Baaghi TV

Tag: فضل الرحمان

  • عدالتیں سیاسی گروہ بن چکی ہیں،مولانافضل الرحمان

    عدالتیں سیاسی گروہ بن چکی ہیں،مولانافضل الرحمان

    اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں یاد ہے کس طرح ہاتھ مروڑ کر ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرائی گئی۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں ںے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پیش آئے واقعے کی مذمت کرتا ہوں، ساتھیوں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں مگر حق تو یہ تھا اس واقعے کے بعد ایوان کو تین دن کیلئے بند کردیا جاتا، آج کے پی کے میں پولیس نے دھرنا دیا ہوا ہے، لکی مروت، بنوں، ڈی آئی خان میں پولیس احتجاج پر ہے، اگر پولیس نے فرائض ادا کرنا چھوڑدیے تو کیا ہوگا ملک کا؟

    ان کا کہنا تھا کہ ادارے اور اداروں کے بڑے اپنی ایکسٹینشن کے لیے فکر مند ہیں ملک کیلئے نہیں ایکسٹیشن کا عمل فوج سمیت ہرادارے میں غلط ہے اگر یہ حق ہے تو پارلیمنٹ کو بھی ایکسٹینشن کا حق ہے، یہ روایات ٹھیک نہیں ہم اپوزیشن ہیں اور غلط روایت کی بنیاد نہیں ڈالیں گے، آج پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہم کسی کی ایکسٹیشن کی تائید کیوں کریں گے؟

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ہمارا عدالتی نظام فرسودہ ہوچکا ہے، جتھوں کو ختم کریں اور پارلیمنٹ کا مضبوط بنائیں، عدالتیں سیاسی گروہ بن چکی ہیں، کوئی عدالتیں کسی کو سپورٹ کرتی ہیں کوئی کسی کو، حکومت کو کہوں گا عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، اپوزیشن کے ساتھ مل کر اصلاحات لائی جائیں،فوج اور عدلیہ میں معیار ایک لایا جائے، ہمیں یاد ہے کس طرح ہاتھ مروڑ کر ایک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرائی گئی۔

    جے یو آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں 60 ہزار سے زائد مقدمات زیرالتواء پڑے ہوئے ہیں کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ آئینی معاملات کیلئے الگ عدالتیں بنائی جائیں؟ آج ملک میں انگریز دور کا عدالتی نظام چل رہا ہے، اعتماد کو بحال کرنا پرے گا اور پارلیمنٹ کو سپریم بنانا ہوگا،آج کوئی بات کریں تو توہین عدالت ہوجائے گی، بلوچستان پر بات کریں تو ایجنسیاں آجاتی ہیں۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ وہ تو ہمارے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ہم فوج اور عدلیہ کے خلاف نہیں بول سکتے لیکن میرے پارلیمنٹیرینز کو پارلیمنٹ سے گرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کے لیے پارلیمان اور جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہونا چاہیے، عدالتی اصلاحات ہونی چاہئیں، اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر اصلاحات ہونی چاہئیں، انیسویں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کو بلیک میل کیا گیا، انیسویں آئنی ترمیم کیلئے ایک جج نے پارلیمان کو بلیک میل کیا انیسویں آئینی ترمیم کو ختم ہونا چاہیے۔

    علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے خود مذاکرات کا کہنا فیڈریشن پر حملہ ہے،خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے افغانستان سے خود بات کرنے کا بیان دیا، علی امین گنڈا پور کا افغانستان سے خود مذاکرات کا کہنا فیڈریشن پر حملہ ہے، کوئی بھی صوبہ کسی ملک کے ساتھ ڈائریکٹ مذاکرات نہیں کرسکتا، ان کا بیان زہر قاتل ہے، انہوں نے ملکی سلامتی کو داؤ سے لگایا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے شاندار روایت قائم کی، اسپیکر نے جو کیا وہ ایوان کے تقدس کے لیے کیا، ہم سے ہمارا حق نمائندگی چھینا گیا تھا، اس کے سب سے بڑا گواہ اسد قیصر صاحب ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تاریخ کی درستگی ضرور ہونی چاہیئے، شیر افضل مروت صاحب نے تقریر میں اچھی باتیں کی، مروت صاحب نے مجھ سے چند منٹوں کی ملاقات کی، ملاقات کی وجہ سے مروت صاحب کی پارٹی ان کی پیچھے پڑگئی، یہاں پر یہ ماحول بن گیا ہے کہ اگر کوئی اپوزیشن رکن سرکاری عہدیدار سے ملے توشک کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور حکومت میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا، قومی اسمبلی کے ماحول کو بہتر رہنا چاہیئے، میں داستانیں سنا کر ماحول خراب نہیں کرنا چاہتا۔

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں اپوزیشن کو صوبتعوں کا سامنا کرنا پڑا، آج وزیراعلی خیبرپختونخوا کا بیان آیا ہے کہ ہم خود افغانستان سے مذاکرات کریں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان فیڈریشن کے اوپر حملہ ہے، علی امین گنڈاپور کا بیان زہر قتل ہے، انہوں نے ملک کی سلامتی کو وزیراعلی خیبرپختونخوا نے داؤ پرلگایا، کوئی بھی صوبہ کسی ملک کے ساتھ ڈائریکٹ مذاکرات نہیں کرسکتا۔

    ان کا کا کہنا تھا وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کس حثیت میں افغانستان سے مذاکرات کا عندیہ دیا، پہلے تنگ نظری کی حکمرانی تھی، ہم تنگ نظری کی حکمرانی نہیں کرتے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دوست آج ایوان میں واپس آئے ہیں، میں ان لوگوں کے سامنے ماضی کو ٹٹولنا چاہتا ہوں، پی ٹی آئی کے دور میں ممبران کے ساتھ بہت غلط ہوا، جب ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی تھی تو کسی نے آواز نہیں بلند کی، ہم سے ہمارا حق نمائندگی سالوں کے لیے چھینا گیا تھا، تاریخ کی درستگی ہونی چاہیئے۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کل یہاں آرٹیکل 6 پر بات ہورہی تھی جبکہ میں واحد ممبر تھا جس پر آرٹیکل 6 لگا، جو پی ٹی آئی کابینہ نے لگایا تھا، یہ کس کس انتہا تک گئے ہیں، آرٹیکل 6 لگانے والے آج ایوان میں موجود تھے، مجھ پر آرٹیکل 6 اس لیے لگا کیونکہ میرا باہر کاروبار تھا، میں آج پی ٹی آئی والوں کو ویلکم کرتا ہوں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یاد کریں کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو کیا ہوا تھا، نوازشریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ کیا ہوتا رہا، فریال تالپور کو رات 12 بجے اسپتال سے اٹھایا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایوان چلانا ہے جو روایات ایاز صادق نے طے کی ہیں ان پر عمل کیا جانا چاہیئے، جو روایات اسد قیصر نے بنائیں وہ نہیں ہونی چاہئیں، ایک بار اسد قیصر کے گھر میٹنگ تھی باہر چار ایجنسیوں کے بندے بیٹھے ہوئے تھے، جتنی بھی میٹنگز ہوتی تھیں آئی ایس آئی باہر بیٹھی ہوتی تھی، ماضی کے جھروکوں میں جانا چاہیئے کہ پی ٹی آئی کے دور میں کیا ہوتا رہا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے افغانستان سے مذاکرات کیلیے اپنا وفد بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

    علی امین گنڈاپور نے وفد بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کرکےجوخون بہہ رہا ہےاسے روکیں گے، انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں متعدد بار وفد بھیجنے کی درخواست کی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔

    ’عوامی بغاوت ہوگی تو گنڈاپور کا مقابلہ کریں گے‘
    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ عوامی بغاوت ہوگی تو قوم کے ساتھ مل کر علی امین گنڈاپور کا مقابلہ کریں گے۔

    جاوید لطیف نے قومی اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے وسائل ریاست کے خلاف استعمال کئے تو مقابلہ کرنا ہوگا، ملک کو بیرونی سے زیادہ اندرونی باغیوں کا سامنا ہے، ملک کو غیرمستحکم کرنے والی قوتیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔

  • دیوار کے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا کالا ہو،مولانا فضل الرحمان

    دیوار کے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا کالا ہو،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اس ملک کو حاصل کرنے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کا کوئی کردار نہیں، آج بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کہاں ہے اور عوام کہاں ہے-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کے زیر صدارت شروع ہوا جس میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایوان میں تقریر کی اور کہا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات شروع نہیں ہوئے لیکن ہمیں انکار بھی نہیں ہے، اگر اسپیکر صاحب نے وقت دیا تو بات کریں گے۔

    فضل الرحمان نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسد قیصر کا مطالبہ درست ہے جلسہ کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے میں اسد قیصر کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں، ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا ہمارا ملک اب کہاں کھڑا ہے، اس ملک کو حاصل کرنے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کا کوئی کردار نہیں، آج بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کہاں ہے اور عوام کہاں ہے ہماری عوامی نمائندگی پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے بڑی جدو جہد کے ساتھ عوام کو ووٹ کا حق ملا، عوام کو بڑی جدو جہد کے بعد پارلیمانی جمہوری نظام ملا، قائد اعظم کا پاکستان کہاں ہے آج ؟ یہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔

    پنجاب اسمبلی میں نومنتخب ارکان نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں 2018 کے الیکشن پر بھی اعتراض تھا اور اس پر بھی اعتراض ہے، اُس مینڈیٹ کے ساتھ اگر وہ دھاندلی تھی تو آج دھاندلی کیوں نہیں ہے؟ سیاست دان معلومات کی بنیاد پر بات کرے اور ہماری معلومات کے مطابق اس بار اسمبلیاں بیچی اور خریدی گئیں، یہ کیسا الیکشن ہے جس میں ہارنے والے مطمئن نہیں اور جیتنے والے بھی پریشان ہیں، جیتنے والوں کے اپنے لیڈر اپنے مینڈیٹ کو مسترد کر رہے ہیں،ہم نے اپنی جمہوریت کو بیچا، ہم نے اپنے ہاتھوں سے آقا بنائے، ہم اپنی مرضی سے قانون بھی نہیں بناسکتے ذرا ہندوستان اور اپنا موازنہ تو کریں، دونوں ایک دن آزاد ہوئے آج وہ سپرپاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اور ہم دیوالیہ پن کا شکار ہیں، دیوار کے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا کالا ہو۔

    ملک کو جعلی اسمبلیوں سے چلایا جا رہا ہے، ہم ملک بچانے نکلے ہیں،مولانا فضل …

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پاکستان کا فرد تین لاکھ کا مقروض ہے ہم نے قوم کو ہجوم بنا کر رکھ دیا،ہم دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے بھیک مانگ رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی قسط پرجشن منایا جارہا ہے ایوان میں عوامی نمائندے ہونے چاہئیں مگر ایسا نہیں ہے، الیکشن میں جو ہوا سب نے دیکھ لیا اور ہم بھی اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو، شہباز شریف کو کہتا ہوں کہ عوامی نمائندے بنیں اور حکومت چھوڑ دیں اور پی ٹی آئی کو حکومت دیں کیونکہ الیکشن میں زیادہ سیٹیں اُن کی ہیں مگر ہمارے سیاست دانوں کو یہ بات جاہلانہ لگے گی، انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 2 مئی کو کراچی اور نو مئی کو پشاور میں ملین مارچ ہوگا، اگر ہمارا راستہ کسی نے روکا یا کوشش کی تو پھر وہ خود ہی مصیبت کو دعوت دے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ڈی آئی ایم ایف کو دورہ پاکستان کی دعوت

  • عام انتخابات میں تاخیر ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات

    عام انتخابات میں تاخیر ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات

    لاہور:سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی ہے

    دونوں رہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر مرکزی ترجمان جے یو آئی محمد اسلم غوری، احسن اقبال اور ایاز صادق موجود تھے،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا، اسرائیل فلسطین تنازع اور اس کے بعد کی عالمی صورتحال بھی زیربحث آئی،مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کو عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے اپنے مطالبے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا،

    نوازشریف کی وطن واپسی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے، مولانا فضل الرحمن
    ن لیگ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں قائدین نے مشاورت اور اشتراک عمل سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا،دونوں قائدین نے اتفاق کیا کہ بحرانوں کو مل کر ہی نمٹا جاسکتا ہے، شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 16 میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں آپ نے بھرپور تعاون کیا،تمام جماعتوں نے 16 ماہ میں سیاست کا نہیں صرف ریاست بچانے کا سوچا،پاکستان کو اتحاد، مشاورت اور اشتراک عمل ہی بحرانوں سے نکال سکتا ہے، قائد نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد سیاسی وجمہوری نظام مضبوط ہوگا،مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی وطن واپسی پاکستان کے لئے اچھی خبر ہے، سچ بے نقاب ہوچکا ہے کہ نوازشریف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،نوازشریف اور ان کے خاندان کو ناحق ستایا گیا، یہ تاریخ کا سیاہ اور افسوسناک باب رہے گا.نوازشریف نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لیکن نوازشریف کو ہی سیاسی نظام سے باہر کردیاگیا، سیاسی رہنماﺅں کو ناحق چور ڈاکو کہنا سیاسی انجینئرنگ کا کھیل تھا،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سردی کی شدت کی وجہ سے ووٹنگ کی شرح کم ہو گی، اسلئے الیکشن جنوری میں نہیں ہونے چاہئے، ملکی حالات بھی ایسے بن چکے ہیں، آئے دن بم دھماکے اور پاکستان کی معیشت، سب کو مدنظر رکھ کر الیکشن کروائے جانے چاہئے،

    قبل از یں سربراہ میاں نواز شریف استقبالیہ کیمٹی سندھ بشیر میمن کا کہنا تھا کہ نواز شریف روزگار کی فراہمی کو بہتر کریں گے، پاکستان کی معیشت کو اپنی ڈگر پر لائیں گے، میں سربراہ ہوں پر محمد زبیر کی ہدایت پر کام کرتا ہوں،پاکستان کا مقدمہ ایک ہی ہے کہ ووٹ کو عزت دو، پانامہ کے بعد معیشت بدتر ہوگئی، میاں صاحب کے پاس ڈیلیور کرنے کی ایک میراث ہے، اُنہیں ایک بار پھر خدمات کرنے کا موقع ملے گا، ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ میاں محمد نواز شریف 21 اکتوبر کو۔پاکستاں آرہے ہیں، یہ پاکستان کیلئے بڑا پروگرام ہے ،میاں نواز شریف وکلا تحریک میں سب سے آگے تھے ،میاں نواز شریف کی وجہ سے معزول چیف جسٹس بحال ہوئے تھے ، میاں محمد نواز شریف کا آمد بہت اہمیت والا ہے ،آج یہاں بجلی نہیں ہے لیکن میان نواز شریف بجلی دیکر گئے تھے ،میاں محمد نواز شریف سمجھتا ہے کہ عام پاکستانی کے مسائل کیا ہیں، سندھ میں 15 سال سے ایک حکومت رہی ہے ،15 سال میں تو دنیا ہی بدل جاتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ میاں کے آمد میں سب سے پہلے وکلا ہوں،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان زندہ باد کے نعرے لگنے پر پرویز الہی کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    مولانا فضل الرحمان زندہ باد کے نعرے لگنے پر پرویز الہی کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے جامعہ اشرفیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیراہتمام ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استحکام پاکستان کانفرنس کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے، وہ ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے دفاع اور تحفظ کیلئے پیش پیش رہتے ہیں، اسلام کی خدمت، جمہوریت اور ملکی دفاع کے حوالے سے ان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک کو انتشار و فساد، خانہ جنگی اور ہر قسم کے حالات سے پاک فوج اور علماء کرام نے بچا رکھا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہمیشہ تمام مسالک کے رہنماؤں، دینی مدارس اور تمام مذہبی طبقات کی بھرپور خدمت کی ہے، صرف میں نہیں، اس ملک سے محبت رکھنے والا اور ملکی سلامتی کو عزیز رکھنے والا ہر شخص پاکستان کی مذہبی شناخت اور دینی معاملات کو ہمیشہ مقدم رکھتا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ جب تحریک لبیک پاکستان پر آپریشن کا فیصلہ ہوا اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جانے لگا تو اس وقت آپریشن اور تشدد سے باز رکھ کر مفاہمت کی طرف لانے کیلئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو کردار ادا کیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے، اگر اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ اور علماء کرام معاہدہ نہ کرواتے تو پوری قوم بہت مشکلات سے دوچار ہو جاتی، اسی طرح مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا ایشو بھی جنرل باجوہ کی خصوصی کاوشوں سے ہی حل ہوا تھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کانفرنس کے دوران شرکا نے وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ کانفرنس انتظامیہ نے شرکا کو خاموش ہونے کا کہا لیکن شرکا مسلسل مولانا فضل الرحمان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے جس کے بعد وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کانفرنس چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ جے ہو آئی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پنجاب چودھری عبدالجبار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے خطاب کے دوران نعرے لگائے گئے جس پر انہیں کانفرنس چھوڑ کر جانا پڑا ۔

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ جب سعودی عرب میں تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی گئی اس وقت ایک وفد جس میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، رائے ونڈ کی شوریٰ کے لوگ اور ہمارے ساتھی ایم پی اے حافظ عمار یاسر پر مشتمل وفد جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملے، آرمی چیف نے ذاتی دلچسپی لے کر سعودی فرمانروا سے بیٹھ کر ان کو باور کروایا کہ یہ دین کا کام کرنے والی جماعت ہے جنرل باجوہ نے سعودی قیادت کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس معاملے میں بھرپور اور موثر کردار ادا کیا اور ان کی ذاتی دلچسپی سے یہ مسئلہ بھی حل ہوا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ یہ مواقع تو محض بطور مثال ذکر کئے ورنہ اس کے علاوہ بھی ملک و ملت کیلئے پاک فوج اور جنرل قمرجاوید باجوہ کا جو کردار ہے اس سے آپ مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم غلط فہمی میں نہ رہے کہ کسی کے پاک فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے، مسائل کا حل جو نکلتا ہے جنرل باجوہ کی خصوصی کاوشوں سے ہی نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوس میں جو کچھ ہوا وہ اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے، آئندہ بھی وطن کا دفاع ہو یا عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ نسل نو کے ایمان کی حفاظت ہو یا امن وامان کا قیام ہم سب نے مل جل کر کردار ادا کرنا ہے، علماء کرام ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، آپ دونوں طبقات کا ایک پیج پر ہونا اور آپس میں متحد و متفق ہونا از حد ضروری ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ آج کے دن ہم پاک فوج کے عظیم شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ہماری فوج وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبان ہے، 1965ء کی جنگ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک شاندار باب ہے، فروری 2019ء میں بھارتی حملے کو پاکستانی فضائیہ نے ناکام بنایا، بھارت کو نہ صرف پسپا کیا بلکہ واپس بھاگنے پر مجبور کیا، وطن کے دفاع کے جذبے سے سرشار مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا، پاک فوج نے ہر محاذ پر بہادری کی شاندار مثالیں قائم کیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاک فوج نے دشمن کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ دفاع وطن کیلئے اپنی قیمتی جانیں نچھاور کرنے والے شہداء ہمارا فخر ہیں، آج پوری قوم شہدائے وطن اور ان کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی کااظہار کرتی ہے، پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ آج کا دن ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے اور پاکستانی تاریخ کے حوالے سے ایک یادگار دن ہے، اس دن ہم ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے جامعہ اشرفیہ جیسی ایسی درسگاہ میں جمع ہیں جو پاکستان، قیام پاکستان اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے شناخت اور پس منظر رکھتی ہے، آج کے اس عظیم الشان اجتماع کا انعقاد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی عظیم جماعت نے کیا جو عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ کیلئے کئی عشروں پر محیط ایک طویل تاریخی جدوجہد رکھتی ہے، ہمارا ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کردار کوئی آج کا نہیں بلکہ چودھری ظہور الٰہی شہید سے لے کر آج تک اللہ کریم نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع اور تحفظ کی سعادت عطا فرمائی، پنجاب اسمبلی کی عمارت میں خوبصورت انداز سے آیات ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جگمگا رہی ہے، ہم نے سرکاری دفاتر، وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور دیگر اہم سرکاری مقامات کو آیت مبارکہ سے مزین کر دیا ہے، ہر کتاب اور نصابی کتب میں جہاں جہاں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی آئے گا، وہاں وہاں عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اظہار اور درود وسلام بھیجنے کا اہتمام ہوگا، یہ اہتمام انشاء اللہ ہمارے لیے نجات و شفاعت اور ہماری نسلوں کے ایمان اور عقیدے کے تحفظ کا ذریعہ بنے گا، ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کئی قانونی سقم دور کرنے اورقانون سازی کرنے کی اللہ کریم نے ہمیں توفیق دی اور بہت سی اسلام مخالف سرگرمیوں کے سدباب کا ذریعہ بنایا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ الحمدللہ ہم نکاح نامے میں ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلف نامہ شامل کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی بدولت اب ہماری بچیوں کا مستقبل محفوظ ہے، انشاء اللہ آئندہ کسی بچی اور خاندان کے ساتھ دھوکہ نہیں ہوسکے گا، اس سے فائدہ یہ ہوا کہ کسی کو کوئی ابہام نہیں رہتا کہ شادی کے بعد بچیاں اور ان کی اولاد کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سود کا لین دین کرنے والے جب قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے تو ان کے چہرے کالے ہوں گے، ہم نے نجی سطح پر سود کا کاروبارکرنے کے حوالے سے بھی قانون سازی کی، اب جو بھی سودی کاروبار میں ملوث پایا جاتا ہے اس کیلئے پانچ سال کی سزا رکھی ہے، سود پر انفرادی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے ہر طرح کا سودی لین دین ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، سود کے اوپر جو پیسہ دیا جاتا ہے وہ سختی سے مار پیٹ کر واپس لیتے ہیں، اس پر ہم نے سزائیں رکھی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قرآن کریم کے حوالے سے اللہ رب العزت نے بہت سا کام کرنے کی توفیق دی، قرآن بورڈ کے قیام سے لے کر قرآن کریم ناظرہ اور ترجمہ کی تعلیم لازمی قرار دلوانے تک اور اس ملک کے ہر تعلیمی ادارے کے دروازے علماء و قراء کیلئے کھلوانے اور بچے بچے کے ہاتھ میں قرآن کریم پکڑوانے کی سعادت بھی الحمدللہ ہمارے حصے میں آئی، ہم نے اسمبلی میں قانون بنایا کہ توہین آمیز مواد پر مبنی کوئی کتاب پکڑی جاتی ہے تو اس کو بھی فوری ضبط کیا جاتا ہے اور اس پبلشر پر پابندی لگا دی جاتی ہے، اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ ہو یا قرآن کریم کی خدمت وطن عزیز پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سرکاری دفاتر میں ایک سے دو بجے تک نماز ظہر کا لازمی وقفہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دس روز میں نوکریوں سے پابندی اٹھا لیں گے، سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر دیں گے۔ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استحکام پاکستان کانفرنس میں رکن پنجاب اسمبلی حافظ عمار یاسر، راسخ الٰہی، مفتی احمد علی، شیخ الحدیث حافظ فضل الرحیم، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا اللہ وسایا اور علماء کرام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • عمران خان پاکستان کی دفاعی فصیل میں دراڑ ڈال رہا ہے،فضل الرحمان

    عمران خان پاکستان کی دفاعی فصیل میں دراڑ ڈال رہا ہے،فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ معیشت اور دفاع ریاست کی بقاء کی ضمانت ہوا کرتے ہیں، عمران خان پاکستان کی دفاعی فصیل میں دراڑ ڈال رہا ہے۔


    مائیکرو بلاگنگ کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان توڑنے کے اس کے ایجنڈے کو ہم 12 سال سے سامنے لا رہے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان حکومت میں تھا تو پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کر دیا، اب حکومت سے باہر آکر پاکستان کے دفاعی فصیل میں دراڑ ڈال رہا ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ بنے گی اس طرح تصویرِ جاناں ہم نہ کہتےتھے۔

    مذید برآں زیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف عمران خان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان فوج اور کمانڈروں کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے سے باز رہیں۔

    اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پھر ثابت ہوا عمران خان معیشت، سیاست اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ان گائیڈڈ میزائل ہے، اداروں کے ارکان کو حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ دینا اس انارکسٹ کی پہچان ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو افغانستان، لیبیا اور شام بنانے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان کی محب وطن قوتیں عمران خان کو مذموم عزائم میں کامیاب ہونے نہیں دیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے ملک کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، عوام پاکستان کی سلامتی کی کاوشوں میں مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟

    اپنے ایک بیان میں امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ملعون سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کے بعد عالمی میڈیا کھلم کھلا عمران نیازی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جس دن سابق وزیراعظم نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کی ہے اسی روزسے عالمی اداروں نے پاکستان کو دباؤ میں لانا شروع کر دیا۔ عمران نیازی کے باغیانہ رویوں کو جمہوری کور دینا ہے اور دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاستی ادارے شدید عالمی دباؤ میں ہیں۔ ریاستی ادارے عمران خان کی لامحدود کرپشن، باغیانہ سرکشی کے خلاف کاروائی میں تاخیر پر گامزن ہے۔ عمران نیازی اور اس کی ذریت خود کو آئین اور قانون سے ماورا سمجھتی ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے دباؤ میں آکر قوم کی چولیں ہلانے والے مجرم کے خلاف قانون کے مطابق کاروائیوں سے گریز کیا جے یو آئی ملک کے نظریاتی اساس اور آئین کے تحفظ کی خاطر کسی کردار سے گریز نہیں کرے گی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقوام متحدہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟ پی ٹی آئی چیئر مین کے دور میں انتقامی کاروائیوں کو ایک بار بھی غیر جمہوری قرار دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح طور پر نیازی کے چوری کے اقدامات قوم کے سامنے لائے گئے، آپ کس بنیاد پر ایک آئین شکن اور پاکستان کے نظریاتی اساس پر حملہ آور شخص کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صیہونی لابی دوبارہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے.

    پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ ابو غریب جیل میں زندہ انسانوں پر کتوں کو چھوڑا گیا؟ اس وقت انسانی حقوق کیوں نظر نہیں آئے؟ آج بھی عافیہ صدیقی امریکی جیلوں میں ہے؟ ان کی ماں دنیا سے چلی گئی۔ انسانی حق یاد نہیں آیا؟ بارہ سال پہلے کہہ دیا لوگ ثبوت مانگتے تھے ثبوت وقت فراہم کرے گا، آج وقت نے ثبوت فراہم کردیئے۔ نیازی کو ساری فنڈنگ انڈیا اور اسرائیل سے ہورہی ہے۔

  • قوم باطل نظام کے خلاف متحد ہوکرجدوجہد کرے ،مولانا فضل الرحمان

    قوم باطل نظام کے خلاف متحد ہوکرجدوجہد کرے ،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی کے مر کزی امیر مو لا نا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ اور شہدائے اسلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آج ہم یہ عہد کریں ہم اپنی زندگیوں کو ان کی تعلیمات کی روشنی میں حقیقی طور پر ڈھالنے کی کو شش کرتے رہیں گے اور دین اسلام دین اسلام کے نفاذ کے لیئے جدوجہد جاری رکھیں گے اوروطن عزیز کوناکام اور لادین ریاست بنانے کی ہر سازش کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں گے،آج کے دن قوم باطل نظام کے خلاف متحد اور متفق ہوکر مسلسل جدوجہد کرنے کا عزم کرے .

    مرکزی میڈ یا سیل کے مطابق وہ پارٹی وفود اور راہنمائوں مولانا عبد الغفور حیدری، مو لا نا محمد امجد خان،مولانا فضل حقانی۔محمد اسلم غوری،مفتی ابرار احمد ،عبد الرزاق عابد لاکھو سے گفتگو کرہے تھے مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلام کے حقیقی تصور اور روح کو مسخ کر نے والی باطل قوتوں کے مذموم عزائم کو نا کام بنا نے کے لیئے ہم ایک ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے اسلام کی زندگیاں امت مسلمہ کے لیئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا معاشی نظام سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جام ھوچکا ۔

    انہوں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق اور دیگر خلفاء کانظام نافذ کر نے اور پیغام حسین پر عمل کر نے سے ہی ملک بحرانوں سے آزاد ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ آج ہم کو وطن عزیز کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہ میں اپس کے اختلافات کو ختم کر کے متحد ومنظم ہونے کی ضرورت ہے.

    مو لانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملکی اور اسلام دشمن قوتیں پا کستان میں امن اور ترقی نہیں دیکھنا چاہتیں انہوں نے کہا کہ پا کستان کا استحکام خطرے میں ڈالنے کے لیئے ملک دشمن قوتیں سر گرم عمل ہیں جن کاڈٹ کر مقابلہ کر نے کی ضرورت ہے انہوں نے کار کنوں پر زور دیا ہے کہ اتحاد امت اور دین حق کو معاشرے میں پھیلانے کے لیئے ہر قر بانی دینے کے لیئے آگئے بڑھیں انہوں نے کہا کہ اتحاد امت کے لیئے سب کو کردار ادا کر نا ہو گا انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اتحاد امت کے لیئے کوشاں ہے.

    مو لا نا نے کہا کہ امت کو لڑانے اور تفر قہ بازی دشمن کی خواہشات ہیں ان خواہشات کو کچلنے کے لیئے قوم میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے مولانا فضل الرحمن نے بلوچستان ،خیبراور ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں سے ہونے والے جانی ومالی نقصان دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں پرزور دیا کہ وہ اس مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر ممکن مدد کریں اوراھل ثروت دل کھول کر تعاون کریں اور یہ مشکل گھڑی صبر واستقامت اور اعلی انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ہی گذرے گی اور ہم سب اللہ کریم کی طرف رجوع کریں اور اس مہربان سے رحم مانگیں ۔

  • الیکشن کمیشن کے فیصلے نے میرے موقف کی تصدیق کردی،فضل الرحمان

    الیکشن کمیشن کے فیصلے نے میرے موقف کی تصدیق کردی،فضل الرحمان

    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے میرے موقف کی تصدیق کردی۔ایک بیان میں مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے 2010ء سے میرے موقف پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

    فارن فنڈنگ کیس: کیا آرٹیکل 62 کے تحت عمران خان نااہل بھی ہوسکتے ہیں؟

    پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ عمران خان اور اس کی پارٹی غیر ملکی طاقتوں کے ایجنڈے پر ہے، ان ہی کے فنڈز پر یہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آج اپنے فیصلے کے ذریعے اس کو عالمی چور، منی لانڈرر، جھوٹا اور بددیانت ثابت کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو فوری عمران خان کی تاحیات نا اہلی اور پی ٹی آئی پر پابندی کی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔

     

    الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار،شوکاز نوٹس جاری

     

    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے نے بیرونی سازش کا پول کھول دیا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ 8 سالہ طویل انتظار کے بعد ممنوعہ فنڈنگ کے فیصلے سے بیرونی سازش کا پول کھل گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اُس بیرونی ساز ش کی محض 2013ء تک کی تفصیلات ہیں، پوچھنا تھا کہ عمران نیازی نے اس کے بعد ملک سے کھلواڑ کرنے کے لئے کن ممالک سے پیسے پکڑے؟ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ عمران نیازی نے امریکا، بھارت اور دیگر ملکوں کے شہریوں اور کمپنیوں سے پیسے لےکر فتنہ اور فساد برپا کیا، بیرونی فنڈنگ سے معصوم ذہنوں میں زہر گھولا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ عدالتی صادق و امین کو باقاعدہ ثبوتوں نے جھوٹا اور منی لانڈرر ڈیکلیئر کر دیا، عمران خان نے اس فنڈنگ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کیں۔حمزہ شہباز نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے سی پیک کے کام کو ٹھپ کرکے ملکی معیشت اور ترقی کی کمر توڑ دی۔

  • ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    پی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو کہا جاتا ہے ہدایات پر چلنا ہے .

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ادارے خاموش بیٹھ جائیں تو کوئی بحران نہیں، عمران خان ہمارے لیے چٹکی بھی نہیں، بلا بنا کر پیش نہ کیا جائے، ہم عمران خان کی اوقات جانتے ہیں اور وہ ہمیں جانتا ہے، ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے.ان کا کہنا تھاکہ بلاوجہ اگر بحران پیش کرنا ہے تو عام آدمی کو پیش کر دو، ملک کو بحران میں کون مبتلا کر رہا ہے کھل کر بات کرنی چاہیے۔

     

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

     

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو یونٹی آف کمانڈ کی حیثیت حاصل ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف تین بار وزیر اعظم اور شہباز شریف تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہے ہیں، ن لیگ کے لوگ وزیر رہ چکے ہیں، سب معززین ہیں، ایک ایک کو پکڑ کر جیل میں ڈالا، گالیاں دیں اور بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےسربراہ پی ڈی ایم نے اپنی اتحادی حکومت سے شکوہ کیا کہ عمران خان کی حکومت میں جو گھپلے ہوئے اس پر ہم کیوں خاموش ہیں؟ ان گھپلوں پر ہم کیوں خاموش ہیں یہ میری اپنی حکومت سے شکایت ہے۔ عمران خان میں صلاحیت ہی نہیں وہ کسی کو مجبور کر سکے، عمران خان اتنی بڑی سیاسی قوت نہیں، اس کی کسی دھمکی کو بنیاد بنا کر ’پر‘ کو ’پرندہ‘ بنانا مشکل بات نہیں۔

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں، ہمیں آئین کے مطابق اپنا کام کرنے دیا جائے، سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کو کام کرنے دیا جائے، روز روز کی مداخلتیں ملکی نظام کو معطل کر دیتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب سےنئی حکومت آئی، دونوں قوتیں غیرجانبداربھی ہوگئیں اورنیوٹرل بھی۔ اس حکومت کیلئے روز روز مسائل پیداکرنا، یہ رویہ بھی ہم دیکھ رہےہیں، نئی نئی تجویزیں آرہی ہیں کہ نئے الیکشن ہونے چاہیں.

    عدالتی بینچز کے حوالے سے جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھاکہ کسی فریق کے تحفظات ہوں تو اس جج کو کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے، روز روز نئی لاحقیں فیصلوں کے ساتھ وابستہ نہ کی جائیں، فیصلہ ایک ہوتا ہے، کورٹ ایک ہے، اگروہ کل ایک غلط کرچکے ہیں تو اس کیس کو نہ سنیں، فل کورٹ بیٹھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ملک میں بند کمروں کی سیاست شروع ہو گئی ہے، ایک ادارہ دوسرے ادارے پراثر انداز ہونے کی سیاست کر رہا ہے، اب یہ سیاست ریاست کی تباہی کا سبب بن رہا ہے اور ذمہ دار ہمیشہ سیاستدان اور سیاسی حکومت کو قرار دیا جاتا ہے، ہم اس صورتحال سے مطمئن نہیں، یہ چیزیں ٹھیک ہوجانی چاہیں۔

  • آصف زرداری،،فضل الرحمان اور نواز شریف میں رابطہ،جلد عام انتخابات پر غور

    آصف زرداری،،فضل الرحمان اور نواز شریف میں رابطہ،جلد عام انتخابات پر غور

    پی ڈی ایم کے رہنماوں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، سابق صدر مملکت اور پیپلزپارتی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ٹیلی فونک گفتگو کی جس کے دوران تینوں رہنماؤں نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگی امیدواروں کی شکست کا جائزہ لیا۔

    باغی ٹی ؤی کے مطابق ٹیلی فون پر رابطے میں تینوں رہنماوں نے پنجاب اور مرکز میں آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ تینوں نے موقف اختیار کیا کہ عوام نے بڑھتی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بدلہ لیا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کا کہنا تھا کہ میں تو شروع دن سے ہی حکومت لینے کے حق میں نہیں تھا۔ تینوں رہنماؤں نے جلد عام انتخابات کروانے سے متعلق تجاویز پر غور کیا اور طے کیا کہ اتحادیوں کی مشاورت سے تفصیلی لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کاشکریہ ادا کیا ہے،انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پارٹی کیلئے بہترین انتخابی مہم چلائی، پر امن انتخابات کے انعقاد پر وزیرِ اعلی حمزہ شہباز کی قیادت میں پنجاب حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔

    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ضمنی انتخابات میں شکست کی رپورٹ پیش کردی گئی، عوام نے منحرف ارکان کو قبول نہیں کیا، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے جیسی وجوہات شکست کا باعث بنیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور اعظم نذیر تارڑ، سردار ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، رانا مشہود و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی کی مرکزی قیادت کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات اور آئندہ کی حکمت عملی اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بچانے کے لئے حکمت عملی پرمشاورت کی گئی.

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کریں گے اور آئندہ کی حکمت عملی کے لیے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا ،زرائع کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس کل اسالام آباد میں طلب کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ضمنی انتخابات میں پارٹی کی شکست پروفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے اپنی تفصیلی تجزیاتی رپورٹ پیش کی۔ پارٹی رپورٹ میں ہر حلقے کے حوالے سے الگ الگ تجزیہ پیش کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حلقوں میں لیگی کارکنوں نے مخالف پارٹی سے منحرف ہو کر آنے والوں کو دل سے قبول نہیں کیا، پارٹی عہدیداروں، پرانے ٹکٹ ہولڈرز اور سابقہ بلدیاتی نمائندوں نے انتخابی مہم میں جان نہیں لڑائی، سخت معاشی فیصلوں کے نام پر پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں میں اضافے نے مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مہنگائی کی انتہائی شرح نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ہار میں بنیادی کردار ادا کیا، ضمنی انتخابات سے صرف دو روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، عوام نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس معمولی کمی کو رد کر کے مخالفت میں ووٹ دئیے۔