Baaghi TV

Tag: فریڈم فلوٹیلا کولیشن

  • اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

    بین الاقوامی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کی مزید 11 کشتیاں غزہ کی پٹی کی طرف روانہ ہو گئی ہیں تاکہ برسوں سے جاری اسرائیلی محاصرہ ختم کیا جا سکے۔

    ترک خبر رساں ادارے مطابق ایف ایف سی نے بیان میں بتایا کہ اٹلی اور فرانس کے جھنڈے بردار دو کشتیاں 25 ستمبر کو اوترانتو (اٹلی) سے روانہ ہوئیں اور 30 ستمبر کو ایک اور کشتی ’کنشینس‘ کے ساتھ جا ملیں۔ یہ کشتیاں جلد ہی 8 کشتیوں پر مشتمل قافلے ’تھاؤزنڈ میڈلینز ٹو غزہ‘ سے مل کر مجموعی طور پر 11 کشتیوں کا قافلہ تشکیل دیں گی۔بیان کے مطابق اس وقت تقریباً 100 افراد کشتیوں پر سوار ہیں جو یونان کے ساحل کریٹ کے قریب موجود ہیں۔

    2008 میں قائم ہونے والی ایف ایف سی اب تک درجنوں مشنز کر چکی ہے، جن کا مقصد امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے میں پھنسے غزہ کے انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ دلانا ہے۔یہ قافلہ ایسے وقت روانہ ہوا ہے جب ایک روز قبل اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والی 42 کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا اور ان پر سوار 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل بھی اسرائیل بارہا کشتیوں پر حملہ، سامان ضبط اور کارکنوں کو ملک بدر کر چکا ہے۔

    اسرائیل نے تقریباً 18 سال سے 24 لاکھ کی آبادی والے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ مارچ 2025 میں محاصرہ مزید سخت کرتے ہوئے سرحدی راستے بند کر دیے گئے جس سے خوراک اور ادویات کی ترسیل رک گئی اور قحط مزید بڑھ گیا۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 66 ہزار 200 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا اور بھوک و بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    بھارتی ایئر چیف کا پاکستان کے خلاف نیا دعویٰ مزاق بن گیا

    ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک کی مہلت

    یو این پابندی میں نرمی کے بعد افغان وزیر خارجہ کا بھارت دورہ متوقع

    مظفر آباد: حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری

  • اسرائیلی فوج کا غزہ جانے والی امدادی کشتی "حنظلہ” پر حملہ، قبضہ کرلیا

    اسرائیلی فوج کا غزہ جانے والی امدادی کشتی "حنظلہ” پر حملہ، قبضہ کرلیا

    اسرائیلی فوج نے اٹلی سے غزہ کے لیے روانہ ہونے والی امدادی کشتی "حنظلہ” پر حملہ کر کے قبضہ جما لیا۔ کشتی پر خوراک، ادویات اور بچوں کا دودھ موجود تھا جو بین الاقوامی انسانی ہمدردی مشن کے تحت غزہ کے محصور شہریوں کے لیے روانہ کی گئی تھی۔

    انٹرنیشنل کمیٹی ٹو بریک دی سیج آف غزہ کے مطابق ہفتے کے روز جب کشتی غزہ کے قریب پہنچی تو اسرائیلی فوجی اس کے قریب آنا شروع ہو گئے، جس پر کشتی سے ہنگامی مدد کا سگنل بھیجا گیا۔فریڈم فلوٹیلا کولیشن، جو اس مشن کو منظم کر رہی تھی، نے بتایا کہ امدادی کشتی اس وقت غزہ کے ساحل سے تقریباً 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر تھی جب اسرائیلی اہلکاروں نے زبردستی سواریاں اتارنے کے لیے کارروائی شروع کی۔

    صیہونی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر کشتی نے راستہ نہ بدلا تو کارروائی کی جائے گی۔ عینی شاہدین کے مطابق صیہونی اہلکاروں نے جب کشتی پر چڑھائی کی تو کچھ دیر بعد لائیو ویڈیو نشریات بھی بند ہو گئیں۔کشتی پر موجود فرانسیسی رضاکار خاتون اما فوریو نے آخری لمحات میں اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ صیہونی فوج آچکی ہے، ہم اپنے فون سمندر میں پھینک رہے ہیں، غزہ میں قتل عام بند کرو۔”

    امدادی کشتی پر 21 غیر مسلح افراد سوار تھے جن میں پارلیمنٹیرینز، ڈاکٹرز اور امدادی کارکن شامل تھے، تمام افراد بین الاقوامی قانون کے تحت انسان دوست مشن پر روانہ ہوئے تھے۔

    غزہ پر صورتحال غیر واضح، اسرائیل خود فیصلہ کرے گا: صدر ٹرمپ

    ایشیا کپ کا شیڈول جاری، بھارتی میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کو منہ کی کھانی پڑی

    حالیہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، مجموعی اموات279 تک پہنچ گئیں

    بھارتی بلے بازوں کی شاندار کارکردگی،مانچسٹر ٹیسٹ ڈرا

  • غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

    غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

    غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے بین الاقوامی مشن کو ایک مرتبہ پھر شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے والے امدادی جہاز ’ہندالہ‘ سے جمعرات کے روز تمام مواصلاتی رابطے اچانک منقطع ہو گئے ہیں جہاز کے اردگرد کئی ڈرونز کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاز کو یا تو زبردستی روکا جا چکا ہے یا پھر اس پر کوئی حملہ کیا گیا ہے۔

    کولیشن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مقامی نمائندوں اور ذرائع ابلاغ سے رابطہ کریں تاکہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے اور امدادی مشن کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے تاحال اس بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آ سکی کہ ’ہندالہ‘ کہاں موجود ہے، اس کے عملے کی حالت کیسی ہے، یا اسرائیلی فورسز کی جانب سے کوئی کارروائی ہوئی ہے یا نہیں۔

    حماد اظہر کا عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا فیصلہ

    یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی ایک اور کشتی ’میڈلین‘، جس میں مختلف ممالک کے 12 رضاکار سوار ہیں، غزہ کی طرف بڑھ رہی ہے ان رضاکاروں میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔

    کشتی 6 جون کو اطالوی جزیرے سسلی سے روانہ ہوئی اور اس وقت مصر کے ساحل کے قریب موجود ہے۔ کشتی میں علامتی امدادی سامان، جیسے چاول اور بچوں کا دودھ، بھی موجود ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کے مطابق، یہ سامان محصور فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہے اور مشن کا مقصد اسرائیلی محاصرے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کا پیغام دینا ہے۔

    ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس، چالان پراسیکیوشن برانچ میں جمع

    دوسری جانب، اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو حکم دے دیا ہے کہ ’میڈلین‘ کو ہر صورت غزہ جانے سے روکا جائے ان کے الفاظ میں، ’گریٹا تھنبرگ اور ان کے ساتھی حماس کے حامی ہیں اور انہیں غزہ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔‘

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی نیوی جلد اس کشتی کو روک کر اسے اسرائیل کے شہر اسدود کی بندرگاہ پر لے جائے گی، جہاں سے کشتی کے عملے کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

  • فریڈم فلوٹیلا کا نیا مشن،اٹلی سے غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر کشتی روانہ

    فریڈم فلوٹیلا کا نیا مشن،اٹلی سے غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر کشتی روانہ

    فلسطینیوں کے لیے عالمی حمایت کا سلسلہ جاری ہے، اٹلی کے شہر سیراکوس کی بندرگاہ سے فلسطینیوں کے حامی کارکنوں اور امدادی سامان سے لدی کشتی ’ہندالہ‘ اتوار کے روز غزہ کے لیے روانہ ہو گئی۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ مشن فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے تحت روانہ کیا گیا، جس میں تقریباً 15 کارکن سوار ہیں۔ کشتی میں طبی سامان، خوراک، بچوں کی اشیاء اور دیگر ضروری ادویات شامل ہیں۔کشتی کی روانگی کے موقع پر درجنوں افراد بندرگاہ پر جمع ہوئے، جنہوں نے فلسطینی پرچم لہرا کر اور ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگا کر امدادی مشن کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    یہ کشتی بحیرہ روم کے راستے تقریباً ایک ہفتے میں 1800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ اپنے سفر کے دوران یہ کشتی اٹلی کے شہر گلیپولی میں بھی رکے گی، جہاں فرانس کی بائیں بازو کی جماعت "فرانس انبوڈ” کے دو ارکان اس مشن میں شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ کے اوائل میں غزہ پر مکمل امدادی ناکہ بندی نافذ کی تھی، جسے مئی کے آخر میں جزوی طور پر نرم کیا گیا تھا۔

    یہ مشن چھ ہفتے قبل روانہ ہونے والی کشتی ’میڈلین‘ کے بعد ایک اور بڑی انسانی کوشش ہے، جسے اسرائیلی حکام نے غزہ کے ساحل سے 185 کلومیٹر دور روک دیا تھا۔ اُس کشتی میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی سوار تھیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ ایران، ایرانی ہم منصب سے ملاقات

    پنجاب اسمبلی: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کمیٹی اجلاس بے نتیجہ

    سعودی عرب کا اثر و رسوخ اور غزہ و کشمیر کے مسئلوں میں کردار.تجزیہ:شہزاد قریشی