فرانس کے محلِ ورسائی میں عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو میز پر مفاہمتی یادداشت کے دستاویز پیش کیے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کی جا نب پیش رفت ہے،معاہدے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے، ایران کے جوہری پروگرا م پر مذاکرات اور 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
تقریب کے دوران صدر میکرون نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیاامریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی فریم ورک ہے اور آئندہ 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات کے ذریعے ایک حتمی اور ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی توثیق یافتہ معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہد ے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گےمعاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔







