Baaghi TV

Tag: فتنہ الہندوستان

  • ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر حملے میں ملوث 2 دہشتگرد ہلاک

    ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر حملے میں ملوث 2 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے واشک پلانتک میں خفیہ آپریشن کرکے فتنہ الہندوستان کے 2دہشتگرد ہلاک کردئیے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگرد ماشکیل پولیس اسٹیشن اور کسٹم ہاؤس پر دہشتگردانہ حملے میں ملوث تھے، کارروائی میں دہشت گردوں کی گاڑی تباہ ہوگئی، ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا،برآمد شدہ اسلحہ عوام کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا، بلوچستان سے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی-

  • کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث فتنہ الہندوستان گروہ کا حصہ بنتے ہیں،گرفتار دہشتگرد کے انکشافات

    کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث فتنہ الہندوستان گروہ کا حصہ بنتے ہیں،گرفتار دہشتگرد کے انکشافات

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد حبیب اللہ نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔

    حبیب اللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ سے بتایا گیا ہے،گرفتار دہشت گرد کے مطابق تنظیم نے اسے جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کیا، بعد ازاں ذہن سازی کرکے دہشت گرد کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا، اسے پہلے چنل دشت منتقل کیا گیا جہاں اس کی ذہن سازی کی گئی،جس کے بعد سرگڑھ کیمپ میں اسلحہ چلانے بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملے کرنے، شناخت چھپانے اور فرار کے طریقے سکھائے گئے۔

    حبیب اللہ کے مطابق دہشت گرد تنظیم نے اسے صرف 25 ہزار روپے کے عوض اپنے ہی بلوچ بھائیوں کے خلاف استعمال کیادہشت گرد کارروائیوں سے قبل تنظیم کی جانب سے اسلحہ، ہدایات اور رابطے فراہم کیے جاتے تھے جبکہ ہر کارروائی میں حصہ لینے کے بدلے رقم دی جاتی تھی۔

    گرفتار دہشت گرد نے دعویٰ کیا کہ خضدار، بیلہ، نال اور سنارو کیمپ سے متعلق مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں وہ شریک رہا،خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 شہری جاں بحق ہوئے تھے،بی وائی سی کے دھرنوں کے دوران اس کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا۔

    گرفتار دہشت گرد کے مطابق تنظیم میں شامل ہونے والے کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث اس گروہ کا حصہ بنتے ہیں،تنظیم ابتدا میں خواب دکھا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتی ہے، لیکن بعد میں انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے تاکہ وہ واپس نہ جا سکیں جو شخص دہشت گرد تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے دہشت گرد کیمپوں میں کھانے پینے کا مناسب انتظام بھی نہیں ہوتا اور دہشت گرد قریبی دیہات سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد کے انکشافات سے تنظیموں کے طریقہ کار، بھرتی کے ذرائع اور کارروائیوں کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے-

    تربت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا عثمان کی سرگرمیوں یا فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں،کچھ عرصہ قبل عثمان اپنی مرضی سے گھر اور خاندان سے الگ ہو گیا تھابعد میں اس نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم انہوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔

    عثمان کی والدہ نے کہا کہ ان کا، ان کے شوہر اور دیگر اہلِخانہ کا عثمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، عثمان اپنے تمام ذاتی فیصلوں اور سرگرمیوں کا خود ذمہ دار ہے اور خاندان اس کے کسی بھی عمل کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا،انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خاندان کا عثمان کی مبینہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے مؤقف کا اظہار عوام کے سامنے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے اہلخانہ کا اظہار لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ عوام دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

  • مستونگ میں آپریشن العزم جاری ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 16ہو گئی

    مستونگ میں آپریشن العزم جاری ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 16ہو گئی

    بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 16 ہو گئی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ میں فتنہ الہندوستان کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے ، مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں اور کمین گاہوں کو تباہ کر دیا گیا، سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ و دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کر لیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ آپریشن العزم میں اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں ، بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے اور امن وامان کے قیام تک سکیورٹی فورسزکی کارروائیاں جاری رہیں گی،گزشتہ روز بھی مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے موثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا تھا ، آپریشن کے دوران کئی دہشتگرد زخمی بھی ہوئے تھے۔

    علاوہ ازین گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا کر 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا تھا،آئی ایس پی آر کے مطابق 25 جولائی کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی سمیت خودکش حملہ آور کو چیک پوسٹ کی حدود سے باہر ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دہشتگرد چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے میں ناکام رہے ، حملے سے چیک پوسٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

  • بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے  خلاف آپریشن،19خارجی ہلاک،متعدد زخمی،11جوان شہید

    بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشن،19خارجی ہلاک،متعدد زخمی،11جوان شہید

    بلوچستان میں این-25 شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 19 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ متعدد دہشتگرد زخمی ہوگئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 11 جوان شہید ہوگئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن جھاؤ کراس اور کرارو کے درمیان کیا گیا، جہاں دہشتگرد شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے مسافروں اور مقامی شہریوں سے بھتہ وصول کرنے میں مصروف تھے سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 19 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس میں وطن کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے 11 بہادر اہلکار شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور فرار ہونے والے عناصر کی تلاش بھی کر رہی ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور اہم شاہراہوں کی حفاظت کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی-

  • بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکاہے۔

    بلوچ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بیانیہ کو مسترد کر کے بلوچ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے لگےفتنہ الہندوستان کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلیدہ کے نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں اہم پریس کانفرنس کی ہےجس میں فتنہ الہندوستان کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوید ہاشم کی ماں نے دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے 26 دن تک لاپتہ رکھا۔

    انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے پر تشدد کیا اور اذیتیں دےکر شہید کر دیا شہید کرنے کے بعد میرے بیٹے کی لاش کو پیرکین میں پھینک دیا گیا کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا،ماؤں کے دل مت توڑیں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا دہشتگردوں نے تین معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ چھین لیایہ بات فتنہ الہندوستان کی طرف سے کی گئی ہے کہ ہم نے مارا ہے اور پھینک دیا ہےاگر اس طرح فتنہ الہندوستان بے گناہ لوگوں کو مار کر پھینک دیتی ہے تو یہ بلوچ قوم کی دوست نہیں۔

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں، خصوصاً فتنہ الہندوستان کے لیے بظاہر ایک سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے اور بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں فعال کردار ادا کر رہی ہےیہ مؤقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، جس کی توثیق اب ٹھوس شواہد سے بھی ہوچکی ہے۔

    مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی حمایت کے لیے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں اسپتالوں سے ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں زبردستی تحویل میں لینے کی کوشش کی، جسے ذرائع ابلاغ نے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا۔

    مریم نواز کا صوبے میں نئے اسپتالوں کی جلد تکمیل کا حکم

    حکام کے مطابق دہشتگردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر ’لاپتا افراد‘ کے بیانیے میں شامل کرکے حقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے 23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولتکار کے طور پر کام کر رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    حالیہ دنوں میں سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتار کیا، ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق ساجد احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز ہے اور سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں لیکچرار رہ چکا ہے حکام کے مطابق وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہا اور قیادت سے قریبی تعلق رکھتے ہوئے دہشتگرد نیٹ ورکس کی سہولتکاری میں ملوث تھا، جس کا اس نے اعترافی بیان میں بھی اقرار کیا۔

    احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید 3 سہولتکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انٹیلیجنس یا دہشتگردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے سابقہ تعلق سامنے آیا ہے ان میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری دی گئی تھی سرفراز کو پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا جہاں اس نے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں کردار ادا کیا۔

    حکام کے مطابق سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان نے بھرتی کیا، جس نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو بھی پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا۔ بیزن کا بھائی شفقت یار خَد کوچہ میں لیویز فورس پر حملے میں مارا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ خاندانی نقصان اور محرومی کے جذبات کو نوجوانوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دعوؤں کے برعکس شواہد موجود ہیں کہ نابالغوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد نوجوانوں کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہےاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔

    پشاور 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی

    ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے نام پر ایک حفاظتی پردہ فراہم کرتی ہے، جو دہشتگرد واقعات کے فوراً بعد متحرک ہو کر حملہ آوروں کو متاثرین کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ سمیت بین الاقوامی سطح پر بی وائی سی کی پروپیگنڈا سرگرمیاں بیرونی سرپرستی اور منظم حکمت عملی کی عکاس ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس واقعے، مارچ اور مئی 2025 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات اور جنوری 2026 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی شواہد پر مبنی بریفنگ مل کر ایک مسلسل اور ہم آہنگ سرکاری ریکارڈ تشکیل دیتے ہیں، جس کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک آزاد انسانی حقوق کی تنظیم کے بجائے فتنہ الہندوستان کا سافٹ فیس، بھرتی کا ذریعہ، بیانیاتی ڈھال اور بین الاقوامی رابطہ کاری کا متحرک ونگ بن چکی ہے۔

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

  • بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا مقامی قبائل پر حملہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا مقامی قبائل پر حملہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے علاقے کورکی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے پُرامن لوگوں پر حملہ کیا، جس کے بعد مقامی قبائل اور دہشتگردوں کے درمیان جھڑپ چھڑ گئی۔

    اس تصادم میں 4 دہشتگرد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے، جبکہ مقامی قبیلے کا ایک فرد شہید اور دو افراد زخمی ہوئے۔ دہشتگردوں نے مقامی قبائل کے بارہا اصرار کے باوجود علاقہ خالی کرنے سے انکار کیا تھا۔ کلی آدم زئی کور کی خواتین نے بھی قرآن کا واسطہ دے کر انہیں جانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، مگر دہشتگردوں نے مسلسل مقامی خواتین کو ہراساں کیا۔

    دہشتگردوں کے مذموم عزائم کے پیش نظر قبائل نے اپنے دفاع کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپ ہوئی اور کئی حملہ آور مارے گئے۔

    اسرائیلی قید میں اسلام قبول کرنے والے اطالوی کارکن استنبول پہنچ گئے

    بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    قطر حملے کے بعد حماس رہنما خلیل الحیہ پہلی بار منظر عام پرآگئے

    گلگت: نامعلوم حملہ آوروں کے متاز عالم دین اور ہائی کورٹ جج کی گاڑیوں پر حملے، 5 زخمی

  • مستونگ: خفیہ اطلاع پر آپریشن ،بھارتی فتنہ  الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک

    مستونگ: خفیہ اطلاع پر آپریشن ،بھارتی فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ مستونگ میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں چار بھارتی سرپرست دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق کارروائی فتنہ الہندوستان نامی بھارتی پراکسی تنظیم کے ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی اور سیکیورٹی فورسز نے مطلوبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ہلاک شدگان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    اسپیشل فورسز کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف کڑی مہم جاری رکھیں گی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گی۔

    سعودی عرب کا توانائی انقلاب: 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی پیداوار کا ہدف

    بچوں سے رابطے، 7 اے آئی چیٹ بوٹ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع

    ایمان مزاری کیس: وزارت داخلہ نے خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر کر دیے

  • ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،محسن نقوی

    ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا، جس میں فتنہ الہندوستان کے خلاف مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تفصیلی غور کیا گیاوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے امن و امان کی مجموعی صورت حال اور سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی، صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرت ناک موت ہے، ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان حکومت کی مکمل سپورٹ جاری رکھیں گےاجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان دشمن عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ جنگ سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، سب ورژن اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی سے سرگرم ہیں، سیکورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہر قیمت پر امن قائم کریں گے۔

    اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان، آئی جی فرنٹیئر کور (ایف سی نارتھ) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اسپیشل برانچ اور لیویز کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے،محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔