ہے۔

    باغی ٹی وی : حرمین شریفین کے امور کی نگراں وزارت کے مطابق غلاف کعبہ کو نیچے سے 3 اوپراٹھانے کے بعد چاروں طرف سےسفید کاٹن کے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا جسے ’احرام‘ کہا جاتا ہے غلاف کعبہ کو اوپر اٹھانے کے لیے 50 سے زائد ماہرین کی ٹیمیں ہیں اس کے لیے خصوصی سیڑھی استعمال کی جاتی ہے۔

    خیبرپختونخوا: طوفانی بارشوں کی وجہ سے جانی و مالی نقصان پروزیراعظم کا اظہار افسوس


    غلاف کعبہ اٹھانے کے کام کی نگرانی حرمین شریفین کے ڈائرکٹوریٹ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس نے کی حج ختم ہوتے ہی غلاف کعبہ کو سابقہ پوزیشن میں بحال کر دیا جائے گا۔

    حرم انتظامیہ کا کہنا تھا کہ غلاف کعبہ کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے رمضان المبارک اور حج سیزن میں بلند کردیا جاتا ہےان دنوں دنیا بھرسے لاکھوں کی تعداد میں عمرہ زائرین اور عازمین حج ارض مقدس آتے ہیں ان میں بعض لوگ غلاف کعبہ کا کچھ حصہ حاصل کرنے کے لیے اسے بلیڈ یا قینچی سے کاٹ لیتے ہیں اس لیے غلاف کو ان مواقع پر بلند کردیا جاتا ہے۔

    وزیراعظم کی سمندری طوفان کے پیش نظر پیشگی ہنگامی اقدامات کی ہدایت

    دوسری وجہ غلاف کعبہ کو بلند کرنے کی اسے صاف رکھنا ہے بیشتر عازمین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ غلاف سے لپٹیں اور اسے چومیں جس کی وجہ سے غلاف میلا ہو جاتا ہے غلاف کعبہ کو سال میں دو بار بلند کرنے کا عمل برسوں سے جاری ہے اور یہ ایک طرح سے روایت کا حصہ بن چکا ہے اسی لیے اس پر ہر برس عمل کیا جاتا ہے۔

  • غلاف کعبہ آئندہ ہفتے تبدیل کیا جائے گا

    غلاف کعبہ آئندہ ہفتے تبدیل کیا جائے گا

    مکہ مکرمہ: مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا غلاف آئندہ ہفتے کو تبدیل کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘ایس پی اے’ کی رپورٹ کے مطابق عمومی صدارت برائے انتظامی امور حرمین شریفین نے پیر کو بتایا ہے کہ ہفتے کو ‘کسوۃ الکعبہ’ یعنی غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے عمل میں 166 تکنیکی ماہرین اور کاریگروں کی ٹیم حصہ لے گی۔

    پرانے غلافِ کعبہ کی نئے غلاف سے تبدیلی المسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کے امور کے صدر جنرل شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز آلِ سعود کی نگرانی میں عمل میں لائی جائے گی۔

    خیال رہے کہ غلاف کعبہ کو ہر سال اسلامی سال کے مہینے ذی الحج کی نو تاریخ کو تبدیل کیا جاتا ہے البتہ رواں سال سعودی حکام نے اس کی تبدیلی یکم محرم الحرام یعنی نئے اسلامی سال 1444ھ کے آغاز پر کرنے کا اعلان کیا تھا اس سلسلے میں نیا غلافِ کعبہ عید الاضحیٰ کے روز کعبے کے کلید بردار کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

    المسجد الحرام کےامور پرمامور انڈر سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سعد بن محمد آل محمد کا کہنا تھا کہ غلافِ کعبہ کے لیے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں لگ بھگ 200 کاریگر اور منتظم کام کرتے ہیں کمپلیکس میں لانڈری اور آٹومیٹک ویونگ ڈیپارٹمنٹ، مینوئل ویونگ ڈیپارٹمنٹ، پرنٹنگ ڈیپارٹمنٹ، بیلٹ ڈیپارٹمنٹ اور گولڈ تھریڈ ڈیپارٹمنٹ، کسوہ سوئنگ اینڈ اسمبلنگ سیکشن شامل ہیں جس میں لمبائی کے حساب سے دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹرائزڈ سلائی مشین بھی شامل ہے اور اس کی لمبائی 16 میٹر ہے۔

    ڈاکٹر سعد کے مطابق غلافِ کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم کا استعمال کیا جاتا ہے جسے کمپلیکس کے اندر سیاہ رنگ سے رنگا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 120 کلو گرام سونے اور 100 کلو گرام چاندی کے دھاگے بھی غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔

  • غلاف کعبہ :مقدس ترین گھر کا مہنگا ترین غلاف کتنے میں تیار ہوتا ہے؟

    غلاف کعبہ :مقدس ترین گھر کا مہنگا ترین غلاف کتنے میں تیار ہوتا ہے؟

    خانہ کعبہ کی دیواروں اور باب کعبہ (دروازہِ کعبہ) کو جس کپڑے سے ڈھانپا جاتا ہے اسے غلاف کعبہ یا کسوہ (عربی: كسوة الكعبة) کہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے کام کرنے والے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس کے حکام کا کہنا ہے کہ غلاف کعبہ کی تکمیل کرلی گئی ہے اور اسے عیدالاضحیٰ کے مبارک دن اسے حوالے کیا جائے گا۔

    سینکڑوں کلو گرام ریشم، چاندی اور سنہری دھاگوں سے تیار کیا جانے والا خانہ کعبہ کا غلاف کئی دہائیوں سے ہر سال ذوالحجہ کے اسلامی مہینے میں حج کے موقع پر نو ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا رہا ہےہر سال غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تقریب نماز عشا کے بعد قریب پانچ گھنٹے تک جاری رہتی ہے اور اسے پوری دنیا میں لوگ براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔

    تاہم 2022 میں اس روایت میں تبدیلی لائی گئی ہے اور سعودی حکام کے مطابق رواں برس غلاف کعبہ کو عید کے ایام کے بجائے نئے اسلامی سال کے آغاز پر یعنی یکم محرم الحرام 1444ھ کو غلاف کعبہ کی زینت بنایا جائے گا –

    وزیر اطلاعات کے مشیر اور جنوبی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ مواصلات کے شعبے کے سربراہ فہیم بن حمید الحامد نے مکہ مکرمہ میں واقع غلاف کعبہ کمپلیکس کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ شاہی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس سال 10 ذی الحج کوخادم حرمین شریفین سے کسوہ کو سدنہ کے حوالے کیا جائے گا جب کہ سدنہ یکم محرم الحرام کو اسے صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے حوالے کرےگا-

    اس سلسلے میں حرمین شریفین کے امور کے صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شاہی حکم پر نیا غلاف دس ذوالحجہ کو خانہ کعبہ کے منتظمین کے حوالے کیا جائے گا اور اس کی تبدتلی کا عمل یکم محرم الحرم کو سرانجام پائے گا۔

    بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تاریخ کی تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔

    غلاف کعبہ کی تیاری کی بات کی جائے تو یہ دنیا کا مہنگا ترین غلاف ہے جس کی تیاری پر25 ملین سعودی ریال خرچ آتا ہے۔

    شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلاف کعبہ امور کے انڈر سیکرٹری جنرل عبدالحمید المالکی نے میڈیا انٹرویوز کے دوران کمپلیکس میں کعبہ کسوہ فیکٹری کے اندر کسوا صنعت کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ غلاف کعبہ کی تیاری آٹھ ماہ میں مکمل ہوتی ہے اور غلاف کعبہ 185 ہنر مندوں کی زہرمگرامہ سال بھر کی محنت سے تیار ہوتا ہے ان تمام کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ اپنے شعبے کے ماہر اور اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں-

    المالکی نے بتایا کہ کعبہ میں تقریباً 700 کلو گرام خالص ریشم، 300 کلو گرام کاٹن، 100 کلوگرام چاندی کا دھاگہ اور 120 کلوگرام چاندی کے تار کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ زمین پرموجود اللہ کے اس عظیم گھر خانہ کعبہ کا سب سے بڑا اور مہنگا لباس ہے۔

    غلافِ کعبہ کی تاریخ کیا ہے؟ خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا آغاز کب ہوا؟

    غلاف کعبہ کی تیاری کا آغاز کب ہوا اس کے متعلق درست معلومات موجود نہیں ہیں تاہم متعدد تاریخی کتب کے مطابق قبل از اسلام دور میں پہلی مرتبہ یمن کے بادشاہ طوبیٰ الحمیری نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا الحمیری نے مکہ سے واپسی پر ایک موٹے کپڑے کو استعمال کرتے ہوئِےغلاف کعبہ تیار کروایاتاریخی کتب میں اس موٹے کپڑے کو ’کشف‘ کا نام دیا گیا ہے انہوں یہ کام اسلام کے دور سے قبل کیا بعدازاں وہ مکہ آئے اوراطاعت کے ساتھ داخل ہوئے۔

    بعد ازاں اسی بادشاہ نے ’المعافیریہ‘ کپڑے سے غلاف تیار کروایا معافیریہ یمن کے ایک پرانے شہر کا نام تھا جہاں یہ کپڑا تیار ہوا تھا اس کے بعد انہوں نے الملا استعمال کیا جو ایک نرم اور باریک کپڑا تھا اس کو ربطہ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اسی طرح بعد ازاں غلاف کعبہ کے لیے الوصائل نامی سرخ دھاری دار یمنی کپڑے کا استعما ل کیا گیا۔

    طوبیٰ الحمیری کے بعد کے ادوار میں غلافِ کعبہ کے لیے مختلف کپڑے استعمال کیے جن میں چمڑے سے لے کر مصر کا قبطی کپڑا تک شامل تھا۔

    ماضی میں مصر سے تحفے کے طور پر ہر سال غلاف کعبہ بھجوایا جاتا تھا۔ اس دور میں جمال عبدالناصر حاکم تھے۔ لیکن 1962 میں جب غلاف کعبہ بندر گاہ پر پہنچا تو کافی دیر ہو گئی تھی۔ اس موقع پر سعودی عرب میں سنہ 1962 میں شاہ سعود نے شاہ فیصل کو غلاف کے لیے کارخانہ لگانے کا حکم دیا جس کو مکمل کیا گیا۔ تب سے اسے مقامی طور پر تیار کیا جارہا ہے اور سلسلہ جاری ہے۔

    شاہ عبدالعزیز کے دور میں اس غلاف کی تیاری کے لیے الگ سے ایک محمکہ قائم کیا گیا اور یوں اس مقصد کے لیے کپڑا مکہ میں ہی بننے لگا اور اس کام کے لیے ایک کارخانہ بھی لگایا گیا۔

    اس کارخانے میں غلاف کعبہ کی تیاری کے دوران استعمال ہونے والے پانی تک کو پاک کیا جاتا ہے اور غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال کیے جانے والے ریشم کو اس پاک پانی سے دھویا جاتا ہے اس کارخانے میں غلاف کعبہ کو جس ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اس پر سنہری اور چاندی کے تاروں سے قرانی آیات کندہ کی جاتی ہیں غلاف کی تیاری میں استعمال کیا جانے والا ریشم اٹلی جبکہ سنہری اور چاندی کی تاریں جرمنی سے آتی ہیں۔

    رئاسة شؤون الحرمين کی سرکاری ویب سائٹ پر اس غلاف کی تیاری سے متعلق معلومات دی گئی ہے جن کے مطابق غلافِ کعبہ کو بنانے کے لیے اٹلی سے لائے جانے والے ریشمی دھاگے اعلی معیار کی گریڈ (A5) کے ہوتے ہیں اور ان کی موٹائی تین ملی میٹر ہوتی ہے جو مضبوطی اور لچک کی ضمانت دیتی ہے۔

    ایک ریشم کا دھاگہ متعدد ٹیسٹ پاس کرتا ہے جس میں تھریڈ ٹیسٹ سے لے کر موٹائی، مضبوطی، رنگنے، میچنگ، دھوتے ہوئے رنگ اُترنے اور دھات کی تاروں کے ساتھ استعمال تک کے ٹیسٹ شامل ہیں ریشم کو سیاہ اور سبز رنگوں میں رنگا جاتا ہے اور غلاف کی تیاری کے دوران خصوصی کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

    غلاف کعبہ کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے شاہ عبد العزیز کمپلیکس میں ایک تجربہ کار ٹیم ان ٹیسٹوں کی نگرانی کرتی ہے اس غلاف کی تیاری پر لاگت کا تخمینہ لگ بھگ دو کروڑ سعودی ریال ہوتا ہے، یعنی تاریخ کا سب سے مہنگا غلاف-

    اس غلاف کی تیاری کے عمل کی نگرانی 200 سے زیادہ مینوفیکچررز کرتے ہیں جن میں بہترین قابلیت، تجربہ، سائنسی اور عملی قابلیت رکھنے والوں کو مسجدِ بنوی اور خانہ کعبہ کے امور کے لیے ملازمت پر رکھا گیا ہے-

    کپڑے کی تیاری کے حوالے سے کمپلیکس میں جدید جیکوارڈ مشینیں موجود ہیں یہ مشینیں قرآنی آیات کی کڑھائی، آیات اور دعاؤں کے لیے کالا ریشم تیار کرتی ہیں جبکہ سادہ ریشم بھی بناتی ہیں جن پر آیات پرنٹ کی جاتی ہیں اسی طرح چاندی اور سونے کے دھاگوں سے کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے یہ مشینیں غلاف کعبہ کی ریکارڈ وقت میں تیاری کے لیے فی میٹر نو ہزار 986 دھاگے استعمال کرتی ہیں۔

    پرنٹنگ کے شعبے میں کام غلاف کعبہ کی پٹی پر آیات کی پرنٹنگ سے شروع ہوتا ہے۔ سادہ ریشم کو سب سے اوپر لگایا جاتا ہے۔ کارکن قرآنی آیات کی پرنٹنگ کے لیے سلک سکرین، سفید اور زرد روشنائی استعال کرتے ہیں کمپلکس کا بیلٹ ڈیپارٹمنٹ سونے اور چاندی سے ہونے والی کشیدہ کاری کے معاملات دیکھتا ہے۔

    اس عمل میں سوتی اور دوسرے دھاگوں کو استعمال کر کے کپڑے پر پرنٹنگ کی جاتی ہے۔ اس دوران کارکن مسلسل متحرک رہتے ہیں اور ضروری ٹانکے لگاتے ہیں۔

    غلاف کعبہ کی پٹی، جس پر قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں، کے لیے 16 ٹکڑے تیار کیے جاتے ہیں جبکہ مختلف سائز کے چھ ٹکڑے پٹی کے نیچے اور چار مضبوط ٹکڑے کعبہ کے چاروں کونوں کے لیے بنتے ہیں۔ اسی طرح دیگر حصوں میں 12 مشعلیں پٹی کے نیچے، پانچ ٹکڑے حجر اسود کے اوپر اور کعبہ کے دروازے کا پردہ بھی شامل ہے۔

    حج کے موقع پر غلاف کعبہ کو تقریباً تین میٹر تک اوپر اٹھا دیا جاتا ہے اور نیچے کی جگہ کو سفید سوتی کپڑے سے ڈھک دیا جاتا ہے تاکہ کسوہ صاف رہے اور پھٹنے سے محفوظ رہ سکے۔

    غلاف کعبہ کا رنگ مختلف ادوار میں تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔

    پیغمبر اسلام نے غلاف کعبہ کے لیے سفید اور سرخ دھاریوں کا یمنی کپڑا استعمال کیا تھا عباسی دور میں غلاف کعبہ کے لیے ایک بار سرخ اور ایک بار سفید کپڑے کا استعمال کیا گیا، تاہم سلجوقی سلطان نے غلاف کعبہ زرد رنگ کے کمخواب سے بنوایا۔

    عباسی خلیفہ الناصر نے پہلے سبز اور پھر سیاہ کمخواب کے ساتھ غلاف کعبہ تبدیل کیا اور یہی سیاہ رنگ آج تک چلا آ رہا ہے ’ قبطی کپڑا مصر سے لایا گیا جو غلاف کعبہ کے لیےاستعمال کیے جانے والے کپڑوں میں سے سب سے اچھی قسم کا تھا۔ اسی طرح یمنی غلاف کعبہ بھی اعلیٰ قسم کا کپڑا تھا جو اپنے دور میں بہت مشہور تھا‘۔

    سینٹر آف مکہ ہسٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواز الدہاس نے 2020 میں دیئے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ غلاف کعبہ کے لیے ایک بار سفید، ایک بار سرخ اور ایک مرتبہ سیاہ رنگ استعمال کیا گیا۔ رنگوں کا انتخاب ہر دور کے مالی وسائل کے لحاظ سے رہا ہے۔

    مختلف ادوار میں غلاف کعبہ کے رنگ تبدیل کیے جانے کے حوالے سے فواز الدہاس نے بتایا تھا کہ سفید ایک اجلا رنگ ہے، لیکن یہ دیرپا نہیں ہے۔ حاجیوں کے چھونے کی وجہ سے یہ اکثر میلا، گندا اور پھٹنے لگتا تھا۔ یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا تھا۔ اس لیے اسے سیاہ اور سفید کمخواب اور شملہ کے ساتھ تبدیل کیا گیا جو عرب خیموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھامالی وسائل کی مناسبت سےغلاف کعبہ کا کپڑا تبدیل ہوتا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ انسانوں کی سمجھ کے مطابق غلاف کعبہ کا ارتقا ہوتا رہا اور اسے سرخ کمخواب اور مصری کپڑے کے ساتھ تبدیل کیا گیا۔ اسی طرح ایک خاص قسم کا چمڑا اور کچھ سخت قسم کے کپڑے بھی اس مقصد کے لیے استعمال ہوئے خلافت راشدہ، اموی اور عباسی ادوار میں جب بھی کپڑا دستیاب ہوتا غلاف کعبہ وقتا فوقتا تبدیل ہوتا رہا‘۔

    عباسی دور کے آخر میں غلاف کعبہ کے لیے سیاہ رنگ کو حتمی طور پرمنتخب کیا گیا جو دیرپا تھا اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے حاجیوں، زائرین اور لوگوں کی طرف سے چھوئے جانے کو برداشت کر سکتا تھا-

  • سعودی عرب میں رواں برس غلافِ کعبہ حج پر تبدیل نہیں کیا جائے گا

    سعودی عرب میں رواں برس غلافِ کعبہ حج پر تبدیل نہیں کیا جائے گا

    مکہ: سعودی عرب میں رواں برس غلافِ کعبہ حج پر تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ شیخ ڈاکٹرعبدالرحمٰن السدیس نے بتایا کہ ایوان شاہی سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اس سال غلاف کعبہ 10 ذی الحجہ عید الاضحیٰ کو کلید بردار کعبہ کے سربراہ کے حوالے کیا جائے-

    ایوان شاہی نے اس سال نیا غلاف یکم محرم کو پرانے غلاف کی جگہ چڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    اس سے قبل خانہ کعبہ کا غلاف 9 ذی الحجہ کو ہر سال اس وقت تبدیل کیا جاتا تھا جب عازمین میدان عرفات میں وقوف کے لیے جمع ہوتے تھے اور مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔

    واضح رہے کہ مناسک حج کا آغاز کل سے ہوگا کوویڈ کے بعد پہلی بار 10 لاکھ عازمین حج کریں گے دنیا بھر سے سعودی عرب میں عازمین حج کی آمد مکمل ہوچکی ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے عازمین میں ساڑھے 8 لاکھ غیرملکی بھی شامل ہیں۔

    حکام کے مطا بق دوران حج مسجدالحرام کو دن میں 10 بار دھویا جائےگا اور ہر بار ایک لاکھ 30 ہزار لیٹرجراثیم کُش محلول بھی استعمال کیا جائےگا سعودی عرب نے 45 سال سے کم عمر کی خواتین کوبھی بغیر محرم حج کی اجازت دی ہے۔

    علاوہ ازیں صدارتِ عامہ برائےالحرمین الشریفین نے عازمینِ حج وعمرہ اور عام زائرین کی رہ نمائی کے لیے اپنے مُتَرجِمین کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور اب اس کے مترجمین شرعی مسائل کے جوابات دینے کے لیے 24 گھنٹے موجودہوں گے۔

    صدارتِ عامہ کے شعبہ دعوت وارشاد اور زبان وترجمہ کے مطابق مختلف زبانوں کے 14 نئے مترجمین کا اضافہ کیا گیا ہے اوران کے تقرر کے بعد اب مترجمین کی کل تعداد 27 ہوگئی ہے۔وہ زائرین حرم کومختلف زبانوں میں ترجمے کے لیے دستیاب ہوں گے۔

    اس وقت صدارتِ عامہ کے تحت انگریزی، ترکی، اردو، فارسی، فرانسیسی، ہسپانوی، مالے، بنگلہ، انڈونیشی، تامل، پشتو اور ہاؤسا جیسی زبانوں میں مترجمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔عربی زبان کے علاوہ دنیا کی چودہ زبانوں میں شرعی مسائل ومواد کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے اوراب مترجمین عازمین حج وعمرہ کے علاوہ عام زائرین حرم کے سوالات کے جوابات دیں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق وہ صدارتِ عامہ کے پروگرام ’’ہم آپ کی زبان میں آپ کی رہ نمائی کرتے ہیں‘‘ کے ذریعے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔اس پروگرام میں مفت فون کی سہولت کے ذریعے سائلین اپنے شرعی مسائل کا جواب حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ روبوٹ کے ذریعے بھی ان کی رہ نمائی کی جائے گی۔

  • بابر اعظم نےغلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کرلی

    بابر اعظم نےغلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کرلی

    ریاض :قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی ہے۔بابراعظم نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر مسجدالحرام سے اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے۔

    اس تصویر میں بابراعظم عمرے کی ادائیگی کے لیے مذہبی تعلیمات کے مطابق گنجے ہوئے اور احرام باندھے نظر آرہے ہیں۔

    اُنہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ’اللّٰہ کے پہلے گھر کی دہلیز پر حاضری نصیب ہوئی‘۔اُنہوں نے مزید لکھا کہ’میری خوش قسمتی دیکھو کہ مہمانِ حرم ٹھہرا‘۔

     

    View this post on Instagram

     

    A post shared by Babar Azam (@babarazam)

    بابر اعظم کی اس پوسٹ کو صرف 15 گھنٹوں میں 3 لاکھ 47 ہزار سے زائد لوگ لائیک کرچکے ہیں۔جبکہ مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے عمرے کی ادائیگی پر مبارکبادیں بھی دی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ کچھ صارفین کی جانب سے بابر اعظم کو گنجا ہوئے دیکھ کر دلچسپ تبصرے بھی کیے جارہے ہیں۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کی سعادت حاصل کرلی۔

    بابر اعظم ان دنوں عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عمرہ ادا کرنے کے بعد غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کا شرف حاصل کیا۔قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہیں غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • یشما گل نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی،غلاف کعبہ بھی تحفے میں مل گیا

    یشما گل نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی،غلاف کعبہ بھی تحفے میں مل گیا

    کراچی: پاکستانی اداکارہ یشما گل نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی اور انہیں غلاف کعبہ بھی تحفے میں مل گیا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر کچھ تصاویر اور ویڈیو پوسٹ کیں جن میں انہیں غلاف کعبہ ہاتھ میں پکڑے دیکھا جاسکتا ہے۔

    سینیما کی بحالی کے بعد کتنے کروڑ سعودی شہری فلم دیکھ چکے ہیں؟

    اپنی پوسٹ کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’میں بتا نہیں سکتی کہ میں کیسا محسوس کر رہی ہوں۔ ان جذبات کو الفاظوں میں نہیں ڈھالا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کہ اللہ نے مجھے اپنے گھر آنے کا موقع دیا وہ بھی رمضان المبارک میں بےشک وہ ہر چیز پے قادر ہے سب کچھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مرضی سے ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے عمرہ ممکن ہوا،اللہ نے ہی مجھے ایسے لوگوں سے ملوایا جن سے ملاقات میری خوش نصیبی ہے اور انہوں نے مجھے دین کے بارے میں بہت کچھ بتایا اور سب سے بڑھ کر واپسی پر مجھے ایک تحفہ دیا جو اللہ کے گھر کا ایک حصہ ہے اور مجھے اس کے قریب کرتا ہے۔

    مایا علی اور عثمان خالد بٹ نے شادی اور دو بچوں کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

    انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے ایسا کیا کیا کہ میں اس لائق ہوئی مگر دعا ہے کہ اللہ مجھ سے راضی رہے اور سیدھے راستے پر چلائے آمین۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل اداکارہ یشما گل عمرہ کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئی تھیں۔

    یشما گل کے مداحوں اور ساتھی اداکاروں کی جانب سے اداکارہ کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی مبارک باد دی جارہی ہے۔

    بیٹی سے متعلق صاحبہ کے بیان پر فنکاروں کا ردعمل

    قبل ازیں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ بھی اپنے شوہر بلال شاہ کے ہمراہ عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچیں تھیں انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ٹک ٹاکر حریم شاہ نے چند ویڈیوز جاری کی تھیں جس میں انہوں نے برقع پہنے اور چہرے کو ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا جبکہ حریم شاہ کے شوہر بلال شاہ نے احرام پہن رکھا تھا-

    دوسری جانب دینِ اسلام کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کی خاطر بالی ووڈ کو خیر باد کہنے والی سابق اداکارہ ثنا خان نے شوہر مفتی انس سید کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کرلی ہے ثنا خان نے سماجی رابطے کی فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شوہر کے ساتھ تصویر شیئر کی تھی جس میں دونوں مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے دیکھے جاسکتے ہیں۔

    آغا علی نے اپنی اور حنا الطاف کی علیحدگی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

    سابق اداکارہ نے کیپشن میں لکھا تھا الحمداللہ، اللہ کی مدد سے ہم نے عمرے کی ادائیگی مکمل کرلی ہے، اللہ ہم سب کے عمرے کی ادائیگی اور عبادات کو قبول فرمائے، جو لوگ اب تک یہاں نہیں آسکے ان کے لیے اللہ دروازے کھولے۔

    علاوہ ازیں بھارتی ماڈل گوہر خان نے بھی اپنے شوہر زید دربار کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کر لی ہے-

    دائرہ اسلام میں داخل ہونے والےسابق جنوبی کورین پاپ گلوکار کی عمرے کی تصاویر سوشل…