Baaghi TV

Tag: فائز عیسیٰ

  • ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، نئے عدالتی سال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا،سپریم کورٹ میں جاری فل کورٹ ریفرنس میں 15 ججز نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک ہوئے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوا تمام ججز شریک ہیں ،جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے ،فل کورٹ ریفرنس کی تقریب میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کے نمائندہ اور وکلاء کی بڑی تعداد فل کورٹ تقریب میں شریک تھے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،عام سائلین کے مقدمات کے بلاتاخیر فیصلے ہونے چاہیں،اٹارنی سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں عام سائلین کے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست مقدمات غیر معمولی اور عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہیں،بنچز کی تشکیل اور ججز تعیناتیوں کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنی گئی،سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر صوابدیدی اختیارات میں شفافیت پر زور دیا ہے،کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول کا خود پر اطلاق نہ کرے،نئے عدالتی سال کے ساتھ ساتھ ہم جوڈیشل لیڈر شپ کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزر رہے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے قریب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے ،ججز کی تعیناتیاں ،بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں،یہ اختیار چیف جسٹس کو متنازعہ معاملات کے فیصلوں میں غیر متناسب کنٹرول دیتا ہے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے،آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،

    عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو زائل کریں، ہارون الرشید
    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں بار ہا التجاء اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا .زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا ،کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئیروش چل پڑی ہے اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں کچھ کیسسز میں لارجر بینچ ببنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دئے جاسکے نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتہ میں فکس کئے جائیں کافی تعداد میں ایسے کیسسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو،عام لوگوں کو محرومی کا احساس نہ ہو اور اس ادارہ پہ اعتماد قائم رہے بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں ،ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے ،اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے ،وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں ،امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ،وکلاء کے اعلی ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا

    ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئی عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتئ سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوسکیں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں دو ہزار کی کمی ہی کر سکے،فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے ،آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی ،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتئ کارکردگی متاثر ہوئی ،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاو بہت اچھا رہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں قاضی فائز عیسی ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے ، صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں،صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے، جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا ، ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ، اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے ، ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں، ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،میرے حوالے سے میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی کی گئی،گڈ ٹو سی یو والے میرے جملے کو غلط رنگ دیا گیا،شارٹ اینڈ سویٹ ججمنٹ بارے آبرزویشن دی جس پر غلط رپورٹنگ ہوئی، جو ہوا میں اس کو درگزر کرتا ہوں

    سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،عابد زبیری
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنواۃ کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے دوران تعطیلات کئ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی سماعت کیلئے مقرر ہوئے جس کی وجہ سے عام عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل سست روری کا شکار ہوا ،جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے،مقدامات کی جلد سماعت کیلئے دائر درخواستوں کا زیر التوا رکھے جانے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ،عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئنی معملہ پر مبزول کروانا چاہتا ہوں ،الیشکن کمیشن انتخاب آئنی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئین کے حق کے منافی ہے آئین سے روگردانی پہ آرٹیکل 6 کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،اتنخابات کے حوالہ سے ہماری درخواست کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوسکی انتخاب کے حوالے سے ہماری درخواست کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کرے ،آفشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ،قوم کی بیٹیاں اور بہنیں من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر قید ہیں عدالت ان جبری قید کا نوٹس لے،فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں کو فوری مقرر کیا جائے عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلاء برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی،امید کرتے ہیں کہ نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے ٹوس اقدامات اٹھائے جائیں گےنامز چیف جسٹس سے امیدہے کہ وہ آئین اور قانون کی عمل درامد پر یقینی بنائیں گے.

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیلئے فل کورٹ ریفرنس نہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافی سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اور فیصلہ نہیں کیا ،صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جا رہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں جیسے پتہ چلے گا بتا دیں گے،جسٹس قاضی فائز عسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے انہوں نے آج تقریر میں تو کہا ہے کہ شاید یہ میرا آخری خطاب ہے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:استثنیٰ:اٹھنےوالےسوالات:     جوابات کون دےگا:عدلیہ اداوں پرغورکرے:فوادچوہدری

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس:استثنیٰ:اٹھنےوالےسوالات: جوابات کون دےگا:عدلیہ اداوں پرغورکرے:فوادچوہدری

    اسلام آباد:فروغ نسیم نےسچ فرمایا:لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ”مجھّاں مجھّاں دیاں بہناں ہوندیاں نیں”:عدلیہ خوداپنےوقار کی ذمہ دار:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے متعلق ساتھی ججز کے فیصلے پرمحتاط مگرقابل غور عرض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرقانون ڈاکٹرفروغ نسیم نے سچ فرمایا کہ اگر جج جوابدہ نہیں تو میں اور وزیراعظم خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جوابدہ ہوں

    وفاقی وزیرفواد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ اگریہی اندازعدل رہا تو پھرعدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، غریب اور عام شہری سوال کررہے ہیں کہ اگرججز خلائی مخلوق ہیں اور وہ قانون کے سامنے جوابدہ نہیں تو پھرسیاستدان، بیوروکریٹس اور دیگر سرکاری اور غیرسرکاری ملازمین پر کیوں عدل کی تلوار لٹکائی جارہی ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ میں محسوس کررہا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو استثنائی اعزاز ملنے کے خلاف ایک ردعمل پیدا ہورہاہے جوآگے بڑھ کر انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے ، عدلیہ کا وقار مجروح ہوسکتا ہے ، لوگوں کاعدلیہ سے اعتماد اٹھ سکتا ہے اور یہ چیزیں عدالتی نظام کی بقا اور اس کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں

    فواد چوہدری نے کہا کہ میں تو یہ مشورہ ہی دے سکتا ہوں کہ عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں اپنی تیزی سےگرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے

    اپنے بیان میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر قانون فروغ نسیم کا سوال اہم ہے، اگر جج صاحبان بیوی بچوں کے اثاثوں کے ذمہ دار نہیں تو سیاستدانوں، بیوروکریٹس کا احتساب کیسے ممکن ہے؟فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو عالمی رینکنگ میں اپنی تیزی سےگرتی ساکھ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جب جج جوابدہ نہیں تو میں اور وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جوابدہ ہوں۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ فل بینچ کا فیصلہ غلط اور تضادات کا حامل قرار دے دیا۔

    ایک نجی ٹی وی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا، ہم جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےمخالف نہیں، ہمارے پاس ایک معلومات آئی وہ ہم نے آگے بڑھائی۔

    ان کا کہنا تھاکہ کیا مسزسریناعیسیٰ نے یہ وضاحت دی کہ پیسے کہاں سے آئے؟ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہےکہ میرا تعلق امیرخاندان سے ہے، ایف بی آرنےاپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مسزسرینا عیسیٰ اپنے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہیں۔

    سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ درست نہیں ہے، ہمارے پاس قانونی آپشنز موجود ہیں، معزز ججز کے اختیارات سب سے زیادہ اورذمہ داری بھی سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ میں آج وزیرقانون نہیں بلکہ آزاد شہری اوربطوروکیل بات کررہا ہوں، میرا جسٹس فائزعیسیٰ سے کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔

    وزیرقانون کا کہنا تھاکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی طرح دیگرسرکاری افسران بھی پبلک آفس ہولڈرز ہیں، کیا اب ڈسٹرکٹ ججز اورانتظامی افسران بھی اہل خانہ کے معاملات سے آزاد ہونگے؟ اگرایسا ہے توپھرمیں بھی کیوں اپنے اہل خانہ کے اثاثے ظاہرکروں؟

    ان کا کہنا تھاکہ اگر سپریم کورٹ کا جج اپنے اہل خانہ کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں تو کیا یہ معیار دیگر سرکاری ملازمین کیلئے بھی ہوگا؟ اگر جج جواب دہ نہیں تو مثلاً میں اور وزیراعظم اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق کیوں جواب دہ ہوں؟

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

    سپریم کورٹ نے کیس کا مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا اور عدالت نے 9 ماہ 2 دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جب کہ فیصلہ 45 صفحات پر مشتمل ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی اور اہلخانہ کا ٹیکس ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اور اگرفرض کرلیا جائے تو کیا تحقیقات کرنے والوں کے اس عمل سے جسٹس فائز عیسی اور ان کی اہلیہ کے غیرقانونی اثاثوں کا کفارہ ادا ہوجائے گا ، عدلیہ کو فیصلہ دیتے وقت معاشرے ، ملک اور نسلوں کا سوچنا چاہیے تھا نہ کہ اہنے ایک ساتھی کو ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہیے تھی