Baaghi TV

Tag: فرح گوگی

  • گھڑی چوری کیس میں سزا ہوگی، قید بھی ہوسکتی ہے، عطا تارڑ

    گھڑی چوری کیس میں سزا ہوگی، قید بھی ہوسکتی ہے، عطا تارڑ

    گھڑی چوری کیس میں سزا ہوگی، قید بھی ہوسکتی ہے، عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر، ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کو ملنے والا تحفہ صرف گھڑی نہیں پورا سیٹ تھا،تحفے میں دی گئی ڈائمنڈ کی یہ گھڑی منفرد ہے ،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو دوست ممالک سے ملنے والے تحائف کہاں کہاں بیچے گئے تفصیلات ہیں یہ دنیا میں واحد گھڑی ہے جس کے ساتھ کا کوئی دوسرا پیس نہیں، ایسی گھڑی خصوصی بنوائی جاتی ہے، اس گھڑی میں ہیرے سے خانہ کعبہ کا ڈیزائن بنا ہے،اویلیو ایشن پیپر میں گھڑی کی قیمت ایک ارب 70 کروڑ روپے بنتا ہے، گھڑی کی قیمت اب 2 ارب روپے سے زیادہ ہوگی فوادچودھری نے کہا کہ کابینہ ڈویژن نے گھڑی کی قیمت 10 کروڑ روپے لگائی،دنیا میں چند کمپنیوں کے پاس ویلیو لگانے کی مہارت ہے،حیرت ہے سعودی ولی عہد خانہ کعبہ کے ڈیزائن والی گھڑی تحفہ دیتا ہے آپ بیچ دیتے ہیں،فرح خان نے اس گھڑی کو 35کروڑ روپے میں بیچ دیا ،

    عطا تارڑ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گھڑی دبئی کیسے پہنچی؟ ایک شخص آپ کی وہ گھڑی دکھا رہا ہے، اگر آپ کے پاس ہے تو وہ کیسے گئی ؟توشہ خانہ کی چیز کو بیچنا ہی جرم ہے، 33 کروڑ روپے کہاں ہیں ؟ پی ٹی آئی کو بتانا ہوگا کہ اس گھڑی کے 33کروڑ روپے کہاں گئے؟ حکومت جو کیس کرنے جارہی ہے، یہ کریمنل ہوگا،چیلنج کرتا ہوں دنیا کی کسی عدالت میں مقدمہ کریں، پاکستان کا پیسہ واپس آئے گا،عمران خان نے متعدد دورے کیے، 5 کے تحائف ظاہر نہیں کیے گئے، یہ بھی ابھی ثابت ہونا ہے کہ گھڑی پہلے توشہ خانہ جمع کرائی یا بیچی، دوسروں کو چور چور ڈاکو ڈاکو کے راگ الاپنے والے آج اپنے کارنامے کا بتائیں،جو ٹھیکیداروں سے پیسہ لیا جارہا ہے، ایک ایک کر کے ثبوت سامنے آرہے ہیں، گھڑی چوری کیس میں سزا ہوگی، قید بھی ہوسکتی ہے حکومت کا پہلا مطالبہ ہے کہ فرح کو پاکستان بلائیں،فرح نے جو گھڑی بیچی ، جو پیسہ غائب کیا ، حقائق سامنے لائیں اس میں ثابت کرنے والی چیز ہی کوئی نہیں اوپن اینڈ شٹ کیس ہے،اس کیس میں ڈس کوالیفکیشن اورسزا ملے گی

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ڈیلی میل نے جواب جمع کرایا ، اس پر جواب ہم نے جمع کرانا ہے، کیس کا آغاز اگلے سال ہو گا،نوید جس نے عمران خان پر گولی چلائی، اعتراف جرم کیا، عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،عمران خان کے پرفائرنگ واقعے کا میڈیکل کیوں نہیں کرایا گیا ؟ معظم نامی شخص عمران خان کے گارڈ کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا، عمران خان پر فائرنگ واقعے کی ایف آئی آر پرویز الہیٰ اور اسکے بیٹے پر درج ہونی چاہیے،

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

  • عمران خان کو بی آرٹی اور فرح گوگی کی تلاشی دینی پڑے گی،مطالبہ

    پی پی پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات امجد آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ملازمین کو تخواہیں دینے کے لئے پیسے نہیں۔

    امجد آفریدی کا کہنا تھا کہ صوبے میں مالی بحران کے باوجود صوبائی حکومت لانگ مارچ کو مالی معاونت فراہم کررہی ہے۔کے پی حکومت کا ہیلی کاپٹر مسلسل استعمال ہورہا ہے۔ صوبائی حکومت صوبے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔ اس صوبے کو ایک بار پھر شدت پسندوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا سیاسی مستقبل بلکل تاریک ہے۔ عمران خان کبھی اسلام آباد نہیں پہنچے گا۔عمران خان کو القادر یونیورسٹی، بی آرٹی بلین ٹری سونامی اور فرح گوگی کی تلاشی دینی پڑے گی۔

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ عمران خان دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم بنے عمران خان ملک میں انتشار کی سیاست کررہے ہیں ،کراچی کے لوگوں نے عمران خان کو مسترد کیا،لانگ مارچ کے لیے چندہزار لوگوں کو اکٹھا نہیں کرسکے عمران خان اگر الیکشن چاہتے ہیں تو خیبرپختونخوا اور پنجاب کی اسمبلیاں توڑ دیں۔عمران خان ہر موقعے پر کوشش کرتا ہے کہ ملکی اداروں کو متنازع بنائے

    قبل ایں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ تمہاری خواہش ہے کے خونریزی ہو؟ اقتدار کی حوس میں تم ہر حد پار کرنے لئے تیار ہو۔تم ڈکٹیٹر کی نرسری کے ٹیسٹ ٹیوب بیبی رہے ہو۔اب اسی نرسری پر تنقید کرکے ہیرو بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہو۔ تم وہ ڈاکو ہو جس نے توشاخانا،فارن فنڈنگ منی لانڈرنگ، اور گوگی کے زریعے اربوں روپے کے ڈاکے مارے۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا نیا شیڈول جاری کر دیا

  • تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب سے عمران خان نے روایتی سیاست سے ہٹ کر ملک کو سیاسی بحران میں دھکیلا ہے تب سے ان کا سیاسی مقدر بھی سو گیا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جارحانہ طرز سیاست سے ایک کے بعد ایک بحران ان کی پارٹی کے اندر بھی جنم لے رہا ہے۔ یہ بحران کبھی آئینی ہو تا ہے تو کبھی قانونی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ توہین عدالت ، ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ ریفرینس اور اب بغاوت کے مقدمے عمران خان کی سیاست پر کاری ضرب لگا رہے ہیں ۔ عمران خان جتنے مقبول ہیں اتنے ہی ان کے عوامی نمائندوں کے منہ سوجھے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو پارٹی کے اندر سے بھی ایک بڑے بحران کا خدشہ ہے کیونکہ سیاست کے پنڈت اس وقت تحریک انصاف کی بقاء پر سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں ۔ کچھ افواہیں یہ بھی اڑ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کو قیادت کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔آج ہم بات کریں گے کہ کس طرح تخت پنجاب پر ایک بار پھر کالے بادل منڈلا رہے ہیں ، اس کے علاوہ عمران خان کے گرد موجود خوشامدی ٹولا کیسے تحریک انصاف کی جڑیں کاٹ رہا ہے ۔ایک ہی ملک میں رہنے والے دو شہریوں کےلیے قانون اور انصاف کی تعریف مختلف کیوں ہے Corruption Queen کو کیسے بچایا جا رہا ہے ؟اور تحریک انصاف کی بقا کو کس سے خطرہ لاحق ہے ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان ایک شدید کشمکش کے عالم میں ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے اندر کے لوگ آپس میں دست گریبان ہور ہے ہیں ۔ ۔ ایک مشکل سے نکلتے ہیں تو نئی مشکل ان کا راستہ تک رہی ہوتی ہے ۔ ان دنوں فواد چوہدری جنھیں سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے اور جو اپنی زبان سے ہمیشہ اس معاشرے کے اخلاقیات کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں ، ان کے درمیان اور عمران خان کے وکیل حامد خان کے دوران لفظی گولہ باری جاری ہے ۔یہ جنگ پہلے اتنی زیادہ شدید نہیں تھی لیکن جب سے عمران خان نے حامد خان کو توہین عدالت کیس میں اپنا وکیل رکھا ہے تب سے اس جنگ میں شدت آ گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس آگ کے شعلے تحریک انصاف کے باقی رہنماوں کو بھی گھائل کر رہے ہیں ۔۔کل عمران خان توہین عدالت کیس میں پیش ہوئے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد معزز عدالت نے ان کا موقف غیر تسلی بخش قرار دیا اوراس کے ساتھ ہی ان پر فرد جرم بھی عائد ہو گیا۔اب فواد چوہدری اور عمران خان کے قریب گردش کرنے والے ٹولے کے مطابق حامد خان ٹھیک سے کیس نہیں لڑ رہے ۔ فواد چوہدری نے تو یہ تک کہہ دیا کہ حامد خان کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی وہ تحریک انصاف کو Represent کرتے ہیں ،۔ حامد خان اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق کیس لڑیں ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ فواد چوہدری اور تحریک انصاف کے باقی اراکین میں حامد خان کی وجہ سے کیوں اتنا غصہ ہے؟ وہ وجہ یہ ہے کہ حامد خان شروع دن سے عمران خان کے ساتھ رہے ہیں ۔ حامد خان کا شمار تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ اور فواد چوہدری جس کا کام ہی لوگو ں کو آپس میں لڑوانا اور پھوٹ ڈلوانا ہے ، اب اس مشن پر ہے کہ حامد خان اور عمران خان کے درمیان کچھ ایسا ہو جائے جس سے حامد خان سے ہمیشہ کےلیے جان چھوٹ جائے۔در اصل یہ وہ ٹولہ ہے جو عمران خان کی ہر سیاسی شکست کا ذمہ دارہے ۔ انھی کے مشوروں اور خوشامد سے تحریک انصاف آج بحرانوں کی زد میں ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں اور جان بوجھ کر چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسز میں پھنسا دیں تا کہ پارٹی ان کی جھولی میں آ گرے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب آ جاتے ہیں پنجاب میں بڑھنے والے سیاسی درجہ حرارت کی طرف ۔ میں نے کچھ دن پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ پنجاب میں ایک بڑی ہلچل ہونے والی ہے اور عمران خان سمیت چوہدری ایک بڑی پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔اب اس تبدیلی کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں اور عمران خان نے ایک بار پھر اپنے جلسوں میں رونا پیٹنا شروع کر دیا ہے۔۔ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کا تذکرہ بھی ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے ۔ جیسا کی ان کی عادت ہے جب حالات ان کے قابو میں نہیں ہوتے تو وہ الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔ عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے تو عدالت کے خلاف، الیکشن کمیشن ان کے خلاف فیصلہ دے تو الیکشن کمیشن کے خلاف ہو گئے اور جب کوئی منجن نا بچا تو فوج کو بدنام کرنا شروع کر دیا ۔ لیکن جیسے ضمنی الیکشن میں اداروں کو متنازعہ بنانے کی ساری کوششیں ناکام ہوئی تھیں اس بار بھی ہر کوشش ناکام ہو گی۔پنجاب میں پرویز الہی کی حکومت صرف دس ووٹوں کے بل بوتے ٹکی ہوئی ہے ۔ جیسے ہی ان دس ووٹوں کی بیساکھی کھسکی تو پرویز الہی کے نیچے سے تخت پنجاب بھی سرک جائے گا۔منصوبہ یہ ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب سے کچھ ایم پی ایز تحریک انصاف چھوڑیں گے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے استعفی دے کر مسلم لیگ نواز میں شامل ہو جائیں کیونکہ جنوبی پنجاب کی اکثریت ن لیگ ہی سے تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھی ۔اور اس کے بعد ق لیگ کے کچھ ایم پی ایز بھی ہو سکتا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ ق لیگ کے ایم پی ایز تو پہلے بھی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ اور چند اور ملاقاتوں کی اطلاع بھی میرے تک پہنچ چکی ہے ۔ اس لیے حالات بیان کر رہے ہیں کہ بہت جلد پنجاب میں ایک بڑی تبدیلی آ جائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک بڑی اور ہوش اڑانے والی خبر میری آنکھوں سے گزری او ر میں ابھی تک سکوت کے عالم میں ہوں ۔ یہ خبر تھی فرح گوگی کے حوالے سے ۔ آپ کو مبارک ہو کہ فرح گجر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ اب خارج ہو گیا ہے ۔ اس مقدمے میں فرح گجر پر فیصل آباد میں غیر قانونی طور پر دس ایکڑ زمین الاٹ کروانے کا الزام تھا ۔ آج ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم جن کے پاس ڈی جی اینٹی کرپشن کا اضافی چارج بھی ہے انھوں نے یہ مقدمہ خارج کیا اور ساری تحقیقات کوبھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ فرح گجر کی کرپشن کی داستانیں تو میں نے خود دکھائی تھیں ۔ اس کے سارے ثبوت بھی ٹیلی ویژن پر میں نے دکھائے تھے لیکن اس کے باوجود یہ مقدمہ بند کر دیا گیا ۔اور یہ مقدمہ خارج کیسے ہوا؟ اس کی تو بڑی واضح وجہ ہمارے سامنے ہے ۔ جب دس سیٹوں کے عوض آپ کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت مل جائے تو پھر آپ مالک کی حکم عدولی تو نہیں کر سکتے ۔ یا فرض کرو اگر آپ کریں بھی تو کب تک آپ Resistکر سکتے ہیں ۔اس لیے پہلے عثمان بزدار کے خلاف بنائے گئے سارے کیس بند ہوئے اور اب فرح گجر جو ایک طرح سے Corruption Queen تھی، جس نے اربوں روپے کے گھپلے کیے ۔ اس پر قائم کیے گئے مقدمے بھی خارج ہو رہے ہیں۔تحریک انصاف کی تو تاریخ رہی ہے کہ جو جب تک عمران خان کے سامنے سر جھکاتا ہے تب تک وہ نوازا جاتا ہے اور جیسے ہی کوئی عمران خان کی Favorite Listسے نکلتا ہے تب اس کے برے دن شروع ہو جاتے ہیں ۔

    عارف علوی کا دورہ ڈیرہ غازی خان، سیئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے گھوسٹ کیمپ پر چھاپہ مار کر انتظامیہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ہ میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ ایک طرف پنجاب میں فرح گوگی پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے کیس بند ہو رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی کے خلاف کرپشن کے کیس کھولے جا رہے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے ممبر محمد فہیم نے کچھ دن پہلے پارٹی چھوڑی ۔ اور عمران خان کے یوٹرن سے تنگ آ کر پارٹی چھوڑی ۔ اس کے بعد آج اس گستاخی پر انھیں اینٹی کرپشن کا نوٹس موصول ہو گیا ۔یہ وہ محمد فہیم ہیں جن کا خیبر پختونخواہ کی سیاست میں ایک اہم کردار ہے اور یہ تحریک انصاف میں ایک نیا Forward Block بھی بنا سکتے ہیں ۔ اس لیے اب انھیں Pressurizeکیا جا رہا ہے کہ آپ نے تحریک انصا ف چھوڑنے اور اختلاف کرنے کی جرات کیسے کی ہے ؟اب تو عمران خان جس رخ سفر کر رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اختلاف کرنے والے کو اسلام سے خارج ہونے کا بھی فتوی صادر کر دیں ۔ کیونکہ ان کے بقول تو جو وفاداری بدلتا ہے اورSpecificallyتحریک انصاف سے وفاداری بدلتا ہے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ میں کوئی طنز نہیں کر رہا بلکہ عمران خان واقعی آج کل جلسوں میں ایسے جملے کہہ رہے ہیں اور برملا کہہ رہے ہیں کوئی انھیں روکنے والا نہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل رات ملتان میں تو انھوں نے نعوذباللہ تحریک انصاف میں شرکت کو اسلام قبول کرنے سے Link کر دیا ۔اب ایسے شخص کی عقل پر بندا ماتم نا کرے تو اور کیا کرے ؟ایک طرف غریب مر رہا ہے ، سیلاب متاثرین کے بچے بلک بلک کر خیموں کے اندر دم توڑ رہے ہیں ، بے روزگاری اور پسماندگی عروج پر ہے ۔ جمہوری مسائل ایک طرف ہیں ۔ سیاست میں رواداری ، احترام، اختلاف کے حسن کو دیمک چاٹ رہی ہے اور ہمارے حکمران ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ غداری کے ، شرک کے فتوے بانٹ رہے ہیں ۔۔۔ لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں اللہ ہی پاکستان کا ہامی و ناصر ہو۔

  • دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے بھی گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پرویز الہیٰ نے وزیر اعلی بننے کے بعد پہلے روز ہی سے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین فرح خان کو بچانے کے لئے تبادلے شروع کر دیئے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے آج شپ دو بجے ایوان صدر اسلام آباد میں حلف اٹھایا، حلف اٹھانے کے بعد ہی وزیراعلیٰ کے حکم پر فرح خان کے خلاف مقدمے بنانے والے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کا تبادلہ کر دیا گیا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے

    ایک صارف فرحان آغا کا کہنا ہے کہ عزت مآب محترمہ جناب فرح خان صاحبہ کی باعزت پنجاب کے معاملات میں کرپشن کا چیپٹر کلوز۔محترمہ کی کرپشن کو اب حلال تصور کیا جائے۔بحریہ ٹاون کے طیارے میں اسلام آباد پہنچ کر الہی صاحب نے محترمہ فرح کی مکمل حفاظت کا حلف اٹھا لیا۔انگوٹھی کا تذکرہ بھی نہیں ہوگا۔پنجاب اب محفوظ ہے۔

    https://twitter.com/farhanaagha_/status/1552231059726663680

    ایک صارف نے ڈی جی اینٹی کرپشن کے تبادلے کا نوٹفکیشن شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری پرویز الہی نے بطور وزیر اعلی پنجاب دفتر پہنچنے سے پہلے ہی فرح گوگی کے خلاف تحقیقات کرنے والے DG اینٹی کرپشن پنجاب عبدالجبار کو عہدے سے ہٹا دیا۔ صاف چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی۔

    https://twitter.com/HamzaAliKhattak/status/1552230688212062208

    اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ فرح خان تنگ آگئی ہے۔ سمجھتی ہیں کہ انہیں پنچنگ بیگ بنا دیا گیا ہے حالانکہ تین سال ملک بشری اور انکے خاندان نے چلایا ہے۔ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں لیکن یہاں آنے سے منع کرنے کے لئے بشری کابیٹا ابراہیم دو دن سے دوبئی میں بیٹھا منت ترلہ کرکے انہیں واپس آنے سے منع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ پرویز الہی کو پنجاب کی نئی فرح گوگی بننے پر مبارکباد ، وہی جہاز وہی سیٹ اور وہی خدمات

    https://twitter.com/KhurramMushtaq/status/1552227561929056256

    ایک صارف امان اللہ کا کہنا ہے کہ عمران کہتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے صرف اپنی کرپشن بچانے کیلئے اقتدار سنبھالا ہوا ہے ۔لیکن یہ دیکھئے کہ پنجاب میں ق لیگ اورPTI کی مخلوط حکومت بنتے ہی سب سے پہلے اس DG اینٹی کرپشن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جوکہ عثمان بزدار فرح گوگی اور پنکی پیرنی کی کرپشن کی تحقیقات کررہے تھے۔گوگی بچاؤ تحریک

    واضح رہے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور فرح گوگی کے خلاف تحقیقات شروع کروائی تھیں، تحریک انصاف کی پنجاب میں دوبارہ حکومت بنتے ہی تحقیقات کروانے والے افسر کا تبادلہ کروا دیا گیا ہے

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • گرفتاری کا خوف، بشریٰ خان نے مقدمہ عدالت میں چیلنج کر دیا

    گرفتاری کا خوف، بشریٰ خان نے مقدمہ عدالت میں چیلنج کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین فرح کی والدہ بشریٰ خان نے اینٹی کرپشن کے مقدمے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے

    بشریٰ خان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست اظہر صدیق ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا ہے، یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے درج مقدمہ خارج کیا جائے، درخواست میں ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ اینٹی کرپشن نے بشریٰ خان پر مقدمہ درج کیا تھا جبکہ نیب نے بھی بشریٰ خان کو طلب کیا تھا،شری خان 4 کمپنیوں میں فرح خان کے ساتھ پارٹنر ہیں ،بشریٰ خان فرح کے ساتھ البراق فوڈ، البراق ہاوسنگ سوسائٹی، المعیز فوڈ اور پراپرٹی میں حصے دار ہیں ،بشری خان نے بیٹی فرح خان کے ساتھ ملکر کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ،جن کمپنیوں کے حوالہ سے نیب نے بشریٰ خان کو طلب کیا وہ کمپنیاں پچھلے چار سال میں بنائی گئیں بشریٰ خان کو ضروری دستاویزات ساتھ لانے کا کہا گیا

    اینٹی کرپشن پنجاب نے عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی،اسکا خاوند احسن جمیل گجراوراسکی والدہ بشریٰ خان کو فیصل آباد اکنامک زون میں 10 ایکڑز پر مشتمل 60 کروڑ مالیت کا پلاٹ 8 کروڑ 30 کےعوض جعلی الاٹمنٹ کرنے والے سابق CEO اکنامک زون رانا یوسف اور سیکرٹری مقصود احمد کو گرفتار کررکھا ہے

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل ہی اپوزیشن جماعتوں نے فرح پر الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے دو تین بار فرح کی کرپشن کا ذکر کیا، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو علیم خان بھی کھل کر فرح کے خلاف بولے، فرح دبئی جا چکی ہے

  • فرح خان کیس ،عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا

    فرح خان کیس ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا ہے

    نیب نے سابق وزیراعلی عثمان بزدار کے پی ایس کو طلب کر لیا ،سمیر احمد اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کے پرسنل سیکرٹری ہیں نیب نے سمیر احمد سید کو 25 جولائی کو طلب کیا گیا ہے

    قبل ازیں فرح خان گوگی کو بھی نیب نے طلب کیا تھا جس پر فرح خان نے نیب نوٹسزاور اپنے خلاف کارروائی روکنے کے لیے نیب کو نوٹس بھجوائے ہیں، فرح خان کے کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی طرف سے بھجوائے گئے نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ نیب کو ایک پرا ئیویٹ شخص کے خلاف انکوا ئری کا اختیار نہیں نیب نے کرپشن کا کوئی ثبوت پیش کیا نہ ہی حالیہ ترامیم کے بعد یہ معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہےنیب نوٹسز فوری طور پر واپس نہ لیے گئے تو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا  نیب لاہور فرح خان سمیت دیگر کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ انکوائری کر رہا ہے

    28 اپریل کو قومی احتساب بیورو نے فرحت شہزادی المعروف فرح خان اور دیگر کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زائد غیر قانونی اثاثے جمع کرنے، منی لانڈرنگ اور مختلف کاروبار کے نام پر مختلف اکاؤنٹس رکھنے کے الزامات پر انکوائری کا حکم دیا تھا نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فرح خان کے خلاف انکوائری کے لیے ڈی جی نیب لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی قانون کے مطابق انکوائری کریں۔نیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران فرح خان کے اکاؤنٹ میں 84 کروڑ 70 لاکھ روپے پائے گئے جو ان کے بیان کردہ اکاؤنٹ پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتے یہ تمام رقم ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں موصول ہوئی تھی جو اکاؤنٹ میں جمع کرائے جانے کے کچھ ہی مدت بعد فوری طور پر اکاؤنٹ سے واپس نکلوالی گئی۔نیب کا کہنا تھا کہ فرحت شہزادی المعروف فرح خان کے انکم ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لیتے ہوئے مبینہ طور پر یہ دیکھا گیا کہ ان کے اثاثوں میں سال 2018 کے بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پر بہت نمایاں اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے فرح خان اکثر غیرملکی دورے بھی کرتی رہی ہیں، انہوں نے 9 مرتبہ متحدہ عرب امارات اور 6 مرتبہ امریکا کا دورہ کیا۔

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    قبل ازیں اینٹی کرپشن فیصل آباد نے فرح گوگی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا،محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے عمران خان کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح کے خلاف ڈیری اینڈف وڈ کمپنی کے لیے سرکاری زمین کو مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر لیز پر لینے کا مقدمہ درج کیا ہے مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں فرح گوگی اور ان کی والدہ بشریٰ خان نے 26 نومبر 2020 کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں اپنی کمپنی المعیز ڈیری اینڈ فوڈز پرائیوٹ لمیٹڈ’کے نام سے کمپنی رجسٹر کرائی اس کے بعد 30 نومبر 2020 کو المعیز ڈیری اینڈ فوڈز پرائیوٹ لمیٹڈ کی ڈائریکٹر فرح گوگی نے فیصل آباد انڈسٹریل زون میں ساڑھے 10 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے لئے تحریری درخواست دی ، 15 مارچ 2021 کو فرح گوگی نے بتائے گئے طریقے کے تحت آن لائن درخواست جمع کرائی تاہم ضروری دستاویزات جمع نہ کرانے کی وجہ سے اسے مسترد کردیا گیا فرح گوگی کیخلاف درج مقدمے کے متن کے مطابق 5 اکتوبر2021 کو انہوں نے تیسری مرتبہ زمین کے لئے درخواست دی 29 اکتوبر کو زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دی گئی جبکہ 6 دسمبر کو الاٹمنٹ لیٹر بھی جاری کردیا گیا فرح گوگی نے سرکاری افسران کےساتھ مل کرکم قیمت پر زمین لیز پر لی حاصل کی گئی زمین کی قیمت مارکیٹ ویلیو کے مطابق 60 کروڑ روپے بنتی تھی لیکن یہ زمین صرف آٹھ کروڑ روپے میں لیز پر حاصل کی گئی

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل ہی اپوزیشن جماعتوں نے فرح پر الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے دو تین بار فرح کی کرپشن کا ذکر کیا، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو علیم خان بھی کھل کر فرح کے خلاف بولے، فرح دبئی جا چکی ہے

  • عطاءاللہ تارڑ نے  فرح  خان گوگی کے لیگل نوٹس کا جواب دے دیا

    عطاءاللہ تارڑ نے فرح خان گوگی کے لیگل نوٹس کا جواب دے دیا

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے فرح خان گوگی کی طرف سے بھیجے گئے 6 ارب کے ہتک عزت کے لیگل نوٹس کا جواب دے دیا ، فرح خان نے الزام لگایا تھا کہ عطا اللہ تارڑ نے مختلف میڈیا ٹاکس اور پریس کانفرنسز میں مجھے فرح گوگی کے نام سے پکارا اور جان بوجھ کر میرے اوپر بے بنیاد الزامات لگائے جس سے میری ہتک عزت ہوی اور میری ساکھ کو نقصان پہنچا.

    عطاء اللہ تارڑ کے وکیل نے کہا کہ فری خان پہلے بھی ہر جگہ فرح گوگی کے نام سے مشہور ہے ۔ فرح خان کا نام بطور فرح گوگی گوگل سرچ انجن میں موجود ہے ۔ فرح خان کی طرف سے میرے موکل عطا ءاللہ تارڑ پر جو لگائے گئے ہیں وہ الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں ۔ وکیل عطاء اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ فرح خان نے قومی خزانے سے اربوں روپے لوٹے ہیں.

    اسلام آباد سمیت ملک بھر کی عدالتوں میں بیس لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء

    انہوں نے مزید کہا کہ فرح خان نے احسن جمیل گجر اور بشری بی بی کے ساتھ مل کر عمران خان کی سرپرستی میں کرپشن کے ریکارڈ توڑے، فرح خان کے خلاف وفاقی اور صوبائی اینٹی کرپشن ایجنسیز کی طرف سے تحقیقات جاری ہیں۔فرح خان کرپشن تحقیقات اور سزا سے بچنے کے لئے ملک سے فرار ہو چکی ہے ۔

     

    توشہ خانے سے چوری تم کرو اور چور ہم،وزیراعلیٰ سندھ برس پڑے

     

    عطاء اللہ تارڑ کے وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق ریڈوارنٹ کے ذریعے فرح خان کوواپس لانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرح خان کو وطن واپس آ کر تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا، فرح خان کی وطن واپسی پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

    نیب نے بشریٰ بی بی کی دست راست فرح خان کو طلب کر لیا،اینٹی کرپشن میں مقدمہ بھی درج

  • عمران خان نے 258 کنال اہلیہ جبکہ 240 فرح کے نام الاٹ کرائی۔ رانا  ثناءاللہ

    عمران خان نے 258 کنال اہلیہ جبکہ 240 فرح کے نام الاٹ کرائی۔ رانا ثناءاللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان بنی گالہ میں بیٹھے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ میں یہ بتا دوں گا میں ان سے پوچھتا ہوں انہوں نے دھرنا کیوں دیا تھا ؟

    ان کا کہنا تھا کہ: عمران خان کو ڈی چوک پر بیٹھنے نہیں دیا گیا تو کیا یہ ہراساں کرنا ہوگیا۔

    رانا ثناء نے واضح کیا کہ: عمران خان کی ان دھمکیوں سے کوئی بھی خوف زدہ نہیں ہوگا اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا.

    وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ: عدلیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے کیس پر سوموٹو لے اور اگر میرے خلاف منشیات کا کیس ثابت ہوجائے تو میں ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہوں۔

    رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ: عمران خان مجھے بتائیں کہ وہ پندرہ کلو ہیروئن کس کی تھی؟ اور عمران یہ بھی بتائیں کہ اراضی اسکینڈل میں 5 ارب روپے کا غبن کیسے کیا گیا؟
    انہوں نے دعوی کیا کہ: اراضی اسکینڈل میں اقرار نامہ، رجسٹری سمیت سب کچھ موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب سے اکٹھی ہونے والی رقم وزیراعلیٰ ہاؤس جاتی تھی یا بنی گالہ۔

    رانا نے کہا: ابھی تو صرف سوالات پوچھے جا رہے ہیں اور تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    ان کے مطابق: توشہ خانہ میں جو انہوں نے گھڑیاں لیں اور بیچی ہیں اسکے ثبوت موجود ہیں اوروہ دوکان بھی موجود ہے جہاں یہ گھڑیاں بیچی گئی تھیں،

  • فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟

    فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟

    فرح گوگی اور احسن جمیل گجر کی کرپشن کہانی، بشریٰ بی بی اور فرح نے مافیا کیسے چلایا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو کو دیکھ کر آپ کے چودہ طبق روشن ہونے والے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو آپ کو نہ صرف احسن جمیل گجر بلکہ فرح گوگی کے ماضی اور حال کے کارناموں کا پول کھولے گی۔ بلکہ اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ فرح گوگی بشرہ بی بی کو کیسے ملی۔ کس کس کی جیب کاٹی اور ہیروں اور انگوٹیوں سے پیمنٹ کا نیٹ ورک کیسے چلتا تھا۔ بلکہ اگر میں آپ یہ یہ بتانے لگ گیا کہ کیا کیا بتاوں گا تو اس پر ایک الگ سے ویڈیو بن جائے گی، اس لیے بلا تاخیر ویڈیو شروع کرتے ہیں۔

    خاندانی پس منظر
    احسن جمیل گجر کے آباؤ اجداد 1947 میں گورداسپور، ہندوستان سے ہجرت کر آئے تھے۔ ان کے دادا چوہدری سلطان گجر پھر گوجرانوالہ اور ساہیوال میں 50 سے 100 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔ چوہدری محمد اقبال، احسن جمیل گجر کے والد مسلم لیگ ن کے ایم پی اے اورگجرانوالہ کے ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔اور 1985-2018 کے درمیان آٹھ دفعہ ایم پی اے/صوبائی وزیر رہے۔ احسن جمیل گجر نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1996 میں کیا اور پی ایم ایل این حکومت کے دوران 1998 میں چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ بنے اور 13 ماہ تک چیئرمین رہے۔ ضلع کونسل گوجرانوالہ کے چیئرمین ہونے سے پہلےاحسن جمیل گجر کاکا مالی پس منظر معمولی تھا۔ وہ اپنی آبائی زمین کے 30 ایکڑ کے مالک تھے اور ایک ناکام کاروبار کے بعد دیوالیہ ہو گئے۔ چیئرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ کے طور پر ان کا 13 ماہ کا دور انہیں کروڑ پتی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے پرویز حیدری (اس وقت کی مقامی حکومت گوجرانوالہ) کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں کمیشن کے طور پر لاکھوں روپے بٹورے۔ مدثر قیوم ناہرا، سابق پی ایم ایل این ایم این اے نے بھی ضلع گوجرانوالہ میں ٹول وصولی (محسول چونگی) کا ٹھیکہ حاصل کرنے پر انہیں لاکھوں کا انعام دیا۔

    احسن جمیل گجر2005 میں ایک میگنیٹ کے طور پر ابھرا۔احسن جمیل گجرنے سردار رفیق (سابق ایم پی اے حافظ آباد) کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں اپنی خاندانی زمین پر G. Magnola Park Housing Scheme Gujranwalaکا آغاز کیا ، سردار رفیق اس سوسائٹی میں لینڈ فراہم کرنے والا Main contributer تھا ۔ G-Magnolia کی منظوری کے بعد،AJG نے تمام قانونی اور غیر قانونی طریقے استعمال کیے اور فائلوں اور Allocations میں بدعنوانی اور غلط استعمال کے ذریعے عوام سے5,6 ارب روپے کمائے 2006-2007 میں، وہ متحدہ عرب امارات گئے اور مبینہ طور پر سیٹھ عابد کے ساتھ مل کر 30 فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا۔ یہ منصوبہ اس وقت زوروں پر تھا جب اسے عالمی معاشی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا اور اسے زبردست مالیاتی دھچکا لگا۔ احسن جمیل گجر نقصانات برداشت نہیں کر سکا اور پاکستان واپس چلا آیا۔اس دور میں آپہ کو یاد ہو گا کہ لوگ اپنی گاڑیاں پارکنگ میں کھڑی کر کے دبئی سے بھاگ گئے تھے۔ اسی عرصے کے دوران 2007۔ 2008 اس نے سیٹھ عابد کے ساتھ مل کر گلبرگ لاہور میں ایک مارکیٹ بنائی۔ اطلاعات کے مطابق احسن جمیل گجر نے ایڈن گارڈن ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے مالک ارشد (مرحوم) کے ساتھ دو کروڑکی سرمایہ کاری بھی کی۔ اسی عرصے کے دوران انہیں صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اس وجہ سے وہ اپنے سوتیلے بھائی کے تعاون سے علاج کروانے کے لیے تقریباً دو سال تک امریکہ میں رہے۔یہ تو ہو گیا احسن جمیل گجر اور اب بات کرتے ہیں احسن جمیل گجر کی بیوی فرح شہزادی کی۔۔۔ ان کی کہانی سن کے آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

    فرح خان ۔۔
    محمد حسین خان اور بشیراں خان کی بیٹی ہیں۔ خاندان کا تعلق درحقیقتChurrKhana Sheikhupura
    سے تھا اور بعد میں لاہور میں آباد ہو گئے۔فرح کی ایک بہن ہے یعنی مسرت خان عرف بلو اور ایک بھائی شفیق خان ۔اس کے والد کی موت کے بعد، خاندان مالی بحران کا شکار تھا لہذا دونوں بہنیں رقاص،پارٹی گرل بن گئیں۔احسن جمیل گجر سے رشتہ2001 میں۔ فرح شہزادی لاہور میں عامر سہیل (سابق کرکٹر) کی mistress کے طور پر رہ رہی تھی جب اس کی ملاقات فریڈیز کے نام کے ایک ریستوراں میں احسن جمیل گجر سے ہوئی۔ احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی نے ناجائز تعلقات استوار کئے۔ احسن جمیل گجر نے اسے ٹی بلاک ڈی ایچ اے (پہلے فلور) میں اپنے بنگلے میں رہائش دی۔ اس دوران وہ ایف ایس (مسرت) کی بہن سمیت ایک گروپ میں کئی بار مری بھوربن اور پی سی کراچی گئے اور ان کے ناجائز تعلقات سے لطف اندوز ہوئے۔2003 میں احسن جمیل گجر ریئل اسٹیٹ میں تھا اور اس نے Silicon valley کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ کرپشن کے ذریعے اربوں کمائے۔ اس واقعے کے بعد احسن جمیل گجر مالی طور پر مضبوط ہو گیا اور اس نے مختلف رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری شروع کر دی یعنی اپنی سوسائٹی G magnolia پارک ہاؤسنگ سکیم، نزد چاند دا قلعہ چوک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ۔یہ وہ دور تھا جب احسن جمیل گجر واقعی فرح شہزادی سے attachہو گیا اور دونوں نے2003/2004 میں جوہر آباد سے Spiritual guide کی تجویز پر شادی کر لی۔

    خاتون اول سے دوستی ۔احسن جمیل گجر روحانیت کی راہ پر گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکپتن کے مانیکا خاندان کےساتھ بھی تعلقات استوار کر لیے۔ 2009-2010 کے دوران احسن جمیل گجر کو صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوئے اور انہیں علاج کے لیے اکثر امریکہ جانا پڑتا تھا۔ مانیکا کے خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے احسن جمیل گجر نے مانیکا خاندان کو فرح کاخیال رکھنے کو کہا۔ فرح شہزادی نے ان کی غیر موجودگی میں اس وقت بشریٰ مانیکائی (اب خاتون اول) سے دوستی کر لی، انہی رشتوں کی بنیاد پر دونوں نے وزیراعظم عمران خان کی بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کی رہائش گاہHouse # 99 , Street # 18, Y block, DHA phase 3میں شادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔جنرل الیکشن 2018 سے پہلے اور اس کردار کی وجہ سے وہ عمران خان کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی وہی تھے جنہوں نے عمران خانکو عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کرنے پر راضی کیا کیونکہ عثمان بزدار کی اہلیہ پہلے ہی فرح شہزادی کے قریب تھیں۔ اور بشریٰ بی بی کے مشہور خواتین گروپ کی رکن تھیں۔

    پنجاب میں بیوروکریٹس کے لیے لابنگ۔۔
    فرح شہزادی اور احسن گجر بشرہ بی بی کے لنکس کا ستعمال کرتے ہوئے خود کو ایک ایسی پوزیشن میں لے گئے جہاں وہ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کر سکتے تھے۔ انہوں نے بیوروکریسی میں اپنا اثر و رسوخ کا دائرہ بنا لیا۔ فرح شہزادی اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو پنجاب میں منافع بخش تقرریوں پر تعینات کرنے میں کامیاب رہی۔

    مویشی منڈی کے ذریعے بدعنوانی۔۔۔
    دوہزار بیس اور اکیس میں طاہر خورشید کےخلاف نیب انکوائری کے بعد ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اور فرح شہزادی کا گروپسرخیوں میں آیا اور سی ایم آفس میں ان کا اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا ،کیونکہ قریبی خاندانی دوست منافع بخش تقرریوں سے ٹرانسفر ہو گئے۔اس مرحلے یعنی 2020 سے 2021 کے دوران، فرح شہزادی اور اس کے ساتھیوں نے پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی (PCMMDC) بنائی۔ اس سے قبل پنجاب میں نو مویشی منڈیاں کام کرتی تھیں لیکن فی الحال انہوں نے جون 2021 میں نئی کمیٹی بنائی اور قریبی دوستوں کو مقرر کیا۔PCMMDC کے قیام کے بعد، انہوں نے مویشی منڈیوں کے لیے ٹینڈرز کی تشہیر کی۔ تمام بڑے ٹھیکیداروں کی ون ٹو ون ملاقات کا اہتمام فرح شہزادی کے ساتھ ایسوسی ایٹس کے ذریعے کیا گیا تھا۔مویشی منڈیوں کا ٹھیکہ ملنے کے بعد ہر ٹھیکیدار کو بڑی منڈی کے لیے ایک سے دو کروڑ اور چھوٹی منڈی کے لیے بیس سے تیس لاکھ معاہدے کے تحت رشوت کے طور پر ادا کرنا پڑتے تھے۔
    کنسٹرکشن کمپنیوں کے ذریعے کرپشن
    فرح شہزادی حسنین بلڈرز کے ساتھ بھی قریبی روابط میں تھی جو شیخ ایوب کی ملکیت ہیں۔ کمپنی فرح شہزادی کے اثر و رسوخ کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرکاری منصوبے،تعمیراتی کام حاصل کرتی ہے اور رشوت کی رقم کے طور پر اپنے حصص ادا کرتی ہے۔فرح شہزادی خود ایک تعمیراتی کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں جسے غوثیہ بلڈرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔فرح شہزادی اور جمیل گجرکا ایک اور فرنٹ مین، پاکستانی نزاد امریکی شہری عطا چوہدری نے بیوروکریٹک چینلز کے ذریعے ڈی ایچ اے اسلام آباد میں تعمیراتی منصوبے حاصل کیے ۔

    بحیرہ ٹاؤن کے ساتھ کام کرنا
    کالا شاہ کاکو کے قریب بحریہ ٹاؤن کے لیے زمین حاصل کی جا رہی ہے۔
    فرح شہزادی ملک ریاض کے فرنٹ مین اعظم بھٹی کو اراضی کے حصول میں سہولت فراہم کر تی تھی اور اپنا حصہ وصول کرتی تھی۔ جن دو ہزار گیارہ میں فرح شہزادی گروپ کے کرتوت منظر عام پر آنے لگے تو کرپشن کا طریقہ واردات بدل دیا گیا۔
    نقد رقم کے بجائے، گروپ نے مہنگےتحفے جیسے ہیرے، پینٹنگز اور رسیدوں کے ساتھ گھڑیاں حاصل کیں جو یو اے ای میں 5 فیصد کٹوتی کے بعد یو ایس ڈالرز میں تبدیل کی جاتی ہیں۔ بیرون ملک میں نقد رقم کو سنبھالنا آسان ہے کیونکہ بینک اس میں شامل نہیں ہیں۔ مبینہ طور پر شیخ نیئر (لنک انٹرنیشنل ایکسچینج) اور خواجہ عارف(ڈی ایچ اے) نے گروپ کو حوالہ، ہنڈی اور دیگر ذرائع سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کی ۔اگر کسی کو شک ہے تو شیخ نیئر کے اُس بیٹے سے تفتیش منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک کو مزید بے نقاب کر سکتی ہے۔ رانا ثنا ء اللہ صاحب سن لیں۔ ہم نے اپنا کام کر دیا، اب اسے آگے لے جانا آپ کا کام ہے۔

    مختلف کمپنیوں میں حصص۔
    فرح شہزادی سات
    مختلف کمپنیوں میں شیئر ہولڈر،ڈائریکٹر ہے۔ 2017 سے پہلے وہ چار کمپنیوں سے وابستہ تھیں اور 2021 تک وہ بطور شیئر ہولڈر ڈائریکٹر کل سات کمپنیوں کا حصہ ہیں۔ اگر بینک اکاؤنٹس اور لین دین کی بات کی جائے تولبرٹی مارکیٹ، لاہور میں فرح شہزادی کا بینک الحبیب میں امریکی کرنسی ڈالر اکاونٹ ہے جہاں لگ بھگ 75 مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی گئی۔فرح شہزادی اور احسن جمیل گجر کے جو منصوبے اس وقت جاری ہیں ان میں۔۔Palm Jumeirahدوبئی میں لگژری فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق آدھے سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے۔
    چکری روڈ اسلام آباد کے قریب تین ہزار کنال زرعی زمین خریدی گئی ہے ۔ جسے RDAسے کمرشل کروانے کا منصوبہ ہے جس سے چار سے پانچ ارب روپے اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔ فیروز پور روڈ پر سوسائٹی بنانے کے لیے زرعی اراضی حاصل کی گئی ہے جسے ایگری سے Brown land میں بدلنے سے 100ارب روپے کمانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے بھاری منافع کمانے کے لیے اسی مقصد کے لیے Kana Kaachaلاہور کے قریب زرعی زمین بھی خریدی ہے۔گزشتہ تین سالوں میں احسن جمیل گجر نے چار سے پانچ ارب روپے کی تین سو ایکڑ جگہ اپنی پرانی سوسائٹی G Mangoliaکے لیے خریدی ہے جبکہ دو سے تین ارب روپے کے اپنے قرض کی بھی ادائیگی کی ہے۔جبکہ غوثیہ بلڈر کے دائرہ کار کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ اس کے پراجیکٹ اب لاہور اور دبئی میں چل رہے ہیں۔فرح اور احسن جمیل گجر نے Graana.com آن لائن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی ہے جسے مبینہ طور پر زلفی بخاری کی سرپرستی حاصل ہے۔ اطلاعات کے مطابق Graana.com
    زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کا مشترکہ منصوبہ ہے جسے وہ اپنے مختلف فرنٹ مین کے ذریعے چلاتے ہیں۔ پاکستان میں Graana.com کے جاری میگا پراجیکٹس میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
    Golf Floras Garden city Islamabad
    Imarat Residences ExpressWay Islamabad
    Amazon Outlet GT road isb
    Imarat Mall GT road Islamabad
    Mall of Arabia Expressway isb
    Florence Galleria DHA 2 Islanmabad
    Taj residencies i-14 isb
    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرزلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں مارگلہ ہالز کے نام سے تین تجارتی منصوبے بھی شروع کر رہے ہیں۔فرح شہزادی نے لاہور میں جیا بگا گاوں میں دو سو ایکڑ زمین ایل ڈی اے سٹی کے اردگرد خریدی ہے۔ان کا منصوبہ ہے کہ یا تو اس زمین کو ایل ڈی اے سٹی کے ساتھ ملایا جائے یا اسے ایک آزاد ہاؤسنگ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے۔اطلاعات کے مطابق احسن جمیل گجر نے اپنی پہلی بیوی سے بیٹے کے لیے امریکہ میں پراپرٹی کے کاروبار میں ایک بڑی رقم انویسٹ کی ہے، اطلاعات کے مطابق زلفی بخاری، بشریٰ بی بی، غلام سرور خان، احسن جمیل گجر اور فرح شہزادی نے مل کر مبینہ طور پر مجوزہ رنگ روڈ پروجیکٹ راولپنڈی سے متعلق نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں میں اہم سرمایہ کاری کی ہے۔
    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجر نے طاہر خورشید کے ساتھ مل کر لاہور کی تین ہاوسنگ سوسائٹیوں میں فرنٹ مین اونگزیب جتولا کے زریعہ انویسٹمنٹ کی۔۔مشہور بلڈر مسعود شاہ جو BRT peshawerاور فردوس مارکیٹ انڈر پاس کا کنٹریکٹر ہے اورM 8 پراجیکٹس میں بلیک لسٹ ہو گیا تھا اسے مبینہ طور پر زلفی بخاری کے کہنے پر دیگر CPEC منصوبوں سے نوازا گیا۔نعیم الحق مرحوم احسن جمیل گجر اور زلفی بخاری کے ان منصوبوں سے واقف تھے۔ کرپشن میں جمع کی گئی تخمینی رقم۔بنیادی بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور تاجروں کی بدعنوان ٹیم کی مدد سے،فرح شہزادی ،احسن جمیل گجر اور فرنٹ مینوں نے منظم بدعنوانی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ان کے ڈکلیئر اثاثوں کی کل مالیت تقریبا ستر کروڑ روپے ہے جبکہ غیر اعلانیہ اثاثوں کی کل مالیت 8 سے10 ارب ہے۔

    فرح شہزادی کے اثاثوں کی تفصیلات
    فرح شہزادی نے سینٹ الیکشن میں کاغزات نامزدگی کے دوران اپنے اثاثوں کی مالیت ستر کروڑ روپے درج کی تھی جبکہ اس کی جائیداد کی نا ختم ہونے والی ایک لمبی لسٹ ہے جو غیر اعلانیہ جائیداد ، کاروبار اور اثاثوں کے زمرے میں آتی ہے۔
    House no 99 Y DHA Lahore 10 crore
    House no 422AA DHA Lahore worth 7 crore
    Plot 163 DHA C, Lahore worth 6 crore
    Shop No 19, Gulberg Sunflower Bahria Town Lahore worth 2crore
    Shop no 620A DHA Phase 5, Lahore worth 26.5 Million
    House No. B369 DHA Phase 6, Lahore 127.5 M
    Plot F0009 DHA Phase 5, Lahore 297M
    Plot Bahriya Town Islamabad 25M
    GBPC Investment. gift from husband 60M
    Flat 2AG Bahriya Town Lahore 45M
    GBPC Investment 29M
    Combined Investment (Enterprises) 30M
    Combined Financing (Investment) 1M
    Combined Saroon Investment 1M
    Davan Developers Pvt Ltd 0.04M
    Dr Waqar Khan (Investment) 5.5M
    Bahria Town Karachi Investment) 20M
    Ghazanfar Trust (Investment 1M
    Bank Al-Habib Liberty Branch 0.4M
    Bank AI-Habib BP Branch 0.5M
    silk Bank DHA Branch 4.4M
    Samba Bank, Gulberg Lahore 0.04M
    Toyota Hilux Revo 6.6M
    2 Porsche 36M
    Toyota Hilux Vigo 7M
    1 Toyota Corolla 3.9M
    1 Cyenne SE Hybrid 66M
    1 Suzuki Alto 1.5M
    1 Suzuki Mehran 0.8M
    7 Toyota Corolla Husband 28M

  • فرح گوگی کو ریڈ وارنٹ کے ذریعے لائیں گے،صوبائی وزراء

    فرح گوگی کو ریڈ وارنٹ کے ذریعے لائیں گے،صوبائی وزراء

    صوبائی وزرا اور لیگی رہنما ملک احمد خان اور عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان نئے جھوٹ گھڑنے کے ماہر ہیں، حکومت ختم ہونے لگی تو بیرونی سازش کا بیانیہ دیا گیا، پاکستان کو خطرہ بیرونی نہیں عمران خان کی اندرونی سازش سے ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیگی رہنماوں ملک احمد خان اور عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال عوامی خدمت کے نام پر لوٹ مار ہوتی رہی، تحریک انصاف ضمنی الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے، جو عمران خان کے خلاف بولے وہ غدار، کرپشن چھپانے کیلئے الزامات لگانا ان کا ویترہ ہے۔

    مخالفین کے خلاف غداری کا بیانیہ بنایا جائے، بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو لیک

    ملک احمد خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی حکومت جانے کےبعداداروں کیخلاف ہرزہ سرائی شروع کردی، وہ اپنے سوا تمام سیاسی جماعتوں کو ناسمجھ کہتے اور خود کو حق اور سچ کا علمبردار سمجھتے ہیں، اپنی خفت مٹانے کیلئےنت نئے جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں، حکومت ختم ہونے لگی تو بیرونی سازش کا بیانیہ بنا دیا۔ سازش سے متعلق ایک خط کا چرچا کیا گیا، اگرسازش کاپتہ چل گیا تھا تو اس ملک کےسفیر کو کیوں نہیں بلایا، اس ملک کو جوابی مراسلہ کیوں نہیں لکھا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بیرونی سازش کانام لے کراندرونی سازش کی، بیرون ملک سے ملےتحائف بیچ دیئے، عمران خان کو”توشہ خان” سے بہتر نام نہیں دیا جا سکتا، یہ عوامی خدمت کے نام پر عوام کو لوٹتے رہے۔ عمران خان کے آئینی حدود میں رہ کرسیاست کرنے پر اعتراض نہیں، انہوں نے کرپشن کی بنیاد پر جھوٹ کی سیاست کی۔

    ملک احمد خان نے کہا کہ ، کہا جاتا تھا عمران خان کی بیوی ایک گھریلو خاتون ہیں، اگر یہ گھریلو خاتون نہ ہوتی تو شاید ایٹم بم چلاتی،اس آڈیو میں کہا گیا کہ جو بھی پارٹی چھوڑے علیم خان صاحب کو غداری سے جوڑ دیا جائے،مولانا فضل الرحمان یا جو بھی لوگ آج حکومت میں ہیں،اگر آپ کے خلاف سازش ہوئی تھی تو اس ملک کے ایمبیسیڈر کو کیوں نہیں بلایا، امریکی ایمبیسیڈر ڈونلڈ لو ہمارے سفیر سے بات کررہے ہیں، مطلب میں روس سے بات کررہا ہوں گا تو دوسرے ممالک بات کرتے ہیں، سازش کے لغوی معنی تو سمجھ لو

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آپ نے بیرونی سازش کا نام لے کر اندرونی سازش کی،آپ نے عسکری اداروں سے مدد مانگی ،کسی کو سراج الدولہ کسی کو میر جعفر کہا تو آپ کا اپنا کردار کیا ہے، ان کا توشہ خان سے بہتر نام کوئی نہیں دیا جاسکتا،ان کی بیوی تحفے ساتھ لے گئی، فارن فنڈنگ کے معاملات سب کے سامنے ہے،شوکت خانم کے معاملات کو سیاست میں تبدیل کیا گیا،اگر یہ حکومت میں ہوں تو جنرل باجوہ بہترین ڈیموکریٹ ہیں ، بہترین جنرل ہیں، ہر ہفتے جنرل باجوہ کی تعریف کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے،عمران خان نے کرپشن کے بیانیے کی بنیاد پر ن لیگی قیادت کے کیسز میں ایک مناسب گواہ موجود نہیں تھا،پہلے کہتے رہے کہ دس ارب روزانہ ملک سےباہر چلے جاتے ہیں، یاسمین راشد نے کہا کہ ریاستی ادارے ضمنی الیکشن میں اثر انداز ہورہے ہیں کوئی ایک کال دکھا دیں، پہلا ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں تھا یہ سپریم کورٹ میں چلے گئے،گھرانہ ڈاٹ کام کس کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، ارسلان خالد ڈیجیٹل میڈیا سے کروڑوں روپے لوگوں کو دیتے رہے، ریاست پاکستان کا پیسہ آپ کے باپ کا پیسہ نہیں تھا،

    ملک احمد خان نے کہا کہ آپ نے پاکستان کے اداروں کے خلاف سازش کی، آپ پاکستان کے ساتھ برا کیا، آپ نے پاکستان کی سفارت کو گندا کیا،آپ کہتے ہیں کہ دوسرا ملک سازش کررہا ہے تو آپ کا صدر عارف علوی اس سے مل رہا ہے،فرح گوگی کس کو نہیں پتہ تھانے بکے ہیں، کس کو نہیں پتہ اربوں روپے سی اینڈ ڈبلیو سے بزدار کی جیب میں گئے اور وہاں سے فرح گوگی اور پنکی پیرنی کی جیب میں گئے، ضمنی الیکشن میں بیس میں سے اٹھارہ انیس سیٹوں کو انشاء اللہ ہم جیتے گے.

    عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ ہمارے سے سوال یہ ہوتا تھا کہ کاروائی نہیں کرتے، یکم جولائی کو اینٹی کرپشن پنجاب نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے، دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،فرح گوگی صاحبہ نے دس ایکڑ کا انڈسٹریل پلاٹ جس کی قیمت ساٹھ کروڑ کا ہے آٹھ کروڑ میں الاٹ کروایا ہے،فرح گوگی کی والدہ کا نام بھی بشری خان ہے، احسن جمیل نے جعلی بینک گارنٹی دے کر یہ پلاٹ الاٹ کروایا ہے، رانا یوسف اور مقصود احمد کو گرفتار کیا ہے، یہ کلیئر کیس ہے عمران خان ایک عام آدمی نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے پیکٹ میں پیسے جانے کام عمران خان نے شروع کیا ،پنجاب کے اندر تھوک کے حساب سے ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو اپروو کیا گیا،یہ ڈائمنڈ چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں باہر جاتا تھا،وزیر اعظم واحد چیز توشہ خان کو ہاتھ ڈال سکتا ہے عمران خان نے ڈالا، کیا آپ کو باجوہ صاحب نے کہا تھا کرپشن کریں؟، آپ کی کرپشن سامنے آتی ہیں تو کہتے ہیں فوج اور جنرل باجوہ ٹھیک نہیں ہے.

    عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان بے نامی دار ہیں، بشری بی بی ، احسن جمیل اور فرح گوگی کے سربراہ عمران خان ہیں، جو خان صاحب کے خلاف بولے وہ غدار ہے،نیوٹرل کا کوئی قصور نہیں ہے آپ پچاس کروڑ سے کم کا ڈاکا نہیں ڈالتے، پھر کہتے ہیں فوج اور نیوٹرل بڑے خراب ہیں، ہم فرح گوگی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے جارہے ہی، اگر عمران خان سچا ہے تو قسم کہا کر کہے اسے بشری بی بی ، فرح گوگی اور احسن جمیل کا پتہ نہیں تھا، شام کو ان کے لوٹے ہوئے پیسوں پر میٹنگز ہوتی تھی، جس دن بھی فرح گوگی اور احسن جمیل واپس آئے ایک گھنٹے میں وعدہ معاف گواہ بنے گے،ان کے وزیر کان میں کہتے ہیں خان صاحب اسلامی ٹچ دینا.

    انہوں نے مذید کہا کہ بشری بی بی اسلامی سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے، پنجاب کے گھپلے ایک ایک کرکے سامنے آئیں گے، خان صاحب کا انجام مجھے اچھا نظر نہیں آرہا، ملتان سے مظفر گڑھ ، مظفر گڑھ سے پنڈی تک یہ چھوٹی چھوٹی جلسیاں کررہے ہیں،اگر عمران خان کو پکڑنا ہو تو وہ منشیات استعمال کرتے ہیں،دنیا جانتی ہے وہ منشیات استعمال کرتے ہیں، یہ جیل اس لئے نہیں جاتا،کیونکہ اس کو کوکین کون پہنچائے گا،خان صاحب کو گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،ان کی اہلیہ اور اس کا سابق خاوند ارب پتی ہوگئے ہیں،عمران خان جو کررہے ہیں وقت بتائے گا. ہم ریڈ وارنٹ کے ذریعے ان کو واپس لائیں گے، فرح گوگی نے مجھے چھ ارب کا لیگل نوٹس بھجوایا ہے.

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج پر تنقید سیاسی تھی،ہم نے ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات نہیں لگائے ،توشہ خان جو نواز شریف کا کیس بے بنیاد ہے وہ گاڑی سے متعلق ہے ، ہم نے تو ان سوالوں پر جواب دیئے جو نہیں بنتے تھے، عمران خان کو اپنی شکست نظر آرہی ہے تو وہ اداروں پر الزام لگارہے ہیں.