Baaghi TV

Tag: غلطیاں

  • کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانا ایک بہت بڑا رسک ہے کھانا پکانے کے دوران درست طریقے سے محفوظ نہ کی جانے والی خوارک، گلے سڑے کھانوں اور اس سے پیدا ہونے والے بیکٹریا ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں جو جان لیوا امراض کا سبب بنتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: "نیویارک پوسٹ” کے مطابق سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن نے اپنی ایک رپورٹمیں بتایا کہ ہر سال 6 میں سے ایک امریکی شہری فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوتا ہے جس کے باعث 1 لاکھ 28 ہزار ہسپتال میں علاج کے لیے جاتے ہیں جبکہ 3 ہزار افراد ایسے ہی امراض کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    اس قسم کی بیماریوں سے عام طور پر مناسب خوراک کی حفاظت اور ہینڈلنگ کے رہنما خطوط پر عمل کر کے بچا جا سکتا ہے۔باورچی خانے میں کھانا پکانے کے دوران ہم ایسی غلطیاں کرتے ہیں جسے ہم عام سمجھتے ہوئے نظر انداز کرلیتے ہیں اور یہی چھوٹی غلطیاں ہماری موت کا باعث بنتی ہیں لیکن ہم اپنی غلطیوں پر قابو پا کر ہم معدے سمیت دیگر امراض کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔

    1. کھانا پکانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہ دھونا

    ہاتھ دھونا کھانا پکانے کا بنیادی اصول ہے پھر بھی لوگ اس پر عمل کرنا بھول جاتے ہیں،کارنیل یونیورسٹی میں فوڈ سائنس کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر رابرٹ گراوانی نے بتایا کہ ہاتھ دھونے سے بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے،خاص طور پر اگر لوگوں نے ابھی بیت الخلاء استعمال کیا ہے یا ڈائپر تبدیل کیا ہے۔

    سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن کے مطابق بغیر ہاتھ دھوئے کھانے سے، آپ کی انگلیوں اور ناخنوں پر لگے ہوئے جراثیم آپ کے کھانے میں پہنچ سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی کھانے کی چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اینٹی بیکٹریل صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

    روزہ اور سائنس

    اپنے ہاتھوں کو صاف کرنے کا ماہر کا تجویز کردہ طریقہ یہ ہے کہ صابن اور گرم پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں اورکچے گوشت کو سنبھالنے کے بعد انہیں دوبارہ دھونا نہ بھولیں اور یہاں تک کہ آپ کے پسندیدہ مصالحے، گوشت سے بیکٹیریا پھیلا سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ کچا کھانا یا گوشت تیار کر رہے ہوتے ہیں، تو مسالوں کے استعمال کیلئے ڈبوں کو کھولتے ہیں گروانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "وہ مسالے کے ڈبے کچے گوشت سے آلودہ ہو سکتے ہیں جسے آپ نے ابھی چھوا ہے۔

    2.گوشت کو نلکے کے نیچے دھونا:

    اکثر لوگ گوشت کو نلکے کے نیچے دھوتے ہیں تاہم کنزیومر رپورٹس ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی ریسرچ اینڈ ٹیسٹنگ کے جیمز راجرز کا کہنا ہے کہ گوست کو سادے پانی سے دھونے سے بیکٹریا سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاسکتااسے نلکے کے نیچے دھونے کے بجائے کسی برتن میں پانی لیں اور پھر گوشت کو دھونا شروع کریں، کوشش کریں کہ پانی کے چھینٹے آپ کے کپڑوں پر نہ لگیں کیونکہ گوشت میں پہلے کئی جراثیم موجود ہوتے ہیں –

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    گوشت کو سادے پانی سے دھونے کے بعد اسے مصالحہ لگانے سے قبل ابلے ہوئے گرم پانی میں رکھ لیں یا ابال لیں تاکہ جراثیم سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے خوش قسمتی سے، کچے گوشت پر پائے جانے والے بیکٹیریا، جیسے کیمپیلو بیکٹر، کلوسٹریڈیم پرفرینجینز اور سالمونیلا مرجاتے ہیں جب مرغی کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ پر پکایا جاتا ہے-

    3. کچے اور پکے ہوئے گوشت کو سنبھالتے وقت ایک ہی برتن کا استعمال کرنا

    گروانی نے بتایا کہ گوشت کو کچا ہونے پر اور جب اسے پکایا جائے تو اسے سنبھالنے کے لیے ایک ہی برتن کا استعمال آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کچے اور پکے کھانوں کے لیے ایک ہی چمچ یا برتن استعمال کرنا بھی جراثیم کو دعوت دینے کے مترادف ہے-

    مثال کے طور پر گوشت کو کاٹنے والی چھری کو اگر دھوئے بغیر سلاد کے لیے استعمال کریں تو یہ مضر صحت ہے، گوشت کے بیکٹریا سلاد میں منتقل ہوجائیں گے اس لیے کچے اور پکے کھانوں کے لیے الگ الگ برتن، چمچ یا چھری کا استعمال کریں، یا پھر اسے اچھی طرح دھونے کے بعد استعمال کریں-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    4.جمے ہوئے گوشت کو باورچی خانے میں پگھلنے رکھنا

    فریزر سے گوشت نکال کر باروچی کھانے میں نرم ہونے کے لیے رکھنا بہت بڑی غلطی ہے، اسے سے گوشت میں موجود مائیکرو آرگنزم ہر طرف پھیل سکتے ہیں اس لئے اس کو پہلے فریج میں رکھیں یا اگر آپ جلدی میں ہیں تو اسے مائکروویو میں رکھیں۔

    5.پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر کھانے سے جراثیم کا خطرہ ختم ہوجاتا ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق یہ سچ نہیں ہے،بظاہر نظر نہ آنے والے جراثیم سادے پانی سے دھونے کے بعد بھی موجود رہتے ہیں اس لیےسبزیوں اور پھلوں کو سوڈیم ہائیپو کلورائیٹ والے پانی میں بھگوئے رکھیں اور پھر نلکے والے پانی سے دھو لیں، ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ابلے ہوئے گرم پانی میں سبزیوں کو بگھو دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    6.اپنے کھانے کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں – کم از کم کچن کاؤنٹر پر نہیں جو کھانا دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا گیا ہو اسے پھینک دینا چاہیے، ورنہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا پنپنا شروع کر سکتے ہیں۔

    گروانی نے انکشاف کیا کہ "لوگ خاص طور پر تعطیلات کے دوران کھانے کو زیادہ دیر تک باہر چھوڑ دیتے ہیں۔” "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمیں خراب ہونے والی خوراک اور بچا ہوا کھانا دو گھنٹے کے اندر فریج میں مل جائے لیکن خبردار رہے، فریج میں چار دن سے زیادہ بچا ہوا کھانا کھانے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی پچھلے سال، یونیورسٹی کے ایک 19 سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر سیپسس ہو گیا تھا، اور آلودہ بچا ہوا کھانے کے بعد اس کی ٹانگیں اور انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ چکھنا اور سونگھنا اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا کھانا اب بھی "اچھا” ہے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بیماری سے بچنے کے لیے کھانے کے ذخیرہ کرنے کے تجویز کردہ اوقات پر عمل کرنا یقینی بنائیں۔

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    سی ڈی سی کا کہنا ہےکمزور مدافعتی نظام کے لوگ 5 سال سے کم عمر کے بچے؛ حاملہ افراد؛ اور 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کوخاص طور پر کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔

    گروانی انڈوں کو آسان یا درمیانے نایاب اسٹیک پر آرڈر کرنے سے پہلے دو بار سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔یہ مصنوعات آلودہ ہوسکتی ہیں، حالانکہ ان میں سے زیادہ تر نہیں ہیں ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ، لہذا وہ خود کو بیماری کے امکان کے بارے میں نہیں جانچتے-

  • نصابی کتب میں غلطیوں کیخلاف درخواست، سیکرٹری تعلیم ،چیئرمین بورڈ کی طلبی

    نصابی کتب میں غلطیوں کیخلاف درخواست، سیکرٹری تعلیم ،چیئرمین بورڈ کی طلبی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،نصابی کتب میں غلطیوں کیخلاف درخواست پر سیکرٹری تعلیم اور چیئرمین فیڈرل تعلیمی بورڈ ذاتی حیثیت میں طلب کرلئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک خاتون شہری کی درخواست پر سماعت کی ،خاتون وکیل نے نصاب کی نگرانی اور سٹینڈرڈ آف ایجوکیشن ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کی استدعا کر رکھی ہے، عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل بورڈ سمیت فریقین کے وکلاء عدالتی سوالات کے جواب دینے میں ناکام ہو گئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو اپنے کیس کا ہی پتہ نہیں، نصاب ڈیزائن کون کرتا ہے؟ سادہ سا سوال پوچھا ہے بتا دیں کون نصاب تیار کرتا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے بھی یہی کہا ہے کہ اُسے پتہ نہیں چل رہا کون نصاب بنا رہا ہے؟آپ لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ کون نصاب بنا رہا ہے تو سیکرٹری کو بلاتے ہیں، درخواست گزار نے کہا کہ نصاب میں غلطیاں بھی موجود ہیں بچوں کو پڑھاتے ہوئے نظر آئیں، غلطیاں کیوں ہوئیں، چیک کیوں نہیں کیا گیا،اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن اور چیئرمین فیڈرل بورڈ کو طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کر دی

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

    سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

    لاہور میں تین روزہ پاکستان نیشنل برج ٹورنامنٹ اختتام پذیر 

    برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

  • یکساں قومی نصاب غیرمعیاری اورغلطیوں کی بھرمار،کتابوں کی چھپائی روک دی گئی

    یکساں قومی نصاب غیرمعیاری اورغلطیوں کی بھرمار،کتابوں کی چھپائی روک دی گئی

    یکساں قومی نصاب غیرمعیاری اورغلطیوں کی بھرمار،کتابوں کی چھپائی روک دی گئی
    قائمہ کمیٹی نے تعلیمی اداروں کے احتجاجی ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر کی سربراہی میں کمیٹی بنادی
    کمیٹی 15دن کے اندراساتذہ کے مسائل حل کرکے رپورٹ کمیٹی میں پیش کرئے گی،
    قائمہ کمیٹی نے احتجاجی اساتذہ سے ہڑتال ختم کرکے سکول کھولنے کی درخواست کردی
    قائمہ کمیٹی کا یکساں قومی نصاب کے معیار پر شدید برہمی کا اظہار
    ایک نظم تین لوگ مل کر کس طرح لکھ سکتے ہیں مل کرکوئی تحریر لکھی جاسکتی ہے شاعری نہیں کی جاسکتی ہے، چیئرمین کمیٹی
    کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ر) رفیق طاہر کو کمیٹی میں طلب کرلیا،
    یکساں قومی نصاب کی کتابوں میں غلطیاں ہیں اور کچھ ایلیٹ سکول اردو میں معاشرتی علوم نہیں پڑھاناچاہتے ہیں،مریم چغتائی

    اسلام آباد(محمداویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے وفاقی تعلیمی اداروں کے احتجاجی ملازمین کے مسائل حل کرنے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی کمیٹی 15دن کے اندراساتذہ کے مسائل حل کرکے رپورٹ کمیٹی کودے گی،قائمہ کمیٹی نے اساتذہ سے ہڑتال ختم کرکے سکول کھولنے کی درخواست کردی۔ کمیٹی نے یکساں قومی نصاب کے معیار پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ایک نظم تین لوگ مل کر کس طرح لکھ سکتے ہیں مل کرکوئی تحریر لکھی جاسکتی ہے شاعری نہیں کی جاسکتی ہے،یکساں قومی نصاب غیرمعیاری اورغلطیوں کی بھرمار ہے۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ر) رفیق طاہر کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔سربراہ یکساں قومی نصاب نے کمیٹی میں بتایاکہ کتابوں میں غلطیاں ہیں اور کچھ ایلیٹ سکول اردو میں معاشرتی علوم نہیں پڑھاناچاہتے ہیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرعرفان الحق صدیقی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں ڈاکٹر مہرتاج روغانی،اعجاز چوہدری،فلک ناز چترالی ،رخسانہ زبیری،رانامقبول احمد،مولوی فیض محمد نے شرکت کی جبکہ پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر،سیکرٹری تعلیم ہائیرایجوکیشن کمیشن کے حکام اور یکساں قومی نصاب کی سربراہ مریم چغتائی نے شرکت کی۔کمیٹی نے اسلام آباد کے تعلیم اداروں کے اساتذہ و ملازمین کوبھی کمیٹی میں مدعو کیاتھا۔وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کو میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے کا معاملہ پر بحث کی گئی۔سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہاکہ اسلام آباد میں نئے نظام کو جگہ دینی چاہیے پنجاب میں یہ نظام چل رہاہے تعلیمی اداروں کو مقامی حکومتوں کے زیر انتظام کریں گے تواس سے فائدہ ہی ہوگا۔اساتذہ کے خدشات کو دور کریں گے۔ آرڈیننس نہیں آنے چاہیے مگر جو حالات ہیں اس میں ہمیں جاری کرنے پڑتے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر نے کہاکہ تعلیمی اداروں کوایم سی آئی کے حوالے کرنے میں ایک سال کاعرصہ لگ سکتاہے۔

    چیئرمین کمیٹی عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ آرڈیننس جاری کرنے میں کیا حکمت ہے کیوں یہ جاری کیا گیا۔اس کے مکمل عمل درآمد کرنے میں ایک سال لگے گا۔اگر ایک سال لگے گا تو کیوں آرڈیننس جاری ہوا۔ہمارے نظام پہلے ہی بہت زیادہ سیاسی ہوگیا ہے۔ وفاقی تعلیمی اداروں کے نمائندے فضل مولا نے کہاکہ ہمیں وفاق سے ہٹا کر مقامی حکومت کے سپرد کردیا ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں کوئی خامی نہیں تھی مقامی حکومتوں کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ اعجاز چوہدری نے کہاکہ اساتذہ کے نمائندے منتخب نمائندوں پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔جو ٹھیک نہیں ہے۔چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی فضل مولانے کہاکہ نان ڈویلوپمنٹ بجٹ میں پانچ ارب کا خسارہ ہے،ہمارے آٹھارہ ہزار ملازمین اور سینکڑوں ادارے ہیں میئر تو ریونیو بناتا ہے کیا وہ کوالٹی تعلیم دے سکیں گے،مکان کے پیسے تک نہیں دیئے گئے مالک کان تنگ کررہے ہیں ہم اگر لوکل گورنمنٹ کے اندر جاتے ہیں تو سول ملازم نہیں رہ سکیں گے۔ممبر کمیٹی فوزیہ ارشد اور چیئرمین کمیٹی عرفان صدیقی میں نوک جوک ہوئی۔فوزیہ ارشد نے کہاکہ آپ اگر ایجنڈا کو کمیٹی میں لاتے ہیں تو ہمیں کاپیاں دی جائیں،آرڈیننس کی کاپی تک نہیں دی گئی۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ میرا کام نہیں بلکہ یہ منسٹری کا کام ہے۔فوزیہ ارشد نے کہاکہ آپ پرسنل نہ لیں،عرفان صدیقی نے کہاکہ میں تو لوں گا آپ سینئر ہیں یہ میری ڈومین نہیں ہے،یہ وزارت کاکام ہے کہ اجلاس سے تین دن پہلے ایجنڈا کمیٹی ارکان کودے تاکہ وہ پڑھ کرآئیں۔چیئرمین کمیٹی نے وفاقی تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے اپیل کی کہ ہڑتال کی وجہ سے بچوں کانقصان ہورہاہے اس لیے ہڑتال ختم کردی جائے میں کمیٹی بنادیتاہوں وہ 15دن کے اندر اس حوالے سے آپ کے خدشات دورکرئے گی اگر آپ کے خدشات دور نہیں ہوتے تو اس کے بعد جولالحہ عمل آپ اختیار کریں آپ کی مرضی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ قمر کی سربراہی میں کمیٹی بنادی کمیٹی میں سینیٹر رخسانہ ذبیری، سینیٹرفوزیہ ارشدجبکہ وزارت کی طرف سے سیکرٹری تعلیم جبکہ کمیٹی میں وفاقی تعلیمی اداروں کے دونمائندوں کوشامل کیاگیاہے جو 15دن کے اندر وفاقی اداروں کے ایم سی آئی کے سپرکرنے کے حوالے سے تحفظات کودور کرکے گی۔اور کمیٹی کورپورٹ دے گی۔

    کمیٹی میں یکساں قومی نصاب کے حوالے سے معاملے پر بھی بحث کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ جو کتاب شائع کئے ہیں اس میں بہت زیادہ کنفیوژن ہے تین خواتین نے مل کر پہلی جماعت کی کتاب لکھی ہے اور تینوں نے مل کر نظمیں بھی لکھی ہیں جو اس کتاب میں شائع ہوئی ہیں تین لوگ مل کرنظم نہیں لکھ سکتے ہیں۔وہ تحریرلکھا سکتے ہیں مگر شاعری اورچیز ہے یہ ہم اپنے بچوں کوکیا بتا رہے ہیں۔سینیٹراعجاز چوہدری نے کہا کہ مل کر تو صرف قوالی لکھ سکتے ہیں یہ سنجیدہ معاملہ ہے اس کودیکھنا ہوگا۔عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ جن مصنفین سے یکساں قومی نصاب کی کتابیں لکھوائی گئیں ہیں ان میں سے ایک بھی استاد نہیں ہے۔قومی یکساں نصاب تعلیم کی سربراہ مریم چغتائی نے کہا کہ مصنفین کو ٹینڈر کے بعد منتخب کیا اس کے بعد انہوں نے کتابیں لکھی ہیں۔کتاب لکھنے کے لیے استاد کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔کتابوں میں غلطیاں ہیں۔ پی پی پی موڈ میں اب جارہے ہیں

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پہلی جماعت کی کتاب میں تین شاعروں کی شاعری پڑھیں اس میں ایک بھی نظم بھی شاعری کے معیار پر نہیں اترتی ہے۔پہلی جماعت کی کتاب میں ایسے الفاظ ہیں جو کمیٹی میں موجود لوگوں سے پوچھوں تو ان کو بھی نہیں معلوم ہوگا۔یہ نصاب رفیق طاہر کی سربراہی میں بنایا گیا ہے اس لیے ان کوبلانا پڑے گا۔کمیٹی نے اگلے اجلا س میں طاہر رفیق کو طلب کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کتابوں کی دوبارہ چھپائی کو روکا جائے اس میں غلطیاں ہیں پہلے غلطیاں ٹھیک کی جائیں کتابوں میں بہت زیادہ غلطیاں ہیں۔ مریم جغتائی نے کہاکہ کچھ سکول اردو میں معاشرتی علوم نہیں پڑھانا چاہتے ہیں دینی مدارس والے یکساں قومی نصاب سے مطمئن ہیں۔صرف ایک فیصد مدارس رجسٹرڈ ہیں۔جس کی وجہ سے مسائل ہیں۔اعجاز چوہدری نے کہا کہ یکسان قومی نصاب پر مدارس اتفاق کرتے ہیں۔

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    تعلیمی ادارے بند، امتحانات کب ہوں گے؟ وفاقی وزیر تعلیم نے بتا دیا

    تعلیمی ادارے کب سے کھلیں گے؟ وفاقی وزیر تعلیم کا بڑا اعلان سامنے آ گیا

    مراد راس ڈنگر ڈاکٹر، ڈگری جعلی ہو سکتی ہے،اساتذہ کے معاشی قتل عام کا ذمہ دارمراد راس، کاشف مرزا کے سنگین الزامات

    حکومت کا نصاب تعلیم کا منصوبہ مشرف دور 2006 تعلیمی پالیسی کا چربہ ہے،کاشف مرزا

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    وزیر سکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا صوبے میں سکول کھلنے کے حوالے اہم اعلان

    وفاقی بجٹ میں پی ٹی وی کی بھی سن لی گئی،کیمروں اور آلات میں جدت لانے کیلئے بڑی رقم مختص

    بجٹ میں بڑے رہائشی گھروں پر فی کنال ٹیکس عائد کرنے کی تجویز،فارم ہاؤسز پر بھی ہو گیا ٹیکس

    وفاقی بجٹ، سگریٹ، انرجی ڈرنکس مہنگے، سیمنٹ، موبائل فون سستے

    آئی ایم ایف اپنے قرضوں کا سود وصول کرنے کیلئے اپنی مرضی کا بجٹ بنوارہا ہے،سراج الحق

    کرونا کا یہ حال ہے کہ مجھے اس کاغذ اور میز سے ڈر لگ رہا ہے، رکن قومی اسمبلی کا ایوان میں اظہار خیال

    قومی اسمبلی میں منظور خاتم النبینﷺکی متفقہ قرارداد پر مرکزاورصوبوں سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ