Baaghi TV

Tag: فرعون

  • مصر کے میوزیم سے تین ہزار سال پرانا فرعون کے زمانے کا سونے کا کڑا غائب

    مصر کے میوزیم سے تین ہزار سال پرانا فرعون کے زمانے کا سونے کا کڑا غائب

    قاہرہ : مصر میوزیم سے تقریباً 3 ہزار سال پرانا سونے کا کڑا پراسرار طور پر غائب ہو گیا ہے جو ایک فرعون کی ملکیت تھا۔

    مصر کی وزارتِ آثار قدیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ قاہرہ کے ایجپشن میوزیم کی لیب سے 3 ہزار سال قدیم سونے کا کڑا غائب ہو گیا ہے یہ کڑا فرعون آمنموپ کے دورِ حکمرانی (اکیسویں سلطنت: 1070 تا 945 قبل مسیح) سے تعلق رکھتا ہے، یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یکم نومبر کو گریٹ ایجپشن میوزیم کے افتتاح کی تیاریاں جاری ہیں۔

    فی الحال یہ واضح نہیں کہ کڑا آخری بار کب دیکھا گیا تھا، مقامی میڈیا کے مطابق انوینٹری چیک کے دوران اس کی گمشدگی کا انکشاف ہوا لیکن اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی،واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے ، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر موجود آثارِ قدیمہ یونٹس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے

    واضح رہے کہ قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں واقع ایجپشن میوزیم میں ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد قیمتی نوادرات موجود ہیں، جن میں فرعون آمنموپ کا مشہور سنہری ماسک بھی شامل ہے-

    افغان مہاجرین کے انخلا کے دوران خواتین، بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • 100سال بعد مصر میں فرعون کا مقبرہ دریافت

    100سال بعد مصر میں فرعون کا مقبرہ دریافت

    ماہرین آثار قدیمہ نے مصر میں ایک صدی سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار ایک فرعون کا مدفن دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں، ایک برطانوی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر پیئرز لیتھرلینڈ نے مصر کی وادیِ ملوک میں 100 سال بعد پہلی مرتبہ کسی فرعون کا مقبرہ دریافت کیا ہے یہ مقبرہ مصر کے قدیم بادشاہ تحتمس دوم (1493-1479 قبل مسیح) کا تھا اور اسے گزشتہ ایک صدی کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈاکٹر لیتھرلینڈ اور ان کی ٹیم نے وادیِ ملوک میں ایک زینہ دریافت کیا، جو کہ ایک طویل عرصے سے ملبے اور سیلابی مٹی میں دب چکا تھا، ابتدا میں انہیں شبہ ہوا کہ یہ کسی شاہی بیوی کا مقبرہ ہو سکتا ہے، لیکن جب وہ تدفین کے کمرے میں پہنچے تو ان پر حیرت کے دروازے کھل گئے۔

    رمضان پیکج :وزیراعظم کے وزارت آئی ٹی کو احکامات جاری

    اس تدفینی کمرے کی چھت نیلے رنگ سے مزین تھی، جس پر زرد ستارے نقش تھے مزید تحقیق کے دوران یہ معلوم ہوا کہ مقبرے کی دیواروں پر ”امدوات“ کے مناظر کندہ تھے، جو ایک خاص مذہبی متن ہے اور صرف بادشاہوں کے مقبروں میں پایا جاتا ہے، اسی لمحے ڈاکٹر لیتھرلینڈ کو احساس ہوا کہ وہ ایک تاریخی دریافت کے قریب ہیں یہ لمحہ ان کے لیے انتہائی جذباتی تھا، اور جب وہ باہر آئے تو خوشی اور حیرت کے ملے جلے جذبات میں ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

    سیالکوٹ: علامہ اقبال یوتھ کانفرنس, "وطن سے پیار، منشیات سے انکار” کا کامیاب انعقاد

    جب ماہرین نے مزید کھدائی کی، تو انہیں یہ معلوم ہوا کہ مقبرہ خالی ہے عام طور پر، فرعون کے مقبروں میں ان کی حنوط شدہ لاش، خزانے، اور دیگر شاہی اشیاء رکھی جاتی تھیں، لیکن یہ مقبرہ کسی چوری کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے خالی تھا تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ مقبرہ تعمیر کے چند سال بعد ہی زیرِ آب آ گیا تھا، کیونکہ یہ ایک آبشار کے نیچے بنایا گیا تھا پانی کے باعث مقبرے میں رکھی تمام اشیاء خراب ہونے لگیں، جس کی وجہ سے شاہی اہلکاروں نے فرعون کے باقیات کو ایک خفیہ راستے سے نکال کر کسی اور جگہ منتقل کر دیا۔

    القادرٹرسٹ کیس: سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کیلئے دائر اپیلوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    ابتدائی طور پر یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ یہ مقبرہ کس کا ہے، لیکن جب ماہرین نے ملبے میں سے الباستر کے کچھ ٹکڑے برآمد کیے، تو ان پر تحتمس دوم کا نام درج تھا یہ ایک بڑی دریافت تھی، کیونکہ اس سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ مقبرہ اسی فرعون کا تھا، جو مصر کی اٹھارہویں شاہی سلطنت کا حکمران تھا۔

    تحتمس دوم، مصر کی مشہور خاتون فرعون حتشپسوت کے شوہر اور سوتیلے بھائی بھی تھے وہ تحتمس سوم کے والد تھے، جنہوں نے بعد میں مصر کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا اس دریافت کے بعد ایک اور دلچسپ سوال پیدا ہوا کہ تحتمس دوم کے باقیات کو کہاں منتقل کیا گیا؟ ماہرین آثار قدیمہ کا ماننا ہے کہ مقبرے کے اندر ایک ضمنی راستہ تھا، جس کے ذریعے بادشاہ کی باقیات کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پنجاب کو چیلنجز

    ماہرین کو یقین ہے کہ ایک دوسرا اور غالباً مکمل مقبرہ کہیں موجود ہے، جہاں تحتمس دوم کی لاش محفوظ ہو سکتی ہے اگر یہ مقبرہ دریافت ہو جاتا ہے، تو یہ شاہِ توتنخامون (1922) کے مقبرے کے بعد سب سے بڑی دریافت ثابت ہو سکتی ہے۔

    یہ دریافت صرف ایک مقبرے کی تلاش تک محدود نہیں، بلکہ یہ قدیم مصر کی تاریخ کو ایک نئی سمت میں لے جا سکتی ہے، اس سے ہمیں نہ صرف اٹھارہویں شاہی خاندان کے تدفینی طریقوں کے بارے میں مزید معلومات ملیں گی، بلکہ اس بات کا بھی انکشاف ہو سکتا ہے کہ قدیم مصریوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی تھیں۔

    نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط

    یہ دریافت برطانوی تحقیقی تنظیم ”نیو کنگڈم ریسرچ فاؤنڈیشن“ اور مصر کی وزارتِ سیاحت و آثار قدیمہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، اگر ماہرین دوسرا مقبرہ دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو یہ قدیم مصر کے ایک بڑے معمہ کو حل کرنے کا سبب بنے گا اور شاید ہمیں تحتمس دوم کے اصلی مدفن کی جھلک بھی مل جائے۔

  • فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    قاہرہ : جاپان اور مصر کے ماہرین نے فرعون توتنخ آمون کے مقبرے سے ملنے والے ایک شاہی خنجر کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے شہابِ ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی:’میٹیورائٹس اینڈ پلینٹری سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع مقالے کے مطابق اس خنجر کا دستہ سونے سے بنا ہے جس میں موتی جڑے ہیں جبکہ اس کا پھل لوہے کا ہے جس پر سیاہی مائل داغ دھبے پڑ چکے ہیں-

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    آئرن ایج وہ وقت تھا جب لوگوں نے آئرن پروسیسنگ ٹیکنالوجی حاصل کی تھی اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1200 قبل مسیح کے بعد شروع ہوا تھا لوہے کے شہابیوں سے بنے کچھ پراگیتہاسک لوہے کے نمونے کانسی کے زمانے کے ہیں۔

    قدیم مصر کے بادشاہ توتنخمین (1361-1352 قبل مسیح) کے مقبرے میں ایک اچھی طرح سے محفوظ شدہ میٹیوریٹک لوہے کا خنجر ملا تھا۔ پھر بھی، اس کی تیاری کا طریقہ اور اصلیت غیر واضح ہے یہاں، ہم قاہرہ کے مصری میوزیم میں کیے گئے توتنخمین لوہے کے خنجر کے غیر تباہ کن دو جہتی کیمیائی تجزیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

    توتنخ آمون، جسے اکثر ’توتن خامن‘ بھی کہا جاتا ہے، اٹھارواں اور آخری فرعون تھا جو آج سے 3,300 سال پہلے مصر پر حکمران تھا اس کا عظیم الشان مقبرہ 1925 میں دریافت ہوا تھا جس میں سے ہزاروں قدیم اشیاء برآمد ہوئیں، جن پر آج تک تحقیق جاری ہے توتنخ آمون کا شاہی خنجر بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوچکا تھا کہ یہ خنجر اصل میں شادی کا تحفہ تھا جو توتنخ آمون کے دادا ایمن ہوتپ سوم کو سلطنت ’میتانی‘ کے بادشاہ نے دیا تھا جو نسل در نسل ہوتے ہوئے بالآخر توتنخ آمون تک پہنچا تھا۔

    فروری 2020 میں قاہرہ عجائب گھر اور جاپان کے ’چیبا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے ماہرین نے اس خنجر کے بارے میں مزید باتیں جا ننے کےلیے جدید ایکسرے آلات استعمال کئے اس سے پہلے 2016 میں اس خنجر کے پھل پر لگے دھبوں میں نکل اور کوبالٹ دھاتوں کی معمولی مقداریں دریافت ہوچکی تھیں جدید ایکسرے آلات سے 2020 میں نئے مشاہدات سے ان ہی دھبوں میں سلفر، کلورین، کیلشیم اور زِنک بھی معمولی مقدار میں دریافت ہوئے۔

    فرعون کا زمانہ وہ تھا کہ جب فولاد سازی کو بہت خاص ہنرسمجھا جاتا تھاجبکہ لوہے/ فولاد سے بنے خنجروں اور تلواروں کو شاہی تحائف کا درجہ حاصل تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    نئی تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اس خنجر کو تقریباً 950 ڈگری سینٹی گریڈ پر کسی بھٹی میں ڈھالا گیا تھا، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس میں معمولی مقداروالےمادّے (ٹریس مٹیریلز) ٹھیک اسی ترتیب میں ہیں کہ جیسی’فولادی شہاب ثاقب‘ میں ہوتی ہے اس قسم کےشہابیوں میں دوسرے مادوں کی نسبت لوہے کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں لوہے والے یعنی ’فولادی شہابِ ثاقب‘ بھی کہا جاتا ہے جاپان میں ایسا ہی ایک شہابِ ثاقب کچھ سال پہلے دریافت ہوچکا ہے۔

    توتنخ آمون کے شاہی خنجر اور اس شہابیے میں ٹریس مٹیریلز کی ترکیب بالکل یکساں ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خنجر کی تیاری کےلیے جس جگہ سے بھی کھدائی کرکے کچدھات نکالی گئی تھی، وہاں شاید لاکھوں کروڑوں سال پہلے کوئی فولادی شہابِ ثاقب ٹکرا چکا تھا۔

    عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ لوہے کا زمانہ تقریباً 1200 قبلِ مسیح میں شروع ہوا تھا لیکن اس خنجر میں لوہے کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاید لوہے کے زمانے کا آغاز 1400 قبلِ مسیح کے آس پاس ہوچکا تھا۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت