اپریل 2026 تک کے دستیاب اعداد و شمار اور رپورٹس کے مطابق، ہندوستانی فضائیہ (IAF) کو 2026 کے ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جنوری 2026 سے اپریل 2026 کے وسط تک، مائیکرولائٹ ٹرینر، تیجس فائٹر، اور ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) سمیت چار طیارے حادثات یا ہنگامی صورتحال کا شکار ہوئے بھارتی فضائیہ کے فائٹر سکواڈرن کی تعداد 42 کی مجاز (Authorized) تعداد کے مقابلے میں کم ہو کر 29 (یا بعض رپورٹوں کے مطابق 27) تک گر گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے نچلی سطح ہے۔
پرانے طیاروں (جیسے MiG-21) کی ریٹائرمنٹ اور نئے طیاروں کی خریداری میں تاخیر کے باعث، فضائیہ کو سکواڈرن کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے اس کی دفاعی صلاحیت (خاص طور پر چین اور پاکستان کے دو محاذوں کے تناظر میں) کمزور ہو رہی ہے۔
جنوری میں تربیتی پرواز کے دوران مائیکرولائٹ طیارہ کریش ہوا،فروری میں ایچ اے ایل تیجس (HAL Tejas) طیارے کو لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا، جس کے بعد پورے تیجس بیڑے کو گراؤنڈ کر دیا گیا، مارچ میں آسام میں ایک ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) حادثے کا شکار ہوا،اپریل میں پونے ایئرپورٹ پر ایس یو-30 ایم کے آئی کا ایک اور واقعہ، جس نے رن وے بلاک کر دیا۔
یہ حادثات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب فضائیہ پہلے ہی آپریشنل دباؤ اور بحالی (maintenance) کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہندوستان کی فضائیہ کی لڑاکا صلاحیتوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔


