Baaghi TV

Tag: فارن فنڈنگ

  • سیف اللہ نیازی کی گرفتاری ؟ایف آئی اے ترجمان نے بڑا دعویٰ کر دیا

    سیف اللہ نیازی کی گرفتاری ؟ایف آئی اے ترجمان نے بڑا دعویٰ کر دیا

    بریکنگ، فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی دو اہم شخصیات گرفتار

    ایف آئی اے نے سیف اللہ نیازی کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کر دی ہے، ایف آئی اے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سیف اللہ خان نیازی کی سینیٹ کے احاطے سے گرفتاری کی خبریں بے بنیاد ہیں، سیف اللہ خان نیازی کو اب تک ایف آئی کے کسی بھی ونگ نے گرفتار نہیں کیاہے میڈیا پرگرفتاری کے حوالے سےچلنے والی خبروں کی سختی سے تردیدکرتے ہیں،

    قبل ازیں ایف آئی اے نے فارن فنڈنگ کیس میں گرفتاریاں شروع کر دی ہیں ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کے بانی ممبر کو گرفتار کرلیا ہے، ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے بانی رکن حامد زمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ حامد زمان کو وارث روڈ ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا، ایف آئی اے نے سنیٹر سیف اللہ خان نیازی کو بھی گرفتار کر لیا ہے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ سیف اللہ نیازی کو سینیٹ سے اٹھا لیا گیا ہے،

    س سینیٹر سیف اللہ نیازی پر نامنظور ویب سائٹ چلانے کا الزام ہے نامنظور ویب سائٹ کے ذریعے غیر قانونی فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھی،ایف آئی اے سائبر کرائم اس سے قبل سنیٹر سیف اللہ نیازی کے گھر ریڈ کر چکی ہے،سائبر کرائم کی جانب سے سیف اللہ نیازی کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون قبضہ میں لیا گیا تھا

    پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ سیف اللہ نیازی اور حامد زمان کی گرفتاری سول مارشل لا کی اعلیٰ مثال ہے، ریاستی غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے بے مثال تاریخ رقم کی جا رہی ہے،سیف اللہ نیازی اور حامد زمان کی گرفتاری سول مارشل لا کی اعلیٰ مثال ہے،سیف اللہ نیازی اور حامد خان کو فی الفور رہا کیا جائے،

    شہباز گل نے ٹویٹ کی اور کہا کہ سینیٹر سیف نیازی کی سینیٹ کے احاطہ سے گرفتاری اس حکومت کی ایک اور سفاکانہ حرکت ہے۔ یہ بات ایک بار پھر یہ ثابت کر رہی ہے کہ اس حکومت کے دن پورے ہو چکے اور ان کے پاس سوائے اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کے اور کوئی بیانیہ نہیں رہ گیا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں تحریک انصاف کے رہنما طارق شفیع کے گھر پر ایف آئی اے نے چھاپہ مارا ہے عمران خان کے فرنٹ مین طارق شفیع کی گرفتاری کے لیے کوششیں کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم نے آج جمعہ کو انکے گھر کی تلاشی لی، چھاپہ مارنے والی ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کی ٹیم گزشتہ روز سے ہی مسلسل ان کی رہائش گاہ کے باہر موجود تھی ایف آئی اے کی ٹیم کو اہلِ خانہ نے طارق شفیع کے بارے مین بتایا کہ وہ موجود نہیں

    ایف آئی اے کا اسٹیٹ بینک سرکل کراچی میں 5 اکتوبر کو درج ایف آئی آر نمبر 14/2022 میں نامزد مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہا ہے مقدمے میں سید عارف مسعود نقوی اور محمد رفیع لاکھانی بھی نامزد ملزم ہیں جبکہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی میں شامل ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو بھی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایف آئی اے کی جانب سے فنڈنگ کیس میں ملوث دیگر تحریک انصاف کے رہنماؤں کو بھی گرفتار کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے، آئندہ چند دنوں میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جائے گا

  • فنڈنگ کیس،اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    فنڈنگ کیس،اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    فنڈنگ کیس،اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں اکبر ایس بابر کی فنڈنگ کیس میں فریق بنانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اکبر ایس بابر کو کیس میں فریق بنانے کی درخواست پر دلائل سن لیتے ہیں،کیا اکبر ایس بابر تمام سماعت کا حصہ رہے؟ وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ جی، الیکشن کمیشن کی سماعت میں اکبر ایس بابر شامل رہے، اس عدالت کو تمام حقائق بتانا اکبر ایس بابر کی ذمہ داری ہے، ہماری استدعا ہے کہ ہمیں کیس میں فریق بنایا جائے،

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اکبر ایس بابر اس عدالت کی محض معاونت کرنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں، انور منصور نے کہا کہ اس سارے کیس میں اکبر ایس بابر کے خلاف کچھ نہیں ہے، وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ عمران خان اور اکبر ایس بابر کے درمیان ذاتی دشمنی ہے،انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے آرڈر میں سکروٹنی کمیٹی کی مکمل رپورٹ کو تسلیم کر لیا، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی سوموٹو تھی؟ انور منصور نے کہا کہ بالکل، کیوں کہ اکبر ایس بابر کی تو استدعا ہی کچھ اور تھی، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صبر کر جائیں ہمیں کوئی جلدی نہیں آپ ہی کو سن رہے ہیں،کیا درخواست گزار اس پراسیس میں شامل تھے یا نہیں؟ انور منصور نے کہا کہ درخواست گزار موجود تھے ہم اس بات کی نفی نہیں کر رہے، عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بہت سے صفحات اکبر ایس بابر کے دلائل پر مشتمل ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ اکبر ایس بابر کو یہاں فریق بنانے پر اعتراض کیوں ہے؟ کیا ایک پارٹی ممبر کو فریق نہیں بنایا جا سکتا؟ انور منصور نے کہا کہ پارٹی اکبر ایس بابر کو اپنا ممبر تسلیم نہیں کرتی، وہ اب پارٹی کا حصہ نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی اکبر ایس بابر کی ممبرشپ منسوخ کر چکی ہے؟ انور منصور نے کہا کہ اکبر ایس بابر نے خود اپنی ممبر شپ چھوڑی تھی، الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کو کیس میں فریق بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اکبر ایس بابر کو فریق بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    تحریک انصاف کے بانی رکن اور ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فریق اکبر ایس بابر نے 17 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پی ٹی آئی کی اپیل میں فریق بننے کے لئے باضابطہ درخواست دائر کی تھی۔اکبر ایس بابر نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا ممبر اور کیس کا شکایت کنندہ ہوں، پی ٹی آئی کی پٹیشن میں میرا ذکر موجود ہے لیکن مجھے فریق نہیں بنایا۔اکبر ایس بابر نے درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی “کلین ہینڈز” کے ساتھ عدالت نہیں آئی، مجھے لارجر بنچ کے سامنے کیس میں فریق بنایا جائے۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • ممنوعہ فنڈ ضبطگی کیس،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے دو ماہ کا وقت مانگ لیا

    ممنوعہ فنڈ ضبطگی کیس،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے دو ماہ کا وقت مانگ لیا

    ممنوعہ فنڈ ضبطگی کیس،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے دو ماہ کا وقت مانگ لیا

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈ ضبطگی کیس کی سماعت ہوئی

    تحریک انصاف نے عبوری جواب جمع کروا دیا اور مکمل جواب کیلئے 8 ہفتے کا وقت مانگ لیا ،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ دس سال پرانا ریکارڈ ہے جو بیرون ممالک سے منگوایا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر فیصلے پر اعتراض ہے تو اسے چیلنج کر دیں،فیصلے میں کوئی غلطی ہے تو اسکی تصحیح کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی وکیل شاہ خاور نے کہا کہ مزید ریکارڈ آ جائے تو کمیشن کے ہر سوال کا جواب دے سکیں گے،جہاں اتنا وقت گزار ہے مزید دو ماہ بھی دیدیں،

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ہفتوں کی بات کرتے کرتے آٹھ سال لگ گئے ہیں ، چار ہفتے سے زیادہ کا وقت نہیں دے سکتے، شاہ خاور کی استدعا پر الیکشن کمیشن نے سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

    تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا

    تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ رنگ دکھانے لگی۔ پاکستان تحریک انصاف اور جعلی بھارتی ہیومن رائٹس واچ کا گٹھ جوڑ سامنے آ گیا، جعل سازی، فیک نیوز اور جھوٹ کے پرچار میں ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔نام نہاد عالمی تنظیموں کے بھیس میں ہندوستان اپنے مزموم عزائم کو جھوٹے پروپیگنڈے کے تحت حاصل کرنے میں سرگرم ہے،  ہندوستانی نام نہاد ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے شہباز گل کی گرفتاری کے معاملے کو اچھالنا اور عمران خان کی دہشتگردی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے لئے ورکنگ گروپ کے زریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی ایک بہت بڑی سازش ہے۔ اس آرگنائزیشن کے تحت یہ تاثر دیا گیا کہ شہباز گل کی گرفتاری عالمی سطح پر بھونچال لانے کے مترادف ہے۔ در حقیقیت یہ ایک بوگس اور جعلی آرگنائزیشن ہے۔ اس آرگنائزیشن کے اکاؤنٹس سے 3 ٹویٹس ہیں جن میں واضح طور پر بھارت کے دو شہروں بنگلور اور نئی دِلی کی لوکیشن دیکھی جا سکتی ہیں۔

    بنگلور اور دہلی سے حمایتی ٹویٹس ہو رہے ہیں۔سی این این کے فیک سکرین شاٹس اور اسرائیلی چینلز کے تشویشی پروگرام نشر کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ جب پاکستانیوں نے اس نام نہاد آرگنائزیشن کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو یہ آرگنائزیشن غائب ہو جاتی ہے اور پاکستانیوں کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ کیا حقیقت میں انسانی حقوقی کی تنظیمیں ایسی ہوتی ہیں؟درحقیقیت یہ آرگنائزیشن ہندوستان میں رجسٹرڈ ہے اور ہندوستانی ہی اسے چلا رہے ہیں۔ یہ آرگنائزیشن نیو یارک، سپین اور مڈرڈ میں رجسٹرڈ نہیں بلکہ ہندوستان سے ہی آپریٹ ہو رہی ہے۔ ایک سوچی سمجھی چال کے تحت 100سے زائد ہندوستانی ویب سائٹس نے اس آرگنائزیشن کے بیان کو پھیلایا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    پاکستان تحریک انصاف کے پروپیگنڈہ اور منفی بیانات کواب بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے کہ جب تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ مقدمات نے ان کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے ہندوستان اور ٹویٹر انتظامیہ کی ملی بھگت کا بھانڈر پھوڑدیا ٹویٹر کے سیکورٹی چیف نے یہ معاملہ امریکی ریگولیٹر کے ساتھ اٹھایا ہے۔ سی این این کے مطابق ٹویٹر کے سیکورٹی چیف کے انکشافات اور ٹویٹر کی غفلت اور جان بوجھ کر ان کوتاہیوں سے پاکستان کی قومی سلامتی اور جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا کیا گیا۔ اس سے قبل EU Disinfo Labکی رپورٹ میں بھی ناقابلِ تردید شواہد آچکے ہیں۔ Financial Crimes Enforcement Networkکی بھارت کے 44 بینکس کی منی لانڈرنگ اوردہشتگردوں کی مالی معاونت ،UNHRCاور جینو سائیڈ واچ کی ہندوستان کی بدترین ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے چشم کشا انکشافات بھی پوری دُنیا کے سامنے ہیں۔ ان فیک این جی اوز کے ذریعےUN اورUNHRC میں مختلف پاکستان مخالفEvents / Demonstrationمنعقد کرانا اور Motivated Contentکے ذریعے پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنا شامل ہے۔ EU Disinfo Labنے جن UN Accredited اور تھنک ٹیکنس گروپس کا جائزہ لیا تھا اُس کے مطابق حقیقت میں یہ این جی اوز کسی اور مقصد کے لئے رجسٹرڈ کرائے گئے تھے لیکن ان کوResurrectکر کے پاکستان مخالف بیانیے کیلئے استعمال کیا گیا۔

  • فنڈنگ کیس، اکبر ایس بابر کی فریق بننے کی استدعا کی پی ٹی آئی نے کی مخالفت

    فنڈنگ کیس، اکبر ایس بابر کی فریق بننے کی استدعا کی پی ٹی آئی نے کی مخالفت

    پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کی فریق بننے کی استدعا کی مخالفت کردی

    پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ درخواست پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی۔اکبر ایس بابر کے وکیل نے کیس میں فریق بننے کی استدعا کی تو پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے مخالفت کردی۔پی ٹی آئی وکیل کا کہنا تھا کہ اکبر ایس بابر کا کردار صرف ایک اطلاع دینے والے کا ہے۔ وہ کیس سن تو سکتے ہیں فریق نہیں بن سکتے، میں ان کی درخواست پر جواب جمع کراؤں گا۔

    اکبر ایس بابر کے فریق بننے کی درخواست پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کردیا گیا۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے اکبر ایس بابر کی درخواست پر پی ٹی آئی کا جواب آ جائے تو پھر دیکھیں گے۔

    اکبر ایس بابر کی فریق بننے کی درخواست

    تحریک انصاف کے بانی رکن اور ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فریق اکبر ایس بابر نے 17 اگست کو اسلام آباد ہوئی کورٹ میں دائر پی ٹی آئی کی اپیل میں فریق بننے کے لئے باضابطہ درخواست دائر کی تھی۔اکبر ایس بابر نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا ممبر اور کیس کا شکایت کنندہ ہوں، پی ٹی آئی کی پٹیشن میں میرا ذکر موجود ہے لیکن مجھے فریق نہیں بنایا۔اکبر ایس بابر نے درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی “کلین ہینڈز” کے ساتھ عدالت نہیں آئی، مجھے لارجر بنچ کے سامنے کیس میں فریق بنایا جائے۔

    پی ٹی آئی کی درخواست

    رواں ماہ 10 اگست کو تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن کا 2 اگست فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دیا جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت کےلیے لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • فنڈنگ کیس،تحریک انصاف کو چار ہفتوں کا وقت نہ مل سکا

    فنڈنگ کیس،تحریک انصاف کو چار ہفتوں کا وقت نہ مل سکا

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے وکیل شاہ خاور الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے، معاون وکیل نے کہا کہ انورمنصورسپریم کورٹ میں مصروف ہیں،پی ٹی آئی نے متعلقہ دستاویزات جمع کرانے اورجواب کیلئے وقت مانگ لیا ، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساری دستاویزات توپی ٹی آئی کیس میں دے چکی تھی،معاون وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی فارن چیپٹرسے بھی دستاویزات منگوانی ہیں،جس قسم کا آرڈرآیا ہے بہت سی چیزوں کی تفصیل بتانی ہے،

    پی ٹی آئی نے فنڈزضبط ہونے کے نوٹس پرچار ہفتے کا وقت مانگ لیا، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایک ہفتےسے زیادہ کا وقت نہیں دے سکتے،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے 6 ستمبرتک جواب طلب کرلیا

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    واضح رہے کہ دو اگست کو الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس میں تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا گیا تھا،الیکشن کمیشن نے متفقہ فیصلہ سنایا تھا فیصلے میں کہا گیا کہ ممنوعہ فنڈز تحریک انصاف نے لئے ہیں 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن سے فنڈز لئے گئے ہیں، اکاؤنٹس چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے،آرٹیکل 17 کی شق تین کی خلاف ورزی کی گئی پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا جو غلط تھا، ،امریکہ ،آسٹریلیا سے عطیات لئے گئے، امریکی کاروباری شخصیت سے بھی فنڈز لئے گئے پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاونٹس کی تصدیق کی

    الیکشن کمیشن کے فیصلے کے کے مطابق امریکہ میں مقیم انڈین شہری رومیتا شیٹھی نے بھی پی ٹی آئی کو کئی ہزار ڈالر کی غیرقانونی فنڈنگ کی ۔پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس تحریری فیصلہ کے مطابق برسٹل سروسز والی فنڈنگ بھی ممنوعہ قرار دی گئی، پی ٹی آئی امریکہ، کینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قراردی گئی،رومیتا سیٹھی سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قراردی گئی 351غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی،پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ لی ،سوئیزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی،

  • بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،الیکشن کمیشن

    بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،الیکشن کمیشن

    بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،الیکشن کمیشن

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کہ اجلاس سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    ایرا ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے کمیٹی کی جانب سے 2020 میں جاری کی گئی سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ۔ ایرا کے سینیئر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایرا کے تمام ملازمین کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز کی بنیاد پر بھرتی کیے گئے تھے اورملازمین کو کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے پر ہی قانون کے مطابق ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ چونکہ ایرا کو این ڈی ایم اے میں زم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اورملک میں سیلاب کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایرا کے تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہوگی اسلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملازمین کو اُنکی ملازمت پر بحال کیا جائے ایرا حکم نے بتایا کہ رواں مہینے کے آخر میں ایرا بورڈ میٹنگ میں معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائےگا۔

    الیکشن کمیشن کے حکام نے حالیہ بلدیاتی اور ضمنی الیکشن کے دوران ووٹر لسٹوں میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی خصوصی سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ الیکشن پرانی ووٹر لسٹوں کے مطابق کیے منعقد کیے گئے تھے اور انتخابی نظام میں ابھی بھی بہت ساری خامیاں پائی جاتی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے کمیشن نادرا کے ساتھ مل کر انتخابی نظام کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش میں ہے انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ لوگ اپنا گھر تو تبدیل کر لیتے ہیں لیکن آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے نادرا ریکارڈ میں اپنے نئے پتے کا اندراج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے الیکشن والے دن مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام مشکلات کو کم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا ہے اوراسکے مطابق نئی ووٹر لسٹیں نو ستمبر کے بعد دستیاب ہونگی۔

    الیکشن کمیشن کے حکم نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں ایک محفوظ آر ٹی ایس سسٹم کے تحت پولنگ اسٹیشنز سے الیکشن کے نتائج کی ترسیل کا نظام بنایا جا رہا ہے۔ دستخط شدہ فارم 45 کی بروقت ترسیل کو ممکن بنایا جائےگا۔ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن اور آئی ڈی کارڈز کی فراہمی کے لیے نادرا کے ساتھ مل کر ملک کے مختلف علاقوں میں مہم چلائی جا رہی ہے۔ جسکی وجہ سے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ عام عوام میں آگاہی کے لیے میڈیا کے ذریعے کمپین بھی شروع کی گئی ہے۔

    سینٹر ثانیہ نشتر اور دیگر ارکان نے کمیشن کی جانب سے اس ضمن میں کی گئی کوششوں کو سراہا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ الیکشن کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے اور صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ نادرا کے ساتھ مل کر ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے اور اگر اس میں کسی قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے کمیشن اپنی سفارشات کمیٹی کو ارسال کرے۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • عمران خان کےلیےعارف نقوی کا جہازاستعمال ہوتا تھا:فوزیہ قصوری

    عمران خان کےلیےعارف نقوی کا جہازاستعمال ہوتا تھا:فوزیہ قصوری

    لاہور:عمران خان کےلیےعارف نقوی کا جہازاستعمال ہوتا تھا:اطلاعات کے مطابق ان خیالات کا اظہارکرتےہوئے فوزیہ قصوری نےکہا ہے کہ انکشاف کیا کہ عارف نقوی کا جہاز عمران خان کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے فوزیہ قصوری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کبھی بھی عمران خان کی عارف نقوی کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئی لیکن ہمیں پتا تھا کہ عارف نقوی کا جہاز عمران خان کے لیے استعمال ہوتا تھا،فوزیہ قصوری نے کہا ہے کہ مجھے پتا چلا ہے کہ عمران خان کے لیے عارف نقوی کا جہاز استعمال ہوا ہے

     

    فوزیہ قصوری نے اس موقع پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ عمران خان کے ہر ملک سے کئی دوست تھے لیکن غیر ملکیوں سے پیسے جمع کرنا کوئی غلط کام نہیں تھا۔

    نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے فوزیہ قصوری نے کہا کہ ’میں نے سنا تھا عمران خان کے دبئی جانے کے لیے عارف نقوی کا جہاز استعمال ہوا، فوزیہ قصورنے واضع طور پرکہا کہ میں عارف نقوی کو ذاتی طور پر نہیں جانتی لیکن بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ وہ جو کام کررہے تھے وہ بہت ہائی پروفائل کام تھا،

    فوزیہ قصوری نے مزید کہا کہ وہ امپیکٹ انویسمنٹ کے نام سے باہر کے ملکوں سے چندہ اکٹھا کررہے تھے جسے انہوں نے کچھ ایسے ممالک جہاں صحت کی ضرورت تھیں وہاں خرچ کرنا تھا مگر اس کے بجائے انہوں نے ان پیسوں سے اپنے بہت سے دوستوں کی مدد کی، ان کو نوازا، عالیشان سہولیات دیں اور یہ چھپی ہوئی بات نہیں‘۔

    فوزیہ قصوری نے نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑی بات کی اور کہا کہ ’پیسے ضرور باہر سے آئے لیکن آیا وہ ممنوعہ فنڈنگ تھی؟ کیا باہر سے آیا پیسا صحیح ذرائع سے آیا ؟ اسے چیک کرنا ہمارا کام نہیں تھا یہ کام ان فنڈز کو جمع کرنے والوں اور پاکستان میں کام کرنے والے فنانس بورڈ کا تھا‘۔

  • عمران خان فارن ایجنٹ ڈیکلیئر ہو چکے،ملازمین کے نام پرپیسہ منگوایا،مریم اورنگزیب

    عمران خان فارن ایجنٹ ڈیکلیئر ہو چکے،ملازمین کے نام پرپیسہ منگوایا،مریم اورنگزیب

    عمران خان فارن ایجنٹ ڈیکلیئر ہو چکے،ملازمین کے نام پرپیسہ منگوایا،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کررہے ہیں،وزیراعظم شہبازشریف بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کادورہ کررہے ہیں وزیراعظم نے گزشتہ روزسیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی،این ڈی ایم اے اورپی ڈی ایم اے مسلسل صورتحال سے آگاہ رکھے ہوئے ہیں،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فوجی افسران کی شہادت کے بعد ایک جماعت نے سوشل میڈیا پرمنفی مہم شروع کی،ہم اپنے شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،پاک فوج کیخلاف سوشل میڈیا پرمنفی مہم کی مذمت کرتے ہیں،عمران خان فارن ایجنٹ ڈیکلیئر ہو چکے ہیں،الیکشن کمیشن کا فیصلہ 8 سال کی تحقیقات کے بعد آیا،یہ ٹیکنیکل نہیں،فارن فنڈنگ کامعاملہ ہے،عمران خان نے اپنے اختیارات کاغلط استعمال کیا،خیرات کا پیسہ آپ نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا آئین کےتحت کوئی بھی سیاسی جماعت فارن فنڈنگ نہیں لے سکتی ،2014 میں اکبرایس بابرنے یہ پٹیشن دائرکی آپ باربار اس کیس میں التوا لیتے رہے،آپ نے اپنا اکاونٹ ظاہر نہیں کیا کیونکہ پیسہ چوری کا تھا،آپ نے سپریم کورٹ پرحملہ کیا،سی پیک کو روکنے کی کوشش کی،آپ نے عدم استحکام پیدا کرکے ملک کونقصان پہنچایا ،

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    مریم اورنگزیب نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ووٹن کرکٹ کلب اور رومیتا سیٹھی سے پیسے نہیں لیے،فارن فنڈنگ کی وجہ سےہی آپ نے دھرنا دیا تھا،اکاونٹس سامنے آچکے ہیں،آپ مجرم ثابت ہوچکے ہیں، آپ کی اصلیت قوم کے سامنے آچکی ہے نوازشریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پرنااہل کیا گیا،آپ نے طاہراقبال ،محمد رفیق سمیت 4 ملازمین کے نام پر پیسہ منگوایا،عمران خان اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے مفاد کیلئے سیاست میں مت گھسیٹیں،عمران خان کے خلاف چوری ثابت ہوگئی ہے لیکن الزام شہباز شریف پرلگاتے ہیں بشریٰ بی بی اپنے بیٹےارسلان کوہدایت کرتی ہیں کہ مخالفین کوغداری سے لنک کرو، نمل اورالقادریونیورسٹی کےنام پرپیسے بٹورے گئے،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • فوزیہ قصوری نے بھی ڈاکٹرعارف علوی کوآڑےہاتھوں لے لیا

    فوزیہ قصوری نے بھی ڈاکٹرعارف علوی کوآڑےہاتھوں لے لیا

    لاہور:فوزیہ قصوری نے بھی ڈاکٹرعارف علوی کوآڑےہاتھوں لے لیا،اطلاعات کے مطابق رضا ربانی کے بعد اب فوزیہ قصوری نے بھی صدر مملکت عارف علوی کوآڑے ہاتھوں لے لیا ہے اور الزامات کی بارش کردی ہے ،

    فوزیہ قصوری نے رضا ربانی کی طرح پاک فوج کے شہدا کے حوالے سے سوشل میڈیا پرپھیلائی جانے والی منفی مہم کا ذمہ دار پی ٹی آئی ورکرز کوٹھہرا دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سارے کھیل کے پیچھے ڈاکٹرعارف علوی کے بیٹے کا کردار ہے جو اس مہم کا سربراہ ہے

    فوزیہ قصوری نے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی جو کہ ایک ڈینٹسٹ ڈاکٹر ہیں وہ ایوان صدر میں قبضہ کرکے بیٹھے ہیں اور ان کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی پاک فوج کے شہدا کے خلاف اس مہم کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہراتی ہیں

    یاد رہےکہ اس سے پہلے فوزیہ قصوری چیئرمین پی ٹی آئی نے عمران خان سے ٹورنٹو کی تقریب میں جمع 3 لاکھ ڈالر سے متعلق سوال کیا۔ فوزیہ قصوری کا کہنا تھا کہ ٹورنٹو میں ہونے والی ایک تقریب میں عمران خان اور میں موجود تھے، اس تقریب میں خان صاحب نے خود کہا تھا کہ 3 لاکھ ڈالرز جمع ہوئے لیکن اس کے بعد سال بھر تک پتا نہیں چلا کہ وہ 3 لاکھ ڈالر کہاں گئے؟ ہم ای میلز پر پوچھتے رہے کہ وہ

    ڈالر پہنچے یا نہیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ فوزیہ قصوری نے فارن فنڈنگ پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے متعلق برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اکاؤنٹس عمران خان کے نام پر کھلے ہیں، ان کے نام سے پیسے ڈپازٹ ہورہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران خان کو نہیں پتا؟