Baaghi TV

Tag: فرح گوگی

  • فرح گوگی نے کیسے مال بنایا؟کرپشن کی ہوشرباء داستان

    فرح گوگی نے کیسے مال بنایا؟کرپشن کی ہوشرباء داستان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی ، کرپشن کی ماسٹر مائنڈ، تحریک انصاف دور حکومت میں کرپشن کے کیا کیا ریکارڈ بنائے؟ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہر آنے والے دن نئی کہانی سامنے آ رہی ہے، فرح گوگی کے خلاف پاکستان میں مقدمات چل رہے، لیکن وہ پیش نہیں ہو رہیں، فرح گوگی کے بچوں کے نام پی سی ایل میں ہیں جن کو نکالنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے

    صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے فرح گوگی کی کرپشن کو بے نقاب کیا ہے، غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی تین سالہ حکومت کے دوران عجب کرپشن کی غضب کہانی
    •عمران خان کی فرنٹ پرسن کے طور پر کام کرنے والی فرح گوگی کی کرپشن کی ہوشرباء داستان۔
    •چیئرمین پی ٹی آئی کے نام نہاد ایمانداری کے بیانیے کی اصل حقیقت آشکار۔
    •فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کے ظاہری اور غیرظاہری اثاثوں میں2017 سے2020 تک 4520 ملین روپے کا حیرت انگیز اضافہ۔
    •فرح گوگی 2020 میں 950 ملین روپے کے اثاثوں کو خود تسلیم کرتی ہیں جبکہ اس کے علاوہ ان کے غیر ظاہری مگر ملکیتی اثاثے 3825 ملین روپے ہیں۔•صرف تین سالوں میں ظاہری اثاثوں میں 420 فیصد جبکہ غیر ظاہری اثاثوں میں 15300 فیصد اضافہ ہوا۔•یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ اثاثے فرح گوگی کی ذاتی ملکیت ہیں جبکہ احسن جمیل گجر اور باقی رشتہ داروں اور حصہ داروں کے اثاثے اس کے علاوہ ہیں۔

    •ایس ای سی پی(SECP) کے ریکارڈ کے مطابق چیئر مین پی ٹی آئی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی مندرجہ ذیل کمپنیوں میں حصے دار ہیں۔
    – غوثیہ بلڈرز(ایس ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ)
    -البراق ہاوسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ
    – البراق فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ
    – المعز ڈیری اینڈ فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ
    – المعز پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ
    – دیان پراپرٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ
    – ڈاکٹرز کلینکل کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ
    – سینا ٹوریا ہاسپٹل مینجمنٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ

    •3 دسمبر 2019 کو ایک مشہور پراپرٹی ٹائیکون سے آوٹ آف کورٹ معاہدے کے تحت UK کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاؤنڈز پی ٹی آئی کی حکومت کو واپس کئے۔•چیئر مین پی ٹی آئی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی نے اس واردات کے عوض 19 جولائی 2021 کو معروف پراپرٹی ٹائیکون سے ان کی ہاؤسنگ سکیم میں 240 کنال زمین اپنے نام کروائی۔یہ 240 کنال کی قیمتی زمین فرنٹ پرسن فرح گوگی کورشوت کے طور پر منتقل کی گئی۔اس رشوت کے عوض پی ٹی آئی کی حکومت نے 460 بلین روپے کے ہرجانے کے کیس کی پیروی سے اجتناب کیا۔چیئر مین پی ٹی آئی کی معاونت سے فرح گوگی نے 2018 میں اعلان کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا بھی بھر پور فائدہ اٹھایا۔489 ملین روپے سے زائد کالا دھن، جو مختلف پوسٹنگ اور ٹرانسفر اور اپنی کمپنیوں کےلیے سرکاری ٹھیکوں کی مد میں بطور رشوت وصول کیا گیا، کو ریگولائز کروایا گیا۔اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے چیئر مین پی ٹی آئی کے کئی اور ساتھی بھی شامل ہیں۔

    •کرپشن کی اس ہوشر باء داستان میں بہاولپور اور گجرانوالہ میں زرعی زمین، اسلام آباد اور لاہور میں رہائشی اور کمرشل جائیدادیں اور چکری میں 200 کنال زرعی زمین بھی شامل ہیں۔یہ تمام جائیدادیں ملکیتی مگر غیر ظاہر شدہ ہیں۔فرح گوگی کرپشن کی داستان صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ چیئر مین پی ٹی آئی کی فرنٹ پرسن منی لانڈرنگ جیسے گھناؤنے جرائم کی بھی مرتکب ہوئیں۔فرح گوگی اور ان کے شوہر برطانیہ میں بطور جعلی ڈاکٹر گولڈ سٹار یورو پرائیویٹ لمیٹڈ میں بطور ڈائریکٹر کام کرتے رہے ۔گولڈ سٹار یورو پرائیویٹ لمیٹڈ ایک شیل کمپنی کے طور پر منظر عام پر آئی۔یکم فروری 2022 کو یہ کمپنی تحلیل کر دی گئی جبکہ 11 فروری 2022 کو مانیکا پرائیویٹ لمیٹڈ کاقیام عمل میں لایا گیا۔فرح گوگی کے پاکستان میں موجود بینک اکاؤنٹس کی تعداد میں 2019 سے 2021 تک مسلسل اضافہ دیکھا گیا ۔ 426 ملین روپے کا بھاری سرمایہ صرف ایک بینک اکاونٹ میں 2018 سے 2022 تک 47 مختلف ٹرانزیکشن کے ذریعے ڈیپازٹ کروایا گیا۔ اس کی بھی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔

    •اس کے علاوہ فرح گوگی، احسن جمیل گجر اور ان کے پارٹنرز کے ملک بھر میں 102 بینک اکاونٹس سامنے آئے ہیں۔ان کی کل مالیت ساڑھے 14 ارب روپے ہے۔ یہ اس پیسے کا حصہ ہے جو چیئر مین پی ٹی آئی کی فرنٹ پرسن کے طور پر لیا گیا۔علاوہ ازیں، دستاویزی اور تکنیکی شواہد فرح گوگی کی ہوشرباء رشوت اور کرپشن کی داستان کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ اس بھیانک واردات کے مرکزی کردار فرح گوگی کا ملک سے فرار ہوجانا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح گوگی کےاکاؤنٹس میں ایک سال کے دوران کتنی رقم جمع کرائی گئی،رپورٹ منظرعام پر

    فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    عدم اعتماد کے ووٹ کی کامیابی کے بعد عمران خان کی حکومت کے تحلیل ہونے کے ایک دن بعد فرح گوگی نے پاکستان چھوڑ دیا. وہ ملک سے فرار ہونے والی پہلی ہائی پروفائل شخصیت بن گئیں کیونکہ یہ قیاس آرائیاں پہلے ہی بڑھ چکی تھیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ معاملات میں ان کے کردار کے ساتھ ساتھ حکومتی امور چلانے میں ان کے براہ راست کردار کے لیے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • فرح شہزادی کے نام پی سی ایل سے نکالنے کیلیے انٹرکورٹ اپیل،نوٹس جاری

    فرح شہزادی کے نام پی سی ایل سے نکالنے کیلیے انٹرکورٹ اپیل،نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ: فرح شہزادی کے بچوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کر دی ،
    جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی ،اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ سنگل بینچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا ، فرح شہزادی کے بچوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ دونوں کے نام اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے محکمہ داخلہ کو دیے، عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کوئی پبلک آفس ہولڈر نہیں ہیں، فرح شہزادی کے دونوں بچے بالغ ہیں،اپیل فراز اقبال اور ایمان اقبال نے ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    واضح رہے کہ عدالت نے فرح شہزادی،فرح گوگی کے بچوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے دائر درخواست مسترد کردی تھی،جسٹس رسال حسن سید نے ایمان اقبال اور فراز اقبال کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا تھا ،فرح شہزادی کے بچوں نے نام پی سی ایل سے نکالنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا تھا

  • فرح گوگی کو بڑا جھٹکا،بچوں کے نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

    فرح گوگی کو بڑا جھٹکا،بچوں کے نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ: عدالت نے فرح شہزادی،فرح گوگی کے بچوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے دائر درخواست مسترد کردی

    جسٹس رسال حسن سید نے ایمان اقبال اور فراز اقبال کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا ،عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ،فرح شہزادی کے بچوں نے نام پی سی ایل سے نکالنے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا تھا

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار بچوں کے والدین پر سیاسی بنیادوں پر کیسز بنائے گئے، کیسز کی وجہ سے درخواست گزار کے والدین بیرون ملک مقیم ہیں، عدالت نے درخواست گزار بچوں کی درخواست پر دادرسی کا حکم دیا۔ حکومت نے انتقاماً درخواست گزار بچوں کے نام ای سی ایل سے نہین نکالے ۔ عدالت حکم عدولی کرنے پر ڈی جی پاسپورٹ اور سیکرٹری داخلہ پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے،عدالت درخواست گزار بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، عدالت درخواست گزار بچوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

  • فرح گوگی کے بچوں کے نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر جواب طلب

    فرح گوگی کے بچوں کے نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ: سابق خاتون اول بشری بی بی کی دوست فرح شہزادی کے بچوں کا بیرون ملک جانے کا معاملہ،فرح شہزادی کے بچوں کے نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی پاسپورٹ سے 11اکتوبر کو جواب طلب کر لیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت کے حکم پر فریقین نے درخواست پر تین روز میں فیصلہ کیا ،وفاقی وکیل نے کہا کہ مجھے جواب داخل کرانے اور ہدایات لینے کے لیے مہلت دی جائے،عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت کے وکیل کو ہدایات لے کر پیش ہونے کی ہدایت کر دی ،جسٹس رسال حسن سید نے فراز اقبال اور ایمان اقبال کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار بچوں کے والدین پر سیاسی بنیادوں پر کیسز بنائے گئے، مکیسز کی وجہ سے درخواست گزار کے والدین بیرون ملک مقیم ہیں، عدالت نے درخواست گزار بچوں کی درخواست پر دادرسی کا حکم دیا۔ حکومت نے انتقاماً درخواست گزار بچوں کے نام ای سی ایل سے نہین نکالے ۔عدالت حکم عدولی کرنے پر ڈی جی پاسپورٹ اور سیکرٹری داخلہ پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے،عدالت درخواست گزار بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، عدالت درخواست گزار بچوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

  • فرح گوگی کےاکاؤنٹس میں ایک سال کے دوران کتنی رقم جمع کرائی گئی،رپورٹ منظرعام پر

    فرح گوگی کےاکاؤنٹس میں ایک سال کے دوران کتنی رقم جمع کرائی گئی،رپورٹ منظرعام پر

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح گوگی کی بینک اسٹیٹمنٹ منظرِ عام پر آگئی۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق فرح گوگی کے اکاؤنٹس میں ایک سال کے دوران 52 کروڑ روپے سے زائد رقوم جمع کروائی گئیں 2 جنوری 2019 کو ایک کروڑ روپے جمع کروائے گئے جبکہ اسی سال 2 اپریل کو 60 لاکھ اور 18 اپریل کو دوبارہ 60 لاکھ روپے جمع کروائے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 3 جنوری 2020 کو 2 کروڑ اور 5 جنوری کو مزید ایک کروڑ، اسی سال 8 جنوری کو 98 لاکھ ، 3 فروری کو 3 کروڑ روپے ، 20 اگست 2020 کو اکاؤنٹ میں 2 کروڑ جبکہ 24 اگست 2020 کو 2 کروڑ روپے جمع ہوئے۔

    خدا گواہ ہے،میں نے آفیشل سیکرٹس اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں …

    رپورٹ کے مطابق 4 ستمبر 2020 کو ایک کروڑ 50 لاکھ جبکہ 16 ستمبر کو 2 کروڑ روپے جمع کروائے گئےخیال رہے کہ فرحت شہزادی کیخلاف پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران بیورو کریسی کی ٹرانسفر اورپوسٹنگ میں کروڑوں روپے کی خورد برد کے معاملے پر تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے انٹرپول کے ذریعے فرحت شہزادی کو گرفتار کر کے پاکستان لانے کا فیصلہ کیا ہے، ایف آئی اے نے فرحت شہزادی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے،فرحت شہزادی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد بذریعہ انٹرپول اس کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی-

    شاہ محمود قریشی کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    عدالت فرحت شہزادی کو منی لانڈرنگ کے مقدمہ میں پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے، ایف آئی اے نے فرحت شہزادی کے خلاف منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کر لیے، فرحت شہزادی اپنے خلاف جاری تحقیقات سے بچنے کے لیے ملک سے پہلے ہی فرار ہے۔

  • نمل، شوکت خانم کا ماڈل دکھا کر بزداراورفرح گوگی کو لایا گیا،علیم خان

    نمل، شوکت خانم کا ماڈل دکھا کر بزداراورفرح گوگی کو لایا گیا،علیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی یوتھ کیلئے خصوصی ممبر شپ شروع کر رہی ہے

    عبدالعلیم خان نے نوجوان ڈاکٹروں کے وفد سے گفتگو اور سوال و جواب کے خصوصی سیشن میں کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے نوجوانوں کے ساتھ ہاتھ ہوا ،نمل اور شوکت خانم کا ماڈل دکھا کر بزدار اور فرح گوگی کو لایا گیا،پنجاب میں جان بوجھ کر کرپٹ، نالائق اور نا اہل لوگوں کا انتخاب ہوا ،اپنی زندگی آسائش سے گزارنا آسان اور ملکی خدمت کا راستہ مشکل ہے ،سیاست عبادت سمجھ کر کریں تو اس سے بڑی اور کوئی عوامی خدمت نہیں ہو سکتی ،یہ نہیں ہو سکتا کہ ملک نیچے جا رہا ہو اور ہم سب تماشہ دیکھتے رہیں ،اصل چیلنج یہی ہے کہ یوتھ مخلص ہوکر ملک و قوم کے لئے عملی کام کرے ،ہم وہی وعدے کریں گے جو حقیقت پسندانہ اور قابل عمل ہوں

    علیم خان کا کہنا تھا کہ سائفر کو سازش بناکر ملکی سلامتی سے کھیلا گیا،قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، اس اعتراف سے ثابت ہوگیا کہ استحکام پاکستان پارٹی کیوں وجود میں آئی ،ہم ایسے ملک دشمن اور مکروہ ذہن کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے، واضح ہو گیا کہ سیاسی مقاصد کیلئے رچایا گیاسائفر کا ڈرامہ ایک شخص کا سکرپٹ تھا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

  • فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    فرح گوگی کی پنجاب میں لوٹ مار،بزدار بھی تھے ساتھ، اہم تفصیلات

    بزدار دور حکومت میں سب سے زیادہ کرپٹ بیوروکریٹس کی تفصیلات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی پنجاب میں دور حکومت کے دوران فرح گوگی اور بزدار کے لیے کام کرنیوالے کرپٹ ترین بیوروکریٹس کی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی، عثمان بزدار وزیر اعلی پنجاب گئے تو فرح گوگی کے ذریعے بشری بی بی نے کمائی کی ۔بیورو کریٹ اور پولیس افسران پی ٹی آئی حکومت کے دوران نہ صرف وفاداریاں نبھاتے رہے بلکہ کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے

    ڈاکٹر راحیل صدیق، وزیراعلیٰ کےپرنسپل سیکرٹری (کنکشن- بزدار، فرح خان، جنوبی پنجاب گرڈ، اور شہباز شریف حکومت کے خلاف مخبر)۔ اس نےٹرانسفر پوسٹنگ میں رشوت لینا شروع کی جب اس نےپہلے طارق بخاری پی ایم ایس سےبھاری رقم لی اور دسمبر 2018 میں اسے بطور ڈی سی شیخوپورہ تعینات کیا۔ اس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بھاری رشوت کی وصولی کے بعد لاہور میں شراب کا لائسنس جاری کروانے میں وہ بنیادی کردار تھا اور جہاں ڈی پی او ساہیوال تیمور بزدار نے فرح خان اور بزدار سے حصہ لیا۔ نیب نے ابتدائی طور پر کیس اٹھایا جس میں بزدار اور راحیل صدیق نے اس وقت کے ڈی جی ایکسائز مسٹر گوندل کو قربانی کا بکرا بنایا-

    ڈاکٹر شعیب اکبر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری – (بزدار، فرح خان اور جنوبی پنجاب گرڈ)۔ راحیل صدیق کے جانے کے بعد ڈاکٹر شعیب نے اپنے آقاؤں یعنی بزدار اور فرح خان کی حمایت حاصل کی اور کرپشن میں ملوث ہونے کے نئے طریقے تجویز کئے لاہور رنگ روڈ اراضی اسکینڈل (بحریہ ٹاؤن لاہور شہرت) میں ان کے اور آصف بلال لودھی کےملوث ہونےکی شکایات پر انہیں وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔

    طاہر خورشید ، سابق کمشنر ڈی جی خان، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری۔ (کنکشن – بزدار اور ان کا خاندان، فرح خان، احسن گجر، خاور مانیکا، موسٰی مانیکا)۔ اس نے بدعنوانی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور اے سی سےکمشنر اور سیکرٹریز تک کی پوسٹنگ/ ٹرانسفرز اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں پیسے بٹورے اور انہیں بزدار، ان کے بھائیوں، فرح خان اور مانیکاس کے ساتھ شیئر کیا۔

    اس کی منی مائٹنگ اور بدعنوان طریقوں میں مندرجہ ذیل لوگوں کی مدد کی گئی جنہوں نے براہ راست افسران، پراجیکٹس وغیرہ سے پیسے بٹورنے کے لیے مافیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا اور بزدار، فرح، ٹی کے گروپ (عامر جان سیکرٹری انرجی، دی) کی جانب سے پیسہ اکٹھا کرنے والوں کا کردار ادا کیا۔ ان میں محکمہ توانائی، محکمہ صحت میں کرپٹ ترین افسر، کیپٹن اسد اللہ سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، نور مینگل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ آصف اقبال لودھی کمشنر لاہور، شہریار سلطان سیکرٹری فوڈ/سروسز، صائمہ سعید سیکرٹری سروسز، مبشر ماکن پی ایس او بزدار، حیدر علی پی ایس او وزیراعلیٰ۔ کیپٹن اعجاز پی ایس او کو وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، طاہر فاروق ایڈیشنل سیکرٹری وزیراعلیٰ/ڈی سی ڈی جی خان، محمد اختر پی ایس او وزیراعلیٰ، احمد رضا سرور سیکرٹری کوآپریٹوز، نعیم بخاری سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، کیپٹن عثمان یونس سیکرٹری صحت، نبیل اعوان سیکرٹری صحت موسیٰ رضا پولیٹیکل اسسٹنٹ ڈی جی خان/ڈی سی بھکر/مظفر گڑھ۔مہتاب وسیم ڈی سی منڈی بہاؤالدین/ڈی سی رحیم یار خان۔خواجہ سہیل ڈی جی ایف ڈی اے/ڈی سی گوجرانوالہ۔دانش افضل ڈی سی لاہور/ڈی سی گوجرانوالہ۔ عامر کریم پی ایس او بزدار اور ڈی سی ملتان۔ مدثر ریاض ملک/ کمشنر ڈی جی خان، ڈی سی لاہور/ ڈی جی سوشل ویلفیئر۔ صالحہ سعید سابق ڈی سی لاہور، ڈی جی ایکسائز اور سپیشل سیکرٹری صحت کرپٹ ترین خاتون رہیں جنہیں قریبی رشتہ دار عائشہ حمید اور عثمان معظم کی مدد ملی، جو فرح خان اور بزدار کے ماتحت کرپٹ گروہ کے دو ارکان ہیں۔

    بابر حیات نے پٹواری نظام کو بحال کرنے اور ایس ایس حکومت کے ڈیجیٹل اقدامات کو ختم کرنے کے لیے رقوم اکٹھی کیں اور پٹواریوں کی بھرتی میں بھاری رقوم اکٹھی کیں۔ احمد عزیز تارڑ ڈی جی ایل ڈی اے، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ جنہوں نے ایل ڈی اے کو اس کرپٹ مافیا کے لیے فروخت کر رکھا تھا۔ سارہ اسلم سابق سیکرٹری تعلیم۔ ارم بخاری سابق سیکرٹری توانائی، سیکرٹری تعلیم اور ٹی کے کے بیچ میٹ۔ (اس گروہ نے پنجاب کے پورے انتظامی سیٹ اپ کو غلام بنا لیا اور یہاں تک کہ اے سی اور اے ڈی سی آر کی پوسٹنگ ٹرانسفرز کو بھی نہیں بخشا گیا ان سے پیسے بٹورے گئے۔

    ٹی کے گروپ کے اہم ممبران میں طاہر خورشید گروپ دوسرے امیر جان، شہریار سلطان، کیپٹن عثمان یونس تھے۔ ، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل، احمد رضا سرور وغیرہ گروپ بعد میں حامد ش، افتخار سہو، ثاقب ظفر، ظفر اقبال کی شمولیت کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔ کمشنر بہاولپور، جاوید بخاری، ڈاکٹر فرح، دانش افضال، بابر تارڑ، علی مرے کرپٹ زنجیر کا حصہ تھے جن کی سرپرستی بزدار، راجہ بشارت، آصف نقی، ہاشم ڈوگر کیپٹن اسد سی اینڈ ڈبلیو کے سڑے ہوئے انڈے تھے، ان تمام کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کیا گیاپنکی، فرح، بزدار اور پنکی، مانیکاس اور گجر کے لیے مالیاتی خدمات کے لیے باری باری وزیر اعلیٰ آفس کی سرپرستی کی۔

    شیریار سلطان ( بشریٰ پنکی، فرح خان اور ٹی کے) گدی نشین ہونے کی وجہ سے اس کے بشریٰ بی بی اورعمران خان سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ مبینہ طور پر وہ بشریٰ بی بی کا جاسوس تھا اورعمران خان کو ایس ایس فیملی کے بارے میں معلومات بھی دیتا تھا۔ وہ فوڈ سکینڈل میں ملوث تھے اور انہوں نے بطور سیکرٹری فوڈ اور اس سے قبل ڈائریکٹر فوڈ کے طور پر بھاری رقوم حاصل کیں۔ انہوں نے سیکرٹری کوآپریٹو کے طور پر بھی کام کیا اور TK کے ٹول کے طور پر اپنے، خاندان کے افراد، بشریٰ پنکی، فرح خان اور بزدار کے لیے مختلف کوآپریٹو سوسائٹیز میں تقریباً 40 پلاٹوں کا انتظام کیا یہ ایک کرپٹ آدمی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

    جاوید اختر محمود، سابق کمشنر ملتان ( بزدار، ٹی کے اور فرح خان ) انہوں نے بزدار فیملی اور ٹی کے کو سنبھالا اور کمشنر ملتان کی حیثیت سے انہیں ماہانہ بھاری رقم ادا کی۔

    6. *نور مینگل، سابق ڈی سی لیہ، ساہیوال* (بزدار، فرح خان اور ٹی کے)۔ انہوں نے بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے ادا کئے۔ اس نے روپے کمائے۔ دونوں سلاٹسں سے 30 کروڑ۔ اس نے ابتدائی طور پر پنجاب میں اترنے کے لیے بلوچی گرڈ کا استعمال کیا اور پھر فرح خان اور ٹی کے کو بھاری رقوم دے کر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی پوسٹنگ اور پھر کمشنر پنڈی کی حیثیت سے ٹی کے/ فرح خان چین کا حصہ بن گئے۔

    7. ذیشان جاوید بزدار۔ ( عثمان بزدار، عمر بزدار) انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر ڈی سی سیالکوٹ لگایا گیذ انہوں نے گزشتہ سال سیالکوٹ کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔ وہ بزدار کا فرنٹ مین تھا اور اس کے لیے پیسے جمع کرتا تھا۔

    8. بابر بشیر۔ (کنکشن – عثمان بزدار اور عمر بزدار) اس نے روپے ادا کئے۔ بزدار کو پہلے ڈی سی لیہ اور پھر ڈی سی ساہیوال کی حیثیت سے 5 کروڑ روپے دیئے دونوں سلاٹس سے 30 کروڑ روپے بٹورے-

    9. امیر عقیق۔ (کنکشن – فرح خان گروپ) کو فرح گروپ کو بھاری رشوت دینے کے بعد ڈی سی اوکاڑہ اور پھر ڈی سی پنڈی تعینات کیا گیا۔ شہباز شریف کے دور میں ان کے خلاف اے سی ای پنجاب نے مقدمہ درج کیا تھا۔

    ڈاکٹر ذیشان ڈی ایس ٹو سی ایم۔ وزیراعلیٰ سابق اے ڈی سی آر ٹوبہ ٹیک سنگھ امیر جان سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ کے فرنٹ مین تھے جنہوں نے پیسے اور آئی فون لے کر کئی افسران کی پوسٹنگ کا انتظام کیا۔ اس نے رشوت لے کر کئی اے ڈی سی آرز کی تعیناتی کی۔

    رانا عبدالشکور۔ رجسٹرار کوآپریٹوز پنجاب۔ (رابطے – بزدار، فرح خان، راجہ بشارت اور مونس الٰہی)۔ راجہ بشارت اور مونس الٰہی کی حمایت سے شکور نے ایک میڈیا ٹائیکون اور راجہ بشارت منسٹر کوآپریٹو کی ایجنسی کے ذریعے فرح خان کے ساتھ معاہدہ کیا اور رجسٹرار کوآپریٹوز کے طور پر ان کی تعیناتی کے لیے 5 کروڑ ادا کیے۔ اس نے اپنے پیشرو رجسٹرار کوآپریٹوز کو معزول کر دیا جو پہلے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر تعینات تھے اور فرح خان کی سربراہی میں اس گروپ کے پلاٹوں کے غیر قانونی مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    منظور ناصر، ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن-بزدار، فرح خان، بزدار برادران، فیاض چوہان، راجہ جہانگیر انور)۔ وہ پیسے اور مشہوری کی خاطر اپنی ماں کو بیچنے کے لیے مشہور ہے۔ انہیں راحیل صدیقی نے ڈی سی گوجرانوالہ اور بعد ازاں ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور سی ای او ٹیوٹا، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پھر فرح، بزدار برادران اور شہزاد اکبر کی مداخلت پر ڈی جی اے سی ای کے طور پر تعینات کیا تھا۔

    انہوں نے شیخ رشید کی ہدایت پر راولپنڈی سے پی ایم ایل این کے سینیٹر کو گرفتار کیا۔ منظور ناصر نے ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک، سی ای او ٹیوٹا اور ڈی جی اینٹی کرپشن کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے مختلف اوقات میں 4 کروڑ ادا کیے۔ واضح رہے کہ سابق ڈی جی اینٹی کرپشن پولیس نے منظور ناصر کو جگہ دینے سے قبل اپنے دو سال کے دور میں ایک ارب روپے سے زائد کمائے تھے۔

    گوہر نفیس، سابق ڈی جی ACE پنجاب۔ (کنکشن- شہزاد اکبر، سابق ڈپٹی چیئرمین نیب)۔ وہ شہزاد اکبر اور نیب کے کٹھ پتلی رہے ہیں اور پی ایم ایل این کی قیادت کے خلاف انتہائی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ پنجاب میں اس کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور سرکاری ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا اور بڑی خوشیاں وصول کیں۔ ان کا کیس نیب نے اٹھایا لیکن شہزاد اکبر کے کہنے پر ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی۔

    بلال حیدر، کمشنر PESSI (کنکشن- ٹی کے، بزدار، فرح خان) نے بھی بھرتی ہونے کیلئے روپے ادا کیے فرح خان کو دو بار کمشنر PESSI تعینات کرنے پر دو کروڑ ادا کئے-

    ساجد ظفر اقبال، سابق کمشنر ڈی جی خان، سابق سیکرٹری ٹو سی ایم۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان)پہلے دور میں شہباز شریف کے ساتھ خدمات انجام دینے کے بعد، انہوں نے بزدار حکومت کے ساتھ ہاتھ ملایا اور وزیراعلیٰ کے سیکرٹری کوآرڈینیشن بن گئے جس کے بعد ان کی تعیناتی کمشنر ڈی جی خان کی گئی۔ وہ شہباز شریف کے دور حکومت کے خلاف آئی کے کو مخبر تھا۔

    سہیل زمان وٹو، کین کمشنر، سابق ڈی سی ساہیوال۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی اور فرح خان سے قریبی تعلق)۔ وہ ایک اوسط درجے کے پیشہ ور تھے جنہیں انتہائی سیاسی طور پر جانا جاتا تھا۔ انہیں شہباز شریف نے ڈی سی بھکر کے طور پر رکھا تھا لیکن شکایات پر ہٹا دیا گیا جب اس نے بھکر میں بشریٰ بی بی کے رشتہ داروں کو زمین الاٹ کی تھی۔ عمران خان کے دور حکومت میں، انہیں پہلے ڈی سی ساہیوال اور پھر کین کمشنر کے طور پر شوگر ملوں کو خراب کرنے کے لیے رکھا گیا۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے ساتھ انہوں نے رمضان شوگر ملز کی انتظامیہ وغیرہ کے ساتھ گڈ گڈی کر کے اپنا دوستانہ امیج بنانا شروع کر دیا –

    آصف بلال لودھی، سیکرٹری کوآرڈینیشن اور کمشنر لاہور (کنکشن- بزدار، فرح خان)۔ انہیں ابتدائی طور پر بزدار کے سیکرٹری کوآرڈ ینیشن کے طور پر رکھا گیا تھا۔ وہاں سے اسے کمشنر لاہور کے طور پر لانچ کیا گیا اور پی ٹی آئی کی مدد سے اس نے بحریہ ٹاؤن کے لیے فوائد حاصل کیے اور اپنے اور فرح خان اور بزدار کے لیے بھاری رقم وصول کی۔ انہیں بلوچستان کے حوالے کر دیا گیا لیکن بعد میں حال ہی میں دوبارہ چیئرمین پی آئی ٹی بننے میں کامیاب ہو گئے۔

    رانا سقراط امان، سابق سیکرٹری کوآرڈینیشن ٹو سی ایم۔ (کنکشن- ٹی کے گروپ بعد میں بزدار اور فرح خان کے ساتھ شامل ہوا)۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے ۔ ٹی کے نے اسے مقامی حکومت کے پروجیکٹ کے پی ڈی کے طور پر اور بعد میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے طور پر اپنا ایجنٹ بنا لیا۔ اسے اس کے بیچ کی ساتھی عائشہ حمید سکریٹری کے ذریعے ٹی کے بیٹیوں کی شادی اور آسیہ گل، فیاض موہل اور خواجہ سہیل سمیت چند ڈی سی کی پوسٹنگ کے لیے دولت اکھٹی کرنے کے بدعنوان طریقوں میں ملوث کیا گیا۔

    رانا محمد ارشد، پراجیکٹ ڈائریکٹر رنگ روڈ لاہور، سابق ڈی سی قصور۔ (کنکشن- بزدار فیملی)۔ وہ کرپٹ تھا اور شراب نوشی اور زنانہ حرکات جیسی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس نے بھیXEN ہائی وے فیاض بزدار کو 3 کروڑ روپے ادا کئے، وزیراعلیٰ بزدار کے فرنٹ مین اور رنگ روڈ پراجیکٹس کے PD کے طور پر پوسٹنگ حاصل کی جہاں سے انہوں نے روپے کمائے۔ مختلف لینڈ مافیا کی طرف سے 12 کروڑ روپے۔ اس سے قبل ڈی سی قصور کی حیثیت سے انہوں نے ایک ارب مالیت کی سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کیا تھا اور بھاری رقم وصول کی تھی۔ ACE پنجاب میں ایک کیس ابھی زیر التوا ہے لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اسلام آباد میں بھی تعینات رہے-

    طارق بخاری، پی ایم ایس آفیسر۔ (کنکشن- بزدار، راحیل صدیق، جاوید قیصرانی) ڈی جی خان میں پولیٹیکل ایجنٹ رہنے کے بعد، اس نے بزدار اور خاندان اور ان کے دوستوں کے ساتھ ایسے تعلقات استوار کیے ہیں جن میں وہ ابتدائی افسران میں شامل تھے بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی جی کوہ سلیمان اتھارٹی بنانے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    اصغر جوئیہ۔ (کنکشن- بزدار، شہزاد اکبر، فرح خان) انہیں 2019 میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے طور پر رکھا گیا تھا اور وہاں سے انہوں نے شہزاد اکبر اور فرح خان کے ساتھ پی ایم ایل این کے سیاسی پیتل کو نچوڑنے کے لیے اپنے تعلقات استوار کیے تھے۔ اس نے بھی ڈی سی شیخوپورہ اور پھر ڈی سی سرگودھا بننے کے لیے 3 کروڑ روپے رشوت دی شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے۔

    سید موسیٰ رضا۔ (کنکشن- بزدار اور فرح خان) 1.5 کروڑ روپے دے کر پولیٹیکل ایجنٹ ڈی جی خان بنااور پھر ٹی کے اور بزدار کو ڈی سی بھکر اور بعد میں ڈی سی مظفر گڑھ بننے کے لیے 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    رانا شکیل پی ایم ایس۔ (کنکشن- بشریٰ بی بی کے بھائی، فرح اور بزدار، موسیٰ مانیکا)۔ پتوکی قصور سے تعلق رکھنے والے رانا شکیل جن کے والد 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے امیدوار تھے۔ وہ اس سے قبل بشریٰ پنکی کی تحصیل دیپالپور کے اے سی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پنکی فیملی کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے موسی مانیکا کو پہلے ڈی سی پاکپتن اور پھر ڈی سی شیخوپورہ تعینات کرنے پر 2 کروڑ روپے ادا کئے-

    عمر شیر چٹھہ۔ (کنکشن- بشریٰ پنکی اور فرح خان) عمر عاشر چٹھہ اپنے دور میں شہباز شریف کے ڈپٹی سیکرٹری اور پی ایس او رہے۔ بعد ازاں اس نے بشریٰ پنکی اور احسن گجر سے تعلقات استوار کیے اور پہلے ڈی سی سیالکوٹ، اس کے بعد میانوالی اور پھر لاہور میں BS-18 بننے کے لیے 3 کروڑ ادا کیے۔ وہ عمران خان کا شہباز شریف کے خلاف مخبری تھا۔

    ذوالفقار گھمن۔ (کنکشن-احسن گجر، بشریٰ پنکی اور فرح خان) اصل میں پراپرٹی ڈیلر ذوالفقار گھمن نے احسن سلیم گجر کے ساتھ پراپرٹی کا مفاد بڑھایا اور زمین کے سودوں میں فرح خان اور احسن گجر کےفرنٹ مین کا کردار ادا کیا جہاں اس نےکمشنرلاہور اور کمشنر گوجرانوالہ دونوں کے طور پر لاہور، قصور اور گوجرانوالہ میں ان کے حق میں زمین کے لین دین کی سہولت فراہم کی۔

    کیپٹن عثمان یونس، سابق سیکرٹری صحت اور کمشنر لاہور۔ (کنکشن- بزدار، فرح خان، شہزاد اکبر)۔ کیپٹن عثمان نے بڑی چالاکی سے ان کا بھیس بدل کر عمران خان کے خاص آدمی کا روپ دھار لیا، اب وہ پی ایم ایل این کی طرف جھکنا شروع ہو گئے ہیں اور ان کی طرف فرمانبرداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پہلے وہ ڈی سی لاہور تھے اور اپنے آپ کو حمزہ شہباز کے ساتھی کے طور پر پیش کرتے تھے جو جونیئر افسران کو دھمکیاں دیتے تھے۔ انہوں نے عمران خان کی حکومت کے آتے ہی رخ بدل لیا اور 4 سال ڈی سی لاہور رہ کر حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے خلاف مخبر بن گئے۔ وہ تشہیر کا بھوکا ہے اور اس نے خود کو ترین خان گروپ کے ساتھ جوڑ دیا اور کووڈ 19 کی مدت کے دوران سیکرٹری صحت کی حیثیت سے کرپشن کے راستے کی قیادت کی۔ وہ طاہر خورشید گروپ کے بنیادی رکن تھے دیگر میں امیر جان، شہریار سلطان، نبیل اعوان، عمران سکندر، افتخار سہو، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، مدثر ریاض ملک، ارم بخاری، جاوید اختر محمود، نور الامین مینگل ،احمد اور رضا سرور سغیرہ شامل تھے۔

    رفاقت نسوانا، سابق ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور اب بطور رجسٹرار کوآپریٹوز تعینات ہیں۔ (کنکشن- فرح خان، ٹی کے گروپ، راجہ بشارت اور مونس الٰہی) ابتدائی طور پر انہوں نے رجسٹرار کوآپریٹوز کی پوسٹنگ حاصل کرنے کے لیے راجہ بشارت کے ذریعے فرح خان کو 2 کروڑ اور ڈی جی فوڈ بننے کے لیے مزید2 کروڑ ادا کیے تھے۔

    عبداللہ سنبل چیئرمین پی اینڈ ڈی۔ (کنکشن – عمران خان کا آدمی)۔ میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیازیوں کی ذیلی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبداللہ سنبل نے خود کو عمران خان کا زیادہ وفادار ثابت کیا اور عمران خان کا معتمد تھا۔ انہوں نے عمران خان کو شہباز شریف اور فیملی کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان تمام کمپنیوں کے بارے میں بصیرت فراہم کی جن پر نیب نے کارروائی کی لیکن کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے میانوالی اور لیہ کے تمام منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے جبکہ باقی پنجاب میں ترقی پر سمجھوتہ کیا۔

    احمر سہیل کیفی، ڈی سی پاکپتن۔ (کنکشن- چیئرمین نیب اور بشریٰ پنکی) چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنے داماد کے بھائی احمر سہیل کیفی کو پہلے ڈائریکٹر ACE لاہور اور پھر ڈی سی پاکپتن کےعہدے پر تعینات کیا احمر کیفی کے والد پی پی ایس سی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بدنام ہیں کیونکہ وہ اپنے بیٹوں اور بہو سمیت کئی پی ایم ایس اور دیگر افسروں کے انتخاب میں ملوث ہیں۔

    عاصم جاوید ڈی سی چنیوٹ۔ (کنکشن-عامر جان، بزدار، فرح خان) وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ رہے اور ڈی سی چنیوٹ کی پوسٹنگ کے لیے ایک کروڑ ادا کیا۔

    چوہدری پرویز الٰہی گروپ۔ سیف، جو دو بار ڈی سی گجرات اور پھر ڈی سی جہلم تعینات رہےاس نے مونس الٰہی کو ان کی تین پوسٹنگ کے لیے 7 کروڑ روپے ادا کئے-

    خرم شہزاد نے مونس الٰہی کو بطور ڈی سی گجرات، ڈی سی رحیم یار خان اور پھر دوبارہ ڈی سی گجرات کے عہدے پر تعیناتی کے لیے 9 کروڑ ادا کیے گئے جبکہ مہتاب وسیم نے مونس الٰہی کو ڈی سی منڈی بہاؤالدین اور ڈی سی رحیم یار خان کی تعیناتی کے لیے 6 کروڑ ادا کیے تھے۔

    پولیس سروس کرپٹ افسران – بزدار فائلیں۔

    اشفاق خان (PSP/DIG)۔ احسن گجر کا پیسہ اکٹھا کرنے والا بندہ۔ دو بار ڈی آئی جی آپریشنز لاہور رہے، ایک بار آر پی او فیصل آباد، آر پی او سرگودھا اور آر پی او راولپنڈی رہے 3 سالہ دور حکومت میں ایک دن بھی انعامی پوسٹنگ نہیں کی گئی اور بزدار کو 10 کروڑ روپے، فرح خان کو 15 کروڑ ادا کیے گئے۔ اسے مری میں ہونے والی کئی ہلاکتوں میں کلین چٹ دی گئی تھی۔ عمران خان کوشہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    رانا فیصل (ڈی آئی جی پی ایس پی)۔ وزیراعلیٰ بزدار بھائی کے کہنے پر بطور آر پی او ڈی جی خان اور سرگودھا تعینات ہوئے عمران خان کو کو شہباز شیرف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیںجبکہ عمران محمود ڈی آئی جی۔ امیر تیمور سابق ایس ایس پی اور عثمان بزدار کے چچا کو ادائیگی کے بعد پوسٹ کیا گیا۔

    زعیم اقبال شیخ۔ سابق ڈی آئی جی 3 سال تک ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ رہے جس کے دوران وہ بنیادی طور پر کرپٹ تھے اور BS-21 بورڈ میں ترقی کے لیے مسترد کر دیے گئے۔عمران خان کو شہباز شریف اور خاندان کے خلاف معلومات فراہم کیں۔

    بی اے ناصر ایڈیشنل آئی جی۔ احسن گجر نے سابق پاکستان رخصت پر کرپٹ پولیس افسر عظیم ارشد کے ذریعے نیٹ استعمال کیا۔ عظیم ارشد ڈی آئی جی وہ شخص تھا جس نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو مقامی پولیس کے ساتھ جھگڑے میں خاور مانیکا کی مدد کرنے کے لیے فون کیا اور پھر مسٹر گوندل کی سیٹ حاصل کی-

    مبشر مکن مرکزی شخص تھا جو عثمان بزدار کی آنکھ اور کان تھے اور عمر سعید ایس ایس پی کو ان کے آبائی شہر میں ڈی پی او کے طور پر تجویز کیا تھا۔ وہ بزدار سے فرح خان کے گھر پیسے پہنچاتا تھا۔

    مسٹر عاطف ایس ایس پی سی ایم سیکرٹریٹ میں رہے جنہوں نے پولیس کے بہت سے معاملات میں ہیرا پھیری کی اور پوسٹنگ کے لیے رشوت دینے پر درمیانی آدمی کے طور پر کام کیا۔

    محمد اختر پی ایس پی نے بزدار کے لیے پی ایس او کے طور پر خدمات انجام دیں اور فرح خان اور بزدار کے لیے پیسے جمع کرنے والے ایجنٹ تھے جبکہ منتظر مہدی PSP نے بطور CTO لاہور تعیناتی کے لیے 4 کروڑ ادا کیے۔ ان کی سفارش فرح خان نے کی تھی۔

    جی ایم ڈوگر سابق سی سی پی او لاہور نے فرنٹ مین مسٹر افتخار بوڈا کے ذریعے وزیراعلیٰ بزدار کو بھاری رقم ادا کی اور اپنی پوسٹنگ کروائی۔ اس نے خرم جانباز ایس ایس پی کی مدد سے انتہائی کرپشن کی اور ان کے ٹرانسفر ہونے تک بہت پیسہ لوٹا۔

    ذیشان اصغر۔ گجر خاندان سے تعلق رکھنے والے کرپٹ سابق چیف سیکرٹری بلوچستان کے بہت قریب اور اپنے قریبی دوست مبشر ماکن کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہیرا پھیری کرکے لاہور میں ایس ایس پی کے عہدے پر تعینات کیا اور کرپشن کرکے اپنے کیرئیر کا نام روشن کیا اور بڑے بڑے وگوں کو رائفلیں پیش کیں جو کہ رقم تھی۔ ایک پٹواری کا بیٹا ہونے کے ناطے لاکھوں روپے لوٹے-

    12. زاہد مروت پی ایس پی نے بطور ڈی پی او اپنے تین ادوار کے لیے مبشر ماکن اور ایس ایس پی عاطف کے ذریعے بھاری رقم ادا کی جبکہ مستنصر فیروز نے فرح خان اور بشریٰ بی بی کو بطور ڈی پی او تین پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم ادا کی۔

  • عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر

    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر

    سابق مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی ۔

    باغی ٹی وی: شہزاد اکبر نے سعودی ولی عہد کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو تحفے میں دی گئی گھڑی کے حوالے سے کہا ہے کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی میں ذاتی طور پر فرح گوگی کو بھی نہیں جانتا، ان سے کبھی ملاقات ہوئی نہ بات ،یہ سب کہانی گھڑی گئی-

    سابق مشیر احتساب نے کہا کہ پہلے عمر فاروق ظہور نے بیان دیا تھا کہ میں نے زلفی بخاری کے فون کرنے کا بتایا، اب کہہ رہا ہے میں نے فرح گوگی کے فون کرنے کا بتایا، عمر فاروق ظہور ناروے میں پیدا ہوا مگر ناروے میں شہریت ختم کر دی گئی عمر فاروق نے ناروے میں ایک عمر رسیدہ خاتون سے کئی ملین کی رقم لوٹی ، اگر گھڑی کی کہانی اس شخص کے بیانیے پر کھڑی ہے تو عوام کو کہوں گا ’گُڈ لَک۔

    عمران خان سے گھڑی خریدنے والےعمر فاروق عدالت میں پیشی کیلئے تیار

    دوسری جانب گھڑی خریدنے کے دعوے دار عمر فاروق نے کہا کہ اس کیس میں گواہی کے لیے انہیں عدالت نے طلب کیا تو وہ پیش ہوں گے،اس وقت کے مشیر شہزاد اکبر نے رابطہ کیا اور فرح گوگی یہ گھڑی لے کر ان کے پاس آئيں، جب تصدیق کے لیے متعلقہ برانڈ کے شو روم سے رابطہ کیا تو وہاں سے پتا چلا کہ یہ اصلی گھڑی ہے جو سعودی فرمانروا نے آرڈر پر بنوائی تھی۔

    باجوڑ خود کش دھماکا: حملہ آور کی تصویر پولیس نے حاصل کر لی

  • فرح گوگی کا بھی وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان

    فرح گوگی کا بھی وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان

    عمران خان مشکل میں پھنستے جا رہے ہیں، اعظم خان کے بعد اب فرح گوگی وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہیں،اور قوی امکان ہے کہ فرح جلد بیان ریکارڈ کروا دے گی

    فرح گوگی، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے انتہائی قریب تھیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی سہیلی فرح گوگی، بشریٰ بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحقیقات میں وعدہ معاف گواہ بننے کا زیادہ امکان ہے فرح تقریباً ایک ماہ سے پاکستانی پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پہلے ہی ان کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں،پی ٹی آئی کی قیادت نے انہیں اوران کے شوہر احسن جمیل گجر کو مسلسل تاکید کی ہے کہ وہ ایف آئی اے اور دیگر عدالتی اداروں کے ساتھ تعاون نہ کریں فرح گوگی نے پہلے ہی پاکستانی حکام کو اہم معلومات پہنچا دی ہیں اور ورکنگ کنکشن پہلے ہی قائم ہو چکا ہے

    دی نیوذ میں شائع رپورٹس کے مطابق فرح کو مئی کے پہلے ہفتے میں متحدہ عرب امارات  چھوڑنے کی درخواست کی گئی تھی جب پاکستانی حکومت نے خلیجی ریاست کو مطلع کیا تھا کہ وہ ایک مطلوب شخص ہے اور دبئی میں رہتے ہوئے بدعنوان سرگرمیوں میں ملوث ہے فرح کو “بلیک لسٹ” میں ڈال دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے خلاف الزامات کی وجہ سے کسی قانونی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں داخل نہیں ہو سکتیںفرح نے پاکستانی حکام سے اس وقت تک بات چیت شروع نہیں کی جب تک وہ اٹلی میں تھیں اور اس کے بعد سے اس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے

    عدم اعتماد کے ووٹ کی کامیابی کے بعد عمران خان کی حکومت کے تحلیل ہونے کے ایک دن بعد فرح گوگی نے پاکستان چھوڑ دیا. وہ ملک سے فرار ہونے والی پہلی ہائی پروفائل شخصیت بن گئیں کیونکہ یہ قیاس آرائیاں پہلے ہی بڑھ چکی تھیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ معاملات میں ان کے کردار کے ساتھ ساتھ حکومتی امور چلانے میں ان کے براہ راست کردار کے لیے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ وعدہ معاف گواہوں کا موسم ۔۔۔ اب فرح گوگی بھی عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے جا رہی ہیں۔۔۔ عمران خان ختم شُد۔۔!!! کرپشن کی نئی نئی کہانیاں ثبوتوں کے ساتھ۔۔!!!

    جب نیازی کی کہانی سامنے آئے تو لوگ اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے ،حنا پرویز بٹ
    ن لیگی رہما حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ اب بہت جلد فرح گوگی بھی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بیگم کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے جا رہی ہے۔اب فرح گوگی بتائے گی کہ کتنی ہیروں کی انگوٹھیاں لی گئی، کتنے ٹرانسفرز کر کے پیسے بنائے گئے اور کہاں کہاں کرپشن کے ذریعے مال بنایا گیا۔۔جب نیازی صاحب کی کرپشن کی کہانی سامنے آئے تو لوگ اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • کوٹےسےکئی گنا زائد الکوحل کی فروخت کی اجازت،ماہانہ رقم فرح گوگی کوپہنچائی جاتی

    کوٹےسےکئی گنا زائد الکوحل کی فروخت کی اجازت،ماہانہ رقم فرح گوگی کوپہنچائی جاتی

    لاہور:اینٹی کرپشن نے فرح گوگی کے ذریعے محکمہ ایکسائز میں تعیناتیاں لینے والےافسران کےخلاف چھان بین کے دوران فرح گوگی کو منتھلی دینے والے محکمہ ایکسائز کے ای ٹی اوز کے خلاف شواہد مل گئے-

    باغی ٹی وی:ذرائع اینٹی کرپشن پنجاب کے حوالےسے بتایا کہ اینٹی کرپشن حکام نے بیورو کریسی کی ٹرانسفر پوسٹنگ کی مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا فرح گوگی کے ذریعے محکمہ ایکسائز میں پرکشش آسامیوں پر تعیناتیاں لینے والے قابو میں آگئے۔

    سابق ای ٹی او مسعودوڑائچ فرنٹ مینز کے ذریعے فرح گوگلی کے لیے ماہانہ رقوم جمع کرتے تھے اور انہوں نے ایکسائز انسپکٹروں پر مشتمل نیٹ ورک بنایا ہوا تھا۔

    بیرون ملک چین کے خفیہ "تھانے”

    ذرائع کے مطابق ایکسائز انسپکٹرز ملی بھگت کرکے کوٹے سے کئی گنا زائد الکوحل کی فروخت کی اجازت دیتے رہے، الکوحل کی کوٹہ سے زائد فروخت کے بدلے ونڈ شاپس سے بھاری رشوت لی جاتی رہی، لاہور کے نجی ہوٹلز کی ونڈ شاپس سے ہر ماہ بھاری رقوم اکٹھی کرکے مسعود وڑائچ کو پہنچائی جاتی رہیں ہیں مسعود بشیر وڑائچ ونڈ شاپس سے ماہانہ رقم جمع کر کے رشوت کے پیسے فرح گوگی کو پہنچاتے تھےپنجاب کے علاوہ راولپنڈی میں بھی انہوں نے یہی کام کیا۔

    واضح رہے کہ اینٹی کرپشن نے فرح گوگی کے ذریعے پوسٹنگ حاصل کرنے والے پانچ بیوروکریٹس کےخلاف پہلے ہی مقدمہ درج کررکھا ہے، جس میں سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، فرح گوگی اور بشری بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا بھی نامزد ہیں۔

    پُرکشش عہدوں پر کروڑوں روپے کے عوض تقرر و تبادلے کرنے کے الزام میں سابق وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید، بیوروکریٹ احمد عزیز تارڑ، صالحہ سعید، عثمان معظم، سہیل خواجہ اور فرحت شہزادی کے پرسنل سیکرٹری محمد آصف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا –

    کلر کہار کے قریب مسافر بس کو خوفناک حادثہ،13 افراد جاں بحق 15 زخمی

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ سینئر بیوروکریٹ تعینات ہونے والے افسران سے رشوت وصول کرکے فرحت گوگی کو کروڑوں روپے حصہ دیتے تھے فرحت شہزادی یہ رقم اپنے ملازمین احمد منصور اور آصف کے ذریعے لبرٹی کے بینک میں جمع کرواتی تھی جب کہ بشریٰ بی بی کا بیٹا ابراہیم مانیکا فرحت شہزادی سے گھر آکر نقد رقم وصول کرتا تھا 45 کروڑ کی کرپشن کےثبوت سامنےآچکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔

    قبل ازیں مبینہ کرپشن کیس میں محکمہ ایکسائز نے نیب لاہور کو گاڑیوں کی رجسٹریشن کی تفصیلات فراہم کردی تھیں محکمہ ایکسائز کے مطابق سب سے زیادہ 22 گاڑیاں فرح گوگی کے نام رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ شفقت محمود کے نام4، شہزاد اکبر کے نام 2 گاڑیاں رجسٹرڈ،فواد چودھری اور عمرایوب کے نام ایک ایک گاڑی رجسٹرڈ ہیں ۔

    شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کررہا،وزیرخزانہ