Baaghi TV

Tag: فاروق ستار

  • کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں ہیں

    اسلام آباد:کامران ٹیسوری کی برطرفی پر فاروق ستار صدماتی کیفیت میں، سابق گورنر سندھ عمرے کے بعد لندن میں قیام ا ور اہم ’’دوستوں‘‘ سے ملاقاتیں کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ کے سابق گورنر کامران ٹیسوری ان دنوں عمرے کی ادائیگی کے لئے حجازمقدس میں ہیں جہاں سے وہ عیدالفطر کے لگ بھگ برطانیہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ کئی دنوں تک لندن میں قیام کرینگے ا ور اہم ’’دوستوں‘‘ سے ملاقاتیں بھی کریں گے کامران کی گورنر کے منصب سے برطرفی پر ان کے قریبی رفقا جن میں سابق وفاقی وز یر اور میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار سرفہرست ہیں صدماتی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

    ان کے قریبی ذرائع نے ہفتے کی شام میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ایسے ماحول میں جب وہ سندھ کے شہری علاقوں باالخصوص کراچی کے مسائل اور مطالبات کے لئے زوردار آواز بن چکے تھے صوبائی حکمران پیپلزپارٹی ان کے اس کردار سے نالاں تھی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے ایم کیو ایم پاکستان کے موقف کو ضعف پہنچا ہے اپنے گورنر کی برطرفی پر ایم کیوایم پاکستان کا دوسرا دھڑا بھی دم بخود ہے تاہم وہ اسے حکومت سے راہیں جدا کرنے کے لئے معقول وجہ قرا دینے سے اتفاق نہیں کرتا۔

    اسرائیلی فوجی ایرانی کلسٹر بموں سے خوف زدہ ہیں، بلوم برگ

    معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اپنے سرکردہ ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ اسی ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے اور ان کی وزیراعظم شہباز شریف سمیت اہم وفاقی وزر اء اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ خان سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں وہ گورنر کی علیحدگی سے زیادہ کراچی کے مسائل کا مقدمہ پیش کریں گے۔

    کوہاٹ میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

  • سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے-

    دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک المناک قومی سانحہ ہے جس میں 100 سے زیادہ قیمتی جانوں کا اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، پورا ملک اس سانحہ پر سوگوار ہے ہر آنکھ اشک بار ہے، آج یہاں سے چار جنازے اٹھے ہیں جب کہ اس کالونی میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شہید ہوئے، چار کا جسد خاکی ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے اور دو باقی ہیں، ایک بیٹی بچی ہے اور پورا خاندان شہید ہوگیا، شادی کے گھر کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟ باقیات کا احترام اور تقدس کے ساتھ فارنزک ٹیسٹ کیا جائے لواحقین صرف یہ چاہتے ہیں، وزیر اعلی سندھ اور میئر کراچی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں، لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں، گنتی پوری کیے بغیر سکو ن نہیں ملے گا، اہل خانہ لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔

    فاروق ستار نے کہا کہ ایک دکان سے 30 لاشیں مل سکتی ہیں تو یہ رش کا وقت تھا، بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی، اندرون ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا، دو ٹرکوں کی باقیات کا چوری ہونا تشویش ناک ہے، بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا ہے، لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے، جس طرح گورنر ہاؤس میں رابطہ مرکز بنایا گیا ہے اس طرح وزیراعلی اور میئر کے دفتر میں بھی مراکز قائم کریں-

    انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں وہ کیسے رپورٹ دیں گے کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی اداروں کی غفلت ہے؟ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے، کمشنر کی سربرا ہی کی تحقیقات کو کوئی نہیں مانے گا۔ آپ جواب دیں آگ کیوں نہ بجھائی گئی؟ عوام سزا نہیں دے سکتے ہوسکتا ہے شفاف تحقیقات سے آپ سد ھر جائیں، فائر فائٹرز کی جانوں کو بچایا جائے، فائر فائٹر فرقان کے گھر وزیر اعلیٰ میئر کیوں نہ گئے؟ جو لوگ فرقان کے گھر نہیں گئے انہی جانا چاہیے۔

  • سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،فاروق ستار

    سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش سے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،طوفانی بارش کے دوران میئر کراچی اور سندھ حکومت فیلڈ سے غائب رہی۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ میئر کراچی 40 ملی میٹر بارش کی گنجائش والے نالوں کے بہانے بنا رہے ہیں، اگر شہر سے بروقت کچرا اٹھا لیا جاتا تو 40 کیا 400 ملی میٹر بارش کا پانی بھی انہی نالوں سے 2 سے 3 گھنٹوں میں نکل جاتا، کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے،،شہر قائد میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش نے نظام زندگی مفلوج کر دیا، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے گورنر سندھ نے بارش کے دوران مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو یقین دلایا کہ مشکل وقت میں وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ روز کی بارش سے تاجروں کو ہونے والے نقصان کون پورے کرے گا، دکانوں میں پانی داخل ہوا، اس کا ازالہ کون کرے گا، کراچی کے لیے کوئی رین ریلیف فنڈ نہیں اور نہ ہی کسی پیکج کا اعلان کیا گیا،مرتضیٰ وہاب لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، اب تو سب کچھ آپ کا ہے، وسائل، زمینیں، ایس بی سی اے، سسٹم بھی تمھارا، وزیر اعلیٰ آپ کا ، کراچی پر قبضہ بھی آپ کا، کراچی تمھاری کالونی، اب کیا بہانہ ہے، 40 ملی میٹر کے چکر میں جان بچا کر نکل گئے۔

    مرتضیٰ سولنگی صدر مملکت کے ترجمان مقرر

    فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرے کہ کچرا وقت پر نہیں اٹھایا گیا اور اسی وجہ سے نالے بلاک ہوئے، ورنہ یہ پانی ندیوں کے ذریعے سمندر تک جا سکتا تھاجب وسیم اختر میئر تھے تو 50 کروڑ روپے نالوں کی صفائی پر دیے جاتے تھے، لیکن اب تو حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور وسائل بھی اسی کے پاس ہیں، پھر بھی نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ حکمران چھپنے کے بجائے سامنے آئیں اور ایم کیو ایم و پیپلز پارٹی کے دو دو سابق میئرز ٹی وی پر مناظرہ کرلیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ شہر کیسے چلایا جاتا ہے؟

    انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں 175 سگنلز ہوتے تھے، آج 69 سگنلز ہیں، 106 کہاں گے، اس میں بھی آپ کے سپاہی سائڈ پر کھڑے ہوں گے تو ٹریفک تو جام ہوگا، شہید ملت پر آج بھی پانی جمع ہےہم میئر کراچی پر تنقید نہیں بلکہ جائزہ رپورٹ پیش کر رہے ہیں، بہانے نہ کریں، کچرا وقت پر اٹھ،جائے تو 40 ملی میٹر کی گنجائش والے نالے 400 ملی میٹر بارش کا پانی بھی نکال دیں گے۔

    موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    ڈاکٹر فاروق ستار نےکہا کہ وزیراعلیٰ صاحب ایک سڑک سے ہو کر آگئے اور کہا کہ شہر سے پانی نکال دیا گیا، پاکستان کو بچانا ہے تو کراچی کو بچانا ہوگا، وزیراعظم شہباز کو فون کر کے وزیراعلیٰ کی اپنی زمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، سندھ حکومت گزشتہ 17 برسوں کے دوران ملنے والے 22 ہزار ارب روپے کا حساب دے، میئر کراچی بھی ساڑھے 6 سال کا حساب عوام کو دیں، شہر کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کو بلائیں، بیٹھ کر بات کرتے ہیں، شہر کے مسائل کا حل نکالتے ہیں،مرتضیٰ وہاب، بارش سے قبل رین ایمرجنسی سینٹر بناتے، متعلقہ افسران کے نمبرز شیئر کرتے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، کراچی کو آپ نے سندھ سے الگ کر دیا ہے، مرتضیٰ وہاب بول نہیں سکتے ، ہمیں انداز ہ،ہے کہ ان کی کیا مشکلات ہیں۔

    فاروق ستار نے جماعت اسلامی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی والے کہاں ہیں، انہوں نے شہریوں کے لیے کیا اقدامات اٹھائے، جاگتے ہوئے بھی ان کے اعصابوں پر ایم کیو ایم سوار ہے، سلیبس بدل گیا کوچ بدل گیا لیکن جماعت اسلامی اسی پرانے کورس پر چل رہی ہے۔

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    فاروق ستار نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں اب درست ثابت ہو رہی ہیں۔’اللہ کرے کہ اگلا اسپیل نہ ہو، کیونکہ جتنی بارش ہوگئی ہے وہی حکومت سے نہیں سنبھالی جارہی اور پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگلے اسپیل کے لیے تیار ہیں۔‘

  • صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    اسلام آباد: ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ وزیرا عظم سانحہ جعفر ایکسپریس پر اے پی سی بلائیں جو قومی ایجنڈا طے کرے۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ ایم کیو ایم بلوچستان واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے، تمام سیاسی جماعتیں صرف مذمت تک نہ رہیں عملی طورپر دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں، سیکیورٹی فورسز کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں سیاسی نظام میں جو کمی ہے اسے دور کرنا چاہیے، ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل سامنے لانا ہوگا، صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا آج قومی سلامتی کا ایشو ہمارے لئے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ اے پی ایس پر حملے کی طرح قوم کو متحد کرنا ہوگا، اے پی ایس کے وقت فوجی و عسکری و اپوزیشن قیادت نے مشاورت کی، یہ نیشنل ایکشن پلان اسی قومی مشاورت یا اے پی سی کا نتیجہ تھا، بلوچستان میں امن و امان کا سب سے پہلا اثر کراچی پر ہوتا ہے نیشنل ایکشن پلان میں آرٹیکل 140پر ’’حقیقی عمل کیا جائے‘‘ لکھا ہے مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم عوام سے رابطے میں نہیں ہیں آج پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست بن رہی ہے، نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

    مریم نواز کا گردےعطیہ کرنیوالے تمام افراد کو خراج تحسین

    انہوں نے کہا کہ آج حکومت اور اپوزیشن طے کریں کہ اگلے دس سال ملک کو کیسے چلانا ہے؟ قومی ایجنڈا بنانے کی ضرورت ہے سندھ میں بدترین حکمرانی ہوگی تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگا بلوچستان میں آپریشن ہوگا تو وہاں سے دہشت گرد کراچی بھاگیں گے، اے پی ایس کے وقت کی طرح وزیر اعظم اے پی سی بلائیں اور اے پی سی قومی ایجنڈا طے کرے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس کو وائس چانسلر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، پورا صوبہ ایڈہاک ازم پر چلایا جارہا ہے، جب تک بلدیا تی بااختیار نظام نہیں بنے گا عوام کی جمہوریت میں موثر شرکت نہیں ہوگی، آج کراچی میں طلبا جو اسی فیصد پاس ہوتے تھے اب تیس فیصد پاس ہورہے ہیں آج کراچی میں میرٹ کا قتل عام ہورہا ہےہر زبان و علاقہ کا فرد کراچی میں رہتا ہے میثاق جمہوریت کے مطابق عدلیہ کے بارے میں 26 ویں آئینی ترمیم لائی گئی، میثاق جمہوریت کے مطابق مقامی حکومتوں کو کب بااختیار کیا جائے گا ؟-

    فیض کو آپ نے جیل میں ڈالا، اچھا کیا، باجوہ کو بھی ڈالو،شیر افضل مروت

  • سندھ حکومت کسی بھی وائٹ پیپر سے خوفزدہ نہیں ہے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کسی بھی وائٹ پیپر سے خوفزدہ نہیں ہے،شرجیل میمن

    کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ فاروق ستار کا شمار سیاست کے بہت بڑے شعبدہ بازوں میں ہوتا ہے، سندھ حکومت کسی بھی وائٹ پیپر سے خوفزدہ نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : سندھ کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے فاروق ستار کو حقائق اور اعداد و شمار کا مطالعہ کرنا چاہیے تھا، سندھ حکومت نے پچھلے 5 سال میں 160 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات اور پنشن کی مد میں ادائیگیاں کی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کے ایم سی، کے ڈی اے اور واٹر بورڈ جیسے ادارے خودمختار ہیں، جو اپنی مالی ذمے داریوں کے خود ذمے دار ہیں۔ صرف کراچی کے بلدیاتی اداروں کو سندھ حکومت نے پچھلے سال 20 ارب روپے کے قریب اضافی گرانٹ دی تاکہ وہ مالی بحران سے نکل سکیں، کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی اداروں کے مسائل کا اصل سبب ماضی میں ایم کیو ایم کی ناقص حکمرانی اور کرپشن ہے، 2017 سے پہلے بھی بلدیاتی ادارے ایم کیو ایم کے پاس تھے، لیکن بدقسمتی سے ان اداروں کو مالی اور انتظامی تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔

    27 فروری کا دن پاکستان کے دفاعی عزم اور طاقت کا نشان بن چکا .خالد مسعود سندھو

    شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سرپرستی میں کے ڈی اے ، کے ایم سی ، واٹر بورڈ اور دیگر اداروں میں بے تحاشا کرپشن کی گئی، جعلی بھرتیاں ہوئیں اور وسائل کا غلط استعمال کیا گیا، آج بھی یہ ادارے جن مالی مشکلات کا شکار ہیں، وہ ایم کیو ایم کی سابقہ لوٹ مار ہی کا نتیجہ ہیں، فاروق ستار دعویٰ کر رہے ہیں کہ 80 فیصد واجبات سندھ حکومت کے ذمے ہیں، جو سراسر غلط ہے، بلدیاتی ادارے خودمختار ادارے ہیں اور ان کے پنشن فنڈز اور مالیاتی امور ان کے اپنے دائرہ کار میں آتے ہیں، سندھ حکومت نے کئی مواقع پر بلدیاتی اداروں کی مدد کی، لیکن یہ ادارے ایم کیو ایم کے دور حکومت میں خود کو مالی طور پر مستحکم کرنے میں ناکام رہے۔

    مصطفیٰ قتل کیس: ملزمان ارمغان قریشی اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں ملازمتیں آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت دی جاتی ہیں۔ اگر فاروق ستار کے پاس کوئی ثبوت ہیں کہ جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں ہوئی ہیں، تو وہ سامنے لائی۔ ایم کیو ایم کے دور میں بھی سرکاری نوکریاں دی گئیں، تب کیا شفافیت یقینی بنائی گئی تھی؟ سندھ حکومت کو وفاق سے جو فنڈز ملتے ہیں، وہ شفاف طریقے سے خرچ کیے جاتے ہیں اگر فاروق ستار سمجھتے ہیں کہ 25 ارب روپے غائب ہو گئے ہیں تو وہ ثبوت فراہم کریں، حکومت آزاد اور شفاف آڈٹ کے لیے تیار ہے۔

    ایم کیو ایم کاسندھ حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کرنے کا اعلان

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کسی بھی وائٹ پیپر سے خوفزدہ نہیں ہے، بلکہ ہم خود ایک حقیقت نامہ جاری کریں گے جس میں ایم کیو ایم کی سابقہ حکومت کی مالی بدعنوانیوں اور کراچی کے تباہ حال بلدیاتی اداروں کی حقیقت عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ ایم کیو ایم کراچی میں اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہے اور اب وہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔

    طلاق کی خبریں:گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا کی مینیجر کا بیان جاری

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں میں متعدد جدید ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، جب کہ ایم کیو ایم کے دور میں شہر کھنڈر میں تبدیل ہو گیا تھا اگر ایم کیو ایم واقعی کراچی اور حیدرآباد کے عوام کی خیر خواہ ہوتی تو یہ ادارے آج مالی بحران کا شکار نہ ہوتےفاروق ستار اور ایم کیو ایم اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سندھ حکومت پر الزامات لگا رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو ماضی میں جس طرح چلایا گیا، اس کے باعث آج کے مسائل پیدا ہوئے سندھ حکومت کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑ ی ہے اور ہرممکن ریلیف فراہم کرے گی، لیکن جو ماضی میں لوٹ مار ہوئی، اس کا حساب بھی ایم کیو ایم کو دینا ہوگا۔

    مشتاق احمد کی وقار یونس کو 20 اور وسیم اکرم کو 15 کروڑہرجانے کی دھمکی

  • کراچی میں ٹریفک حادثات پر شرجیل میمن اور فاروق ستار کی مشترکہ پریس کانفرنس

    کراچی میں ٹریفک حادثات پر شرجیل میمن اور فاروق ستار کی مشترکہ پریس کانفرنس

    وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شرجیل میمن نے کہا کہ ٹریفک حادثات سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی معاملہ ہے، اور اس پر سیاسی بیان بازی سے بچنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں سے اس مسئلے پر بات چیت کی گئی ہے۔شرجیل میمن نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک بھی حادثہ نہ ہو، اور حادثات کے بعد پولیس ڈرائیورز کو گرفتار کرتی ہے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حادثات پہلے بھی ہوتے تھے لیکن اب ان کی تعداد زیادہ ہو رہی ہے، اور کہا کہ کسی کی جان کا ضیاع نہیں چاہتا۔

    فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ کراچی کے 100 سے زائد شہری ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حادثات سیاسی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے، اور حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرے۔فاروق ستار نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو اس صورت حال کا سامنا نہ ہوتا، اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سب مسئلے کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے شہری کئی سالوں سے ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ٹریفک حادثات اور جلاؤ گھیراؤ کے مسائل انتظامی نوعیت کے ہیں، نہ کہ سیاسی یا لسانی مسائل۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اس پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

    لنڈی کوتل میں فٹبال ٹورنامنٹ کا شاندار اختتام

    ہیکرز کی جانب سے مختلف براوزر ایکسٹینشنز پر سائبر حملے

    اسلام آباد میں رجب طیب ایردوان انٹرچینج کا افتتاح

  • متحدہ نے میتوں کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا ہے،شرجیل میمن

    متحدہ نے میتوں کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئروزیرشرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ متحدہ نے ہمیشہ دوسروں کی میتوں کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا ہے۔

    ایم کیوایم کے سینئررہنما ڈاکٹرفاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہاکہ فاروق ستار اور دیگر متحدہ لیڈران ذہن نشین کرلیں کہ الزامات سے ان کا قد اونچا نہیں ہونے والا۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام دہائیوں تک متحدہ کی تشدد سے بھرپور دھونس والی سیاست کے رحم و کرم پر تھے۔اب متحدہ کی دھونس نہیں چل پا رہی تو عوام کو بھڑکا کر حادثات کی بنیاد پر فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سینئرصوبائی وزیر نے کہاکہ متحدہ رہنما فاروق ستار کی ہرزہ سرائی بے بنیاد، جھوٹ اور منافقت پر مبنی ہے۔فاروق ستار پیپلز پارٹی حکومت سندھ پر الزمات سے قبل اپنی سیاہ تاریخ پر نظر ڈالیں۔سندھ حکومت پر الزامات لگانے والے ماضی میں شہر کا امن اور ترقی تباہ و برباد کرنے میں ملوث رہے ہیں۔لسانی فسادات، تشدد، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ متحدہ کی وطیرہ تھا۔آفاق احمد کی گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے کہاکہ متحدہ مگر مچھ کے آنسو بہانا بند کرے، سندھ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے، جبکہ ایم کیو ایم انتشار پھیلانے میں مصروف ہے۔پشتونوں اور اردو بولنے کے درمیان نفرت پھیلانے کی سازش ایم کیو ایم خود کرتی آئی ہے، عوام جانتے ہیں کہ اصل فسادی کون ہیں۔

    پاک بھارت میچ کے اضافی ٹکٹس بھی چند گھنٹوں میں فروخت

    بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں ناکام

    کراچی سے ہنی مون کیلئے وادی نیلم جانے والا نوبیاہتا جوڑا چل بسا

    ملک کے کچھ علاقوں میں بارشیں ہونے کا امکان

    ملک کے کچھ علاقوں میں بارشیں ہونے کا امکان

  • کراچی میں حالات کسی وقت بھی ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں،فاروق ستار

    کراچی میں حالات کسی وقت بھی ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں،فاروق ستار

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ڈمپر جلانے کے پیچھے نہ آفاق ہیں نہ ایم کیو ایم، ہم عوام کی کیفیت بیان کررہے ہیں شہر میں ڈمپر جلانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، اب چاہے تو اس بیان پر مجھے بھی گرفتار کرلیں-

    باغی ٹی وی : کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ شہر میں لسانی فسادات کیلئے ایک بار پھر اسٹیج سجایا جا رہا ہے، آفاق احمد کی گرفتاری کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو گا قانون نافذ کرنے والوں کو ابھی سے بلایا جائے، رینجرز کو تنخواہ سندھ کے خزا نےسے جارہی ہےرینجرز کو ٹریفک پولیس کےساتھ سڑکوں پر کھڑا کیا جائے، رینجرز کو ان واقعات کی پیشگی روک تھام کے لیے استعمال کیا جائے،بینکوں سے اے ٹی ایم سے رقم نکال کر لٹنے والے افراد کے تحفظ کے لیے رینجرز کیوں نہیں بلائے جا رہے سرجانی اور ضلع غربی لینڈ مافیا کی زد میں ہیں اور انٹر بورڈ اور جامعات میں نااہل افسران تعینات کیے گئے ہیں جو لوٹ مار میں مصروف ہیں۔

    مالاکنڈ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا بڑا اسکینڈل، گرفتارپروفیسر سے طالبات کی ویڈیوز اور تصاویر برآمد

    فاروق ستار نے کہا کہ بدترین طرز حکمرانی ملک دشمنی ہے، پنڈی والے کہتے ہیں کہ سسٹم کو اکھاڑ دیں گےمگر سسٹم موجود ہےچغلی کرنے والوں کودھمکایا جاتا ہےروک سکتے ہیں تو چغلی سننے والوں کو بھی روکیں ہمارےاہم فیصلوں اور پالیسیوں میں گورنر سندھ کااہم کردار ہے کراچی کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، یہاں حالات کسی وقت بھی ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں، 100 افراد کی ہلاکت کے باوجود وزیر اعلیٰ یا کسی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کوئی ہمدردی کا بیان نہیں آیا –

    فاروق ستار نے کہا کہ ڈمپر مافیا کا سرغنہ کرکٹ کھلاڑی سیاستدان کے ساتھ کھڑا رہا ان کا امیدوار تھا، یہ عناصر سیاسی جماعتوں میں اپنی جگہ بناتے ہیں، اس طرح مافیا کے کارندوں کی سرکوبی ہونی چاہئے، ایسا نہ ہوا تو مافیا اس شہر کو لیڈ کرے گا اور سیاستدان بیک سیٹ پر ہوں گے کراچی میں صوبائی حکومت سیاسی وڈیروں کی بے حسی اور مفاد پرستی بدترین حکمرانی نے پاکستان کی سلامتی بقاء کو کراچی میں داؤپر لگادیاہمیں دیوار سے لگایا گیا تو نہیں معلوم اس شہر میں کیا ہوگا، آخری وارننگ دے رہا ہوں، ہم کراچی کو 85 جیسی آگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے۔

    جنوبی افریقہ میں دنیا کے پہلے ہم جنس پرست امام مسجد کا لرزہ خیز قتل

    رہنما ایم کیو ایم نے کہاکہ بے بسی بے حسی احساس محرومی احساس بیگانگی اور عدم تحفظ سے کراچی کے شہری گزر رہے ہیں، اللہ نہ کرے میرے منہ میں خاک کراچی بیروت بننے اور 85 سے بدتر حالات کی جانب جاتا نظر آرہا ہے، ظلم و ناانصافی کا نا ختم ہونے والا سلسلہ اتنا طویل ہے جتنی پریس کانفرنسیں کریں کم ہیں پر امن احتجاج اور عوامی رابطے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، جماعت اسلامی بھی اس میں اپنا حصہ ڈالے جو اس وقت پیپلز پارٹی کی بغل میں چھپی ہے۔

    سعودی عرب اور امارات سمیت 11 ملکوں سے مزید 173 پاکستانی ڈی پورٹ

    انہوں نے آفاق احمد کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر کوئی ردعمل نہ آیا تو شہر کی سیاست کی ڈائنامکس تبدیل ہو جائیں گی ایم کیو ایم کا پیغام مہاجروں کے لیے ہے جو اس ظلم کا شکار ہیں، اور اگر ایم کیو ایم صبر کی تلقین نہ کرتی تو شہر میں حالات مزید خراب ہو چکے ہوتے ڈمپر مافیا قانون کو ہاتھ میں لے کر شہر میں ریاست چلا رہا ہے اور جرائم مافیا اپنے مفادات کو فروغ دے رہا ہے اشتعال انگیز بیانات پر ڈمپر مافیا کے سرغنہ کو بھی گرفتار کیا جائے ڈمپر مافیا کو لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، اس پر کوئی ری ایکشن دیا جائے تو اسے دھمکایا جاتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی تھریٹ،ترجمان جے یو آئی کی کےپی حکومت پر تنقید

    فاروق ستار نے پیپلز پارٹی پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی آڑ میں بدعنوانی، کرپشن اور بدترین حکمرانی کو فروغ دیا جا رہا ہےصوبے بالخصوص کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں آئین، قانون یا حکومت کی عمل داری کہیں بھی نظر نہیں آتی شاہانہ طرز کے میرج ہال بن رہے ہیں ٹی وی چینلز خریدے جارہے ہیں، یہ سارا پیسہ رشوت اور بدعنوانی کا ہے –

  • 24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

    24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان کیا اور اس دن کی تقریبات میں شریک ہونے کے لیے تمام شہریوں کو دعوت دی۔

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی میں آ کر مختلف قومیتوں کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور مل جل کر رہنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کراچی شہر نے کبھی کسی زبان یا قوم کے خلاف بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم کا آغاز ہی اس پیغام کے ساتھ ہوا تھا کہ ہم آپ کو اور آپ ہمیں تسلیم کریں۔” 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے منایا جائے گا اور ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان، عوام اور تمام شہریوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ دن مہاجر کمیونٹی کی ثقافت، تاریخ اور قربانیوں کو اجاگر کرنے کا دن ہو گا۔آپ ہمیں تسلیم کریں، ہم آپ کو تسلیم کریں گے، 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے پر سب کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ پہلی بار گورنر سندھ کوخیال آیا کہ مہاجر کلچر ڈے بھی منانا چاہیے، اگر گورنر سندھ نے اس بار احسن اقدام اٹھایا ہے تو ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی خالد مقبول صدیقی کے اعلان کی حمایت کی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ گزشتہ تین سالوں سے گورنر ہاؤس میں سندھی کلچر ڈے منایا جا رہا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ گورنر سندھ نے مہاجر کلچر ڈے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فاروق ستار نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، "اگر گورنر سندھ نے اس بار یہ احسن قدم اٹھایا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”فاروق ستار نے کہا کہ "مہاجر کلچر بانیان پاکستان کی ثقافت کا حصہ ہے، جنہوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور جانوں کی قربانیاں دیں۔” انہوں نے کراچی کو مختلف ثقافتوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب کراچی کی ثقافت مختلف ثقافتوں کا امتزاج ہو گی۔ "ہمیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہے اور ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کرنا ہے۔”

    خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار نے واضح کیا کہ 24 دسمبر کو ہونے والے مہاجر کلچر ڈے کا مقصد مہاجر کمیونٹی کی ثقافتی وراثت، قربانیوں اور ان کے ملک کے لیے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن کراچی اور پاکستان کے تمام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش ہے تاکہ مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی اور محبت کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے عوام کو دعوت دی کہ وہ اس دن کی تقریبات میں شرکت کریں اور مہاجر کلچر کے حوالے سے اپنی سوچ کو وسیع کریں۔

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

  • جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے، جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : ایوان میں اظہار خیال کرےے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آئین بنانے میں ہمیں 9 سال لگے، ہمیں مہنگائی اور بے روزگار ی ختم کرنا ہوگی، ایک باختیار، موثر بلدیاتی نظام ہی جمہوریت کو مضبوط بناسکتا ہے، بااختیار بلدیاتی نظام کو موثر بنایا جائے، پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کیلئے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیں، سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کے لیے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 26ویں آئینی ترامیم کی تمام 27 شقیں منظور کرلی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی سے بھی منظوری کے بعد مسودہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے، صدر آصف زرداری کے مسودہ پر دستخط کے ساتھ ہی چھبیسویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    آئینی ترمیم :ایوان سے منظوری کے بعد بل پر صدر مملکت آج دستخط کریں …