Baaghi TV

Tag: فرحان آصف

  • برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہور ی صحافی  فرحان مقدمے سے ڈسچارج

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہور ی صحافی فرحان مقدمے سے ڈسچارج

    برطانیہ میں فیک نیوز سے فسادات کا معاملہ،ملزم فرحان آصف کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت پیش کر دیا گیا

    دوران سماعت تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم فرحان آصف کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت نہیں ملا،فرحان آصف تفتشی میں بے قصور قرار دے دئیے گئے، فرحان آصف کو آج مقدمے سے ڈسچارج کر دیا گیا،فرحان آصف کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے.،ملزم کیخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا ہے.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرحان آصف نے اپنی پوسٹ میں بچیوں پر حملہ کرنے والے کا نام شکتی علی پوسٹ کیا، ملزم نے برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر لگائی پوسٹ اور ویڈیو دوسرے پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کی کوشش کی، ملزم نے صرف ایک بار بیرون ملک کا دورہ کیا تھا،ملزم نے غلط اور فیک خبروں کے ذریعے کمائی کی، ملزم نے کچھ پوسٹس کو رپورٹ ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا،ملزم کبھی برطانیہ نہیں کیا گیا، اسکا وہاں ایک خاتون سے رابط تھا ملزم ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کما رہا تھا،

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی  کےجسمانی ریمانڈ  میں توسیع

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی کےجسمانی ریمانڈ میں توسیع

    ضلع کچہری لاہور، برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کا معاملہ،ایف آئی اے نے ملزم کو عدالت پیش کر دیا گیا

    ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار ملزم فرحان آصف نےمزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ،تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم سے ریکوری کرنی ہے اور ٹویٹس کے متعلق تفتیش کرنی ہے ،عدالت ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرے ، عدالت نے کہا حکم دیا کہ ملزم کی آئندہ تفتیشی رپورٹ عدالت پیش کیاجائے عدالت عدالت نے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کو منظور کر لیا،ایف آئی اے نے 1 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا ،ملزم کیخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا

    فرحان آصف پر مقدمہ درج، موبائل ،لیپ ٹاپ برآمد،جرم کا اعتراف کرلیا
    قبل ازیں برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کو ہواد ینے پر لاہوری صحافی فرحان آصف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،فرحان آصف پر ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،مقدمہ سائبر کرائم کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کو شامل کیا گیا ہے،درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات ملزم فرحان آصف نے جرم کا اعتراف کیا ہے، ملزم نے ایکس اکاؤنٹ پربرطانیہ میں چاقو زنی واقعے کی تصاویر شیئر کیں، ایکس اکاؤنٹ ہینڈلر نے ویب سائٹ پر آرٹیکل بھی پوسٹ کیا،آرٹیکل میں 17 سالہ علی ال شکاتی کو چاقوزنی واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا، آرٹیکل میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ گرفتار ہونے والا مسلم ہے،آرٹیکل میں حملہ آور کو برطانیہ میں پناہ گزین بھی بتایا گیا،لاہور صحافی ،فری لانسر فرحان آصف کے سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے کی وجہ سے فسادات پھیلے،ہنگامہ آرائی ہوئی، ایکس اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی، اس نے غیر ملکی چینل کو غلط معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا ، معلومات میں ملزم نے الزام دیگر لوگوں پر عائد کرنے کی کوشش کی، دوران تفتیش ایکس اکاؤنٹ ملزم کا ہی ہونے کی تصدیق کی گئی، ملزم سے دو لیپ ٹاپ اور ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرحان آصف نے اپنی پوسٹ میں بچیوں پر حملہ کرنے والے کا نام شکتی علی پوسٹ کیا، ملزم نے برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر لگائی پوسٹ اور ویڈیو دوسرے پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کی کوشش کی، ملزم نے صرف ایک بار بیرون ملک کا دورہ کیا تھا،ملزم نے غلط اور فیک خبروں کے ذریعے کمائی کی، ملزم نے کچھ پوسٹس کو رپورٹ ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا،ملزم کبھی برطانیہ نہیں کیا گیا، اسکا وہاں ایک خاتون سے رابط تھا ملزم ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کما رہا تھا،

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کے معاملے میں ایف آئی اے نے گرفتار ملزم فرحان آصف کو عدالت پیش کر دیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم فرحان آصف کا ایک دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،جج نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ملزم سے جلد اَز جلد تفتیش مکمل کی جائے۔ ایف آئی اے نے ملزم کا چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ مانگا تھا،ملزم کے مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا

    فرحان آصف پر مقدمہ درج، موبائل ،لیپ ٹاپ برآمد،جرم کا اعتراف کرلیا
    قبل ازیں برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کو ہواد ینے پر لاہوری صحافی فرحان آصف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،فرحان آصف پر ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،مقدمہ سائبر کرائم کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کو شامل کیا گیا ہے،درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات ملزم فرحان آصف نے جرم کا اعتراف کیا ہے، ملزم نے ایکس اکاؤنٹ پربرطانیہ میں چاقو زنی واقعے کی تصاویر شیئر کیں، ایکس اکاؤنٹ ہینڈلر نے ویب سائٹ پر آرٹیکل بھی پوسٹ کیا،آرٹیکل میں 17 سالہ علی ال شکاتی کو چاقوزنی واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا، آرٹیکل میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ گرفتار ہونے والا مسلم ہے،آرٹیکل میں حملہ آور کو برطانیہ میں پناہ گزین بھی بتایا گیا،لاہور صحافی ،فری لانسر فرحان آصف کے سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے کی وجہ سے فسادات پھیلے،ہنگامہ آرائی ہوئی، ایکس اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی، اس نے غیر ملکی چینل کو غلط معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا ، معلومات میں ملزم نے الزام دیگر لوگوں پر عائد کرنے کی کوشش کی، دوران تفتیش ایکس اکاؤنٹ ملزم کا ہی ہونے کی تصدیق کی گئی، ملزم سے دو لیپ ٹاپ اور ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرحان آصف نے اپنی پوسٹ میں بچیوں پر حملہ کرنے والے کا نام شکتی علی پوسٹ کیا، ملزم نے برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر لگائی پوسٹ اور ویڈیو دوسرے پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کی کوشش کی، ملزم نے صرف ایک بار بیرون ملک کا دورہ کیا تھا،ملزم نے غلط اور فیک خبروں کے ذریعے کمائی کی، ملزم نے کچھ پوسٹس کو رپورٹ ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا،ملزم کبھی برطانیہ نہیں کیا گیا، اسکا وہاں ایک خاتون سے رابط تھا ملزم ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کما رہا تھا،

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ میں غلط معلومات پھیلا کر فسادات کو ہوا دینے والےلاہور ی صحافی کو گرفتار کر لیا گیا

    ویب سائٹ کے لئے کام کرنے والے لاہوری صحافی جس کی شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی ہے، کو پولیس نے ڈیفنس سے گرفتار کیا ہے، پولیس افسران نےفرحان آصف سے تحقیقات کی بیان قلمبند کیا بعد ازاں مزید تحقیقات کے لئے ملزم کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا، کیس میں مزید تفتیش اور حقائق سامنے لانے کے لیے ایف آئی اے ازسر نو تفتیش کرے گی۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق تفتیش کار چاہتے ہیں کہ حکومت برطانیہ کے نشریاتی ادارے آئی ٹی وی نیوز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے، جس نے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک فری لانسر پر الزام لگایا تھا ،پیش رفت سے باخبر افسران نے ڈان کو بتایا کہ ان کی اپنی تحقیقات نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ فرحان آصف ، جو چینل تھری ناؤ پلیٹ فارم سے وابستہ ایک فری لانس ویب ڈویلپر ہے جس پر غلط معلومات پوسٹ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، اس جعلی خبر کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ سوشل میڈیا سے پوسٹ کاپی پیسٹ کی گئی تھی، پولیس افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ "الزامات کو ہلکے سے نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی بالخصوص اور عام طور پر مسلمانوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”

    تفتیش کار چاہتے ہیں کہ جے آئی ٹی ‘سنگین’ الزامات کی تحقیقات کرے۔ کہتے ہیں کہ چینل تھری ناؤفری لانس جعلی دعووں کا ‘بنیادی ذریعہ’ نہیں تھا۔فتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ غلط معلومات سب سے پہلے 29 جولائی کو ایک غیر معروف ٹیبلوئڈ kossyderrickent.com نے شائع کی تھی۔ٹیبلوئڈ جنوبی افریقہ، نائیجیریا، کینیا، یوگنڈا، امریکہ، زمبابوے اور ہندوستان میں مشہور شخصیات اور رجحان ساز موضوعات کے بارے میں رپورٹس شائع کرتا ہے۔ہ اس کے بعد یہ غلط معلومات برطانیہ میں مقیم ایک خاتون نے شیئر کی، جو اس سے قبل ایکس پر کرونا اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔زیربحث خاتون کا ایکس اکاؤنٹ بھی غیر فعال لگتا ہے، آخری پوسٹ 7 اگست کو کی گئی تھی۔

    فرحان آصف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اب غیر فعال کر دیے گئے ہیں، اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ یا مشتبہ لین دین کی تاریخ نہیں ہے۔فرحان آصف نے غلطی کا احساس کرتے ہوئے معافی نامہ جاری کیا اور تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا

    farhan

    قبل ازیں برطانوی قصبوں اور شہروں میں نسلی فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگانے والی ایک ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے،ویب سائٹ کو منگل کی سہ پہر کو آف لائن لیا گیا تھا، پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے شہری فرحان آصف نے گزشتہ ماہ ساؤتھ پورٹ میں اسکول کی تین لڑکیوں کے قتل کے جھوٹے دعووں کے بعد پھوٹنے والے تشدد کے ذمہ دار ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا: "مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کا ایک چھوٹا سا مضمون یا معمولی ٹویٹر اکاؤنٹ کس طرح وسیع الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔

    خبر رساں ادارے آئی ٹی وی نیوز کے ساتھ دو بات چیت میں، فرحان آصف نے کئی بار ایک آزاد مصنف ہونے کا دعویٰ کیا او ر کہا کہ مضمون سے کوئی تعلق نہیں تھا،لیکن آئی ٹی وی نیوز کے ذریعے دریافت کیے گئے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں کو فروغ دینے والی نیوز ویب سائٹس کے نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ چینل تھری ناؤ ویب سائٹ کس کے پاس رجسٹرڈ ہے کیونکہ اس کے ڈومین کی معلومات کو گمنام رکھا گیا ہے – لیکن یہ متعدد دیگر ‘نیوز’ ویب سائٹس کے ساتھ ایک مشترکہ اشتہاری اکاؤنٹ شیئر کرتی ہے، جن میں دو Fox3Now اور Fox7Now نامی ہیں۔ان دیگر سائٹوں کے ملکیتی ریکارڈ عوامی رہے ہیں ، دونوں فرحان آصف کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔

    برطانیہ میں فسادات کو ہوا دینے والےلاہوری فرحان آصف کے خلاف کاروائی کا مطالبہ
    برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کا باعث بننے والی غلط معلومات کا مرکزی مصنف لاہور کی ایک کمپنی تھی جس کی ملکیت فرحان آصف کے پاس ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے،فرحان آصف کے لالچی اور گھٹیا حرکتوں پر نہ تو مجھے ،نہ ہی کسی اور کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تاہم یہ تمام پاکستانیوں کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ اس آدمی اور اس کی لاہور میں قائم ‘چینل 3 ناؤ’ کمپنی کو جان کر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ ہم نے اس کے مکروہ کلک بٹ کے ذریعے وہ خوفناک مناظر تخلیق کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے میڈیا ریگولیٹر اور نظام انصاف کو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ اگرچہ اس نے اس کلک بٹ کی غلط معلومات سے لاکھوں کمائے ہیں، اس نے لاکھوں برطانوی مسلمانوں اور خاص طور پر مہاجرین اور پناہ کے متلاشیوں میں خوف پیدا کیا ہے

    برطانوی فسادات میں لاہوری نوجوان بھی ملوث نکلا
    برطانیہ میں فسادات کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، عدالتیں ملزمان کو سزائیں سنا رہی ہیں اورجیل بھجوا رہی ہیں ایسے میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے حالیہ فسادات میں لاہور کا ایک نوجوان بھی ملوث ہے، بی بی سی کے مطابق نووا سکوٹیا کا ایک ہاکی پلئیراور امریکا، ٹیکساس کا ایک شہری بھی برطانوی فسادات میں ملوث ہے، ان ملزمان کا تعلق چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے ہے جس میں خبر شائع ہونے کے بعد برطانیہ میں فسادات کا آغاز ہوا تھا، ملزمان نے خبر میں ساؤتھ پورٹ شہر میں تین بچیوں کے 17 سالہ قاتل کا جھوٹا نام لکھا اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا، اسی ویب سائٹ نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ حملہ آور پناہ گزین ہے جو ایک سال قبل غیر قانونی طریقے سے کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا جو کہ غلط دعویٰ تھا،اس ویب سائٹ پر ملزمان کی جانب سے خبر شائع کر کے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے بعد مسلمانوں کی آبادی اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور حملے کئے گئے

    بی بی سی نے چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کی نشان دہی کرنے کے بعد ان کے دوستوں اور ساتھیوں سے بات کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ افراد حقیقت میں وجود رکھتے ہیں،چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ دراصل سوشل میڈیا پر جرائم کی خبریں شائع کرکے پیسے بنا رہی ہے

    لاہوری نوجوان جس کی شناخت فرحان کے طور پر ہوئی ہے وہ چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے وابستہ تھا،بی بی سی کے مطابق تحقیقاتی صحافی کا کہنا ہے کہ ” انہیں نووا سکوٹیا کے ہاکی کھلاڑی جیمز کا نام اور تصویر ملی جس کے بعد فیس بک پر ان کا اکاؤنٹ تلاش کیا گیا جہاں ان کے چار آن لائن دوستوں میں سے ایک کا نام فرحان تھا، فرحان کے فیس بک اکاؤنٹ سے پتہ چلا کہ وہ چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ کے لئے بطور صحافی کام کرتا ہے اور لاہور کا رہائشی ہے

    فرحان، جو پاکستان میں مقیم ہیں، کی تصدیق سابق ساتھیوں نے کی اور سوشل میڈیا پر اس کے اسلامی عقیدے اور بچوں کے بارے میں پوسٹ موجود ہیں۔ اس کا نام جھوٹے مضمون سے منسلک نہیں ہے تاہم وہ اس ویب سائٹ کے لیے کام کرتا ہے، فرحان نے رابطہ کیے جانے کے فوراً بعد بی بی سی کے تحقیقاتی صحافی کو انسٹاگرام پر بلاک کر دیا۔

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار