Baaghi TV

Tag: فافن

  • نصف سے زائد انتخابی پیٹیشنز اب تک زیر التوا،فافن کی رپورٹ

    نصف سے زائد انتخابی پیٹیشنز اب تک زیر التوا،فافن کی رپورٹ

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے الیکشن ٹریبیونلز کی کارکردگی سے متعلق آٹھویں رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 374 میں سے صرف 171 انتخابی پیٹیشنز پر فیصلے سنائے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اپریل 21 سے جولائی 31 کے درمیان صرف 35 انتخابی پیٹیشنز پر فیصلے سنائے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 203 پیٹیشنز اب بھی زیر التوا ہیں۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 124 پیٹیشنز کا تعلق قومی اسمبلی سے ہے، جبکہ 250 کا تعلق صوبائی اسمبلیوں سے ہے۔فافن نے تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ٹریبیونلز کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے اور جلد فیصلے یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ انتخابی شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

    61 ممالک کی جیلوں میں 21 ہزار سے زائد پاکستانی قید

    لیبر پارٹی کی ٹیکس پالیسی، ہزاروں کمپنی ڈائریکٹرز برطانیہ سے نکل گئے

    جنوبی وزیرستان اپر کا نام ’محسود وزیرستان ضلع‘ رکھنے کی قرارداد منظور

  • پاکستان میں حالیہ انتخابات پرنجی ادارے کی رپورٹ جاری

    پاکستان میں حالیہ انتخابات پرنجی ادارے کی رپورٹ جاری

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے پاکستان کے 2002 سے 2024 کے دوران منعقد ہونے والے انتخابات کی رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں انتخابی نتائج اور ووٹرز کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فافن کی پاکستان کے انتخابات میں نمائندگی سال 2002-2024 جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے انتخابی نتائج گزشتہ دو دہائیوں میں کسی بہتری کی جانب گامزن نہیں ہوئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں ایک چوتھائی سے بھی کم رجسٹرڈ ووٹرز اور نصف ڈالے گئے ووٹوں کے مینڈیٹ سے منتخب ہو رہی ہیں، 2002 سے 2024 تک ہونے والے پانچ عام انتخابات میں نمائندگی کا خلا برقرار رہا ہے۔فافن نے بتایا کہ2002 کی قومی اسمبلی کو 20 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز اور 47 فیصد ڈالے گئے ووٹوں کی حمایت حاصل تھی، 2008 کی اسمبلی کو 22 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز اور 50 فیصد ڈالے گئے ووٹوں کی تائید حاصل ہوئی۔

    اسی طرح 2013، 2018 اور 2024 کی اسمبلیاں بالترتیب 26 فیصد، 22 فیصد اور 21 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کی نمائندگی، 2013، 2018 اور 2024 کی اسمبلیاں بالترتیب 48 فیصد، 43 فیصد اور 45 فیصد ڈالے گئے ووٹوں کی نمائندگی کرتی تھیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں 265 میں سے کسی بھی حلقے سے کوئی امیدوار اکثریتی رجسٹرڈ ووٹرز کی حمایت حاصل نہیں کر سکا، 2024 میں تقریباً تین چوتھائی حلقے یعنی 202 میں کامیاب امیدواروں کو 25 فیصد سے بھی کم رجسٹرڈ ووٹرز کی حمایت حاصل تھی۔فافن کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں 63 حلقوں میں کامیاب امیدواروں کو 25 سے 50 فیصد ووٹرز کی حمایت ملی، 2024 میں ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب سے صرف 69 حلقوں میں کامیاب امیدواروں نے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

    گزشتہ برس ہونے والے انتخابات کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ 2024 میں 196 حلقوں میں کامیاب امیدواروں کو نصف سے کم ووٹ حاصل ہوئے، 2024 کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلیوں میں صرف دو حلقے ایسے تھے جہاں کامیاب امیدواروں نے 50 فیصد سے زائد رجسٹرڈ ووٹ حاصل کیے۔ 2024 میں صوبائی اسمبلیوں میں زیادہ تر 499 صوبائی حلقوں میں کامیاب امیدواروں کو 25 فیصد سے کم رجسٹرڈ ووٹرز کی حمایت ملی تاہم صرف 107 صوبائی حلقوں میں کامیاب امیدواروں نے 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

    ایف پی ٹی پی کا نظام اس بحران کو مزید بڑھا دیتا ہے، ایف پی ٹی ایف میں وہ امیدوار کامیاب ہوتا ہے جو حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرے، چاہے اسے اکثریتی حمایت حاصل نہ ہو۔فافن نے پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایف پی ٹی پی نظام کا ازسرنو جائزہ لے، ووٹرز کی زیادہ شمولیت اور مزید نمائندہ انتخابی نتائج یقینی بنانے کے لیے اصلاحات پر غور کرے۔

    سیمی فائنل میں پہنچنا بہت اچھا لگ رہا ہے، ویرات کوہلی

    رمضان کی آمد ، منافع خورسرگرم ،کھانے پینے کی اشیا مہنگی

    پارا چنار میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن تیز، مزید 20 افراد گرفتار

    شکست کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر پاکستانی پوزیشن کیا ہے؟

  • عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

    عام انتخابات، پی ٹی آئی خواتین میں مقبول جماعت رہی

    عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف خواتین میں مقبول جماعت رہی، فافن نے رپورٹ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فافن نے مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹرز کے رحجان سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات میں 18فیصدخواتین نے مردوں سے مختلف ووٹ ڈالے،82فیصد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کا انتخاب جیتنے والا امیدوار تھا۔فافن رپورٹ کے مطابق شہری حلقوں میں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں مردوں سے مختلف ووٹ دیا،اسلام آباد کے حلقوں 37 فیصد خواتین نے مرد ووٹرز کے مقابلے میں مختلف امیدوار کو ووٹ دیا، بلوچستان کی خواتین نے37،سندھ19اور پنجاب18فیصد مردوں سے مختلف ووٹ دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی خواتین میں سب سے مقبول جماعت رہی، خواتین میں ووٹرز کے تناسب سے ن لیگ دوسرے جبکہ پی پی تیسرے نمبر پر ہے۔ عام انتخابات میں خواتین ووٹرز میں پی ٹی آئی ملک بھر میں مقبول رہی، پنجاب میں ن لیگ خواتین ووٹرز میں زیادہ مقبول رہی،سندھ میں پی پی نے خواتین ووٹرز کو زیادہ راغب کیا۔فافن رپورٹ کے مطابق این اے 37میں خواتین نے جیتنے والے امیدوار کے مخالف کو زیادہ ووٹ کیا، این اے266میں خواتین ووٹرز نے جیتنے والے امیدوار کو زیادہ ووٹ دئیے، خواتین پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ووٹ جیتنے والے امیدواروں نے حاصل کیا، ملک بھر کے سات حلقوں میں جیتنے والے امیدواروں نے خواتین پولنگ اسٹیشنز کے باعث لیڈ حاصل کی۔

    ڈیٹا چوری کرنے کیلئےہیکرز 16 مخصوص براؤزر زکا استعمال کر رہے ہیں

  • پارلیمانی شفافیت پر فافن  کی نئی جائزہ رپورٹ جاری

    پارلیمانی شفافیت پر فافن کی نئی جائزہ رپورٹ جاری

    اسلام آباد: پارلیمانی شفافیت پرفری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی نئی جائزہ رپورٹ جاری کردی گئی ہے-

    باغی ٹی وی: رپورٹ کو بین الپارلیمانی تنظیم کے فریم ورک کومدنظر رکھ مرتب کیاگیا ہے،فافن رپورٹ میں سینیٹ،قومی اسمبلی اورچاروں صوبائی اسمبلیوں کی ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا، آئی پی یومعیار پر سینیٹ ویب سائٹ نے سب سے زیادہ یعنی 69 فیصد عمل کیا،پنجاب اسمبلی نے 64فیصد،قومی اسمبلی نے 61فیصد عمل کیا۔

    فافن جائزہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی نے51فیصد،سندھ اسمبلی نے 40فیصد،بلوچستان اسمبلی نے 38فیصد عمل کیا،یہ عدم مطابقت،سیاسی پولرائزیشن ماحول میں غلط معلومات کے خطرات بڑھاتی ہیں،اپ ڈیٹ معلومات کیلئے پارلیمانی ویب سائٹ متحرک مرکز کے طور پر ابھریں، پارلیمانی ویب سائٹس کی شفافیت،افادیت بڑھانے کیلئے مزید اصلاحات ضروری ہیں، ایسی اصلاحات سے پارلیمانی عمل اور جمہوریت کیخلاف ڈس انفارمیشن بھی رکے گی۔

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

    ترکیہ کے ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی،10 افراد ہلاک

    کر مریم اینی وفا گئی اے۔۔۔غریب دا بوجھ ونڈا گئی اے

  • وفاقی وزارتوں نے معلومات تک رسائی کے قانون  پر عملدرآمد نہیں کیا، فافن رپورٹ

    وفاقی وزارتوں نے معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد نہیں کیا، فافن رپورٹ

    اسلام آباد:فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافن ) نے کہا ہے کہ وفاق کی اکثر وزارتوں نےلازمی معلومات اجرا کے قانون پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔

    باغی ٹی وی: فافن کے مطابق قانونی تقاضے پورے نہ ہونے سے غلط معلومات پھیلنے کا باعث بن رہے ہیں رپورٹ میں 33 وزار توں کی 44 ڈویژنز کا جائزہ لیا گیا، جس میں کسی بھی ڈویژن نے قانون کی دفعہ 5 پر عملدرآمد نہیں کیا،غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ ڈویژن: سب سے کم 8 فیصد، شق 19 پر 15 فیصد، اطلاعات اور صحت سمیت 19 فیصد عمل درآمد کیا۔

    قانون پر31 سے 40 فیصد عمل کرنے والے 15 ڈویژنز میں سے 6 ڈویژنز جو اسٹیبلشمنٹ ، پٹرولیم ، قومی ورثہ و ثقافت ، ریونیو ، داخلہ اور پلاننگ ڈویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات ہیں ، نے 38 فیصد عمل کیادیگر 7 ڈویژنز تجارت، مواصلات ، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ، خارجہ امور،نجکاری، مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور بی وسائل نے 35 فیصد عمل کیا۔

    دسمبر 2024 کیلئے پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق لازمی معلومات اجرا کے قانون پر ماحولیاتی تبدیلی اور آئی ٹی و ٹیلی مواصلات کی ڈویژنز نے 31 فیصد عمل کیا فافن کی جائزہ رپورٹ کے مطابق 13وفاقی ڈویژنز کی کارکردگی 21 سے 30 فیصد کے درمیان رہی،یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وفاقی وزارتوں میں معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی ناقص ہے، جس کے نتیجے میں عوام میں بے بنیاد معلومات کا پھیلاؤ ہو رہا ہے۔

    گووندا اور اہلیہ سنیتاعلیحدہ گھروں میں کیوں رہتے ہیں؟دلچسپ انکشاف

  • قومی انتخابات 2024، فافن کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں ، جماعت اسلامی

    قومی انتخابات 2024، فافن کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں ، جماعت اسلامی

    قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے اخبارات اور میڈیا میں آنے والی 2024کے قومی انتخابات کے حوالے سے فافن کی تجزیاتی رپورٹ کو قطعاً گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس رپورٹ کا ماخذ اور دارو مدار کلیتاً الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج ہیں جو مکمل طور پر فراڈ اور فارم47کی بنیاد پربنائے گئے ہیں .

    باغی ٹی وی کے مطابق سیف الدین ایڈوکیٹ ن نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات 2023میں جعل سازی کے کامیاب تجربہ کے بعد 2024کے قومی انتخابات کو بھی تختہ مشق بنایا گیا ، ان انتخابات میں جن کٹھ پتلی پارٹیوں کے ذریعے حکومت تشکیل دینا مقصود تھا ان کے لیے پولنگ اسٹیشنوں میں پڑنے والے ووٹو ں اور پریذائڈنگ آفیسرز کی جانب سے جاری کردہ فارم 45کے برعکس جعلی فارم 47بنائے گئے اور انتہائی غیر مقبول اور عوام کے ٹھکرائے ہوئے امیدواروں اور جماعتوں کی جیت کا اعلان کیا گیا ۔اس طرح کا تجزیہ جاری کر کے فافن نے اپنی ساکھ کو متاثر کیا ہے ، اس سلسلے میں ہم فافن کو باقاعدہ خط بھی تحریر کریں گے اور مطالبہ کریں گے کہ وہ اپنی اس رپورٹ کو فوری واپس لے کیونکہ جعل سازی کے ذریعے مرتب کردہ انتخابی نتائج کو کسی معقول تجزیہ اور رپورٹ کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ۔ قائم امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پورے ملک میں بدترین دھاندلی کی گئی لیکن سندھ بالخصوص کراچی میں یہ معاملہ انتہاکو پہنچ گیا اور ایم کیو ایم جیسی جماعت جسے کراچی سے حقیقتاًایک سیٹ بھی نہیں ملی ، اس کو قومی و صوبائی اسمبلی میں بھاری تعداد میں نشستیں دے دی گئیں ، صوبائی و قومی اسمبلی کی نشستوں پر کونسلر کے برابر ووٹ لینے والی جماعت کو لاکھوں ووٹ دکھا کر بڑی جماعتوں کی صف میں کھڑا کر نے کی کوشش کی گئی ، اسی طرح جعل سازی کے ذریعے کراچی سے پیپلز پارٹی کو بھی کئی سیٹیں قومی اور صوبائی اسمبلی کی دے دی گئیں جبکہ کراچی کے شہری پیپلز پارٹی کے متعصب رویے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے ہیں ، سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کراچی کی سب سے بڑی ‘دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی اور تیسرے نمبر پر تمام تر جعل سازی کے باوجود پیپلز پارٹی تھی لیکن کراچی کے میئر کے عہدے پر اس کا قبضہ کروایا گیا اور بہت سے ٹائون اور یوسیز بھی پیپلز پارٹی کودے دی گئیں ، قومی انتخابات میں بھی کراچی میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ووٹ اتنے زیادہ تھے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اس کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتیں لیکن بیشتر نشستیں ان دونوں پارٹیوں میں بانٹ دی گئیں ۔
    قومی انتخابات میں جعل سازی کی وجہ سے ووٹوں اور نشستوں سب کا تناسب درہم برہم ہو گیا ہے اور ہاری ہوئی جماعتوں کے امیدواروں کو جیت کا پروانہ تھما کر حکومتیں تشکیل دی گئی ہیں ، اس طرح کی حکومتوںکی کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ اخلاقی ۔ ان شاء اللہ جلد وہ وقت آئے گا جب ان اسمبلیوں کے اقدامات اور آئینی ترامیم سب غیر قانونی اور کالعدم قرار پائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بیان کردہ مختلف پارٹیوں کے ووٹوں اور قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، مسلم لیگ ن ایک مسترد شدہ جماعت ہے جسے دوسری مسترد شدہ جماعتوں کے ساتھ ملا کر غیر قانونی حکومت تشکیل دی گئی ہے ۔

  • قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس  مالی سال 2024-25 پر فافن کی رپورٹ  جاری

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس مالی سال 2024-25 پر فافن کی رپورٹ جاری

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس مالی سال 2024-25 پر فافن نے رپورٹ جاری کر دی

    فافن کی رپورٹ کے مطابق بجٹ پیش کرنےسے منظوری تک اسمبلی اجلاس کے 48 گھنٹے 2منٹ صرف ہوئے ، 179 ارکان قومی اسمبلی نے بجٹ پر ہونے والی بحثوں میں حصہ لیا ، سنی اتحاد کونسل کے 69 ارکان نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیا، تقریباً 60 اراکین بجٹ اجلاس کی تمام نشستوں میں شریک ہوئے ، پانچ اراکین نے بجٹ اجلاس کی کسی بھی نشست میں شرکت نہ کی ، بحث میں حصہ لینے والوں میں سے 70 فیصد ارکان نے بجٹ تجاویز پر تنقیدی رائے کا اظہار کیا، بجٹ پر تنقید کرنیوالوں میں حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی شامل تھے، پیپلز پارٹی کے 40 ، مسلم لیگ (ن) کے 37، ایم کیو ایم کے 18 ارکان نے بجٹ پر بحث کی ،جے یو آئی کے 5 اور آزاد 5 اراکین نے بحث میں حصہ لیا ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، آئی پی پی ، مسلم لیگ ق اور ایم ڈبلیو ایم کے ایک ، ایک رکن نے حصہ لیا ، اپوزیشن نے 133 مطالبات زر میں سے 30 پر کٹوتی کی 422 تحاریک پیش کیں ، تمام مسترد ہوئیں ، موجودہ مالی سال کے لیے 103 مطالبات زر بغیر کسی کٹوتی تحریک کے منظور کرلئے گئے ، گزشتہ 2 مالی سالوں کے لیے ضمنی اوراضافی مطالبات زر بغیر کسی بحث کے منظور ہوئے ،بجٹ سیشن کے دوران پانچ حکومتی بلوں کی بھی منظوری دی گئی جن کے لیے قواعد معطل کیے گئے

    ایوان کی کارروائی کی زیادہ تر دستاویزات اسمبلی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں،اجلاس کی 13 نشستوں میں سے 5 کی حرف بحرف مباحث ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جاچکے ہیں،اسمبلی کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر ایوان کارروائی کی ویڈیو کے بعض حصوں کی آڈیو بند کر دی گئی ،وزیراعظم اور وزرا نے بجٹ اجلاس میں کم از کم 09 یقین دہانیاں کروائیں

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار  رہا،فافن

    قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا،فافن

    اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں کی کارکردگی پر رپورٹ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : فافن کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے ابتدائی 100 دنوں میں قانون سازی کا عمل سست روی کا شکار رہا، قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں تاخیر سے اسمبلی کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی، سکیورٹی خدشات کی آڑ میں قومی اسمبلی کی گیلری تک شہریوں کی رسائی پر پابندی بھی کارکردگی پر اثر انداز ہوئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ایوان نے 66 گھنٹے اور 33 منٹ پر محیط 23 اجلاس کیے، ہاؤس کے موجودہ 310 ممبران میں سے 159 (51 فیصد) ممبران نے فعال ہوکر اجلاسوں میں شرکت کی، ایوان میں ارکان کی اوسط حاضری 231 رہی جس میں سب سے زیادہ 302 اور سب سے کم 176 ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے 23 میں سے صرف 2 اجلاسوں کی کارروائی میں شرکت کی جو کہ 10فیصد بنتا ہے، جبکہ ماضی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف 26 فیصد اور عمران خان 29 فیصد اجلاسوں کا حصہ بنے۔

    توانائی بچاؤ مہم کے تحت 8 کروڑ 80 لاکھ پرانے پنکھے بدلنے کا فیصلہ

    لکی مروت میں بارودی سرنگ دھماکے کے شہدا مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ …

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: امریکا اور بھارت سے میچ ہارنے پر ٹیم اراکین کیخلاف …

  • الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے کی تردید

    الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، فافن کی شیعب شاہین کے دعوے کی تردید

    اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب شاہین کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنما سول سوسائٹی گروپس کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔

    باغی ٹی وی : فافن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا، سیاسی رہنما عوامی بیانات دینے سے پہلے اپنا ہوم ورک کریں اور آزاد سول سوسائٹی گروپوں کو اپنی سیاست میں نہ گھسیٹیں، فافن سمجھتا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو ڈیٹا اینالیٹکس اور فرانزک کا استعمال کرتے ہوئے قانونی طور پر چیلنج شدہ حلقوں کے کسی بھی آڈٹ کی اجازت دینی چا ہیے، آڈٹ میں آزاد مبصرین کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور متعلقہ امیدواروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

    اے این پی کا بھی پارلیمانی الیکشن کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ شعیب شاہین نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ فافن اور فوٹن مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو استعفا دے دینا چاہیے، فافن سمجھتا ہےموجودہ الیکشن کمیشن کو ڈیٹا اینالیٹکس اور فرانزک کا استعمال کرتے ہوئے قانونی طور پر چیلنج شدہ حلقوں کے کسی بھی آڈٹ کی اجازت دینی چاہیے، آڈٹ میں آزاد مبصرین کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور متعلقہ امیدواروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

    ووٹ مانگنے عمر ایوب مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

    پیپلزپارٹی و ن لیگ کی الیکشن میں لڑائی قوم کو دھوکہ دینے کیلئے تھی،سراج الحق

  • کتنے ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا؟ فافن کی رپورٹ جاری

    کتنے ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا؟ فافن کی رپورٹ جاری

    عام انتخابات 2024 میں کتنے ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا فافن نے رپورٹ پیش کر دی

    فافن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 8فروری 2024 کو 5 کروڑ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا، جبکہ ٹرن آئوٹ 48فیصد رہا۔1988 میں ٹرن آئوٹ 44 ،1993 میں 39 ، 99 میں46، جبکہ 2013 میں 53 فیصد تھا، 2013میں ہونے والے انتخابات کا 53 فیصد ٹرن آئوٹ تھا جس نے میاں نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب کرایا ،1997کے انتخابات کا ٹرن آئوٹ 35 فیصد تھا، تاہم میاں نواز شریف اسی ٹرن آئوٹ کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے ملک کے وزیراعظم بنے ،لیکن 1999 میں 12 اکتوبر کو ’’اباؤٹ ٹرن‘‘ ہو گیا۔1990کے انتخابات میں جب میاں نواز شریف پہلی مرتبہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو ٹرن آئوٹ 46 فیصد تھا ،1970,75 کے انتخابات میں جس دوران مشرقی پاکستان بھی علیحدہ ہوا انتخابی ٹرن آئوٹ 61 فیصد تھا۔1988میں جب محترمہ بینظیر بھٹو خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے لندن سے پاکستان واپس آئیں تھیں انتخابات ہوئے اور جمہوریت بحال ہوئی تو ٹرن آئوٹ 44 فیصد تھا۔

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    سندھ میں پی پی کا تیر چل گیا،نتائج مکمل،پیپلز پارٹی84 سیٹیں لے اڑی

    آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    قومی وصوبائی855 میں سے 831 نتائج،آزاد 335 سیٹیں،ن لیگ 216 لے اڑی

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے