Baaghi TV

Tag: فاطمہ بھٹو

  • پاکستانی ڈراموں  کی شہرت کی اصل طاقت کیا ہے؟ فاطمہ بھٹو

    پاکستانی ڈراموں کی شہرت کی اصل طاقت کیا ہے؟ فاطمہ بھٹو

    کراچی: سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پوتی و مصنفہ فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو دوسروں کی نقل کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنی منفرد صلاحیتوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔

    باغی ٹی وی: فاطمہ بھٹو نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانی ڈراموں کی منفرد شناخت کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو دوسروں کی نقل کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنی منفرد صلاحیتوں کو آگے بڑھانا چاہیے۔

    اُنہوں نے کہا کہ یہ بات پاکستان نے بہت واضح طور پر اور بہت جلد سمجھ لی تھی کہ ہمیں بالی ووڈ کی کاپی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جو چیز پہلے سے ہی مارکیٹ میں موجود ہے اسے دوبارہ دیکھنے میں لوگوں کو کوئی دلچسپ نہیں ہو گی اس لیے ہماری سمت ہمیشہ سے مختلف تھی، پاکستانی ڈرامے طنز و مزاح اور بہترین کہانیوں کے لیے مشہور ہیں۔

    حسن علی کراچی کنگز کے نائب کپتان منتخب

    فاطمہ بھٹو نے کہا کہ ہم اپنے ڈراموں میں جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ شاعرانہ ہے جو کہ ہماری اصل طاقت ہے اور ہمیں اسی طاقت کو آگے ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے، ابھی دنیا بھر میں ٹیلی ویژن کے لیے بہترین وقت ہے، خاص طور پر جب سے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کو پزیرائی ملی ہے۔

    قربانیوں کے باوجود فلسطینیوں کے حوصلے بلند ہیں، قاری یعقوب شیخ

    انہوں نےکہا کہ ٹی وی شوز فون پر دیکھنا آسان ہےاور چھوٹے فارمیٹس بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں لہٰذا یہ ہمارا وقت ہے تو ہمیں مزید نئی کہانیاں تخلیق کرنے اور انہیں اپنے ڈراموں میں پیش کرنے کے لیے زیادہ آزادی کی ضرورت ہےہمیں اپنی کہا نیوں میں مشکل سوالات پوچھنے چاہئیں اور ان مسائل کے بارے میں بات کرنی چاہیے جن کا ہمارے معاشرے میں لوگوں کو سامنا ہے، ہمیں اپنی کہانیوں میں دنیا کے سامنے پاکستان کے مثبت پہلو کو پیش کرنا چاہیے۔

    خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل 2025 :گنڈا پور اور عاطف خان کے درمیان تلخ کلامی

  • فاطمہ بھٹو ماں بن گئیں، بیٹے کی پیدائش،نام بھی رکھ دیا

    فاطمہ بھٹو ماں بن گئیں، بیٹے کی پیدائش،نام بھی رکھ دیا

    سابق وزیر اعظم و پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی، میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی اور معروف مصنفہ فاطمہ بھٹو ماں بن گئی ہیں، فاطمہ بھٹو کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے فاطمہ بھٹو نے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کیا، ساتھ نام بھی بتا دیا، فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ "ہمیں بیٹے کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے”بیٹے کا نام میر مرتضیٰ بیرا رکھا ہے”. فاطمہ بھٹو نے بیٹے کا نام اپنے مرحوم والد کے نام سے منسوب کرتے ہوئے میر مرتضیٰ بیرا رکھا ،

    فاطمہ بھٹو نے اپنے والد کے نام سے منسوب بیٹے کے نام کے حوالے سے لکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ایک ایسا نام دینا چاہتی تھی جو اسے اس وقت ہمت اور مہربانی سے نوازے جب وہ دنیا میں اپنا راستہ بنا رہا ہو، میں اپنے بیٹے کا ایک ایسا نام رکھنا چاہتی تھی جو اس کی زندگی کے لیے مشعل راہ بنے، اس کے ساتھ ہی یہ نام اس کے لیے محبت اور طاقت کی ڈھال بن جائے، ایک ایسا نام، جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہو کہ اسے اس کی والدہ کی دل کی گہرائیوں سے دیا گیا ہے، جو اسے زندگی بھر تحفظ کا احساس دلائے، میں اپنے بیٹے کو ایک ایسا نام دینا چاہتی تھی جو اسے ایک دلکش اور بےخوف و نڈر بنائے، اسے اپنے وطن سے محبت اور خوشیاں سب ایک ساتھ اور برابر عطا کرئے اور جب کبھی میں نے اس حوالے سے سوچا کہ ایسا کون سا نام ہوسکتا ہے جس میں یہ تمام خوبیاں ہوں تو ہمیشہ میرے ذہن میں اپنے پیارے والد کا نام ہی آیا،

    واضح رہے کہ فاطمہ بھٹو اور امریکی شہری گراھم بیرا (جبران) کے نکاح کی مختصر تقریب گزشتہ برس 28 اپریل کو خاندانی گھر 70 کلفٹن میں ان کے دادا پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی لائبریری میں منعقد ہوئی تھی، جس میں عزیز اور اقارب اور قریبی دوستوں نے شرکت کی تھی،

    خیال رہے کہ فاطمہ بھٹو لکھاری، شاعرہ اور کالم نگار ہیں جو پاکستان، امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔فاطمہ بھٹو 29 مئی 1982ء کو افغان دار الحکومت کابل میں اس وقت پیدا ہوئیں، جب ان کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے. 2010 میں لکھی جانے والی ان کی غیرافسانوی کتاب خون و شمشیر کے گیت ان کے خاندان کے متعلق ہے۔ فاطمہ بھٹو دا نیوز، دا گارڈین کے علاوہ دیگر ادارے کے لیے لکھتی رہتی ہیں۔

    علاوہ ازیں فاطمہ بھٹو سابق صدر اور سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی پوتی جبکہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں جبکہ ان کی والدہ فوزیہ فصیح الدین بھٹو افغان وزارت خارجہ اہلکار کی بیٹی تھیں۔ سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو 2021 میں پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئر پرسن ہیں۔فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضیٰ بھٹو 1996ء میں اپنی بہن بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قتل ہوئے۔ فاطمہ کی پیدائش کے وقت ان کے والد ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے والدین کے درمیان شادی کے تین سال بعد ہی طلاق ہو گئی۔ طلاق کے بعد فاطمہ بھٹو اپنے والد کے ساتھ کئی ملکوں میں مقیم رہیں۔ 1989 میں فاطمہ کے والد کی ملاقات غنوی بھٹو سے ہوئی جو ایک لبنانی بیلے رقاصہ تھیں اور شام میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ فاطمہ بھٹو غنوی کو اپنی حقیقی والدہ کی طرح سمجھتی ہیں، ان کے سوتیلے بھائی ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سان فرانسسکو میں ایک فنکار ہیں۔

    فاطمہ بھٹو کے الزامات پر سندھ حکومت کا ردعمل

    ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ رکھا،فاطمہ بھٹو

    انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟،سیلاب پر مغرب کی خاموشی مایوس کن ،آج پاکستان ہے کل اس کی جگہ آپ ہوں گے،فاطمہ بھٹو

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو ،فاطمہ بھٹو کا صدارتی ریفرنس رائے پر ردعمل

  • فاطمہ بھٹو کے الزامات پر سندھ حکومت کا ردعمل

    فاطمہ بھٹو کے الزامات پر سندھ حکومت کا ردعمل

    لاڑکانہ: سجاول میں خستہ حال اسکولوں کے بارے میں فاطمہ بھٹو کے الزامات پر سندھ کی وزارت تعلیم و خواندگی (ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ ) نے بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماضی میں فاطمہ بھٹو نے سجاول میں اسکول کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اس معاملے کو اجاگر کیا تھا تاہم اب پھر انہوں نے اس سکول کی خستہ حالت پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پر سندھ حکومت کی جانب ست بھی جواب سامنے آیا ہے-

    کنگ چارلس کی تاج پوشی: وزیراعظم شرکت کیلئے برطانیہ روانہ


    شادی کے بعد شوہر کےہمراہ لاڑکانہ کے دورے کے بعد فاطمہ بھٹو نےسوشل میڈیا پرکہ انہوں نے فروری میں بھی سجاول کے اس گھوسٹ اسکول کےبارےمیں بتایا تھاجوسندھ حکومت کی بےتحاشا کرپشن کی وجہ سےخالی پڑا تھا=

    انہوں نے لکھا کہ اب بھی خالی ہے اور دو ماہ بعد بھی ایک گھوسٹ اسکول ہے حالانکہ ان کی اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئرکی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد ایک افسر دورہ کرنے آیا تھا میں نے اور میرے بھائی نے اس کے بارے میں لکھا۔ کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔ کون سے اساتذہ یہاں کام کرنے کے طور پر رجسٹرڈ ہیں؟ وہ سرکاری تنخواہ لے رہے ہیں۔ ہمیں ان کے نام معلوم ہونے چاہئیں۔

    اوقاف حکام کی مجرمانہ غفلت،بابا فرید الدین گنج شکر کے دربار پر دولہا، دلہن کی …


    انہوں نےلکھا کہ بعنوانی جاری ہے، شیئرکردہ پہلی 2 تصاویرسجاول تعلقہ اسپتال کی ہیں جس کی تعمیر10 سال پہلےشروع کیے جانے کے بعد اسی طرح چھوڑ دی گئی،بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو بنیادی طبی امداد حاصل کرنے کے لیے لاڑکانہ جانا پڑتا ہے اور بعض اوقات مختصر سفر کے دوران ہی ان کی موت ہو جاتی ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ عملی طور پر یہ بدعنوانی ہے، نہ اسکول، نہ اسپتال۔ آپ جانتے ہیں کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے، پورا ملک جانتا ہے اور اس کی قیمت نسلیں ادا کریں گی-

    شامل تفتیش ہونے کا حکم آتے ہی عمران نیازی کو بیماری کا دورہ پڑ گیا،رانا …


    فاطمہ کی جانب سے مذکورہ الزامات کا جواب دیتے ہوئے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے آفیشل ٹوئٹرہینڈل پر سکول کی تصاویر شئیرکرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آپ کے ریکارڈ کے لیے یہ بات پھر شیئر کی جاتی ہے کہ یہ تقریباً 5 دہائیوں قبل تعمیر کیا گیا بہت بڑا ڈھانچہ ہے،نئی عمارت تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر بنائی گئی ہے جس میں تین کمرے اور بیت الخلا بلاک ہے جو آسانی سے کام کر رہا ہے۔

    آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس:عثمان بزدار کی عبوری ضمانت میں توسیع

  • ذوالفقارعلی بھٹو کی پوتی کی شادی میں خاتونِ اول کی شرکت

    ذوالفقارعلی بھٹو کی پوتی کی شادی میں خاتونِ اول کی شرکت

    کراچی: پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کی نکاح کی تقریب میں خاتون اول تہمینہ درانی نے بھی شرکت کی۔

    باغی ٹی وی: فاطمہ بھٹو کے سادگی بھرے نکاح کی تقریب سے تہمینہ درانی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس میں انہیں دلہن فاطمہ بھٹو اور دولہا جبران کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ رکھا،فاطمہ بھٹو


    اپنے ٹوئٹ میں تہمینہ درانی نے لکھا کہ ’فاطمہ بھٹو اور جبران کی شادی پوری قوم کےلیےسادگی کا ایک اہم پیغام ہے70 کلفٹن میں زوالفقار علی بھٹو کی تاریخی لائبریری میں قائم کی گئی اس مثال سے ایک نیا رجحان بننا چاہیے۔

    سلمان خان کو بھارت میں قتل کی دھمکیوں کے بعد کونسا ملک محفوظ لگنے لگا؟

    خیال رہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں بہن کے نکاح کی خبر سب کو سنائی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ میری بہن فاطمہ بھٹو اور جبران کا نکاح ہوگیا، نکاح کی مختصرتقریب 70 کلفٹن کےگھرمیں اپنے داداکی لائبریری میں کی جبکہ فاطمہ بھٹو نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی شادی کی اطلاع دیتے ہوئے تصاویر شئیر کیں-

    وزیراعظم کی بارشوں کی صورتحال پر وفاقی وصوبائی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

    انہوں نے بتایا تھا کہ ملک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سےانہوں نے اپنی شادی کی تقریب کوانتہائی سادہ رکھنےکا فیصلہ کیا تھا گراہم اورمیں نے گزشتہ روز اپنے آبائی گھر 70 کلفٹن میں چھوٹی سے تقریب میں نکاح کیا ہے، میرے بھائی ذوالفقار نے میری نانی کا امام ضامن میرے بازو میں باندھا۔

  • ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ رکھا،فاطمہ بھٹو

    ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ رکھا،فاطمہ بھٹو

    کراچی: ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے اپنے نکاح کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مزید تصاویر بھی اپلوڈ کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے کراچی میں چانک نکاح کر کے سب کو حیران کردیا سوشل میڈیا پر فاطمہ بھٹو کے نکاح کی سادہ مگر پروقار تقریب کی خوب دھوم مچی ہوئی ہے اور دلہن کا سادہ سا جوڑا بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔


    بے نظیر بھٹو کی بھتیجی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کی شادی کی خبر ان کے بھائی ذوالفقار بھٹو جونیئر نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں دی انہوں نے فاطمہ بھٹو کے نکاح کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے والد شہید میر مرتضیٰ بھٹو اور بھٹو خاندان کی جانب سے مجھے خوشخبری سناتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ میری بہن فاطمہ بھٹو اور جبران کا نکاح ہوگیا، نکاح کی مختصرتقریب 70 کلفٹن کےگھرمیں اپنے داداکی لائبریری میں کی ہم نہیں چاہتےتھے کہ موجودہ حالات میں تقریب زیادہ پرتعیش اندازمیں ہو،لوگوں سےفاطمہ اور جبران کیلئے نیک تمناؤں اوردعاؤں کےطلبگار ہیں۔


    فاطمہ بھٹو نے بھی اپنی تقریب کی پُر مسرت تصاویر اپنے انسٹاگرام پر شئیر کر کے عوام کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی انہوں نے بتایا کہ ملک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سےانہوں نے اپنی شادی کی تقریب کوانتہائی سادہ رکھنےکا فیصلہ کیا تھا گراہم اورمیں نے گزشتہ روز اپنے آبائی گھر 70 کلفٹن میں چھوٹی سے تقریب میں نکاح کیا ہے، میرے بھائی ذوالفقار نے میری نانی کا امام ضامن میرے بازو میں باندھا۔

    انہوں نے بتایا کہ نکاح کی تقریب میرے دادا کی لائبریری میں منعقد ہوئی جو زمین پر میری سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ ہے میرے پیچھے تصاویر میں میرے آنٹیاں، میرے انکل اور والد کی تصاویر تھیں اور پیپلز پارٹی کا اصلی جھنڈا موجود تھا جسے میرے دادا نے خود لگایا تھا،میں نے اپنے پیارے والد کو اس موقع پر بہت یاد کیا، وہ ہمارے ساتھ تھے اور میں نے دل کی گہرائیوں سے انہیں محسوس کیا۔

    فاطمہ بھٹو کے بکاح کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں فاطمہ بھٹو نےاپنے نکاح پر کراچی میں موجود کپڑوں کے اسٹور ’دا پنک ٹری کمپنی‘ کا ’کاجو کتلی‘ نامی جوڑا زیب تن کیا ہےفاطمہ بھٹو نے سرخ رنگ کا دوپٹہ سر سے اوڑھ کر اپنے اس جوڑے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا چاندنی رنگ کا مانگ ٹیکہ، بُندے اور ہاتھوں میں سرخ رنگ کی چوڑیاں اور بیلہ اور گیندے سے بنا گجرا پہنا ہے-

    جبکہ فاطمہ بھٹو کے دولہا گراہم (جبران) نے اپنی دلہن سے جوڑ کھاتا ہوا سفید رنگ کا کُرتا پاجامہ اور پھر اس پر سندھی ٹوپی اور گلے میں اجرک بھی زیب تن کی ہے۔

    ڈیزائنر کے مطابق فاطمہ بھٹو کے نکاح کا جوڑا ہاتھ کی بُنی ہوئی سفید ململ کا ہے جس پر سلور چھاپے کا کام کیا گیا ہے۔جوڑے کی تیاری میں ہاتھ کے بُنے ہوئے باریک گوٹے کا بھی استعمال کیا گیا ڈیزائنر جوڑے کی قیمت کی تصدیق سے انکار کردیا کہ دلہن کے جوڑے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، ہر دلہن کا اپنا جوڑا بے انتہا انمول ہوتا ہے تو پھر اس حوالے سے قیمت کا کوئی ذکر کرنا بنتا نہیں ہے کیونکہ ہر دلہن کا جوڑا اس کی زندگی کے بڑے دن کو مزید خوش کن بنانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

    اگر ’دا پنک ٹری کمپنی‘ کی ویب سائٹ سے اس جوڑے کی تفصیلات دیکھی جائیں تو فاطمہ بھٹو کے اپنے نکاح پر زیب تن کیے گئے لباس کے قیمص اور دوپٹے کی قیمت 65 ہزار پاکستانی روپے ہے جبکہ مکمل جوڑے کی قیمت 85 ہزار ہے جو کہ ’دا پنک ٹری کمپنی‘ کے آفیشل پیج پر نئے کپڑوں کی فہرست میں موجود ہے۔

    واضح رہے کہ فاطمہ بھٹو شاعرہ اور ادیبہ ہیں اور وہ پاکستان ، امریکا اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں 1997 میں پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہوا تھا۔

  • انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟،سیلاب پر مغرب کی خاموشی مایوس کن ،آج پاکستان ہے کل اس کی جگہ آپ ہوں گے،فاطمہ بھٹو

    انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟،سیلاب پر مغرب کی خاموشی مایوس کن ،آج پاکستان ہے کل اس کی جگہ آپ ہوں گے،فاطمہ بھٹو

    سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے برطانوی روزنامے میں لکھے ایک آرٹیکل میں پاکستان میں سیلاب سے ہوئی تباہ کاریوں پر عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑتے ہوئے سوال کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور مغربی جریدوں میں انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟

    باغی ٹی وی : فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ آج، پاکستان، دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہےاس موسم گرما میں، مون سون کی بے ترتیب بارشوں نے ملک کو شمال سے جنوب تک تباہ کر دیا سب سے زیادہ جنوبی صوبہ سندھ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس مدت کے 30 سالہ اوسط سے 464 فیصد بارش ہوئی۔

    انہوں نے لکھا کہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے گلیشیئر اس رفتار سے پگھل رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ موسمیاتی بحران کے ان دو نتائج نے مل کر ایک خوفناک سپر فلڈ کو جنم دیا ہے جس نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ سندھ میں نوے فیصد فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی سماجی بہبود کی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن چلانے والے فیصل ایدھی نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ سیلاب سے نہیں مرے وہ بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے-

    انہوں نے لکھا کہ قحط آنے والا ہے۔ صرف سوال یہ ہے کہ کتنی جلدی؟ معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 بلین ڈالر سے زیادہ ہے، 50 ملین لوگ اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں، سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ملیریا کی وبا پھیلنے کا خطرہ ہے سیٹلائٹ تصاویر نے سندھ میں 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل کی چونکا دینے والی شکل کو دکھایا ہے۔

    اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک نسل پیچھے کی طرف پھینک دی جائے گی کیونکہ پہلے ہی بہت کم تعلیم اور صحت کی خدمات پرتشدد طور پر درہم برہم ہیں۔ 400 سے زیادہ بچے مر چکے ہیں اور سردیوں کی آمد کے ساتھ اور لاکھوں پناہ گزینوں کے ساتھ، اور بھی بہت سے بچوں کی امواتکا خدشہ ہے-

    یہ ڈراؤنے خواب کے تناسب کا المیہ ہے اور پھر بھی اگر آپ پاکستان سے باہر رہتے ہیں تو شاید آپ نے اس کے بارے میں زیادہ نہیں سنا ہوگا۔ پاکستان کی تقدیر میں اس کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ باقی دنیا نے اس بات پر غور نہیں کیا ہے کہ یہ بڑا انسانی بحران اس قیامت خیز مستقبل میں جھانک رہا ہے جس کا ہم سب کو انتظار ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے اپنے مضمون میں لکھا کہ کسی بھی قوم کو پاکستان کے تئیں کوئی خاص جذبات رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن آج ملک کو جس ہولناکی کا سامنا ہے وہ عالمگیر اور غیر مہذب موسمیاتی خرابی کے نتائج کی واضح وارننگ ہے۔ انسانوں نے ہمارے واحد سیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔

    فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ جہاں دور دراز ممالک کے عام لوگوں نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، سیلاب کی امدادی کوششوں کے لیے جو کچھ وہ کر سکتے ہیں عطیہ کر رہے ہیں، بڑی بین الاقوامی شخصیات اور بڑے پیمانے پر مغربی میڈیا کی خاموشی مایوس کن رہی ہے-

    فاطمہ بھٹو نے اپنے مضمون میں لکھا کہ فرانس کا نوٹرے ڈیم کیتھڈرل جلا تو ڈیڑھ دن میں 880 ملین ڈالرز جمع کرلیے گئے لیکن ایک تہائی پاکستان سیلاب سے ڈوبا تو مغربی اخبارات کیلئے بڑی خبر فن لینڈ کی وزیراعظم کی پارٹی کرنا تھی۔

    انہوں نے اپنے مضمون میں عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا سیلاب سے تباہ حال پاکستان کو عالمی امداد کیلئے بھیک مانگنا پڑے گی؟ سوشل میڈیا اور مغربی جریدوں میں انسانی حقوق پر شور مچانے والے موقع پرست کہاں ہیں؟ ابھی حال ہی میں، فرانسیسی پاپ دانشور، برنارڈ ہنری لیوی، اوڈیسا کے گرد چکر لگا رہے تھے اور صدر زیلنسکی نے عوامی طور پر بین اسٹیلر اور انجلینا جولی کا شکریہ ادا کیا، جو خطرے کے باوجود، ہمارے پاس آئے۔ (جولی کے لیے منصفانہ طور پر، اس نے 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستان کا دورہ کیا تھا۔)

    برطانوی روزنامے میں لکھے آرٹیکل میں فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ شامی مہاجرین کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑنے والے یورپ نے یوکرین جنگ کے پناہ گزینوں کا خصوصی کاؤنٹرز لگا کر استقبال کیا لیکن پاکستان میں سیلاب نظر انداز کیا گیا۔

    انہوں نے لکھا کہ عالمی طاقتوں اور عالمی میڈیا کی خاموشی حیران کن نہیں، حوصلہ شکن ہے فاطمہ بھٹو نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ خبردار رہیں، کل پاکستان کی جگہ آپ ہوں گے، بچنے کا کوئی چانس نہیں۔

  • فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش

    سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو پرانے پاکستان کی واپسی پر ناخوش کہتی ہیں پاکستان خراب تھا کوئی بھی نیک نیتی سے پُرانے پاکستان کی واپسی کا جشن نہیں منا سکتا۔

    باغی ٹی وی : فاطمہ بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ میں ہمیشہ سے عمران خان کی سیاست کی ناقد رہی ہوں اور اکثر لکھا ہے کہ عمران خان اپنی موقع پرستی اور مصلحت پسندی سے پاکستان کے اداروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر


    فاطمہ بھٹو نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اس لیے میں یہ بات ان کی مدت یا مدت کے حوالے سے بالکل بھی احساس کے بغیر کہتی ہوں کہ "پرانا” پاکستان خراب تھا کوئی بھی نیک نیتی سے پُرانے پاکستان کی واپسی کا جشن نہیں منا سکتا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی جس کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم نہیں رہے اور ساتھ ہی عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔

    عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان‘۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا ، جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے۔