Baaghi TV

Tag: فضل

  • حکومت کو حکومت کرنے دی جائے:مولانا فضل الرحمان

    حکومت کو حکومت کرنے دی جائے:مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کو حکومت کرنے دی جائے۔اداروں کی سیاست میں مداخلت سے ریاست کمزور ہورہی ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عدالت کو بڑے فورم پر فیصلہ کرنے کی درخواست کررہے ہیں، ہم عدالتوں سے فیصلوں کا اختیار نہیں چھین رہے۔ پی ڈی ایم و جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم دستور کی بقا کے لیے ہر جدوجہد کریں گے۔

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے

    تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فوری درخواست اور فوری سماعت احساس دلا رہی ہے کہ عدالت یا دباو یا اپنی دلچپسی سے سب کر رہی ہے، جے یو آئی اس مقدمے میں فریق بننے کا اعلان کرتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دستور کی بقا کے لیے ہم ہر جدوجہد کریں گے، نئی نئی باتیں عدالتی ماحول سے عام آدمی کے کانوں میں پڑتی ہیں، پارٹی لیڈر ہی آخری فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، پوری دنیا میں وزیر اعظم یا پارٹی صدر ہی آخری فیصلہ کرتا ہے، آج نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ پارلیمانی پارٹی لیڈر ہی سب کچھ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پارٹی سربراہ ایوان سے باہر ہوتا ہے مگر نگرانی وہی کرتا ہے، تین یا پانچ رکنی بنچ قابل قبول نہیں ہو گا، عمران خان بیانیہ جھوٹا ہے۔

    عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خ

    جے یو آئی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کی سمجھ ججوں کو نہیں آرہی، فل کورٹ اس کیس کو سنیں، تین یا پانچ نہیں فل کورٹ چاہیے، ریاست کمزور ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپنے اداروں کی سیاست میں مداخلت سے ریاست کمزور ہو رہی ہے، حکومت کو حکومت کرنے دیں، ہم نے مشکل چیلنج قبول کیا ہے، اگر ابہام رہے گا تو کچھ بھی درست کام نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ادارے کو ایک پارٹی کے لئے کچھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔

  • غیر منتخب افراد کی آئینی معاملات میں مداخلت،سوال اٹھنے لگ گئے

    غیر منتخب افراد کی آئینی معاملات میں مداخلت،سوال اٹھنے لگ گئے

    غیر منتخب افراد کی آئینی معاملات میں مداخلت،سوال اٹھنے لگ گئے

    اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام انتہا کوپہنچ چکا ہے تو دوسری طرف اسی سیاسی عدم استحکام کیوجہ سے ملکی استحکام کو بھی خطراب لاحق ہیں‌ ،اس حوالے سے پچھلے کئی ہفتوں سے جاری سیاسی جنگ میں جہاں منتخب افراد ایک دوسرے کے خلاف میدان میں آئے ہیں وہاں کچھ غیرمنتخب قوتیں بھی جمہوریت کی آڑ میں دراندازی کرکے پاکستان کے لیے بدنامی کا باعث بن رہی ہیں‌

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پرغیرجانبدارقانون کے طالب علموں اور پاکستان کوہرحال میں محفوظ اور پرامن دیکھنے والے ہزاروں افراد کی طرف سے ایک بہت ہی قابل غورمطالبہ سامنے آرہاہے کہ اگرغیرمنتخب افراد منتخب افراد اوراسمبلی کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں تو یہ شرارت اور فتنہ پیدا نہ ہوتا ، ان اہل وطن لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام پارٹیوں کے وہ افراد جوغیرمنتخب ہیں اور منتخب افراد کے درمیان چپلقش اور دوری کا سبب بن رہے ہیں ان کو سیاسی دہشت گرد قرار دے کران کو لگام ڈالی جائے تو بہتر ورنہ یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا

    اکثرنے تو نوازشریف ، مریم نواز ، فضل الرحمن کو درانداز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین جب غیر منتخب افراد کو مںتخب افراد کے آئینی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتا تو پھران کو کیوں نہیں روکا جارہا ،اس حوالے سے اہل وطن کا کہنا ہے کہ اگر یہ غلط روایت ختم نہیں ہوتی تو پھر اس کے نتیجے میں‌ جو قومی نقصان ہوگا تو اس کی ذمہ دار بھی وہی ہوں گے جواختیارہونے کے باوجود کسی ایک فریق سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس چپقلش کو طول دینے کا سبب بن رہے ہیں‌

    اس حوالے سے ماہرین قانون نے بھی مطالبات پیش کردیئے ہیں کہ سپریم کورٹ ایسے سیاسی دراندازوں کی دراندازی پر پابندی عائد کردے

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • فضل الرحمن ایک فوبیا:نیازی کو”وہ” ہوچکا ہے، حافظ حمداللہ

    فضل الرحمن ایک فوبیا:نیازی کو”وہ” ہوچکا ہے، حافظ حمداللہ

    درگئی :فضل الرحمن ایک فوبیا:نیازی کو”وہ” ہوچکا ہے، اطلاعات کے مطابق حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ عمران نیازی تم کو مولافضل الرحمن فوبیا ہوچکا ہے۔

    درگئی جلسے سے عمران خان کی تقریر پر ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی کی تقریر اپوزیشن کو گالی دینے جھوٹے الزامات سے شروع ہوئی اورگالیوں پرختم ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران نیازی تم اپوزیشن کوچورچور کہتے رہے قوم کوبتاؤ چینی چور، آٹاچور، دوائی چور، پٹرول چور، اورایل این جی چور آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں۔

    ترجمان پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ عمران نیازی تم کو مولافضل الرحمن فوبیا ہوچکا ہے، یاد رکھو عمران خان آپ کی حکومت کا سیاسی جنازہ مولانا کے ہاتھوں سمندر برد ہوگا۔

    حافظ حمداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل تم جس کو پنجاب کا ڈاکو، فاشسٹ اور چپڑاسی کہتے رہے اس کو ساتھ ملا کے حکومت بنائی، کل جب جہاز بھر بھر کے لاتے رہے تو باضمیر تھے اب جب منحرف ہوگئے تو بےضمیر ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک طرف ،امربالمعروف،کی ترغیب دوسری طرف جھوٹے الزامات اور سیاسی قیادت کو گالیاں دینا، یہ امربالمنکر کا ارتکاب ہے اور ریاست مدینہ کی توہین ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ آج کی تقریر میں عمران نیازی نے انڈیا کی خارجہ پالیسی کی تعریف اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کااعتراف کیا ، بحیثیت وزیراعظم ہندوستان کی تعریف کرنایہ پاکستان کی منہ پر طمانچہ ہے۔

    واضح رہے اس سے قبل درگئی میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ امید ہے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کامیاب ہوگی اور عوام اس پارٹی کا ساتھ دیں گے جو پاکستان کے لئے کھڑی ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ایک طرف پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہوگئے ہیں، دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے 25 سال ڈاکوؤں کے خلاف جدوجہد کی۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ضمیر فروش اور لوٹے میں فرق ہوتا ہے، لوٹا اقتدار کی طرف جاتا ہے اور ضمیر فروش اپنا اور ملک کا سودا کرتا ہے، اس وقت یہ لوٹے نہیں ہورہے یہ اپنے ضمیر کا سودا کررہے ہیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے چوری کے پیسے سے ہمارے ارکان قومی اسمبلی کی قیمت لگائی ہے، سندھ ہاؤس میں پیسے دے کر جمہوریت کا جنازہ نکالا جارہا ہے، عدلیہ اور الیکشن کمیشن ضمیر فروشوں کو دیکھ رہی ہے، ساری قوم کے سامنے ضمیروں کا سودا ہورہا ہے اور اسے جمہوریت کا نام دیا جارہا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا تھا کہ قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی فیصلہ کن وقت آتا ہے، وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کس طرف کھڑا ہونا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیوٹرل ہونے کا نہیں کہا، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اچھائی کا ساتھ دو اور برائی کے خلاف ہو۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے آصف زرداری کو 2 بار جیل میں ڈالا، پیپلز پارٹی نے نواز شریف پر چوری کے کیس بنائے، مولانا فضل الرحمان کو ڈیزل کا خطاب تو (ن) لیگ نے دیا تھا، مولانا فضل الرحمان پر نیب کا کیس تو مسلم لیگ (ن) کے دور میں بنا تھا، یہ ملک کے ساتھ وہ کرنا چاہتے ہیں جو دشمن بھی نہیں کرسکتا۔

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پارٹی کا سربراہ باپ کی طرح ہوتا ہے، چھانگا مانگا اور مری کے دن چلے گئے، آپ کے پاکستان میں لوگوں کو شعور ہیں، آپ جتنا مرضی کہیں کہ میرا ضمیر جاگ گیا ہے، آپ جتنا بھی کہیں کہ عمران خان برا آدمی ہے لوگ آپ کی بات کو نہیں مانیں گے، وہ سمجھیں گے کہ انہوں نے اپنا ضمیر بیچا ہے۔ آپ کے بچوں سے لوگ شادیاں نہیں کریں گے، آپ کی زندگی میں ذلت ہوگی، میرے جو ایم این ایز غلطی کر بیٹھے ہیں، میں آپ کو معاف کردوں گا واپس آجائیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لوگوں کا پیسہ چوری کرکے حکومت بچانے سے بہتر ہے کہ حکومت چلی جائے۔ اگر مجھے ضمیر کا سودا کرکے رشوت دینی ہے تو میں ایسی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں۔

    شہباز شریف اور نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ شہباز شریف مجھے تجویز دی ہے کہ آپ کو ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہنا چاہیے تھا، شہباز شریف کہتے ہیں کہ یورپی یونین پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی، امریکا نے مجھ پوچھا تھا کہ افغانستان کے خلاف پاکستان اڈے دے گا، اس پر ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا۔

    شہباز شریف سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ بوٹ پالش بڑے اچھی طرح کرتے ہے، جب وہ کوئی گورا دیکھتے ہیں تو ان کے بھی بوٹ پالش شروع کردیتے ہیں لیکن میں کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکا سے کہا ہے کہ امن میں آپ کے ساتھ ہیں لیکن جنگ میں نہیں، کسی غیر ملکی سفیر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ملک کی خارجہ پالیسی پر عوام میں بات کرے، یورپی یونین کے سفیروں نے پروٹوکول کے خلاف بات کی، میں نے ان سے پوچھا کیا بھارت کے خلاف یہ بات کرو گے؟۔

    بھارت کو داد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ آزاد رہی ہے، وہ اپنے عوام کے لیے پالیسی بناتا ہے، آج بھارت امریکا کا بھی اتحادی ہے اور روس سے بھی تعلقات ہیں۔

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومت نے ساڑھے تین سال میں وہ کام نہیں کیے جو ہم نے کیے ہیں، اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی کہ ہر سال 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف دن منایا جائے گا۔

  • چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نےکیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی

    چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نےکیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی

    لاہور: چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نے کیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی ،اطلاعات کے مطابق شدید تحفظات کے باوجود مسلم لیگ (ن) پنجاب کی وزارت عظمیٰ (ق) لیگ کو دینے پر کیوں راضی ہوئی؟ اندورنی کہانی سامنے آگئی۔

    ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کو وزرات عظمیٰ پنجاب دینے کے لئے مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے نواز شریف کو قائل کیا، آصف زرداری نے نواز شریف کو پیغام دیا کہ بڑے مقصد کیلئے چھوٹی قربانی دیں چند ماہ کی بات ہے۔جس پرنواز شریف نے کہا کہ چوہدری کسے دے وی سکے نہیں،یہ مفاد کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں مگرہمارے ساتھ ہاتھ بھی کرسکتے ہیں ان سے بچ کررہنا چاہیے میں ان کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ، جس پرزرداری اور فضل الرحمن نے کہا کہ بس ایک مرتبہ نیازی جان چھڑوا لیں پھرچوہدریوں سے بھی دوہاتھ کرلیں گے ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں

    ذرائع ن لیگ کے مطابق مذکورہ شرط نہ ماننے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔

    ذرائع فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا اصرار تھا کہ ق لیگ پنجاب میں ن لیگ کیخلاف کوئی اقدام نہیں کریگی، جس پر مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے یقین دہانی کرائی، دونوں رہنماؤں کی ضمانت کےبعد ن لیگ بھی مشروط طور رضامند ہوئی۔

    واضح رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ حاصل کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے مسلم لیگ قاف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔یہ طے ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا جائے گا۔

    اس سے قبل گذشتہ روز ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر لیگی رکن قومی اسمبلی عابد رضا سمیت 7 ارکان اسمبلی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    ن لیگی ارکان کا استفسار تھا کہ ق لیگ کو کس حیثیت سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی؟ پنجاب میں ن لیگ بڑی جماعت ہے اور ق لیگ چھوٹی جماعت ہے،عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہمارا ہونا چاہیے۔

  • فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری

    فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری

    لاہور:فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری نے پتہ پھینک دیا ،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اچانک لانے کا فیصلہ کر لیا اور کامیابی کی صورت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کے پیش کر دیا، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف نے بھی لیگی صدر کے نام پر اتفاق کر لیا۔

    حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن وفد کے ہمراہ پہنچے، وفد میں اکرم درانی، مولانا اسعد الرحمان اور مولانا امجد سمیت دیگر شامل تھے۔

    تھوڑی دیر بعد سابق صدر آصف علی زرداری بھی وفد کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پہنچے، ان کے وفد میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ سمیت دیگر شامل تھے۔

    آصف علی زرداری کی آمد سے قبل مولانا فضل الرحمان اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی، جس میں شہبازشریف نے سربراہ پی ڈی ایم کو گزشتہ روز پیپلزپارٹی سے ہونے والی ملاقات میں اعتماد میں لیا۔ دونوں رہنماؤں نے تحریک عدم اعتماد سمیت حکومت کے خلاف مختلف امور پر غور کیا۔دوسری طرف تین بڑی جماعتوں کی بیٹھک کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے،

    ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف اپوزیشن کی حکمت عملی پر مشاورت کی۔

    ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم نے پہلے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کر لیا، سپیکر اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد بعد میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا ٹاسک سابق صدر آصف علی زرداری کے سپرد کر دیا گیا۔

    اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو حکومتی اتحادی جماعتوں سے معاملات طے کرنے کا بھی اختیار دے دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اچانک لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کے پیش کر دیا، مولانا فضل الرحمن اور ویڈیو لنک پر موجود نواز شریف نے بھی لیگی صدر شہباز شریف کے نام پر اتفاق کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں دونوں قائدین نے اپنے اپنے سیاسی کارڈز ایک دوسرے سے شیئر کئے، شہباز شریف نے نمبر گیم کے حوالے سے اجلاس کے شرکا کا تفصیلی بریفنگ دی۔