Baaghi TV

Tag: فتنہ خوارج

  • کراچی سے فتنہ الخوارج  کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ)اور سندھ پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن سے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ملزم اللہ خان عرف عبداللہ محسود کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ ا ور ایمونیشن بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ملزم کا تعلق فتنہ الخوارج مفتی نور ولی عرف ابو عاصم گروپ سے ہے۔ ملزم 2008 میں فتنہ الخوارج، جنتہ جنوبی وزیرستان کے کمانڈر محمد امیر محسود کے گروپ میں شامل ہوا اور وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی متعدد کارروائیوں میں شامل رہا۔ ملزم کمانڈر محمد امیر محسود کے کہنے پر کرم ایجنسی میں مذہبی فسادات میں شامل رہا۔ ملزم وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد ملزم اپنی فیملی کے ہمراہ ٹانک شفٹ ہوا، بعد ازاں کراچی ہزارہ کالونی بلدیہ ٹاؤن میں شفٹ ہو گیا۔ ملزم کراچی سے متعدد باروزیرستان گیا اور فتنہ الخوارج کے ساتھ مل کر سہولت کاری کا کام کرتا رہا ہے۔ ملزم کا قریبی رشتہ دار کمانڈر عبداللہ شاہ فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہے اور افغانستان سے پاکستان کے اندر عسکری کارروائیاں کرنے کے لیے انتہائی متحرک رہا۔ فتنہ الخوارج کا ایک اور انتہائی مطلوب دہشتگرد شاہ ملوک عرف محب ملزم اللہ خان عرف عبداللہ محسود کا قریبی ساتھی ہے اور اس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ ملزم دہشتگرد شاہ ملوک عرف محب کے لیے سہولت کاری کا کام سرانجام دے رہا تھااور دہشتگرد شاہ ملوک عرف محب 2024 میں تین مرتبہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے عزائم کے لیے کراچی آ چکا ہے اور ابھی وزیرستان میں سیکیورٹی فوسز کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں متحرک ہے۔ ملزم اور اس کے ساتھی پاکستان بالخصوص کراچی میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

    ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق گرفتارملزم کو بمعہ اسلحہ و ایمونیشن مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ لانچ کردیا گیا

    میراجسم ،میری مرضی،ٹرانس خاتون کا چھ پسلیاں نکلوا کر تاج بنانے کا اعلان

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھوں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے.نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔ دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے، فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔

    تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے یہ گروہ اپنے آپ کو دین اور اسلام کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کی سرگرمیاں دین سے دور اور مجرمانہ ہیں۔ یہ تنظیم اپنے مخصوص مفادات کے لیے مسلسل خونریزی اور دہشت گردی کے راستے اختیار کر رہی ہے، اور ان کا اصل مقصد دین کی تعلیمات کی پاسداری نہیں، بلکہ صرف اقتدار اور طاقت کا حصول ہے۔

    ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات اور قیادت کی جنگ نے اس تنظیم کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان جاری یہ تصادم خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے اور یہ تحریک دراصل دین کے لبادے میں ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے، جو اپنے اقتدار کے لیے بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہی ہے

  • فتنہ الخوارج کی وسیع پیمانے پرڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی ہوشربا تفصیلات

    فتنہ الخوارج کی وسیع پیمانے پرڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی ہوشربا تفصیلات

    فتنہ الخوارج کی وسیع پیمانے پرڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی ہوشربا تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سےفتنہ الخوارج کے حالیہ مارے جانے والے دہشت گردوں سےرونگٹے کھڑے کر دینے والے دستاویزی ثبوت بر آمد ہوئے ہیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں میں بھی ملوث ہیں،جنوبی خیبر پختونخوا کے علاقےڈیرہ اسماعیل خان میں خارجی دہشت گردوں نے بینک لوٹنا شروع کر دیے، ڈیرہ اسماعیل خان میں بینک کی رقم لے جانے والی گاڑیوں پر خوارج نے9 جولائی، 30 جولائی اور 8 اگست کو 3 حملے کیے اور 56 ملین روپے سے زائد رقم لوٹ لی, دہشت گردوں نےرقم لے جانے والی گاڑیوں کوبھی مکمل خاکستر کر دیا،لوٹی ہوئی رقم سے خارجی نور ولی کے حکم پر 4 لاکھ روپے خارجی سیلاب کو دیے گئے ،خارجی عباس کے 13 دہشت گردوں میں 17 لاکھ سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ،دستاویزی ثبوت کے مطابق لوٹی ہوئی رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعے پاکستان سے افغانستان کے علاقوں لامان اور خوست میں چھپے خارجی دہشت گردوں کو بھیجی جاتی ہیں،

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے نام نہاد مقدس جنگجوؤں کا روپ دھار رکھا ہے،
    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج دراصل غنڈوں اور ڈاکوؤں کا گروہ ہے جو معصوم پاکستانی عوام کی جان و مال کے دشمن ہیں ، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے نام نہاد مقدس جنگجوؤں کا روپ دھار رکھا ہے، فتنا الخوارج کے بھتہ خوری اور ڈاکوں کا مقصد پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر خوارج کے سرپرستوں کو عیاشی کروانا ہے، یہ خارجی سرپرست افغانستان کے بڑے شہروں میں بیٹھ کر معصوم پاکستانی عوام سے لوٹی ہوئی رقم پر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، لوٹی ہوئی رقم پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی وجہ ہے، خوارج کے سرپرستوں کی عیاشی کی خاطر حملوں میں براہ راست ملوث گمراہ چھوٹے درجے کے خارجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں،

    لوٹی ہوئی رقم کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں خوارج کےگروپوں کے درمیان لڑائی بھی جاری رہتی ہے،دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خارجیوں کی یہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کے ان دہشت گردوں کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،نہ جھٹلائے جاسکنے والے شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کے خارجی لوٹا ہوّا مال افغانستان بھیجتے ہیں جہاں بڑے خارجی اُس حرام مال پر عیاشی کرتے ہیں

    خارجی نور ولی محسود کے خلاف کاروائی شروع،مقدمہ درج

    خارجی نور ولی محسود اور احمد حسین عرف غٹ حاجی کے گرد قانونی گھیرا تنگ

    نور ولی محسود کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

    بنوں واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان