لاہور:فارن فنڈنگ کا معاملہ مزید پچیدہ ہوتا جارہا ہے اور نئے سے نئے الزامات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے ، اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی سابق رہنما فوزیہ قصوری نے فارن فنڈنگ پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے متعلق برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اکاؤنٹس عمران خان کے نام پر کھلے ہیں، ان کے نام سے پیسے ڈپازٹ ہورہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران خان کو نہیں پتا؟ پہلی بات خان صاحب بہت غلط بیانی کرتے ہیں۔
فوزیہ قصوری کا کہنا تھا ہوسکتا ہے کہ میرے اس بیان کو لوگ جھوٹا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میں خان صاحب کے ساتھ کئی عرصے کام کرچکی ہوں لہٰذا ان کی عزت کرتی ہوں مگر عمران خان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے کیوں کہ ایک حد تک جھوٹ چلتا ہے اس کے بعد اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ سب واضح ہوجاتا ہے۔فوزیہ قصوری نے کہا کہ عمران خان کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا
فوزیہ قصوری کا کہنا تھا اس وقت جب فنڈ ریزنگ ہورہی تھی تو اس وقت پارٹی کے اکاونٹس میں اندھا دھند پیسا آرہا تھا اور ایسے ایسے لوگوں سے آیا جن کو ہم جانتے بھی نہیں تھے لیکن خان صاحب جانتے تھے، عمران خان کی ابراج گروپ اور عارف نقوی کے ساتھ ڈیلنگ تھی اور اب یہ کہہ دینا کہ وہ کیوں کہ مسلمان ہے اس لیے اس کے خلاف ایسا سازش کی جارہی ہے یہ ایک بیوقوفانہ بات ہے۔
فوزیہ قصوری نے انکشاف کیا کہ پہلی دفعہ ابراج گروپ اور عارف نقوی کے خلاف جو تحقیقات شروع ہوئیں وہ یو اے ای سے شروع ہوئیں، عارف نقوی نے 300 ملین ڈالرز کے چیک لکھے تھے جو باؤنس ہوگئے تھے،فوزیہ قصوری نے مزید کہا کہ عارف نقوی نے امپیکٹ انویسمنٹ کے نام سے لوگوں سے پیسے بٹورے جسے انہوں نے لگژری سفر، لندن میں جائیداد خریدنے اور اپنے دوستوں کو عطیہ کرنے میں خرچ کیے، ان دوستوں میں عمران خان سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اسلام آباد:ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کردیا:فنڈزضبط کرنے کے اشارے،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کردیا،حکومت کی ہدایت کے مطابق ایف آئی اے نے تحریک انصاف کیخلاف 5 مختلف انکوائری ٹیمیں بنادی گئیں۔
فیڈرل ایویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) ایف آئی اے نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔حکام ایف آئی اے کے مطابق تحریک انصاف کیخلاف پانچ مختلف انکوائری ٹیمیں بنادی گئی ہیں اور یہ انکوائری کمیٹیاں لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں کام کریں گی۔
حکام ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی سے متعلقہ ریکارڈ مانگا جائے گا، جب کہ پانچوں ٹیموں کو ہیڈکوارٹر میں ایک بڑی کمیٹی سپروائز کرے گی۔
یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 2 اگست کو سنایا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے 70 سفحات پر مشتمل فیصلے میں 351 غیر ملکی کمپنیوں اور 34 افراد سے ملنے والی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیا ہے۔جن فنڈز کو ممنوعہ قرار دیا گیا ہے ان میں ووٹن کرکٹ اور برسٹل سروسز کے علاوہ امریکا، آسٹريليا اور کینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ بھی شامل ہے۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے کہ کیوں نہ یہ تمام فنڈز ضبط کر لئے جائیں۔
3 رکنی بنچ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق اقدامات کرے اور فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھی بھجوائی جائے۔فیصلے میں کہا گيا ہے کہ اسٹیٹ بینک سے ملنے والی معلومات کے مطابق پی ٹی آئی نے صرف 8 بينک اکاؤنٹس ظاہر کئے جب کہ مجموعی طور پر 16 اکاؤٹس چھپائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 13 اکاؤنٹس پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے کھلوائے مگر ان سے لاتعلقی ظاہر کی، اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنا پی ٹی آئی کی جانب سے آرٹیکل 17 (3) کی خلاف ورزی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ 2008 سے 2013 تک عمران خان کے جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹ صریحاً غلط ہیں، عمران خان کے سرٹیفکیٹ اسٹیٹ بینک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انتخابات کا دنگل ایک بار پھر سجنے کو تیار،قومی اسمبلی کی 9 سیٹوں پر الیکشن کا ہوا اعلان
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی اراکین کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔قومی اسمبلی کی 9 جنرل نشستوں پرضمنی انتخاب 25 ستمبر 2022 کو ہوگا کاغذات نامزدگی 10 سے 13 اگست تک جمع کرائے جا سکتے ہیں،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 17 اگست کو کی جائے گی،کاغذات کی منظوری یا مسترد ہونیکے خلاف اپیلیں 20 اگست تک جمع کیے جاسکیں گے ٹریبونل کی جانب سے ان اپیلوں پر فیصلے 25اگست تک کیے جائینگے،26 اگست کو امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست جاری کی جائیگی،27اگست تک امیدوار اپنے کاغذات واپس لے سکیں گے،29اگست کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائینگے، خیبرپختونخوا کے 4 حلقے این اے 22مردان، این اے 24 چارسدہ شامل ہیں این اے 31پشاور، این اے 45کرم میں پولنگ 25 ستمبر کوہوگی
سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی مستعفی ہو گئے تھے،قاسم سوری نے استعفے منظور کئے تھے تا ہم بعد میں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تصدیق کے لئے اراکین کو دوبارہ بلایا تو پی ٹی آئی کا کوئی رکن تصدیق کے لئے نہیں گیا ابھی چند روز قبل سپیکر نے 11 اراکین کے استعفے منظور کئے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے آج نو سیٹوں پر الیکشن کا اعلان کر دیا
قبل ازیں گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے 123 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا کیس کی سماعت ہوئی پی ٹی آئی نے اس وقت کے قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا آرڈر جمع کرا دیا پی ٹی آئی وکیل فیصل چودھری کی جانب سے 13 اپریل کا آرڈر عدالت میں جمع کرا دیا گیا آرڈر کے مطابق قاسم سوری نے 123 ممبران کے استعفے منظور کیے تھے آرڈر کے مطابق قاسم سوری نے استعفٰی منظور کرنے کو گزٹ میں نوٹیفائی کرنے کا بھی حکم دیا تھا پی ٹی آئی نے قاسم سوری کی جانب سے استعفٰی منظوری کی کاپی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی قاسم سوری نے جن 123 ممبران کے استعفے منظور کیے تھے ان کی لسٹ بھی منسلک ہے
پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے عدالت میں کہا کہ درخواست سے تمام اعتراضات مسترد کر دیے گئے ہیں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری 123 افراد کے استعفے منظورکر چکے ہیں اب مرحلہ وار منظوری قانون کی خلاف ورزی ہے عدالت نے کیس کی سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری قومی اسمبلی کا نمائندہ متعلقہ ریکارڈ کیساتھ پیش ہو، عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی، سیکرٹری اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا،
فارن فنڈنگ کی ساری تحقیقات پی ٹی آئی دور میں ہوئیں ،مصدق ملک
رہنما مسلم لیگ ن محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن سے کچھ دستاویزات توشہ خانہ سے متعلق مانگی گئیں،
محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کیبنٹ کے ذریعے دستاویز دینے سے روک دیا،عمران خان نے تحائف کی رپورٹ خفیہ رکھی، میاں گل نے عمران خان کو دیئے گئے تحفوں کی تفصیلات سامنے لانے کو کہا،عمران نیازی کے گوشواروں کی تفصیلات کیلئے ہم نے اسپیکر سے درخواست کی،الیکشن کمیشن سے عمران خان کا ہم نے 2018 اور 19 کاگوشوارہ لیا،جب رپورٹ نکلوائی تو معلوم ہوا کہ توشہ خانہ میں کتنا گھپلا ہوا ،10کروڑ سے زائد مالیت کی گھڑیاں 2کروڑ میں توشہ خانہ سے لی گئیں،کیبنٹ ڈویژن کو توشہ خانہ کی انفارمیشن چھپانے کیلئے استعمال کیا گیا،عمران خان نے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی،ہم ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لائیں گے،عمران خان تم نے پاکستانی قوم سے اتنا جھوٹ بولاہے ، کب تک خیر مناؤ گے،عمران خان تم نہ صادق ہونہ امین ہو،الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں میں توشہ خانہ تحائف کا کوئی ذکر نہیں،گوشواروں میں بہت سے تحائف ظاہر نہیں کئے گئے اور حلف نامہ دیا کے سب ظاہر ہے عمران خان جھوٹا ہونے کے علاوہ ٹیکس چور بھی ثابت ہو گئے،عمران خان نے ٹیکس چوری کی، جھوٹا حلف نامہ دیا ،اختیارات کا غلط استعمال کیا،
دوسری جانب وزیر مملکت مصدق ملک نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کی ساری تحقیقات پی ٹی آئی دور میں ہوئیں،عمران خان نے گورنر سٹیٹ بنک لگایا، انہوں نے ہی ریکارڈ الیکشن کمیشن کو دیا،گورنر سٹیٹ بنک عمران خان نے لگایا، کیا وہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں؟ چیف الیکشن کمشنر عمران خان نے لگایا، کیا وہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں؟ عمران خان بیرونی ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہیں،شہزاد اکبر لندن گئے اور خفیہ معاہدہ کیا، جو اربوں روپے حکومت پاکستان کو ملنا تھے وہ خفیہ معاہدے کے تحت ملک ریاض کو ملے عمران خان کے ارد گرد ہر شخص مشکوک ہے،عمران خان کا کالا دھن بھی سفید اور عام آدمی کا سفید دھن بھی کالا دھن، عمران خان نے ہسپتال کیلئے دیا گیا چندہ بھی سیاست کیلئے استعمال کیا،قانون کے مطابق چلیں گے، کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہو گی،
اسلام آباد:الیکشن کمیشن کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے عہدیداروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔فارن فنڈنگ کیس میں اسد قیصر، قاسم سوری و دیگر کیخلاف آپریشن ہوسکتا ہے
ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کی رائے میں عملی اقدام ہوگا،عمران خان کی نااہلی کے لئے قانونی کارروائی کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہوگی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آئے گی۔
ذرائع کے مطابق پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے، عمران خان کے خلاف الیکشن کمشن کی 12 نکاتی چارج شیٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، عمران خان کے خلاف کئی چارجز کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ چند دن میں پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اسد قیصر، قاسم سوری، عمران اسماعیل، شاہ فرمان، پنجاب کے سابق سینئر وزیرمیاں محمود الرشید، نجیب ہارون، ثمرعلی خان، سابق ایم پی اے سیما ضیاء، عامر کیانی، سیف اللہ نیازی، ڈاکٹر ہمایوں مہمند، کرنل (ر) یونس علی رضا، طارق شیخ، سردار اظہر طارق کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سنٹرل سیکریٹریٹ کے 4 ملازمین طاہراقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔
عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما سابق صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے کہا ہے کہ فواد چودھری کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کافیصلہ عجلت میں سنایا گیا،8 سال بعدا لیکشن کمیشن کا فیصلہ آیا پی ٹی آئی کیا سننا چاہتی تھی
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ہر معاملے میں یوٹرن لیتے ہیں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی بوکھلاہٹ کا شکارہے پتہ تھا کہ چوری ہے، اسٹے آرڈ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کئی بار کی گئی ،استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کا اس پر دائرہ اختیار نہیں، پھرا سکروٹنی کمیٹی کو چیلنج کیا گیا نہ صرف آپ کو نااہلی کا سامنا ہوگا بلکہ سیاسی جماعت ڈی زالو ہوگی، معاملے کو سادہ نہ لیں، تحقیقات ہوں گی، قانونی چارہ جوئی پر مشاورت چل رہی ہے،سارے معاملات سب کے سامنے ہیں، فرار ہونے کی کوئی راہ نہیں دیں گے ابھی تک یہ جواب نہیں آیا کہ بنی گالہ کا پلاٹ کہاں سے آیا، عمران خان کے بچے امپورٹڈ ہیں، کیا وہ میانوالی کے اسکول میں پڑھتے ہیں،مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان پارٹی سربراہی سے استعفٰی دیں، فیصلے کو آنے میں 8 سال لگے، اگلی کارروائی پر دو تین روز لگ ہی جاتے ہیں، آگاہ کر دیا جائے گا،
قبل ازیں وفاقی وزیرشازیہ مری نے کہا عمران خان جس ایجنڈے پر سیاست کررہا تھا یا اسکی فنڈنگ پربھی سوال اٹھتے ہیں ای سی پی کے فیصلے کے نتیجے میں جو کچھ عمران خان پر ثابت ہوچکا ہے وہ عوام کے سامنے ہے، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو جھوٹا قرار دیا ہے،
پاکستان پیپلز پارٹی نے فارن فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کیجانب سے الیکشن کمیشن میں جھوٹا حلف نامہ داخل کرانے پر عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق امین نہیں رہے ۔عمران خان سمیت پی ٹی آئی کو نااہل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے اور پی ٹی آئی کے بینک اکاؤنٹس سیز کئے جائیں۔ ثابت ہوچکا ہے کے عمران خان سرٹیفائیڈ چور ہے جس نے اسرائیل،انڈیا، آمریکا،کینیڈا کے ممالک سمیت دیگر 34 غیر ملکیوں سے فنڈنگ حاصل کی۔ عمران خان نے 13 بینک اکاؤنٹس چھپائے اور غیر قانونی فنڈنگ سے پاکستان میں انتشار پیدا کیا۔ عمران خان نے خیرات کے پیسوں کو بھی غیر قانونی طور پر اپنی جماعت کے لئے استعمال کرکے ملک کے خلاف سازش کی ہے۔عمران خان جھوٹا شخص ہے جس نے پوری قوم سے دھوکا کیا ہے
نثار کھوڑو کا مزید کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا ہے کے اسرائیل بھارت اور دیگر ممالک سے فنڈنگ کے کر عمران خان پاکستان پر غیر ملکی ایجنڈے پر مسلط کیا گیا تھا۔ امپورٹڈ کوئی اور نہیں عمران خان اور پی ٹی آئی امپورٹڈ جماعت ہے۔عمران خان کا اصل چہرہ قوم سے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ دھوکے باز شخص اداروں پر دباؤ ڈال کر اپنے جھوٹ پر مزید پردہ نہیں ڈال سکتا۔الیکشن کمیشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے پی ٹی آئی کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاکر عمران خان کی چوری کو بے نقاب کیا
قبل ازیں وفاقی وزیرشازیہ مری نے کہا عمران خان جس ایجنڈے پر سیاست کررہا تھا یا اسکی فنڈنگ پربھی سوال اٹھتے ہیں ای سی پی کے فیصلے کے نتیجے میں جو کچھ عمران خان پر ثابت ہوچکا ہے وہ عوام کے سامنے ہے، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو جھوٹا قرار دیا ہے،
وفاقی وزیر دفاع،مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج جو فیصلہ آیا ہے الیکشن کمیشن کا تاریخی فیصلہ ہے،
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 8سال لگے لیکن فیصلہ آیا جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا سب کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے، ہمارا یہ مطالبہ شکر ہے پی ٹی آئی کو بھی یاد آیا،نیب میں اپنے سارے کیسز ختم کر دیے اور ہمارے کیخلاف کیس شروع کر دیے، اپنی کارروائیاں بھول گئے ہیں، فارن فنڈڈ ایجنٹ میں بھارت، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں ،ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ بیرو نی سازش کی گئی، سارے ممالک شامل ہیں، ہندوستان کی کمی تھی، اس کے شہری بھی شامل ہیں، اسرائیل بھی شامل اور امریکہ تو سرفہرست ہے، پیسے یہ پکڑتا ہے اور الزام ہم پر آئے ہوئے ہیں،ایم این ایز اور ایم پی ایز دس دس بیس بیس ہزار لینے پر نا اہل ہوچکے ہیں، بار بار مذہب ٹچ دیتا ہے، اس کا حال ایسا ہے کہ حلف نامہ جھوٹے دیتا ہےآپ کو بھی پتہ ہے، مال کے معاملے میں عمران خان بھولا نہیں ہے، ساری عمر ہاتھ اس کے جیبوں پر رہے ہیں، زبان سوکھتی تھی مقصود چپڑاسی کا نام لیتے ہوئے، یہاں تو لائن لگی ہوئی ہے، ہم پر تو ایک اکیلے کا الزام لگتا ہے ادھر لائن لگی ہوئی ہے،
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ حق میں آئے تو عدالتیں اچھی، خلاف آجائے تو بری ہیں، 20سیٹوں پر 17 جولائی کو الیکشن ہوا، خود تعریف کرتے ہیں،کسی نے انٹرفیرنس نہیں کی، نفع نقصان اپنی جگہ الیکشن پر کوئی سوالیہ نشان نہیں،جب الیکشن کمشنر صاحب اپوائنٹ کیے گئے تو انہوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا، میں الیکشن کمشنر کی اپوائنٹمنٹ کا عینی گواہ ہوں، میرے ہاتھ میں پرویز خٹک نے چٹ پکڑائی، کھولی تو اس پر لکھا تھا راجہ سلطان،پوری پارٹی میں لوگ ہیں جن کے ہاتھ دوسرے لوگوں کی جیبوں پر ہیں، اس سے اندازہ لگا لیں کیا کرتے ہیں اور کیا کہتے ہیں،کہتے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں آیا ہے تو باقی لوگ چیخیں کیوں مار رہے ہیں،ہم پر پتہ نہیں کیا کیا لگ گیا ہوا ہے، ان کا تو ابھی آغاز ہوا ہے،تمام اداروں کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کی توقیق عطا کریں، اب ادارے ان کا احتساب کریں گےکون سچا ہے کون جھوٹا وقت بتائے گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ آج کے فیصلے کی روح میں عمران خان پر پابندی لگنی چاہیے،
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی بننی چاہیے اور قانون کی گرفت میں لایا جائے ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھےچیف الیکشن کمشنر کو عمران خان نے خود تعینات کیا
وفاقی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ عمران نیازی اپنی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ سے چلاتا رہا برسوں پہلے ایک شخص نے اپنی ہی جماعت کی فارن فنڈنگ کو چیلنج کیا عمران خان صادق ہے نہ امین یہ سب سے بڑا چور ہے وہ ممنوعہ فنڈنگ سے کس بنا پر ملک میں سیاست کر رہا تھا 34بھارتی صنعت کاروں سے عمران نیازی نے پیسے لیے،عارف نقوی کے ذریعے انہیں ممنوعہ فنڈنگ آئی پی ٹی آئی والے پھر بھی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ وہ سچے تھےدیکھا جائے گا کہ فیصلے کے خدوخیال کیا ہے ؟ جو صادق اور امین کے سرٹیفکیٹس عمران نیازی لہرا رہا تھا وہ سب جھوٹے تھے عمران خان صادق اور امین نہیں رہا ، فیصلہ آگیا ہے تم صریحاً مجرم ثابت ہوئے ہو، کیا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہو، یہ کیوں اتنا لاڈلا ہے کہ اس کے فیصلے سنائے نہیں جاتے کیا عمران خان نے عوام سے پوچھ کر بھارتی شہریوں سے پیسے لیے؟تھوڑی سی منی لانڈرنگ کی اس کے دوست نے،
ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا
الیکشن کمیشن نے متفقہ فیصلہ سنایا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،فیصلے میں کہا گیا کہ ممنوعہ فنڈز تحریک انصاف نے لئے ہیں 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن سے فنڈز لئے گئے ہیں، اکاؤنٹس چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے،آرٹیکل 17 کی شق تین کی خلاف ورزی کی گئی پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا جو غلط تھا، ،امریکہ ،آسٹریلیا سے عطیات لئے گئے، امریکی کاروباری شخصیت سے بھی فنڈز لئے گئے پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاونٹس کی تصدیق کی
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لئے جائیں ، الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی اکاؤنٹس کے حوالہ سے دیا گیا بیان حلفی جھوٹا ہے، سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 کے حوالہ سے ممنوعہ فنڈنگ ہے یہ کمیشن مطمئن ہے کہ جو ڈونیشن وصول ہوئی ابراج گروپ، ای پی آئی یوایس آئی سے لی گئی پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے بھی فنڈنگ وصول کی گئی،34غیر ملکیوں سے بھی ڈونیشن وصول کی گئی تحریک انصاف نے 16 اکاونٹس کے حوالے سے وضاحت نہیں دی،ووٹن کرکٹ کلب سے فنڈ ریزنگ کے نام پر ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی،پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت 34 کمپنیوں سے فنڈنگ ملی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 2008 سے2013 تک مس ڈکلیئریشن کیں 16بینک اکاونٹس چھپانا آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے کے مطابق امریکہ میں مقیم انڈین شہری رومیتا شیٹھی نے بھی پی ٹی آئی کو کئی ہزار ڈالر کی غیرقانونی فنڈنگ کی ۔
پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس تحریری فیصلہ کے مطابق برسٹل سروسز والی فنڈنگ بھی ممنوعہ قرار دی گئی، پی ٹی آئی امریکہ، کینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قراردی گئی،رومیتا سیٹھی سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قراردی گئی 351غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی،پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ لی ،سوئیزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی،
تحریری فیصلہ کے مطابق ووٹن کرکٹ کلب سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 ڈالرلیے گئے،ووٹن کرکٹ کلب ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی ملکیت ہے برسٹل انجینئرنگ سے 49 ہزار 965 ڈالرفنڈز لیے گئے، برسٹل انجینئرنگ متحدہ عرب امارات کی کمپنی ہے سوئٹزر لینڈاوربرطانوی کمپنیوں سے 10 لاکھ ایک ہزار 741 ڈالرزلیے گئے،امریکاکی 2 ایل ایل سی کمپنیوں سے 25 لاکھ 25 ہزار 500 ڈالرمنتقل ہوئے،کینیڈا کارپوریشن سے 2 لاکھ 79 ہزار 822 ڈالرفنڈزمنتقل ہوئے،برطانیہ کی کمپنی سے 7 لاکھ 92 ہزار 265 پاؤنڈزمنتقل ہوئے،آسٹریلوی کمپنی ڈنپیک پرائیوٹ لمیٹڈ سے فنڈزلیے گئے،
فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے جانے سے قبل الیکشن کمیشن کے باہر سیکورٹی سخت کی گئی تھی الیکشن کمیشن عمارت کے باہر سیکورٹی کے تین سرکل تعینات کئے گئے ہیں،پہلے سرکل میں پولیس دوسرے میں رینجرز اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال لی تیسرے سرکل میں ایف سی کے اہلکار کی بھی تعینات ہیں، الیکشن کمیشن آفس جانے والے راستے بند تھے ، قیدیوں کی وین بھی الیکشن کمیشن کے باہر موجود تھی
ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق فیصلہ الیکشن کمیشن کے تین رکنی بنچ نے سنایا، بنچ میں چیئرمین الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ، نثار احمد راجہ اور شاہ محمد جتوئی شامل تھے ،فیصلہ سنائے جانے سے الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم اجلاس بھی ہوا،
ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا، اتحادی جماعتیں بار بار مطالبہ کر رہی تھیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے کس کس غیرملکی کمپنی سے کتنے پیسے وصول کئے ۔ واضح رہے کہ یہ صرف 2018 سے 2003 تک سکروٹنی ہے ۔ اندازہ کریں اس کے بعد کے سالوں میں کیا ہوا ہوگا
فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف پر کسی اور نے نہیں بلکہ بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیا،بقول اکبر ایس بابر انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ بارے عمران خان کو آگاہ بھی کیا تھا ایسے فنڈز لئے گئے جنکی پاکستان کا قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان نے کوئی ایکشن نہ لیا جس کی بنا پر وہ الیکشن کمیشن گئے
حالیہ ضمنی الیکشن میں شفاف ترین الیکشن کے باوجود اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسکی اصل وجہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو مزید تاخیر کا شکار کروانا تھا
جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کا کہنا ہے کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کو آٹھ سال لٹکا کر عمران خان کو فائدہ دیا گیا۔ آج ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ خواہ جو بھی آئے، اس سے بھی بالآخر عمران خان کو ہی فائدہ پہنچایا جائے گا
فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر نے فیصلے سے قبل الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ا لیکشن کمیشن میں آج تاریخی فیصلہ ہوگا،دیکھنا ہوگا کہ وہ کیچ یا کلین بولڈ ہوتے ہیں،پر امید ہوں کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا،گھر سے 2 رکعت نفل پڑھ کر آیا ہوں،
اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خبردار:واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آج جوفیصلہ سنانےجارہی ہےوہ صرف 2009 سے 2013 کے پانچ سالہ ریکارڈ کا احاطہ کرے گی۔ پی ٹی آئی کو اصل عروج اسکےبعدحاصل ہوا۔اقتدار اسکے بعد ملا۔بشریٰ بی بی اورمانیکا خاندان اسکے بعد دخیل ہوئے۔ اصل واردات اسکے بعد کے سالوں میں ہوئیں جواس سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں۔
خبردار: واضح رہےکہ الیکشن کمیشن آج جوفیصلہ سنانےجارہی ہےوہ صرف 2009 سے 2013 کےپانچ سالہ ریکارڈکااحاطہ کرےگی۔ پی ٹی آئی کو اصل عروج اسکےبعدحاصل ہوا۔اقتداراسکےبعدملا۔بشریٰ بی بی اورمانیکا خاندان اسکےبعد دخیل ہوئے۔ اصل واردات اسکےبعد کےسالوں میں ہوئیں جواس سےکئی گنازیادہ سنگین ہیں۔
سابق وزیراعظم، ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ فیصلہ سے عوام کو عمران خان کی کرپشن کا پتا لگے گا عمران خان نے 8 سال میں ایک دستاویز بھی پیش نہیں کی الیکشن کمیشن سے ایسا فیصلہ آنا چاہئے تاکہ حق اور قانون کا بول بالا ہو
ممنوعہ فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کا ردعمل بھی آ گیا
تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے فیصلہ آنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے علم میں ہے کہ یہ باتیں سننے آئے ہیں کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ ہے الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ پر تحریک انصاف پر پابندی لگانے جا رہے ہیں یہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے غیر ملکی فنڈنگ ثابت نہیں ہوئی نہ ہی پابندی لگی ہے ایک نوٹس موصول ہوا ہے اس کا جواب دیں گے، کنول شوذب کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ آگے بڑھایا گیا، جانبدار الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا، آئینی ادارہ ایک ہی جماعت پر اس قانون کو لاگو کر رہا ہے، سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹس کیوں منظر عام پر نہیں آئیں. الیکشن کمیشن کا آج کا فیصلہ درست نہیں ہے اسے ہم چیلنج کریں گے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے فیصلہ آنے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے ڈکلئیرڈ "صادق و امین” الیکشن کمیشن میں "جھوٹے” نکل آئے۔
سپریم کورٹ کے ڈکلئیرڈ "صادق و امین" الیکشن کمیشن میں "جھوٹے" نکل آئے۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے فیصلہ آنے کے بعد ردعمل میں کہا کہ سرمایہ دار سارے پارٹیوں کو فنڈز دیتے ہیں سرمایہ داروں سے اس لیے تعلق نہیں رکھتا،گواہی دینے کو تیار ہوں انہوں نے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے ،انہوں نے پوری قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے،
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شوق پورا کر لیا الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس پر فیصلہ سنا کر. اب قوم جواب مانگتی ہے کے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ رپورٹ کیوں نہیں جاری ہو رہی؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایت کو پامال کر کے الیکشن کمیشن پی ڈی ایم جماعتوں کو پناہ دے رہی ہے
شوق پورا کر لیا الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس پر فیصلہ سنا کر. اب قوم جواب مانگتی ہے کے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ رپورٹ کیوں نہیں جاری ہو رہی؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایت کو پامال کر کے الیکشن کمیشن پی ڈی ایم جماعتوں کو پناہ دے رہی ہے