Baaghi TV

Tag: فضل الرحمن

  • وزیراعظم عمران خان پرچوہدری شجاعت کی سورہ حجرات والی نصحیت اثرکرگئی

    وزیراعظم عمران خان پرچوہدری شجاعت کی سورہ حجرات والی نصحیت اثرکرگئی

    لاہور:وزیراعظم عمران خان پرچوہدری شجاعت کی سورہ حجرات والی نصحیت اثرکرگئی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان جو کہ زرداری ، شہبازشریف اور فضل الرحمن کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کررہے تھے اور اس دوران سخت تنقید بھی برداشت کی ،جس کے جواب میں وزیراعظم نے بھی جوابی وار کیئے تو ایک نئی بحث چھیڑ دی گئی

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم چند دن پہلے فضل الرحمن کو ڈیزل کہہ کرپکاررہے تھے تو اس دوران چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعظم کو مشورہ دیاکہ اپوزیشن کی دھمکیوں اور شرارتوں کے جواب میں اپنے مخالفین کو بگڑے ناموں سے نہ پکاریں‌ یہ چیز اللہ کو پسند نہیں ، چوہدری شجاعت حسین نے سورہ الحجرات کا حوالہ بھی دیا تھا

    شاید یہی وجہ ہےکہ پہلے جلسوں‌ کی نسبت سوات والے جلسے میں وزیراعظم فضل الرحمن کے جارحانہ رویے کے باوجود مولانا فضل الرحمن کہہ کر پکارتے رہے ،

    سوات میں عوامی جلسے سے خطاب کیا جس دوران عمران خان نے پی ڈی ایم کے صدر پر تنقید کرتے ہوئے انھیں ’مولانا فضل الرحمٰان‘ کہہ کر مخاطب کیا جس پر جلسے میں شریک شرکاء نے زور زور سے ڈیزل کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔

    بعد ازاں عمران خان نے معذرت کی اور کہا غلطی ہوگئی سوری! مولانا نہیں فضل الرحمان کیوں کہ میں عالم دین کی عزت کرتا ہوں۔

    عمران خان نے مولانا سے سوال کیا کہ آپ 30 سال سے سیاست میں ہیں اور دین کے نام پر سیاست کررہے ہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ نے کبھی مغرب کے رہنماؤں سے اسلاموفوبیا کے خلاف سوال کیا؟

    عمران خان نے مزید کہا کہ آپ مدرسے کے بچوں کو میرے خلاف جب نکالتے ہیں تو اب آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ جسے یہودی لابی کہتے تھے اس نے وہ کام کر دکھایا جو آپ نے 30 سال میں نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف انتہائی نفرت انگیز الزام تراشی کرتےہوئے یہودی تک کہتے رہے ہیں اور یہ وہ الزام ہے کہ جس کی روک تھام کے لیے سخت سزا کا تصور پیش کیا گیا ہے ، ایسے ہی ن لیگ ،جے یو آیی ف، ن لیگ کی ذیلی تنظیم مرکزی جمعیت اہلحدیث اور ایسے ہی دیگر مخالفین کے سوشل میڈیا پیجز میں اس قدر نفرت اور غلیظ زبان استعمال کی جارہی ہے کہ اس کی مثال دنیا کے کسی گئے گزرے معاشرے میں بھی نہیں‌ ملتی

    ادھر اس ٹکراو کے بعد چوہدری شجاعت حسین نےوزیراعظم کو سورہ حجرات کا مطالعہ کرنے کی نصیحت کی تھی

  • ‏گزشتہ ساڑھے3سال سے سڑکوں پر کھڑا ہوں:اب موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا:فضل الرحمن

    ‏گزشتہ ساڑھے3سال سے سڑکوں پر کھڑا ہوں:اب موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا:فضل الرحمن

    اسلام آباد : ‏گزشتہ ساڑھے 3سال سے سڑکوں پر کھڑا ہوں:اب موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا:اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد کا ذکرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پچھلے ساڑھے تین سال سے سڑکوں پرکھڑے ہیں کہ کب وقت آئے اور عمران خان کی حکومت ختم ہو اور مجھے پھر موقع ملے

    لانگ مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لانگ ‏مارچ کا آغاز تو 23مارچ کو ہی ہوگا، ‏اسلام آباد میں قافلوں کے داخلے کا وقت 25مارچ ہوگا،‏ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، طے کر لیا ہے کہ ہم اسلام آباد آئیں گے،

    ان کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی پارٹی کسی کی ضامن نہیں ہوا کرتی، ‏مشاورت کے نظام میں مل کر چلنا ہوتا ہے، ‏ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی اصلاحات ضروری ہیں تو وہ کرلی جائیں، سیاسی قوتوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا ہمارا فرض بنتا ہے،

    ‏پی ٹی آئی کے ممبران اپنے حلقوں میں بھی نہیں جاسکتے، ‏یہ کسی ممبر کو ہاتھ لگائیں ہم ان کو چھوڑیں گے نہیں، ‏دوست ممالک نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا ہے،فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ‏جلسوں میں لوگوں کو لایا جاتا ہے، ‏ایم این ایز کو یر غمال بنانا یہ ہمارا نہیں یہ آپ کا کام ہے، ‏وزراکی دھمکیوں کے پیش نظر ہم نے اپنے اراکین کو حفاظت میں رکھا ہوا ہے،

    ادھرپاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کی دعوت دینے سے قبل آصف زرداری نے کہا میں یہ پہلے ہی قبول کر چکا ہوں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی، اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ لانگ مارچ کے بارے سنا ہے کہ دونوں جانب سے مارچ اور جلسہ منسوخ ہو جائے گا۔ جس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ اپنا سوال اپنے پاس رکھیں، لانگ مارچ کے حوالے سے کون کہاں سے نکلے گا اس سوال کا جواب ابھی آپکو نہیں ملے گا۔

    سربراہ پی ڈی ایم کا مزید کہنا تھا کہ آصف زداری کو لانگ مارچ می شرکت کی دعوت دینے جانا تھا، انکی مہربانی ہے وہ میرے پاس تشریف لائے اور کہا کہ میں یہ پہلے ہی قبول کر چکا ہوں۔

    قبل ازیں سابق صدر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کیلئے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پہنچے جبکہ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں سابق صدر آصف زرداری، شاہدخاقان عباسی اور دیگر رہنما شریک تھے۔

  • میرےوفادارتیاررہیں:ملک کوجام کرسکتےہیں:فضل الرحمن کا اپنی ملیشیا کے نام پیغام

    میرےوفادارتیاررہیں:ملک کوجام کرسکتےہیں:فضل الرحمن کا اپنی ملیشیا کے نام پیغام

    اسلام آباد :میرےوفادارتیاررہیں:ملک کوجام کرسکتےہیں:فضل الرحمن کا اپنی ملیشیا کے نام پیغام ،اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم اور جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ میرے وفادار تیار رہیں ان کو کسی بھی وقت اسلام آباد پہنچنے کے لیے کال دے سکتا ہوں ، فضل الرحمن کی اس گفتگو کونئی نسل بڑا قطرہ قرار دے رہی ہے اور پی ڈی ایم سربراہ کو سیکورٹی تھریٹ قرارد یا ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہو چکی ہے اور عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں، عمران خان اپنے اتحادیوں کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ معاملات عمران خان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں، عمران خان 10 لاکھ لوگ نہ لاؤ بس 172 نمبرز پورے کرو، عدم اعتماد پیش ہو چکا اب عمران خان کے پاس جواز نہیں کہ عوام کو اسلام آباد بلائے۔

    سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کارکن تیار رہیں جب اسلام آباد بلایا جائے تو فوراً پہنچ جائیں، پورا ملک تیار رہے انہیں کسی بھی وقت اسلام آباد آنے کی کال دی جا سکتی ہے۔فضل الرحمن نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں جان بوجھ کر ہرایا گیا تو پھرکارکنوں کو ملک جام کرنے کا کہہ سکتا ہوں

    وزیر داخلہ شیخ رشید سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید رائی کے پہاڑ کی طرح عمران خان کے ساتھ ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن کی ملیشیا جسے انصارالاسلام کا نام دیا جاتا ہے ایک شدت پسند تنظیم کے دور پرمعروف ہے ، یاد رہے کہ چند دن پہلے بھی اس تنظیم کے کارکنون نے پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوکروہاں دہشت پھیلا دی تھی جسے پولیس نے بڑی حکمت عملی سے حل کیا اس موقع پر پولیس نے جے یو آئی ف کے دوافراد کوحراست میں لینے کی کوشش کی تو فضل الرحمن کی کال پرشدت پسند تنظیم کے کارکنوں نے ملک بھر کی سڑکیں بلاک کردی تھیں

  • عمران خان کا قتل ثواب کا کام کہنے والا جے یو آئی کارکن گرفتار

    عمران خان کا قتل ثواب کا کام کہنے والا جے یو آئی کارکن گرفتار

    پشاور:وزیراعظم عمران خان کو جہاں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں سے جان کا خطرہ وہاں پاکستان میں ایسی قوتوں کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں جنہوں نے آج تک موجودہ حکومت کو دل سے تسلیم نہیں کیا ، ان میں جے یو آئی ف پہلے نمبر پر ہے

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دو دن سے جے یو آئی ف کے کارکنوں کے سوشل میڈیا پیجز پرایک ایسی ویڈیو وائرل کی جارہی ہےجس میں ایک مدرسے کا انتہا پسند استاد عمران خان کے قتل کوثواب قرار دے کرلوگوں کواس گھنوئنے جرم کے لیے اُکسارہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ جے یو آئی ف کے اس انتہا پسند کا نام قاری عبدالحمید اور والد کا نام محمد کریم ہے جو کہ پائندہ خیل علاقہ پڑانگ کا مستقل رہائشی ہے ،یہ چار بھائی ہیں ان میں ایک بیرون ملک جبکہ دوسرے ادھر علاقے میں مختلف کام کرتے ہیں ، قاری عبدالحمید مولانا فضل الرحمن کا فارغ التحصیل ہے اور آج کل کسی مسجد کا امام وخطیب ہے

    مذکورہ انتہاپسند جوکہ اسی علاقے میں جے یو آئی ف کے ایک مدرسے میں پڑھاتا ہے ، اس قاری عبدالحمید نے 10 مارچ کو موٹروے پراسلام آباد کی طرف مارچ کے دوران ایک ویڈیو وائرل کی تھی جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی بکرے کو ذبح کرنا ہے

     

     

    قاری عبدالحمید کہتا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنا ثواب کا کام ہے ، اوروہ اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کے حکم کا منتظر ہے کہ وہ عمران خان کے قتل کا حکم دیں اور میں قتل کرکے اپنا فریضہ ادا کروں ، دوسری طرف پولیس نے گرفتار حوالات میں بند کردیا ہے امید کی جارہی ہےکہ بہت جلد اس کا سوفٹ وہئر اپ ڈیٹ ہوجائے گا

     

    یاد رہے کہ دفاعی تجزیہ نگار زید حامد بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان میں اسلائمیزشن کی وجہ سے عالمی قوتیں ان کو راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں اور ایسا وزیراعظم لانا چاہتی ہیں جو چین سے دور اور بھارت کے قریب ہو

  • پارلیمنٹ لاجز،گرفتاریاں شروع، سعد رفیق زخمی،مولانا فضل الرحمان کا گرفتاری دینے کا اعلان

    پارلیمنٹ لاجز،گرفتاریاں شروع، سعد رفیق زخمی،مولانا فضل الرحمان کا گرفتاری دینے کا اعلان

    ،پارلیمنٹ لاجز،گرفتاریاں شروع، سعد رفیق زخمی
    پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کے داخل ہونے کا معاملہ خواجہ سعد رفیق کا پاوں زخمی ہوگیا ہے ،ایم این اے صلاح الدین سمیت انصار الاسلام کے 12 رضاکار گرفتارکر لئے گئے

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی گرفتاری دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ میں خود پارلیمنٹ لاجز پہنچ کر گرفتاری دوں گا مولانا فضل الرحمان نے تمام پارٹی ارکان کو پارلیمنٹ لاجز پہنچنے کی ہدایت کر دی،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج تصدیق ہوگئی کہ ہمارے ا یم این ایزکواغوا کیا جائے گا

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم ایاز صادق کے کمرے میں میٹنگ کررہے تھے پتہ چلا پولیس داخل ہوگئی پولیس نے کمرہ نمبر 401 کو گھیرا ہوا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی تنظیم کے کچھ لوگوں کے وارنٹس ہیں، ہم پولیس کو سمجھا رہے ہیں لاجز میں ایسے داخل نہیں ہوسکتے،پولیس کا پارلیمنٹ لاجز میں ایسے گھسنا غیرقانونی ہے، تحریک عدم اعتماد کے معاملے میں یہ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں،

    https://twitter.com/EngMehtabAnsar/status/1501944588575019012

    آغا رفیع کا کہنا ہے کہ یہ بدمعاشی کررہے ہیں،یہ ہمیں ڈرا رہے ہیں اور مار رہے ہیں،یہ دروازے توڑ کر اندر گئے ہیں، مجھے گیٹ پر جانے سے روکا ،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے گھروں پر حملہ خوفزدہ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت کا آخری وار ہے۔ متفقہ طور پر عدم اعتماد آ چکی ہے، عمران خان تمہارا بندوبست ہو چکا ہے۔ گھبراو نہیں گھر جانے کی تیاری کرو۔

    آغا رفیع اللہ اور فیصل کریم کنڈی نے پولیس گاڑیوں کے ٹائروں کی ہوا نکالی آغا رفیع نے پولیس کی گاڑی بند کرکے چابی نکال لی پولیس کی گاڑیاں پارلیمنٹ لاجز کے باہرموجود تھیں پارلیمنٹ لاجز کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی پارلیمنٹ کے گیٹ پر پولیس اور ایم این ایز آمنے سامنے ہیں پولیس کی گاڑیوں کو پارلیمنٹ لاجز کے گیٹ پر رو ک لیا گیا ،ایم این ایز کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے ساتھیوں کو نہیں چھوڑا جاتا انہیں جانے نہیں دیں گے، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ایم این اے کی حفاظت اسپیکر کی ذمہ داری ہے،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس کوعمران خان کی گرتی ہوئی حکومت کاآلہ کار بننے سے پرہیز کرنا چاہیے،اس قسم کی پاگل پن پر مبنی کاروائیوں کا الزام اپنے سر لینا مناسب نہیں ،

    https://twitter.com/ArifMehmoodPAK/status/1501949080406134792

    اسلام آبا د پولیس نے پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن شروع کردیا ،پولیس نےانصارالاسلام کےرضاکاروں کی گرفتاری کی شروع کردی اسلام آباد پولیس نے انصاراسلام کے چند رضاکاروں کو حراست میں لے لیا ،35 کے قریب رضاکاراب بھی پارلیمنٹ لاجزمیں موجود ہیں

    قبل ازیں سابق صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ لاجز پر پولیس کشی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم اراکین پارلیمنٹ کوہراساں کررہے ہیں،صرف جے یو آئی کے ممبرنہیں تمام اسمبلی ممبران کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پولیس آفیسر اور انتظامیہ کٹھ پتلی کے غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں اراکین اسمبلی حوصلہ بلند رکھیں ، حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے

    قبل ازیں انصارالاسلام فورس کا پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہونے کا معاملہ آئی جی اسلام آباد احسن یونس نے نوٹس لے لیا، ڈی چوک پرقائم ناکہ انچارج، پارلیمنٹ لاجز کے انسپکٹر انچارج، لائن افسر معطل کر دیئے گئے، ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا، ایس ایس پی آپریشنز معاملے کی انکوائری کریں گے، پولیس ایم این اے صلاح الدین ایوبی کے لاج میں داخل ہو گئی، ایس ایس پی آپریشن کی سربراہی میں لاجز میں چیکنگ کی جا رہی ہے، پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ لاجز کے اندر اور باہر موجود ہے

    دوسری جانب وزارت داخلہ نےانسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ،اسکے بعد آئی جی اسلام آباد کی پھرتیاں سامنے آئیں اور ناکے پر موجود افسران واہلکاروں کوفوری معطل کر دیا گیا ۔اس سے قبل جب انصارالاسلام کے سیکورٹی دستے پارلیمنٹ کی طرف آئے تو انہیں نہ روکا گیا، انصار الاسلام کے رضا کاروں کی گرفتاریوں کے لئے بھاری نفری پارلیمنٹ لاجز پہنچ گئی ہے،

    جمعیت علمائے اسلام کی تنظیم انصار الاسلام فورس نے پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرلیا ہے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے فوری کارروائی کی ہدایت کر دی ہے

    https://twitter.com/ZahidKhanOnline/status/1501934850667737093

    اس حوالے سے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں کسی کو ڈنڈا بردار جتھے لانےکی اجازت نہیں ایسا کرنا بدمعاشی ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں جن کی ڈیوٹی تھی ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی پارلیمنٹ لاجزمیں ایسے ڈنڈا بردار جتھے برداشت نہیں کیےجائیں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ 2 ایم این ایز کی آڑ میں ڈنڈا بردار جھتہ پارلیمنٹ لاجز میں گھس گیا پولیس فورس پہنچ گئی ہے ڈنڈا بردار جتھہ برداشت نہیں کیا جائے گا اپوزیشن کونظرآگیا ہےعدم اعتمادکی تحریک ناکام ہو گی اپوزیشن تحریک کی ناکامی کی وجہ سےایسی حرکتیں کررہی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز پر جمیعت کے غنڈوں کا حملہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے، سپیکر اسمبلی نے اسلام آباد پولیس کو ان جتھوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم دیا ہے انشاللہ قانون کے مطابق ان غنڈوں اور سہولت کاروں سے نبٹا جائیگا

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک عمل ہے۔ ہم تو پہلے کہہ رہے تھے یہ غنڈہ گردی کی جماعتیں ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کے لئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح اتنے لوگ پارلیمنٹ لاجز تک پہنچ گئے۔ یہ سیکورٹی لیپس ہے اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔

    ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پولیس نفری کے ذریعے پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کیا گیا کونسی ایسی فورس ہے جو پارلیمنٹ لاجز کی دو کمروں میں موجود ہوں،ساڑھے 3سال میں عمران خان نے کوئی حربہ نہیں چھوڑا،جنہیں گالیاں دینے کی عادت ہو ان سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی، لاجز سے پولیس کو فوری طور پر ہٹایا جائےاب آپ کے ممبران مہنگائی اور بے روزگاری کو ووٹ نہیں دینگے، ایم این ایز کو تنگ کیا جا رہا ہے،تم ایک مسترد شدہ انسان ہو، تم جلد کی بجائے کل ہی اجلاس بلاؤ، ملکی سالمیت اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والے کو ووٹ نہیں ملے گا،یہ مذاق بند کرو اور پولیس کو واپس بلواؤ،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ رضا کار غیر مسلح ہیں، کسی ایک بھی رضا کار کے ہاتھ میں ڈنڈا نہیں تھا،پولیس پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کر رہی ہے،ہماری جنگ اس سیاسی دہشت گردی کے خلاف ہے، ساڑھے3 سال تک ہم نے ان کے بیانات سن لیے سلیکٹڈ وزیراعظم عدم اعتماد کے ذریعے باہر جائے گا،

    عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کا داخل ہونا اسپیکر کی جانب سے اراکین اسمبلی کے گھروں کی کھلی توہین ہے ، اسپیکر کی مرضی کے بنا پولیس داخل نہیں ہو سکتی وزیر اعظم نے جارح مشیروں کی ایما پر محاذ آرائی کا ایسا سلسلہ شروع کیا ہے کہ اختتام ۱۱۱ بریگیڈ ہی کرے گی (واللہ اعلم)

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں انصار الاسلام فورس سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ملکی سلامتی کے اداروں ، پولیس اور دیگراداروں کی سیکورٹی پریقین نہیں رکھتے وہ پی ٹی آئی کےکنٹرول میں ہے بدنیتی اور برے ارادے کی تقویت نہیں ہونے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی کسی بڑے جلسے میں پولیس پر انحصار نہیں کیا یہ حکومت بدنیتی ہے ہمارے اراکین کیخلاف کچھ کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی ہلچل میں تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں ہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشاورت کا عمل جاری ہے مختلف سوچ کو تقویت دینے کیلئے ملاقاتوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی سلسلے میں ایم کیوایم قیادت بھی تشریف لائی اورمشاورت کی گئی۔

    انصار الاسلام کے ایک رضاکار نے بتایا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ ایم این ایز کو اغوا کر کے انھیں حبس بے جا میں رکھا جا سکتا ہے۔رضاکاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت ہے تو امکان ہے کہ ادارے بھی ان کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں، اسی خدشے کے پیش نظر ہم ایم این ایز کو تحفظ دینے آئے ہیں۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے باغی ٹی وی شدت پسند تنظیم کے خطرناک ارادوں کے بارے میں پہلے ہی انکشاف کرچکا ہے ، باغی ٹی وی نے یہ خبرکچھ دیر پہلے دی تھی کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام نے پارلیمنٹ لاجز کے اندر کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    اس حوالے سے معتبرذرائع سے معلوم ہوا ہےکہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں وزیراعظم عمران خان پر دباو ڈال کراستعفیٰ لیا جائے گا اوریہ شدت پسند گروہ اس وقت تک پارلیمنٹ لاجز سے باہر نہیں نکلے گا جب تک عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے ، یہ بھی امکان ہے کہ اس دوران حکومتی اراکین کو یرغمال بنایا جائے اور پھرمعاملے کو کوئی دوسری شکل دے کرحکومت پر دباوبڑھایا جائے

    تفصیلات کے مطابق حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک عدم اعتماد پر پیش رفت جاری ہے اور اسی سلسلہ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام پارلیمنٹ لاجز کے باہر پہنچی جہاں پر اپوزیشن کے ممبران کو بھرپور سکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر سکیورٹی پر عملدرآمد شروع ہوگا، انصار الاسلام کے رضا کاروں نے پارلیمنٹ لاجز کے باہر مختصر ریہرسل بھی کی۔بعدازاں انصارالاسلام کے رضا کاروں نے پارلیمنٹ لاجز کے اندر کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا کہ عدم اعتماد کی کامیابی تک لاجز میں رہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق انصار الاسلام کا قیام اسی وقت عمل میں آیا تھا جب جمعیت علمائے اسلام معرض وجود میں آئی۔انصار الاسلام میں شامل افراد کی تعداد ملک بھر میں 80 ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس میں شامل افراد نے قانون نافد کرنے والے اداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے پشاور میں مشقیں بھی کی ہیں۔

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا

    لاہور:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا:،اطلاعات کے مطابق ملک میں جاری سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی جس میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کی طرف سے اب بندے پورے کرنے کا سلسلہ جاری ہے

    اسی تناظر میں پاکستان ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچے جہاں پر دونوں کی ملاقات ہوئی۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حضرت جی چوہدری جس کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اس کو نبھاتے بھی ہیں ، ہم عمران خان کے اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا چکمہ دینے کی بھی کوشش کی تو چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ ہمارا اور ہمارے اتحادیوں کا معاملہ ہے

    اس موقع پر یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اگرہماری حمایت کرتے ہیں تو ہم عمران خان کو ہٹاسکتے ہیں ،

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہے کہ فضل الرحمن کے ان جملوں سے دعووں کی قلعی کھل کرسامنے آگئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن کو حکومتی اتحاد کے 25 ارکان کی خاموش حمایت حاصل ہے ،سوشل میڈیا پراس حوالے سے یہ خیالات پیش کیے جارہے ہیں کہ اگراپوزیشن کے پاس 25 ارکان ہیں تو پھرپاکستان مسلم لیگ کی بار بار کیوں منتیں کی جارہی ہیں ،اس سے معلوم ہوتا ہے اپوزیشن حقائق کو صیح بیان نہیں کررہی

    قبل ازیں متحدہ اپوزیشن کے قائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف پر امید ہیں عدم اعتماد کامیاب ہو گی، 172 ارکان سے زیادہ ووٹ لیں گے۔

    اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور مسلم لیگ(ن) اور ہمارے ساتھ منسلک اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ہم نے مل کر مشاورت کی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ آج ہم تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو خفیہ رکھا تھا اور اس کی سب نے پاسداری کی، آج تمام جماعتوں نے ریکویزیشن اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے اراکین سے دستخط لیے اور آج ہم نے اس کو جمع کرا دیا ہے۔

    ان کا کہناتھا کہ پونے چار سال بعد اس تحریک عدم اعتماد کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ اس سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ معاشی، سماجی، معاشرتی حوالے سے کردیا ہے اس کی نظیر پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

  • عدم اعتماد کے پچیھےکون کون؟علمائے دین خیرکا سبب ہوتے ہیں:وزیراعظم کا میلسی میں خطاب

    عدم اعتماد کے پچیھےکون کون؟علمائے دین خیرکا سبب ہوتے ہیں:وزیراعظم کا میلسی میں خطاب

    میلسی : عدم اعتماد کے پچیھےکون کون؟علمائے دین خیرکا سبب ہوتے ہیں:وزیراعظم کا میلسی میں خطاب،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ چار ڈاکو ہمارے خلاف عدم اعتماد لارہے ہیں، جو بھی یہ کریں گے، اس کے لیے میں تیار ہوں، لیکن سوال پوچھتا ہوں کہ اگر آپ کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو پھر آپ اس کے لیے تیار ہیں جو میں آپ کے ساتھ کروں گا۔

    میلسی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آصف زرداری سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرتا تھا، کرپشن پر آصف زرداری کو نواز شریف نے دو مرتبہ جیل میں ڈالا اور حدیبیبہ پیپر ملز کا کیس زرداری نے شریفوں پر بنایا۔

     

     

    ’فضل الرحمان کو کبھی مولانا نہیں کہوں گا‘
    اپنے خطاب میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو ’فضلو‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں اس کو کبھی مولانا نہیں کہوں گا، مولانا پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں، جن کی ہم عزت کرتے ہیں۔علمائے دین خیر کا سبب بنتے ہیں لیکن فضل الرحمن شرکا مجموعہ ہے

     

    عمران خان نے سربراہ پی ڈی ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پیسے نہیں بناتا بلکہ بلیک میل کرتا ہے۔

    انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’یہ بتاؤ کہ تمہیں اور تہمارے ڈاکوؤں کے ٹولے کے ہوتے ہوئے کسی کو پاکستان میں سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘

    ’ماضی میں جیل سے جھوٹ بول کر نواز شریف بھاگا تھا‘
    عمران خان نے کہا کہ مجرم نمبر ون نواز شریف، جو جھوٹ کر بالی ووڈ کی ایکٹنگ کر کے ملک سے باہر چلا گیا، کبھی گیدڑ بھی لینڈ بن سکتا ہے، جو دم دبا کر ملک سے بھاگ جائے، ماضی میں اٹک جیل سے جھوٹ بول کر نواز شریف بھاگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کا تین مرتبہ کا وزیر اعظم اور اس کے بچے اربوں روپے کے محل میں رہتے ہیں، جب پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں سے آیا تو کہتے ہیں کہ ہم تو ملک سے باہر رہتے ہیں، یہ لوگ صرف ملک کو لوٹنے کے لیے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ دوسرا مجرم ہے شہباز شریف، اگر شہباز شریف کا پتہ کرنا ہے تو مقصود چپڑاسی کو لے آئیں جس کے اکاؤنٹ میں 375 کروڑ روپے آئے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ان لوگوں نے کھیل لگایا ہوا ہے، بھگوڑا اور اس کی بیٹی فوج کو برا بھلا کہتے ہیں اور شہباز شریف کو جو بھی بوٹ نظر آتا ہے اس بوٹ کی پالش شروع کردیا کرتا ہے، شہباز شریف ڈرا ہوا ہے کہ اسے جیل جانا ہے اس لیے جلدی جلدی عدم اعتماد میں لگا ہوا ہے۔

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں

    اسلام آباد :مولوی صاحب مروا دتاجےناں:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد لانے والوں کی ایک دوسرے پربداعتمادیاں سامنےآگئیں،اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں شہباز شریف نے مسلم لیگ (ق) کے بارے میں شکوے شکایات کیں۔

    تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران شہبازشریف مسلسل رابطےمیں رہے اور نوازشریف کوبھی ملاقات کےدوران آگاہ کیاجاتارہا۔

    ذرائع نے بتایا کہ ق لیگ کےحوالے سے ن لیگ کے تحفظات برقرار ہے ، ملاقات کے دوران شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان سے شکوے شکایات کیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ مولانا آپ کےکہنےپرپرویزالٰہی کوکھانےکی دعوت دی لیکن پرویزالٰہی نے کھانے کی دعوت پر معذرت کرلی، جس پرمولانا نے جواب میں کہا کہ علم ہونے پر چوہدری شجاعت کے بیٹے کو فون کیا۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے دیگرسیاسی رہنماؤں سےرابطے فیصلہ کیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگرجماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی کوشش کی جائے گی۔

    یاد رہے گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری سے طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ آصف زرداری کیساتھ عدم اعتماد پر مشاورت ہوئی، کل رات کوقانونی ماہرین کی ملاقات بھی ہوچکی ہے، طے ہوا ہے تحریک عدم اعتمادعمران خان کےخلاف لائی جائےگی۔لیکن یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں اتحاد نہیں‌ رہا اور وہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں بڑے بڑے عہدوں اور وزارتوں‌ کا مطالبہ کررہے ہیں جو کہ پورے نہیں‌ ہوسکتے

  • فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    اسلام آباد: فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت ،اطلاعات کے مطابق زرداری، فضل الرحمان اور نواز شریف نے عدم اعتماد پر حتمی مشاورت مکمل کرلی

    پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنےکےطریقہ کار اور اس کے لیے مناسب وقت کو حتمی شکل دینے پر غورکیا گیا، اس دوران صدر ن لیگ شہباز شریف سے بھی ٹیلی فونک مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران لندن میں موجود مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا گیا جس میں تینوں رہنماؤں نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔

    مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    اعلامیےکے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور عدم اعتماد کی تحریک پر مشاورت ہوئی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ملاقات کے دوران بذریعہ فون تمام مشاورت میں شریک رہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، عدم اعتماد سے متعلق قانونی ماہرین کی رائے بھی آچکی ہے،عدم اعتماد کا ڈرافٹ تیار ہوچکا ہے، جس پر ملاقات میں مشاورت ہوئی، عدم اعتماد کی حتمی تاریخ کا تعین شہباز شریف کی علالت کے باعث آئندہ ایک دو روز میں ہوگا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں ملک معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس کو بحال کریں گے۔

  • اگلے48گھنٹےاہم:عمران خان کاجانا یقینی:کپتان کےجانے سےبہارآئےیانہ آئے:یہ ہمارا مسئلہ نہیں:فضل الرحمن

    اگلے48گھنٹےاہم:عمران خان کاجانا یقینی:کپتان کےجانے سےبہارآئےیانہ آئے:یہ ہمارا مسئلہ نہیں:فضل الرحمن

    اسلام آباد:اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں :عمران خان کا جانا یقینی ہے:اس کے جانے سے بہارآئے نہ آئے:ہمارا مسئلہ نہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کسے کیا ملے گا؟

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے، ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے، اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی۔ ہمارا انحصار انفرادی شخصیات پر ہے۔ ہمارے پاس تحریک کی کامیابی کے لیے نمبرز پورے ہیں، امپائر بظاہر نیوٹرل نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے امپائر سے کوئی مدد نہیں لینی۔ ہم نے امپائر سے حکومت کی سپورٹ ختم کرانا تھی۔ اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کر رہی ہیں کیونکہ اب اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت کامن ہو گئی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے۔ حکومتی اتحادیوں سے بھی اپوزیشن جماعتیں رابطے میں ہیں۔