Baaghi TV

Tag: فرقان قریشی

  • آیت نور — فرقان قریشی

    آیت نور — فرقان قریشی

    ابھی ہم لوگ ٹوئیٹر پر آیت نور کے حوالے سے ’’نور‘‘ کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے کہ نور کیا ہے ، اور میں نے سوچا کہ اپنی کچھ ٹوئیٹس یہاں فیسبک پیج پر آپ کے ساتھ بھی شیئر کروں ۔

    قرآن پاک کی آیات کو سمجھنے کے لیے ، سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ قرآن پاک کس کا کلام ہے ۔

    انسان تو صرف تین ڈائی مینشنز کے اندر قید ایک مخلوق ہے جب کہ قرآن پاک کلام ہے تمام ڈائی مینشنز سے اوپر ایک ذات کا … اس بات کا مطلب کیا ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ … قرآن کی آیات ایک ایسا کلام ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی ذہانت کو ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں استعمال کرنا ہو گا ۔

    آپؐ نے چونکہ نماز کو بھی نور کہا تھا اس لیے ابن عباسؓ اور انس بن مالکؓ نور کو ہدایت اور رہنمائی بھی بتاتے ہیں اور یہ نور کو سمجھنے کا پہلا لیول اور پہلی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن جب طائف والوں نے آپؐ کو تکلیف دی تو اس وقت آپؐ کی مانگی ہوئی دعا کو غور سے پڑھیں ، اس دعا میں ہے کہ

    ’’میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آنا چاہتا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دے‘‘

    اور یہ نور کو سمجھنے کا دوسرا لیول اور دوسری ڈائی مینشن ہے کہ مایوسی اور تکلیف سے نکالنے والی ، سکون دینے والے کوئی چیز ۔

    لیکن کیا نور صرف کوئی میٹافوریکل یا تمثیلی چیز ہے ؟

    شاید نہیں کیوں کہ آپؐ نے اس کی تخلیق کے متعلق بھی بتایا تھا اور نور کا ذکر باقی مخلوقات کے ساتھ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مٹی ، پہاڑ ، درخت اور مکروہات کے بعد نور تخلیق ہوا تھا اور اسی نور سے پھر فرشتوں کو بنایا گیا تھا اور یہ نور کو کوئی سمجھنے کا تیسرا لیول اور تیسری ڈائی مینشن ہے ۔

    نور ایک فزیکل چیز لگتی ہے کیوں کہ آپؐ نے بتایا تھا کہ عدل کرنے والے ، اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف نور سے بنے منبروں پر بیٹھے ہوں گے ۔

    بلکہ یہ بھی کہ نور سے بنے ان منبروں میں سے کچھ منبر تو ایسے بھی ہوں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے اور یہ نور کو سمجھنے کا چوتھا لیول اور چوتھی ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا یہ وہی دائیں ہے جو ہماری زبان میں رائیٹ سائیڈ ہوتا ہے ؟

    بالکل نہیں کیوں کہ وہاں سمتیں معنے نہیں رکھتیں آپؐ نے اسی حدیث میں یہ بھی بتایا تھا کہ اللہ کے دونوں طرف دائیں ہے ۔

    اس کا کیا مطلب ہے ؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ڈائی مینشن اور اس لیول پر آ کر ہماری cardinal directions کوئی معنے نہیں رکھتیں ۔

    نور کسی طرح کا cover یا پردہ بھی لگتا ہے کیوں کہ جب عبداللہ بن شقیقؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟

    تو آپ نے فرمایا کہ میں نے بس نور دیکھا ہے اور اس پر آپ نے چار باتوں کا خطبہ دیا کہ اللہ کے چہرے کا پردہ نور ہے اور اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو سب کچھ جل جائے ۔

    اور یہ نور کو سمجھنے کا پانچواں لیول اور پانچویں ڈائی مینشن ہے ۔

    لیکن کیا اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہیں ؟

    ہاں اس نور کی کچھ پراپرٹیز ہماری سمجھ میں آتی ہیں مثلاً ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اس مقام پر دن اور رات نہیں ہوتے ۔

    اور عرش پر روشنی اس نور کی وجہ سے ہی ہوتی ہے ، ایک طرح کی ٹھنڈی روشنی اور یہ نور کوسمجھنے کا چھٹا لیول اور چھٹی ڈائی مینشن ہے ۔

    اگر آپ قرآن کا علم رکھنے والے کسی شخص سے پوچھیں کہ قرآن کی سب سے mysterious آیت کونسی ہے تو زیادہ چانسز یہی ہیں کہ وہ آیت نور کا ہی نام لے گا ۔

    کیونکہ اس آیت کا آغاز ہی آپ سے ڈیمانڈ کرنا شروع کر دیتا ہے کہ آپ کا دماغ ذہانت کے ملٹی پل لیولز اور ملٹی پل ڈائی مینشنز میں سوچنا شروع کر دے ۔

  • میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    ہم سب بچپن سے ایک نام سنتے بڑے ہوئے ہیں

    برمودا ٹرائی اینگل اور اس سے منسوب واقعات

    بہت سی باتیں سننے کو ملیں کہ وہاں چیزیں گم جاتی ہیں ، یہ بھی سننے میں آیا کہ وہاں دجال ہے بلکہ اس وقت بھی پاکستان میں برمودا ٹرائی اینگل اور دجال نام سے ایک کتاب بڑی پاپولر ہے ۔

    لیکن کیا واقعی ؟

    برمودا کے متعلق یہ سبھی پراسرار باتیں بڑی دلچسپ ہیں لیکن ایک بات کہوں ؟

    سچ … کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

    آج پانچ دسمبر ہے ، اور پانچ دسمبر ہی کو دراصل برمودا سے منسلک ایک واقعہ ہوا تھا ، لیکن آج سے 77 سال پہلے ، اور وہ واقعہ یہ تھا کہ برمودا کے ایریا میں پانچ جہاز ایک ساتھ گم ہوئے تھے ، مشہور فلائٹ 19 ۔

    کیا وہ خراب موسم کا شکار ہو گئے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر اس دن موسم خراب ہوتا ، مگر ایسا نہیں تھا ۔

    کیا وہ راستہ بھٹک گئے تھے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر رات کا وقت ہوتا مگر … ایسا نہیں تھا ، دن صاف تھا اور سورج چمک رہا تھا اور فلائٹ کمانڈر ایک تجربہ کار شخص تھا جس کے پاس ڈھائی ہزار گھنٹے کا فلائٹ ایکسپیرئینس تھا ۔

    ایسی بات نہیں ہے کہ اس واقعے کا ہر پہلو ہی پراسرار ہے ، کچھ سوالوں کے جواب تو موجود ہیں جو اس واقعے کے متعلق 500 صفحوں کی ایک رپورٹ میں ہیں مثلاً …

    کمپاس یعنی قطب نما … کسی حد تک کام کر رہے تھے ، ریڈیوز بھی کام کر رہے تھے ، بلکہ جہازوں کے ساتھ پانچ گھنٹے تک کمیونیکیشن ہوتی رہی تھی اور آخری کمیونیکیشن میں فلائٹ کمانڈر کے الفاظ یہ تھے کہ ہم پانی کی طرف جا رہے ہیں ۔

    ان ساری باتوں سے تو ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ وہ لوگ کھلے سمندروں میں بھٹک کر کریش کر گئے ہوں گے ۔

    لیکن سچ … اکثر اتنا بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتا ، آپ کو بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے ۔

    اگر کمپاس کام کر رہے تھے تو انہیں مغرب کی طرف جانا چاہیئے تھا کیوں کہ زمین مغرب کی طرف تھی جبکہ وہ لوگ مشرق کی طرف جا رہے تھے جس کا ایک ہی مطلب ہے … کمپاس کام تو کر رہے تھے لیکن وہ مشرق کو مغرب اور مغرب کو مشرق دکھا رہے تھے ۔

    ریڈیو کام کر تو رہا تھا لیکن کمیونیکیشن میں بہت delay آ رہا تھا ، انفیکٹ کنٹرول ٹاور نے انہیں فریکوئنسی چینج کرنے کا بھی کہا لیکن فریکوئنسی بدل نہیں رہی تھی ۔

    فلائٹ میں نقشہ بھی موجود تھا لیکن نقشے کے حساب سے نیچے سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں تھے … ان لوگوں کو ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے تھے ۔

    اور شاید سب سے اہم بات کہ ایک ریڈیو میسج میں کسی نے کہا تھا کہ اگر ہم مغرب کی طرف جائیں تو ہم زمین پر پہنچ جائیں گے …

    اور اپنی طرف سے انہوں نے وہی کیا … اپنی طرف سے وہ لوگ مغرب کی طرف اڑتے رہے جہاں سورج غروب ہو رہا تھا لیکن حقیقت میں … وہ لوگ مشرق کی طرف اڑتے چلے جا رہے تھے ۔

    something was going on

    کچھ نہ کچھ تو ہوا تھا … اور یہ بات سب جانتے ہیں کیوں کہ فلائٹ 19 کی رپورٹ پر اس کی گمشدگی کی وجہ بعد میں ’’حادثے‘‘ سے بدل کر … "unknown” لکھ دی گئی تھی ۔

    کمپاس مشرق کو مغرب دکھا رہا ہے ؟

    وہ لوگ مغرب کی طرف جاتے سورج کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اس کی طرف اڑ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مشرق کی طرف جا رہے ہیں ؟

    سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے ہیں ؟

    ریڈیو کام کر رہا ہے لیکن فریکوئنسی نہیں بدل رہی ؟

    یہاں تک بالآخر پانچوں جہاز گمشدہ ہو گئے ۔

    ان سب عجیب و غریب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی چلیں میں مان لیتا کہ وہ بدنصیب لوگ ایک حادثے کا شکار ہو گئے لیکن پھر شاید سب سے عجیب بات ہوئی ۔

    ان جہازوں کی تلاش میں ایک سرچ آپریشن ہوا تھا … سرچ آپریشن کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی بھیجی جاتی ہے جو خراب موسم اور مختلف آفات کے لیے تیار ہوتی ہے ، ان کے پاس بہتر ایکوئپمنٹس ہوتے ہیں ۔

    لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ان لوگوں کی تلاش کے لیے جو جہاز well equiped اور اچھی طرح سے تیار ہو کر گیا تھا …

    وہ بھی گمشدہ ہو گیا ۔

    ایک کے بعد ایک کئی ہوائی اور بحری جہاز غائب ہو گئے … آخر ان گمشدگیوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

    کچھ ہفتے پہلے مجھے ایک لیڈ ملی تھی ۔

    اسی سال سمندر کے دوسرے حصے میں گم ہوئے ایک japenese پائلٹ کی آخری کمیونی کیشن اور اس کمیونیکیشن کے اندر گم ہونے سے پہلے پائلٹ نے ایک بہت اہم بات بتائی تھی ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا اور 1561ء میں لکھی ایک جرمن کتاب تک پہنچا جس میں سمندر نہیں بلکہ زمین کے اوپر ایک ایسے ہی واقعے کے متعلق لکھا ہوا ہے ۔

    نہ صرف لکھا ہوا ہے بلکہ انہوں نے اس واقعے کی آنکھوں دیکھی ایک تصویر بھی بنائی تھی جو آج بھی موجود ہے ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا … اور 1566ء میں دوبارہ ویسا ہی ایک واقعہ سوئیٹزرلینڈ کے ریکارڈ میں دیکھنے کو ملا ۔

    اور پھر لیڈ پر لیڈ ..

    آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے ایک مصری پاپائرس میں لکھا ایک واقعہ ۔

    سوا دو ہزار سال پہلے ایک رومن شہر livy میں دیکھا گیا ایسا ہی ایک واقعہ ۔

    دو ہزار سال پہلے دو آرمیز کے درمیان لڑائی کے دوران دیکھا گیا ایک عجیب و غریب واقعہ جسے انفیکٹ ، دونوں آرمیز نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور رپورٹ کیا تھا ۔

    سنہ 1668ء میں فرانس کے پورے ایک گاؤں کا قریب کے پہاڑوں پر ایک بہت ہی عجیب و غریب واقعہ ہوتا دیکھنے کی رپورٹ ، جس میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے گھبرا کر اس طرف پتھر بھی برسانے شروع کر دیئے ۔

    مجھ لگ رہا ہے کہ … میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں ۔

    فرقان قریشی

  • معجزات  کا سال  — فرقان قریشی

    معجزات کا سال — فرقان قریشی

    annus mirabilis، یہ نام ایک مخصوص سال کو دیا گیا تھا ، سنہ 1905ء کے سال کو اور یہ نام دینے والی کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ دو سو سال سے لگاتار چھپنے والا ایک جرمن سائنس میگزین annalen der physik تھا ۔

    لیکن اس میگزین نے 1905ء کو معجزات کے سال کا نام کیوں دیا ؟

    کیوں کہ اس سال اس میگزین کے اندر آئین سٹائن نے اپنے چار ریسرچ پیپرز شائع کیے تھے جن میں سے ایک پیپر آج کے دن شائع ہوا تھا یعنی 21 نومبر 1905ء کو ، آئن سٹائن کا وہ پیپر جس میں اس نے E= Mc2 کی تھیوری پیش کی تھی ۔

    یہ وہ تھیوری ہے ، وہ equation ہے جس کی شکل سے آج دنیا کا تقریباً ہر شخص واقف ہے چاہے وہ اس کا مطلب جانتا ہے یا نہیں جانتا ، سائنس کی شاید سب سے مشہور تھیوری جس نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    انفیکٹ وہ اوریجنل میگزینز جن میں یہ ریسرچ پیپر شائع ہوا تھا ان میں سے آج صرف تین میگزینز موجود ہیں جن میں سے ایک میگزین پچھلے سال ایک auction میں بارہ لاکھ ڈالرز کا بکا تھا ۔ لیکن اس تھیوری نے دنیا کو کیسے بدل دیا ؟

    کیوں کہ یہ وہ تھیوری ہے جس پر ایٹم بنا ہے ، یہ تصویر ٹاسک فورس ون کی ہے ۔

    امیرکن نیوی کی پہلی نیوکلیئر پاورڈ یونٹ جو دنیا کے سمندروں میں پینسٹھ دن تک گھومتی رہی تھی اور 1964ء میں کراچی بھی آئی تھی ، اس کے ڈیک پر E=Mc2 لکھا آپ کو صاف نظر آ ئے گا ۔

    اب یہاں تک تو ایک ایوریج انسان کا نالج ہوتا ہی ہے لیکن اس کے بعد کچھ بہت ہی دلچسپ باتیں ہیں جو عموماً لوگ نہیں جانتے اور انہی دلچسپ باتوں میں سے ایک بات اس تھیوری پر ایٹم بم بنانے والے شخص dr. robert oppenheimer کی شخصیت ہے ۔

    ایک جینئس یہودی جس کا ہر چیز میں انٹرسٹ تھا ، اسے مشکل کام پسند تھے اور نیوکلیئر فزکس یا ایٹم بم بنانے جیسے کام اسے آسان لگتے تھے لہٰذا اسکی دلچسپی ان علوم میں ہو گئی جو عام لوگوں کے لیے نہیں ہوتے ، دوسرے الفاظ میں ’’مخفی علوم‘‘ ۔

    اس نے سنسکرت زبان سیکھی اور اوریجنل سنسکرت میں ہندو ٹیکسٹ یعنی ’’بھگود گیتا‘‘ اور ’’اوپانیشد‘‘ کو سٹڈی کیا۔ اس کے دوست اور کولیگ isidor rabi نے ایک مرتبہ dr. oppenheimer کے متعلق کہا تھا کہ …

    ’’وہ فزکس اور سائنس کے لیے بہت over educated ہے ، اسے سائنس کو سمجھنا بہت آسان لگتا ہے اس لیے اسے مذہب جیسی پراسرار سٹڈیز میں زیادہ دلچسپی ہو گئی ۔‘‘

    لیکن پھر بھی اپنے جینئس دماغ کی وجہ سے اوپن ہائمر امیرکہ کے لیے ایٹم بم بنانے والے پراجیکٹ یعنی the manhatten project کا ڈائریکٹر تھا اور اسی شخص نے بیسکلی ایٹم بم ڈیزائن کیا تھا ۔

    لیکن جو چند باتیں بہت دلچسپ ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ oppenheimer نے ایٹم بم بنانے کے پراجیکٹ کی تقریباً ہر چیز کو ایک مذہبی رنگ دیا ہوا تھا مثلاً جس جگہ ایٹم بم نے ٹیسٹ ہونا تھا ، اس سائٹ کو اس نے trinity کا نام دیا ۔

    اور اس نے اپنی یہ انسپریشن 1633ء میں پبلش ہوئی انیس نظموں کے مجموعے میں سے ایک نظم batter my heart, three person’d god میں سے لی تھی ، جس میں خدا سے ڈائریکٹ بات کی جا رہی ہے ، ایک طرح کی دعا جس میں شدید قسم کی جنسی اور ملٹری superiority کی دعا مانگی گئی ہے ۔

    لیکن ایک اور بہت دلچسپ بات کہ اس نظم کے رائیٹر نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ایک بہت خاص پورٹریٹ بنوایا تھا ۔ ایک ایسا پورٹریٹ جس میں اس نے اپنے آپ کو کفن میں لپٹا دکھایا ہے کیوں کہ اس کا ماننا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جس دن دنیا پر سب کچھ تباہ ہو جائے گا اور اس دن میں اس کفن کے اندر لپٹا اٹھوں گا ۔

    اور جس وقت dr. oppenheimer نے انسانی تاریخ کا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا جسے the trinity test کہتے ہیں ، اس وقت دھماکے کو دیکھتے ہوئے اس نے بھگود گیتا کی ایک لائن پڑھی تھی ۔

    ’’اگر آسمان میں ہزاروں سورج ایک ساتھ چمکیں ، تو وہ خدا کو دیکھنے جیسا ہو گا … میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    بعد میں اس نے ٹی وی پر یہ بات ایک بار پھر کہی تھی کہ …

    جب ہم لوگ اس دھماکے کو ہوتا دیکھ رہے تھے تو ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب دنیا بدلنے والی ہے … کچھ لوگ ہنس رہے تھے ، کچھ رو رہے تھے لیکن زیادہ تر لوگ خاموش تھے … دھماکے کے وقت وہ کچھ بھی نہیں بول پا رہے تھے ۔

    لیکن dr. oppenheimer نے اس بھیانک دھماکے کو دیکھتے ہوئے گیتا کی یہی لائن کیوں پڑھی ؟

    کیوں کہ بھگود گیتا میں اس لائن کا context بہت عجیب ہے جو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ، جہاں ایک بہت بڑی جنگ یا جنگ عظیم چل رہی ہے یعنی مہابھارت …

    اور وشنو ، ارجن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایک نئی جنگ شروع کرے اور اس وقت وشنو اپنے آپ کو ایک خدا کے طور پر ڈکلیئر کر دیتا ہے … اور اپنے جسم سے کئی بازو نکال کر کہتا ہے …

    ’’اب میں موت بن چکا ہوں ، دنیاؤں کا تباہ کرنے والا ۔‘‘

    میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ سچائی .. کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کن ہوتی ہے ، جیسے جیسے میری ریسرچ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے ، ویسے ویسے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ ان واقعات میں حیرانیوں کی کئی کئی تہیں چھپی ہوئی ہیں ۔

    اب آپ کو ایک بات تو سمجھ آ جانی چاہیئے کہ اس پیپر کو پبلش کرنے والے شخص آئن سٹائن نے ، جس نے اپنی زندگی میں ہمارے وقت کی دونوں بڑی جنگیں دیکھی ہیں ، اس نے یہ کیوں کہا کہ …

    پہلی ورلڈ وار رائفلز اور بندوقوں سے لڑی گئی ، دوسری جنگ عظیم ٹینکوں اور جہازوں سے لڑی جا رہی ہے … مجھے نہیں پتہ کہ تیسری جنگ عظیم کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی لیکن چوتھی جنگ عظیم لڑنے کے لیے … صرف ڈنڈے اور پتھر ہی بچیں گے ۔

  • کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ (الانعام 06:115)

    اس آیت سے آپ نے کیا سمجھا ہے ؟

    یقیناً آپ کو اس میں قرآن پاک کی تعریف نظر آئے گی ، لیکن میں آپ کو یہ آیت ایک اور رخ سے دکھاؤں ؟

    یہ بات سنہ 627ء کی ہے جب آپ ﷺ خندقیں کھدوا رہے تھے تو زمین سے ایک بڑی سی چٹان نکلی جو صحابیوں سے نہیں ٹوٹ رہی تھی ۔

    اس پر آپؐ خود اٹھے ، اپنی چادر کو مٹی پر رکھا اور اس چٹان پر کدال ماری اور فوراً یہ آیت پڑھی کہ تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔

    صحابہ کہتے ہیں کہ ہم کھڑے آپؐ کو دیکھ رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ آپکی ضرب سے ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر آپؐ نے دوبارہ ضرب لگائی اور ایکبار پھر چنگاری نکلی اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی ، اور جب آپؐ نے تیسری ضرب لگائی تو ہم نے ایک بار پھر چمک دیکھی اور وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ۔

    لیکن جب آپؐ خندق سے باہر نکلے ، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے تو سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ …

    یا رسول اللہؐ ! جب آپ ضرب لگا رہے تھے تب ہمیں ایک چمک نظر آئی تھی ، اس پر آپؐ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ چمک دیکھی تھی ؟ صحابی نے کہا کہ جی اور اس پر آپؐ نے فرمایا کہ …

    جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے کسریٰ اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی پرشین امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی رومن امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے اردگرد کے شہر دکھائے گئے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن سنو ! حبشیوں کو ان کے حال پر رہنے دینا یہاں تک کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہیں (سنن نسائی 3178)

    اس واقعے کے بعد آپؐ نے تین بادشاہوں کو خط لکھنا چاہا جس پر آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ لوگ صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جن پر مہر لگی ہو اور تب آپؐ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی تھی جس پر محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا اور تین خط لکھے اور میں آپ کو پہلے خط کے متعلق بتانا چاہتا ہوں ۔

    یہ خط پرشین امپائر کے بادشاہ کسریٰ کی طرف تھا اور اسکی دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا کہ محمد کی طرف سے جو اللہ کے نبی ہیں ، کسریٰ کے لیے جو فارس کا بادشاہ ہے ۔

    آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری کے دوسرے چیپٹر میں نویں صدی کی ایک فارسی کتاب شاہنامہ کے متعلق آپ کو بتایا تھا ؟

    یہ کتاب پرشین امپائر کے بادشاہوں کی داستانوں پر مبنی ہے اور گیارہ صدیوں پہلے لکھی اس کتاب میں اس خط کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب کسریٰ نے یہ خط پڑھا تو وہ شدید غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ میری رعایا میں سے ایک غلام نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھنے کی جرأت کی ؟ اور یہ کہہ کر اس نے آپؐ کا خط پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔

    جب آپؐ تک اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپؐ نے کہا کہ وہ لوگ بھی اس خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے (بخاری 64) آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہو گا اور پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا ، قیصر(رومن بادشاہ ceaser) بھی ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بھی بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہو گا (بخاری 3618)

    اس کے علاوہ بھی آپؐ نے ایک بات بتائی تھی جو میں تھوڑا آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ کیسے چلا ؟

    کسریٰ بیسکلی خسرو ii کا نام تھا ، فارس کا ایک بہت بڑا بادشاہ جس نے اپنا نام ایک ایرانی لفظ haosrauuah سے أخذ کیا تھا جس کا مطلب تھا ’’عظیم الشان‘‘ …

    لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے اپنے ہی بیٹے نے راتوں رات اس کا تختہ الٹ کرخسرو اور اپنے سارے بھائیوں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ خسرو کے پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد کو بھی بلکہ پرشین امپائر کی تاریخ میں اس پاگل پن کے دور کو mad rampage لکھا گیا ہے ۔

    خسرو کے بعد اس کی ایک بیٹی کو پرشین امپائر کی ملکہ بنایا گیا تھا اور جب آپؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنا حکمران ایک عورت کو بنا لیا ہو (بخاری 7099)

    لوگ عموماً اس پوائنٹ پر آ کر بادشاہ اور ملکہ کی بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام لیکن اس وقت boston یعنی امیرکہ کے ایک میوزیم میں سونے اور چاندی کے دو سکے رکھے ہیں جن کے متعلق ہمیں پتہ ہے کہ یہ وہ سکے ہیں جنہیں اس ملکہ نے ایشو کرایا تھا کیوں کہ ان پر اس کا نام بھی لکھا ہے اور اس کی تصویر بھی کھدی ہے جہاں اس کی بالوں کی لٹوں میں ہیرے اور جواہرات جڑے نظر آرہے ہیں ۔

    لیکن میں اس ملکہ کے متعلق آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟

    خسرو کے تختہ الٹنے اور قتل کے بعد پرشین امپائر سِول وار کا شکار ہو گئی تھی ، پاورفل خاندان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور شاہنامہ میں ہی لکھا ہے کہ ان لڑائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک طاقتور خاندان نے ہماری نئی ملکہ بوران کو اپنے ساتھ شادی کی آفر کی ، ملکہ نے لڑائی سے بچنے کے لیے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن خاموشی سے اپنے ایک جنرل کے ہاتھوں شادی کا پیغام بھیجنے والے کا قتل کروا دیا اور امپائر ایک دفعہ پھر لڑائیوں میں ڈوب گئی ۔

    اور یہی وہ ملکہ بوران تھی جس کے متعلق آپؐ کو بتایا گیا تھا کیوں کہ ان سکوں پر اس ملکہ کا نام بھی لکھا ہے ’’بوران دخت‘‘ یعنی وہ شہزادی جس کے پاس بہت سے گھوڑے ہوں ۔اور جس کے اس شخص کو قتل کرانے کے بعد امپائر ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈوب گئی ۔

    لیکن خانہ جنگی میں ڈوبی پرشین امپائر ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی بھی آدھی دنیا کے لیے ایک سوپر پاور تھی اور یہ آپ ابھی دیکھ لیں گے ۔

    آپؐ کے چار سال بعد عمر بن خطابؓ نے پرشین امپائر کے ساتھ ٹکر لی اور ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی جسے قادسیہ کہتے ہیں ، نومبر 636ء میں لڑی جانے والی قادسیہ جس میں پرشین امپائر کی طرف سے بوران کا وہی جنرل رستم فرخ زاد تھا جس نے رشتہ بھیجنے والے کا قتل کیا تھا ۔

    اور مسلمانوں کی طرف سے سعد بن وقاصؓ تھے ۔ لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے بڑوں کے درمیان کچھ میٹنگز ہوئی تھیں ۔

    ایسی ہی ایک میٹنگ سے پہلے امپائر کے بادشاہ جو بوران کے بعد اس کا چھوٹا سا دس سالہ بھتیجہ یزدگرد تھا ، نے اپنے غلاموں کو کہا کہ اس دفعہ جب عرب آئیں تو اس کے سر پر مٹی سے بھری ایک بالٹی ڈال دینا اور یونہی ہوا ، غلاموں نے عربوں کی طرف سے آئے عاصم تمیمی کے سر پر مٹی سے بھری بالٹی ڈال دی لیکن اس پر وہ لوگ غصہ نہیں ہوئے بلکہ عربوں میں سے ایک نے کہا کہ …

    مبارک ہو ، دشمن نے اپنی مٹی اپنی خوشی سے ہمارے حوالے کر دی
    اور جنرل رستم جو ایک سمجھدار شخص تھا اس نےغلاموں کو کہا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا ، خود ہی اپنی مٹی انہیں دے دی ۔

    اس واقعے کے بعد عمرؓ نے مزید کسی میٹنگ سے منع کر دیا اور قادسیہ کی لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا جو پانچ دن تک لڑی جاتی رہی تھی ۔

    لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ پرشین امپائر کمزور نہیں تھی ، ان کے پاس انڈیا سے لائے گئے war elephants کی پوری پوری corps تھیں ۔
    جن کے مقابلے میں سعد بن وقاصؓ نے ایک بڑی خاص سٹریٹجی اپنائی تھی ، جس کے متعلق پھر کبھی لیکن پانچ دن تک ایک سوپر پاور کے ساتھ یہ خونریز لڑائی چلتی رہی اور تیسرے دن دونوں سائیڈز تھکان اور زخموں سے چور چور ہو کر breaking point تک پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ لڑائی کی تیسری رات کا نام ہی لیلۃ الحریر یعنی کراہوں کی رات رکھا گیا تھا ، زخموں سے چور لوگوں کی کراہوں کی رات ، اور اب یہ لڑائی تلوار سے زیادہ stamena کی لڑائی بن چکی تھی ۔

    اگلے دن یہ حال تھا کہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور پرشین امپائر انہیں جیتنے نہیں دے رہی تھی کیوں کہ ان کا رستم فرخ زاد ابھی زندہ تھا لیکن پانچویں دن … ایک بہت ہی خاص بات ہوئی ۔

    ریت کا ایک طوفان آیا جس کے بعد رستم زمین پر مرا ہوا پڑا ملا ، کچھ پتہ نہیں کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی ، کوئی لکھتا ہے کہ وہ اونٹوں پر تلواریں ، کلہاڑے اور تیر لے کر جا رہا تھا اور وہی اس کے اوپر گر گئے ، کوئی کچھ اور لکھتا ہے لیکن ریت کے اس طوفان میں اس کی موت کیسے ہوئی ، کوئی نہیں جانتا ۔

    لیکن رستم کی موت کے بعد پرشین امپائر نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان قادسیہ جیت گئے اور اب حدیث کا وہ باقی حصہ جس میں آپؐ نے کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کا بتایا تھا کہ اللہ کی قسم تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے (مسلم 7329)

    پرشین امپائر کی آرمی کا صرف war flag جس کا نام درفش کیوین تھا اور جس کی بیک گراؤنڈ سٹوری بہت ہی حیرت انگیز ہے ، صرف اس وار فلیگ کو ہی ضرار بن کتب نے مدینہ میں تیس ہزار دینار کا بیچا تھا ۔

    میں جانتا ہوں کہ یہ ایک طویل تھریڈ تھا اور ابھی میں اس میں سے بہت کچھ skip کر گیا ہوں مثلاً سعد بن وقاصؓ کی ہاتھیوں کے خلاف سٹریٹجی یا پرشین امپائر کے وار فلیگ کی داستان یا پھر اس شہزادی کے متعلق ڈیٹیلز جس کے پاس بہت سے گھوڑے تھے لیکن ان تمام واقعات کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی ؟

    وہ کیا چیزیں تھیں جنہوں نے عمر بن خطابؓ کو وقت کی سوپر پاور سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا ؟ وہ کیا چیز تھی جس نے مسلمانوں کو آلموسٹ بریکنگ پوائنٹ پرپہنچ جانے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹنے دیا ؟ اور وہ کیا چیز تھی جس نے قادسیہ کے پانچویں دن ایک ریت کا طوفان پیدا کر کہ رستم کی پراسرار موت کے بعد پرشین امپائر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ؟

    خندق کی وہ چٹان توڑتے ہوئے آپؐ کو پرشین امپائر کا دکھا دیئے جانا جسے صحابیوں نے صرف ایک چمک کی طرح دیکھا ، اور جسے دیکھتے ہی آپؐ نے الانعام کی وہ آیت پڑھی تھی کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا (الانعام 06:115)

    جس آیت کو ہم نارملی ایک تعریفی آیت کے طور پر لیتے ہیں اس کی گہری سٹڈی مجھے یہ بتاتی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کے ذریعے آنے والے واقعات کی تہہ در تہہ پوری کی پوری chronology سمجھا دی تھی کہ دیکھنا ، خسرو ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ، بوران کی کمانڈ میں امپائر کامیاب نہیں ہو سکے گی ، رستم کی ریت میں طوفان سے موت کے بعد پرشین امپائر تمہارے پاس آ کر رہے گی اور تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اور یہ سب باتیں ہمیں کیسے پتہ ؟ کیوں کہ وہ چمک دیکھ کر آپؐ نے پڑھ لیا تھا کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔

    اور یہ وہ واقعہ تھا جو آج سے ٹھیک 1386 سال پہلے ، ٹھیک آج کے دن یعنی 16 نومبر 636ء کواس وقت قادسیہ میں ہو رہا تھا ۔

  • W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں!!! — فرقان قریشی

    پاکستان کے آسمان میں رات کے وقت ستاروں کا ایک بہت خاص جھرمٹ نظر آتا ہے ، شمال کی طرف ایک بڑے سے W کی شیپ میں بنا جھرمٹ ۔

    آج سے 450 سال پہلے اس جھرمٹ میں ایک بڑا واقعہ ہوا تھا ، اب تک صرف آٹھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں انسان نے ننگی آنکھ سے دیکھا ہے ، اس واقعے کے متعلق میں آپ کو اس لیے بتانا چاہتا ہوں کہ آج کے چیپٹر میں اللہ تعالیٰ کا آدمؑ کو دیا ایک بہت بڑا تحفہ ڈسکس ہونا ہے ، زبان کا تحفہ ، اسی تحفے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا پیغام دیا تھا یعنی قرآن پاک کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وہ بھی ایک ایسی عربی زبان جس کی چار مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے ۔

    لیکن الشعراء (26:195) میں اس تعریف کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی خاص لفظ استعمال کیا ہے ’’عربی مبین‘‘

    میرا ایک سوال ہے کہ آپ نے اس لفظ مبین کا کیا ترجمہ پڑھا ہے ؟

    موسٹلی اس کا ترجمہ …

    ’’صاف اور واضح عربی زبان‘‘

    لکھا ہوا ہے ، جو بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا ایک ترجمہ میں آپ کو بتاؤں ؟

    ’’ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ lead کرے‘‘

    اور اب میں آپ کو ستاروں کے اس جھرمٹ میں ہونے والے واقعے کے متعلق بتاتا ہوں ، W شیپ کا وہ جھرمٹ جسے cassiopeia کہتے ہیں … 11 نومبر 1572ء کی رات یعنی آج کی رات ، اس جھرمٹ میں ایک ستارہ پھٹا تھا جس نے ارسطو کے بتائے ہوئے آسمانوں کی صدیوں پرانی انڈرسٹینگ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا ۔

    اسے سینکڑوں لوگوں نے پھٹتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ سترہ مہینے تک آسمان میں ایک خوبصورت سے سرخ اور گلابی دائرے کی شکل میں نظر آتا رہا تھا ۔

    اسی ستارے کو دیکھ کر ملکہ الزبتھ ii نے اپنے دربار والوں سے رائے طلب کی تھی کہ ایک نیا خوبصورت ستارہ پیدا ہوا ہے ، تاج برطانیہ کو کیا کرنا چاہیئے ؟

    اسی ستارے کو دیکھ کر چائنہ میں ming dynasty کے دو شہزادوں کے درمیان ڑائی چھڑ گئی تھی کہ اگلا بادشاہ کون بنے گا کیوں کہ ان کے مطابق ایک خوبصورت نیا ستارہ اگلے بادشاہ کے لیے بہت مبارک ثابت ہونا ہے ۔

    لیکن اس وقت ڈنمارک میں ایک سائنسدان tycho brahe بھی رہا کرتا تھا جس نے اس ستارے پر اپنی سائنٹیفک آبزرویشنز اپنی لاطین ڈائری میں لکھی تھیں جس کا اردو زبان میں مطلب ہے …

    ’’ایک ایسا خوبصورت ستارہ ، جسے آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا‘‘

    اس ٹیکسٹ میں لکھا ہے کہ …

    ’’آسمان میں ایک نیا ستارہ پیدا ہوا ہے جو اپنے گلابی اور سرخ رنگ کی وجہ سے آسمان کی ہر چیز سے زیادہ خوبصورت اور چمکدار لگتا ہے ، یہ سب سے الگ تھلگ ہے اور ہم اسے orf کہتے ہیں‘‘

    آج ہم اس ستارے کو SN-1572 کہتے ہیں یعنی 1572ء میں نظر آنے والا سوپرنووا (یعنی ایک پھٹتا ہوا ستارہ)

    یہاں تک پہنچ کر لوگ پھر سوپرنووا کی سائینس بیان کرنے لگ جاتے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں سوچتا کہ پندرہویں صدی ڈنمارک والوں نے اس ستارے کا نام orf کیوں رکھا ۔

    اسکا جواب میں آپ کو دیتا ہوں !

    کیوں کہ پندرہویں صدی ڈنمارک کے اس orf کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اٹھارہویں صدی کے ایک امیرکن شاعر edgar allan poe نے اپنی سب سے لمبی نظم لکھی تھی ۔

    اس نظم میں وہ ایک بہت اونچی اور خوبصورت جگہ کی بات کرتا ہے جو آسمانوں میں سب سے الگ ہے ، جنت اور جہنم دونوں سے الگ ، لیکن ایڈگر کی امیرکن انگلش میں ایسی جگہ کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا اور نہ ہی ٹائکو کی لاطین زبان میں ایسا لفظ تھا جو ایک خوبصورت بلند جگہ کو ڈیفائن کر سکے ۔

    لہٰذا ٹائکو نے اس ستارے کو orf کا نام دیا اور ایڈگر نے اپنی نظم کو aaraf کا نام دیا اور دونوں کے الفاظ orf اور aaraf کی انسپائریشن … القرآن کی ساتویں سورۃ … ’’الاعراف‘‘ تھی جس کا مطلب ہی ’’بلندیوں کی بھی بلندیاں‘‘ ہے ۔

    ایک ایسی flawless لینگوئج ، جس نے ڈنمارک اور امیرکہ میں بھی کسی نہ کسی صورت lead کیا ہے ، اپنا ’’عربی مبین‘‘ ہونا ثابت کیا ہے ۔

    عربی مبین ، ایک ایسی چیز جو اتنی پرفیکٹ ہو کہ وہ باقی سب کو lead کر جائے ، سٹینڈرڈز سیٹ کر جائے ۔

    آپ نے کبھی سورۃ نجم پڑھی ہے ؟

    کبھی سورۃ نجم کی لینگوئج پر غور کیجیئے گا ، اس سورۃ کی لینگوئج اس قدر پاورفل ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں اسکا نزول ہوا تو اس پر آپ ﷺ نے بھی سجدۃ کیا ، آپؐ کے ساتھ جتنے لوگ تھے ان سب نے سجدۃ کیا ، آپؐ کے قرب میں جو بھی جن و انس تھے وہ سب سجدے میں گر پڑے حتیٰ کہ …

    اس سورۃ کی طاقت نے وہاں موجود کفار کو بھی سجدے میں گرا دیا تھا ، اور اس وقت وہاں جو بدترین کافر بوڑھا (امیۃ بن خلف) تھا وہ بھی resist نہ کر سکا اور یہاں تک مجبور ہو گیا کہ جھک کر مٹی اٹھائی اور اپنے ماتھے پر مل لی اور کہنے لگا ، میرے لیے بس یہی کافی ہے (مسلم 1297 ، مشکوٰۃ 1023).

  • آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد!!! — فرقان قریشی

    آج سے پانچ دن کے بعد ایک بہت دلچسپ واقعہ ہونا ہے ، یہ واقعہ ایک مرتبہ ٹھیک آج کے دن یعنی 13 نومبر 1833ء میں بھی ہوا تھا ، تب اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر امیرکہ کے ریڈ انڈین قبیلوں میں سے ایک لڑاکے قبیلے cheyenne نے آس پاس کے قبائل سے صلح کر لی تھی ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد ایک دوسرے ریڈ انڈین قبیلے lakota نے اپنے سالانہ کیلنڈر کا آغاز کر لیا تھا ۔

    اسی واقعے کو دیکھنے کے بعد کچھ عیسائی پادریوں نے تو اپنی ڈائری میں یہاں تک لکھ لیا تھا کہ اب بس ہم کسی بھی دن حضرت عیسیٰؑ کو دوبارہ آتے ہوئے دیکھیں گے ۔

    لیکن ایک بات کو تقریباً ہر شخص نے محسوس کیا تھا کہ شاید ، یہ قیامت کی پہلی رات ہے ۔

    اس رات انہوں نے آسمان سے ایک لاکھ ٹوٹتے ہوئے تاروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی ۔

    یہ واقعہ اس لیے ہوا تھا کیونکہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے ایک بہت ہی خاص جگہ سے گزری تھی ، ایک دمدار ستارے کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی دم کے راستے سے … اور وہاں سے گزرتے ہوئے جب ہماری زمین نے ان ٹوٹے ٹکڑوں کو تیزی کے ساتھ اپنی طرف کھینچا تو دیکھنے والوں کو یوں لگا کہ جیسے لاکھوں تارے ٹوٹ کر زمین پر گر رہے ہوں اور یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے شہابیوں کا طوفان کہلاتا ہے ۔

    میں آپ کو اٹھارہویں صدی کے اخبارات کی کچھ اوریجنل ڈرائینگز دکھا دیتا ہوں جس میں انہوں نے اس رات کا منظر اس طرح بنایا ہے جیسا انہوں نے خود دیکھا تھا ۔

    پانچ دن بعد یعنی 19 نومبر کو ہماری زمین نے ایک مرتبہ پھر اسی جگہ سے گزرنا ہے ۔

    اس بار تو شاید 1833ء کی طرح لاکھوں تارے ٹوٹتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے کیوں کہ اس مرتبہ وہ دمدار ستارہ ہماری زمین سے تھوڑا سا دور ہو کر گزرا ہے ۔

    لیکن چند سال بعد اس دمدار ستارے نے ایک بار پھر ہماری زمین کے قریب سے گزرنا ہے اور اگر اللہ نے زندگی دی تو تب … ایک اور رات ایسی آنی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر ، شہابیوں کاطوفان برپا ہو گا ۔

    شہابیوں کا ذکر قرآن پاک میں کئی مرتبہ ہے اور چالیس ہزار سالوں کی سیریز کے دسویں چیپٹر کے اندر میں آپ کو ان کے متعلق ان شاء اللہ کچھ حیران کن باتیں بتانے والا ہوں ، انفیکٹ … میں آپ کو دو ایسے شہروں کے داستان سناؤں گا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کروڑوں شہابیئے بھیجے تھے ۔

    اور اس وقت انہوں نے کیا محسوس کیا ہوگا ؟

    اس کی حرف بہ حرف ڈسکرپشن چائنہ کے ایک قدیم دستاویز

    ’’آسمان میں پیش آنے والے تمام واقعات‘‘

    میں لکھے ہوئے ایک similar واقعے کے ذریعے کروڑوں شہابیوں والی رات کا واقعہ آپ کے سامنے رکھوں گا ۔

    ان شاء اللہ وہ سب اپنے وقت پر ، لیکن پانچ دن بعد ، کوشش کیجیئے گا کہ شہر کی light pollution سے دور جا کر اس دمدار ستارے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو زمین پر گرنے کے breath-taking منظر کو ضرور دیکھیئے گا ۔

  • تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    نام: جولیس سیزر 44 قبل مسیح
    سٹیٹس: عوامی مقبولیت اتنی بڑھ گئی تھی کہ تاحیات بادشاہ مقرر ہونے والا تھا ۔
    نتیجہ: اپنی ہی پارلیمنٹ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عمر بن خطابؓ 644ء
    سٹیٹس: تیزی سے دنیا میں ایک منصفانہ نظام کا قیام ۔
    نتیجہ: ایک غلام جو اپنے حق میں فیصلہ چاہتا تھا ، کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عثمان بن عفانؓ 656ء
    سٹیٹس: ریاست میں قوانین کا نفاذ ۔
    نتیجہ: قانون سے بھاگنے والے مصری گروپ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت علی ابن طالبؓ 661ء
    سٹیٹس: جنگ نہروان میں سٹینڈ لیا ۔
    نتیجہ: خارجیوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: ابراہم لنکن 1865ء
    سٹیٹس: سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: نسل پرستوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی 1963ء
    سٹیٹس: امیرکہ میں ایک سیکرٹ گورنمنٹ کی بات کرنے لگ گئے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: مہاتما گاندھی 1948ء
    سٹیٹس: پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا تھا ۔
    نتیجہ : RSS کے شدت پسند کے ہاتھوں assassinated

    نام: لیاقت علی خان 1951ء
    سٹیٹس: جانی مانی راولپنڈی سازش کا شکار ۔
    نتیجہ: سعد اکبر کے ہاتھوں assassinated جسے اسی وقت کسی اور نے مار دیا تھا ۔

    نام: جورڈن کے بادشاہ کنگ عبداللہ 1951ء
    سٹیٹس: امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل 1975ء
    سٹیٹس: سعودی عرب کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: امیرکہ سے آئے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں assassinated

    نام: انور سادات 1981ء
    سٹیٹس: شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: مصر کی ملٹری پریڈ کے دوران assassinated

    نام: بینظیر بھٹو 2007ء
    سٹیٹس: عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر گئی تھیں ۔
    نتیجہ: معلوم اور نامعلوم ناموں کے ہاتھوں assassinated

    ان سب ناموں میں آپ کو کیا pattern کامن نظر آ رہا ہے ؟

    یہ سب لوگ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مذہب یا ملک یا اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہے تھے اور انہیں عوام میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی تھی ۔

    اور ان میں سے امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی … جو اچانک امیرکہ میں ایک shadow اور چھُپے ہوئے لوگوں کی حکومت کی بات کرنے لگ گئے تھے ان پر ایک نہیں بلکہ بیس مرتبہ assassination اٹیمپٹس ہوئی تھیں اور بالآخر ان میں سے ایک اٹیمپٹ ، کامیاب ہو گئی ۔

    اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو … لیکن تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، اور تاریخ کے اسی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے میری deductive logic مجھے بتاتی ہے …

    کہ وہ دوبارہ attempts ضرور کریں گے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور جو بھی اسلام اور پاکستان کا محسن ہے ، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔

  • ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    اکتوبر سنہ 732ء میں ایک بہت اہم واقعہ ہوا تھا ، شاید آپ میں سے کم ہی لوگ اس واقعے کو جانتے ہوں گے لیکن ایک بدترین شخص نے تاریخ کے اس واقعے کو اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا تھا ۔

    اور آپ کو پتہ ہے کہ اس شخص نے اس واقعے کے مرکزی کردار charles martel کا نام کہاں لکھا تھا ؟

    وہ تو میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں لیکن یہ وہی چارلز مارٹل ہے جسے تاریخ ’’charles the hammer‘‘ یعنی ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ بھی کہتی ہے ، وہی چارلز مارٹل جو اپنے باپ pepin کی اپنی ایک نوکرانی کے ساتھ ناجائز اولاد تھا اور وہی چارلز مارٹل جس نے وقت کی سب سے بڑی ملٹری پاور یعنی مسلمانوں کو ناقابل شکست بیس سال گزارنے کے بعد فرانس کے جنگل میں ہرا دیا تھا اور اموی جنرل عبدالحمٰن الغوفیقی کو مار دیا تھا ۔

    وہی چارلز مارٹل جس کی وجہ سے فرانس اور جرمنی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ لیکن یہ لڑائی طاقت کی لڑائی نہیں تھی ، یہ لڑائی ایکچوئلی صبر کی لڑائی تھی اور اس لڑائی کا نام تھا battle of tours ۔

    چارلز مارٹل مسلم آرمی سے آدھی تعداد کے ساتھ جنگل میں تھا اور صبر سے انتظار کر رہا تھا کہ مسلمان جنگل میں آ کر لڑیں تاکہ مارٹل کو درختوں میں چھپنے کا فائدہ مل سکے اور مسلمان جنگل سے باہر انتظار کر رہے تھے کہ مارٹل باہر آ کر ہم سے لڑے تاکہ ہم اپنی تعداد اور طاقت سے اسے ہرائیں لیکن بالآخر سات دن بعد مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا اور وہ جنگل میں داخل ہو گئے ۔ یورپ کے گھنے جنگلات جدھر آرمی کی تعداد کوئی معنے نہیں رکھتی تھی …

    اور مجھے جرمن مؤرخ hans delbruck کے الفاظ یاد ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں battle of tours سے زیادہ اہم اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیوں کہ اس دن اگر چارلز مارٹل ہار جاتا تو آج نہ کوئی holy roman empire ہوتی ، نہ پوپ رہتا اور نہ ہی عیسائیت کیوں کہ پھر اس وقت مسلمانوں کو پورے یورپ پر قبضہ کرنے سے روکنے والی کوئی آرمی اس دنیا نہیں تھی ۔

    انفیکٹ یہ وہ واحد لڑائی تھی جس کے بارے میں ایڈولف ہٹلر نے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر مسلمان وہ لڑائی جیت جاتے تو آج یہ دنیا ایک مسلمان دنیا ہوتی کیوں کہ مسلمان ایک دین لے کر آ رہے تھے ، ایک ایسا دین جو جرمن مزاج کے ساتھ پرفیکٹلی فِٹ بٹھتا ہے اور جرمنز کے لیے عیسائیت سے زیادہ سوٹ ایبل ہے ۔

    لیکن میں نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ چارلز مارٹل کا نام کس نے یاد رکھا ہوا تھا ؟

    تین سال پہلے نیوزی لینڈ کے ایک شخص نے 74 صفحوں کا ایک مینی فیسٹو لکھا تھا the great replacement اور اس نے یہ مینی فیسٹو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سمیت 30 میڈیا ہاؤسز کو ای میل کیا تھا ، اور ای میل کے بعد اس شخص نے نیوزی لینڈ کرائیسٹ چرچ کی ایک مسجد میں داخل ہو کر 51 نمازیوں کو شہید کر دیا تھا …

    اور اس قتل عام کو کرنے والی بندوق کی نلی پر اس زندیق نے … چارلز مارٹل کا نام لکھا ہوا تھا ، وہی چارلز مارٹل جس نے مسلمانوں کو شاید سب سے گہری چوٹ پہنچائی تھی ۔

    لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    اس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ randomly نہیں ہو رہا ، یا تو وہ ماضی کے کسی بڑے واقعے سے جڑا ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔

    اور میں آپ کو urge کرتا ہوں کہ تاریخ کو بھولیں مت ، ماضی کے واقعات کو یاد رکھیں ، تاکہ مستقبل کے لیے خود کو اور اپنی نسلوں کو تیار رکھ سکیں ۔

  • ’’جس دن آسمان کے دروازے کھلے‘‘ — فرقان قریشی

    ’’جس دن آسمان کے دروازے کھلے‘‘ — فرقان قریشی

    آج یعنی 3 اکتوبر کو کوریا میں صدیوں سے ایک تہوار منایا جاتا رہا ہے gaecheonjeol ، اس تہوار کا نام بہت دلچسپ ہے کیوں کہ اس کا مطلب ہے

    ’’جس دن آسمان کے دروازے کھلے‘‘

    اور اس تہوار کے مطابق ایک ایسی ہستی ، جو آسمانوں میں ہے ، جو سب سے بلند اور طاقتور ہے ، جو بادلوں ، بارش اور ہواؤں پر قدرت رکھتی ہے ، اس نے hwanung کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ زمین والوں کو قانون اور اخلاق کی باتیں سکھائے ۔

    وہ شخص زمین پر آیا اور صندل کے ایک درخت کے قریب اس نے اپنی عبادت گاہ بنائی جہاں وہ عبادت کیا کرتا تھا ، جہاں اس نے hongikingan نام کے دور کا آغاز کیا یعنی انسانیت کی بھلائی ، اور وہیں اس نے ایک شہر sinsi آباد کیا ، یعنی خدا کا شہر ، جس میں تین ہزار لوگ رہتے تھے ۔

    یہ شہر sinsi اب بابل اور نینویٰ کی طرح معدوم ہو چکا ہے لیکن اگر آپ sinsi کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو دو نام اور بھی ملیں گے جو hwanung کی طرح آسمان سے بھیجے گئے تھے اور لوگوں کو قوانین اور نیک باتوں کا درس دیتے تھے ۔ بلکہ سچ کہوں تو کورینز اپنا اوریجن بھی اسی دور سے ہی ٹریس کرتے ہیں یہاں تک کہ آج کے دن کو وہ کورین قوم کے بننے کا دن مانتے ہیں لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    وہ hwanung کون تھا ؟ یہ بات شاید ہم کبھی بھی نہ جان سکیں لیکن اس داستان کو سن کر آپ کو کیا اندازہ ہو رہا ہے ؟

    آپ اس دنیا کے کسی بھی کلچر کو سٹڈی کریں ، اس کی ڈیٹیلز میں جائیں ، ان کے تہوار دیکھیں ، ان کی تاریخ کو گہرائی میں جا کر سٹڈی کریں ، بالآخر آپ سورۃ فاطر کی چوبیسویں آیت پر ضرور پہنچیں گے ، کہ …

    کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے ڈرانے والا نہ بھیجا ہو (فاطر 35:24)

  • جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    ‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

    لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

    اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

    ‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

    کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

    ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

    ‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

    ‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

    البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

    سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائنسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائنسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

    جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

    انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

    اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

    اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

    تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

    پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

    چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

    ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا.

    آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

    نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

    اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

    اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

    بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

    ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

    الحمد للہ رب العالمین ۔

    تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔