Baaghi TV

Tag: غیر قانونی بھرتیاں

  • قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    قومی اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں اور سنگین بے ضابطگیوں پر سپیکر ایاز صادق نے ایکشن لے لیا، سپیکر قومی اسمبلی نے سپیشل سیکرٹری چودھری مبارک کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے

    قومی اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات جاری ہیں،اس ضمن میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی متحرک ہو چکے ہیں، ایڈیشنل سیکرٹری یاسین سلیمی کو معطل کر دیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق یاسین سلیمی نے بغیر کسی ٹریننگ اور ضابطے پورے کیے بغیر ترقی حاصل کی تھی، وہیں قومی اسمبلی میں غیر قانونی طور پر مستقل کیے جانے والے 17 افسران کو دوبارہ کنٹریکٹ پر کر دیا گیا ہے اور ان افسران کے گریڈ کی تنزلی بھی کر دی گئی ہے

    مینجر بھرتی کیے جانے والے بعض افسران کی تنزلی کر کے انھیں ڈپٹی منیجر بنا دیا گیا ہے،سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے قریبی عزیز کی مستقل ملازمت بھی کنٹریکٹ میں تبدیل کردی گئی ہے. ایڈیشنل سیکرٹری یاسین سلیمی کے پی ایس سمیع کی بھی تنزلی کر دی گئی ہے، تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ کئی ملازمین کو بغیر دستاویزات اور تعلیمی اسناد کے بھرتی کیا گیا ہے،صرف ان کی فائلز میں آفر لیٹر لگے ہوئے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اس ضمن میں کوئی بھی دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے،سپیکر نے ترقیوں کے عمل میں متاثرہ ملازمین کےلیے شکایات سیل بھی بنا دیا،متاثرہ ملازمین کو سیل میں شکایات کے اندراج کا حکم دیدیا گیا

    واضح رہے کہ باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور راجہ پرویز اشرف نے انت مچا دی، غیر متعلقہ اور اضافی افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان کے خزانے کو قوی نقصان پہنچا رہے ہیں، اسد قیصر نے ملازمین کو بھرتی کیا تو وہیں راجہ پرویز اشرف بھی ان سے پیچھے نہ رہے ، قومی خزانے کا بے دردی سے اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا ڈرائیور بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ سے سرکاری گاڑی پر دودھ لینے جاتا ہے، اسمبلی ہاؤس میں ملازمین کی بھر مار، میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئیں،راجہ پرویز اشرف نے اسد قیصر کے غیر قانونی کاموں کو اس لئے تحفظ دیا کیونکہ وہ خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے تھے

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں‌ غیر قانونی بھرتیوں بارے چیئرمین نیب کو بھی درخواست دی گئی تھی جس پر چیئرمین نیب نے نوٹس لیا اور تفصیلات طلب کر لی ہیں،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے  وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    لاہورہائی کورٹ نے غیرقانونی بھرتیوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان(اے ٹی آئی آر)میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر وزیراعظم عمران خان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری قانون اورچئیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور رجسٹرار ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان سے 14 جنوری 2022 کو جواب طلب کیا ہے۔

    عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 2 جون 2021 کو نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی تقرری کو چیلنج کئے جانے کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے ہیں۔

    درخواست گزار ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ ان تقرریوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

    پیپلز پارٹی والے کراچی کا پانی چوری کرکے اربوں روپے کماتے ہیں، مصطفیٰ کمال

    وحید شہزاد بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تقرریاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی سروسز میں گریڈ 16 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تقرری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوگی۔

    درخواست گزار نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 130 کے تحت وفاقی حکومت کی بجائے وزیر اعظم کو ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے جوڈیشنل ممبران کی تقرری کا دیا جانے والا اختیارغیرقانونی ہے۔

    درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے2 جون کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنے کی استدعا کی۔

    رواں سال پاک بھارت وزراء اعظم کی ملاقات، اہم شخصیت کا دعویٰ

    دوسری جانب ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنے والوں کی فہرست طلب کرلی نادرا نے ایسے کاروباری شہریوں کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم کردیں، ایف بی آر نے بینکوں سے ان شناختی کارڈذ پر بنائے گئے اکاؤنٹس کی تفصیل طلب کرلی جعلی شناختی کارڈز کی بنیاد پر رجسٹرڈ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہےنادرا نے جعلی شناختی کارڈز کا کھوج لگانے کا عمل 4 ماہ قبل شروع کیا فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے سب سے پہلے ان شناختی کارڈز کی تفصیل حاصل کی، یہ تفصیل منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کا کھوج لگانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔