Baaghi TV

Tag: فتنہ الہندوستان

  • بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکاہے۔

    بلوچ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بیانیہ کو مسترد کر کے بلوچ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے لگےفتنہ الہندوستان کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلیدہ کے نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں اہم پریس کانفرنس کی ہےجس میں فتنہ الہندوستان کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوید ہاشم کی ماں نے دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے 26 دن تک لاپتہ رکھا۔

    انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے پر تشدد کیا اور اذیتیں دےکر شہید کر دیا شہید کرنے کے بعد میرے بیٹے کی لاش کو پیرکین میں پھینک دیا گیا کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا،ماؤں کے دل مت توڑیں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا دہشتگردوں نے تین معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ چھین لیایہ بات فتنہ الہندوستان کی طرف سے کی گئی ہے کہ ہم نے مارا ہے اور پھینک دیا ہےاگر اس طرح فتنہ الہندوستان بے گناہ لوگوں کو مار کر پھینک دیتی ہے تو یہ بلوچ قوم کی دوست نہیں۔

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں، خصوصاً فتنہ الہندوستان کے لیے بظاہر ایک سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے اور بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں فعال کردار ادا کر رہی ہےیہ مؤقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، جس کی توثیق اب ٹھوس شواہد سے بھی ہوچکی ہے۔

    مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی حمایت کے لیے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں اسپتالوں سے ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں زبردستی تحویل میں لینے کی کوشش کی، جسے ذرائع ابلاغ نے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا۔

    مریم نواز کا صوبے میں نئے اسپتالوں کی جلد تکمیل کا حکم

    حکام کے مطابق دہشتگردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر ’لاپتا افراد‘ کے بیانیے میں شامل کرکے حقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے 23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولتکار کے طور پر کام کر رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    حالیہ دنوں میں سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتار کیا، ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق ساجد احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز ہے اور سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں لیکچرار رہ چکا ہے حکام کے مطابق وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہا اور قیادت سے قریبی تعلق رکھتے ہوئے دہشتگرد نیٹ ورکس کی سہولتکاری میں ملوث تھا، جس کا اس نے اعترافی بیان میں بھی اقرار کیا۔

    احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید 3 سہولتکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انٹیلیجنس یا دہشتگردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے سابقہ تعلق سامنے آیا ہے ان میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری دی گئی تھی سرفراز کو پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا جہاں اس نے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں کردار ادا کیا۔

    حکام کے مطابق سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان نے بھرتی کیا، جس نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو بھی پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا۔ بیزن کا بھائی شفقت یار خَد کوچہ میں لیویز فورس پر حملے میں مارا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ خاندانی نقصان اور محرومی کے جذبات کو نوجوانوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دعوؤں کے برعکس شواہد موجود ہیں کہ نابالغوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد نوجوانوں کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہےاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔

    پشاور 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی

    ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے نام پر ایک حفاظتی پردہ فراہم کرتی ہے، جو دہشتگرد واقعات کے فوراً بعد متحرک ہو کر حملہ آوروں کو متاثرین کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ سمیت بین الاقوامی سطح پر بی وائی سی کی پروپیگنڈا سرگرمیاں بیرونی سرپرستی اور منظم حکمت عملی کی عکاس ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس واقعے، مارچ اور مئی 2025 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات اور جنوری 2026 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی شواہد پر مبنی بریفنگ مل کر ایک مسلسل اور ہم آہنگ سرکاری ریکارڈ تشکیل دیتے ہیں، جس کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک آزاد انسانی حقوق کی تنظیم کے بجائے فتنہ الہندوستان کا سافٹ فیس، بھرتی کا ذریعہ، بیانیاتی ڈھال اور بین الاقوامی رابطہ کاری کا متحرک ونگ بن چکی ہے۔

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

  • بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا مقامی قبائل پر حملہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا مقامی قبائل پر حملہ، 4 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے علاقے کورکی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے پُرامن لوگوں پر حملہ کیا، جس کے بعد مقامی قبائل اور دہشتگردوں کے درمیان جھڑپ چھڑ گئی۔

    اس تصادم میں 4 دہشتگرد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے، جبکہ مقامی قبیلے کا ایک فرد شہید اور دو افراد زخمی ہوئے۔ دہشتگردوں نے مقامی قبائل کے بارہا اصرار کے باوجود علاقہ خالی کرنے سے انکار کیا تھا۔ کلی آدم زئی کور کی خواتین نے بھی قرآن کا واسطہ دے کر انہیں جانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، مگر دہشتگردوں نے مسلسل مقامی خواتین کو ہراساں کیا۔

    دہشتگردوں کے مذموم عزائم کے پیش نظر قبائل نے اپنے دفاع کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپ ہوئی اور کئی حملہ آور مارے گئے۔

    اسرائیلی قید میں اسلام قبول کرنے والے اطالوی کارکن استنبول پہنچ گئے

    بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    قطر حملے کے بعد حماس رہنما خلیل الحیہ پہلی بار منظر عام پرآگئے

    گلگت: نامعلوم حملہ آوروں کے متاز عالم دین اور ہائی کورٹ جج کی گاڑیوں پر حملے، 5 زخمی

  • مستونگ: خفیہ اطلاع پر آپریشن ،بھارتی فتنہ  الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک

    مستونگ: خفیہ اطلاع پر آپریشن ،بھارتی فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ مستونگ میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں چار بھارتی سرپرست دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق کارروائی فتنہ الہندوستان نامی بھارتی پراکسی تنظیم کے ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی اور سیکیورٹی فورسز نے مطلوبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ہلاک شدگان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    اسپیشل فورسز کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف کڑی مہم جاری رکھیں گی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گی۔

    سعودی عرب کا توانائی انقلاب: 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی پیداوار کا ہدف

    بچوں سے رابطے، 7 اے آئی چیٹ بوٹ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع

    ایمان مزاری کیس: وزارت داخلہ نے خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر کر دیے

  • ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،محسن نقوی

    ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا، جس میں فتنہ الہندوستان کے خلاف مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تفصیلی غور کیا گیاوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے امن و امان کی مجموعی صورت حال اور سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی، صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اس میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرت ناک موت ہے، ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان حکومت کی مکمل سپورٹ جاری رکھیں گےاجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان دشمن عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ جنگ سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، سب ورژن اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی سے سرگرم ہیں، سیکورٹی فورسز اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہر قیمت پر امن قائم کریں گے۔

    اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان، آئی جی فرنٹیئر کور (ایف سی نارتھ) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اسپیشل برانچ اور لیویز کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے،محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔

  • لورالائی کے قریب مسافروں کے اغواء کی اطلاع، فورسز کا سرچ آپریشن جاری

    لورالائی کے قریب مسافروں کے اغواء کی اطلاع، فورسز کا سرچ آپریشن جاری

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع لورالائی کے قریب بعض مسافروں کے اغواء کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ قلات، مستونگ اور لورالائی میں دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” سے وابستہ عناصر نے حملے کیے، جن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔شاہد رند کے مطابق عوام کی جان و مال اور املاک کے تحفظ کے لیے فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی پشت پناہی سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے ایک بار پھر انسانیت سوز کارروائی کرتے ہوئے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے دس بے گناہ پاکستانی شہریوں کو اغوا کر لیا ہے۔ یہ واردات لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیانی علاقے میں اُس وقت پیش آئی جب دہشت گردوں نے زبردستی سڑک پر غیرقانونی ناکہ لگا کر گاڑیوں کو روکا اور شناخت کی بنیاد پر مخصوص افراد کو زبردستی ساتھ لے گئے۔

    یہ واقعہ نہ صرف ایک سنگین نوعیت کی دہشت گردی ہے، بلکہ نسلی امتیاز پر مبنی نفرت، تعصب اور شدت پسندی کی بدترین شکل بھی ہے۔ اس نوعیت کی اغوا کاری محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی نسلی دشمنی کی عملی مثال ہے۔ بی ایل اے کے یہ اقدامات جبری گمشدگی، نسلی تعصب اور شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں — اور یہ تمام عوامل بین الاقوامی قوانین کے مطابق نسلی ظلم و ستم (Ethnic Persecution) کی واضح تعریف پر پورا اترتے ہیں۔

    ریاستی اداروں، عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کو اس سفاکیت پر یک زبان ہو کر مذمت کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے جرائم نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے اذیت ناک ہیں بلکہ ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔

    استنبول: خاتون سیاح کو ہراساں کرنے پر آئس کریم فروش گرفتار، دکان سیل

    2 لاکھ سے زائد نقد لین دین پر 20.5 فیصد ٹیکس کی خبر بے بنیاد

    وزیراعظم سے علی بابا وفد کی ملاقات، پاکستانی مصنوعات کی عالمی مانگ کا اعتراف

    پی آئی اے کا بعد از حج آپریشن مکمل، 41 ہزار سے زائد حجاج وطن واپس پہنچے

  • بلوچستان میں دو آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں دو آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے 2 جون 2025 (پیر) کو بلوچستان میں بھارتی ایجنسیوں کے پروردہ دہشت گرد گروہ ”فتنہ الہندستان“ کے خلاف دو کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے دوران سات دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچا دیئے گئے۔

    پہلا آپریشن ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں کیا گیا، جہاں ”فتنہ الہندوستان“ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع تھی، سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لیا، اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک کردئیے گئے۔

    دوسرا آپریشن ضلع قلات کے علاقے مرگند میں کیا گیا، جہاں ”فتنہ الہندستان“ کا ایک اور خفیہ ٹھکانہ تباہ کیا گیا، کارروائی میں مزید دو دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے،آپریشنز کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد بلوچستان میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

    پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز پرعزم ہیں اور قوم کی یہ غیر متزلزل خواہش ہے کہ بھارتی ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

  • بلوچستان کی دہشت گرد تنظیموں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دیدیا گیا

    بلوچستان کی دہشت گرد تنظیموں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دیدیا گیا

    وزارت داخلہ نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تمام تنظیموں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان میں سرگرم تمام دہشت گرد تنظیمیں اب سے ’فتنہ الہندوستان‘ کے عنوان سے جانی جائیں گی۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ نام ان تنظیموں کے نظریات، عزائم اور مقاصد کو اجاگر کرتا ہے، جو ملک کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔نوٹیفکیشن کے ذریعے حکومت نے دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے خلاف مؤثر کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عوام میں دہشت گرد تنظیموں کی اصلیت کے بارے میں آگاہی بڑھے گی اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی مؤقف کو مستحکم کیا جائے گا۔

    بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4.15 ارب روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

    بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4.15 ارب روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

    الیسٹر کک کی پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف، ایرن ہالینڈ نے پاکستانی پاسپورٹ مانگ لیا

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،  فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے دو مختلف اضلاع، لورالائی اور کیچ میں کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” کے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 28 مئی کو بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ دو علیحدہ آپریشنز کیے گئے۔ ضلع لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ یہ دہشت گرد 26 اگست 2024 اور 18 فروری 2025 کو کیے گئے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے، جن میں 30 معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔ یہ تمام عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔دوسری کارروائی ضلع کیچ میں کی گئی، جہاں ایک اور دہشت گرد مارا گیا.

    فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ملک دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے عزم کو دہراتی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
    وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہماری سیکیورٹی فورسز شب و روز سرگرم ہیں۔

    کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کبھی دستبردار نہیں ہونگے، فیلڈ مارشل عاصم منیر