Baaghi TV

Tag: فضل الرحمن

  • پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے بدلےعمران خان سے جان چھڑوا دیں:اپوزیشن کی چوہدری پرویزالٰہی کوپیشکش

    پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے بدلےعمران خان سے جان چھڑوا دیں:اپوزیشن کی چوہدری پرویزالٰہی کوپیشکش

    لاہور:پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے بدلےعمران خان سے جان چھڑوا دیں:اپوزیشن کی چوہدری پرویزالٰہی کوپیشکش،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چوہدری برادران کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

    مولانا فضل الرحمن اور چوہدری برادران کی ملاقات 1 گھنٹہ 10 منٹ جاری رہی جس میں مولانا نے آصف علی زرداری اور شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات سے متعلق اعتماد میں لیا۔مولانا نے چوہدری برادران کو یقین دہانی کروائی کہ آصف زرداری اور میاں شہباز شریف سے متعلق جو تحفظات ہیں وہ دور کر دیئے گئے ہیں۔

    اپوزیشن کی چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کی وزارت اعلی کا امیدوار نامزد کرنے پر مشاورت کی گئی اور اس دوران چوہدری برادران کو بڑے بڑے سبز باغ بھی دکھائے گئے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزرات اعلی پرویز الہی کو دینے کی صورت میں ق لیگ مرکز اورصوبمیں اپوزیشن کاساتھ دے گی ،پنجاب کی وزارت اعلی پر ن لیگ نےمیاں نواز شریف کو حتمی فیصلےکااختیار دے دیا۔

    اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے یقین دہانی کہ آپ کے تحفظات سے حوالہ سے آصف علی زرداری آپکو آج حتمی صورتحال سے آگاہ کر دیں گے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی سے تنگ ہیں اگراس حکومت کو رخصت نہ کیا گیا تو ملک وقوم کا مزید نقصان ہوگا۔

    اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے گھر اپوزیشن کے بڑوں کی بیٹھک ہوئی جس میں سابق صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

    ملاقات میں اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں آصف زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم پیش کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم نے پہلے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاقِ کر لیا جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد بعد میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی    :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    لاہور:نہ جی بھرکےدیکھا نہ کچھ بات کی :بڑی آرزو تھی ملاقات کی:شہبازشریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات بے نتیجہ ختم ،اطلاعات کے مطابق بلاول ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ختم ہو گئی، آصف زرداری سےملاقات کےبعد اپوزیشن رہنما واپس روانہ ہو گئے۔

    ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے بلاول ہاؤس میں آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں احسن اقبال، راناثنااللہ، سعد رفیق شامل تھے جب کہ جے یوآئی کے اکرم درانی اور مولانااسعدنے بھی شرکت کی۔

    آصف زرداری نےشہبازشریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ عشائیے میں شرکت کے بعد جےیوآئی(ف)کا وفدبھی واپس روانہ ہو گیا۔اہم ملاقات کی کوریج کے لیے شام سے ہی بلاول ہاؤس کے باہر میڈیا کی ٹیمیں موجود تھیں تاہم تمام اپوزیشن رہنما میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانافضل الرحمان کی عدم موجودگی کے باعث ملاقات بےنتیجہ رہی اسی لیے تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی فائنل نہ ہوسکی۔ملاقات میں شہبازشریف کی رہائش گاہ پرکل دوبارہ بیٹھک پراتفاق کیاگیا ہے۔ کل ہونےوالی ملاقات میں مولانافضل الرحمان بھی شرکت کریں گے۔

    ادھر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کافی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور خاص طور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیاسی رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس میں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پیپلزپارٹی سے لانک مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ لانک مارچ سے اپوزیشن تقسیم ہوگی۔

  • ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کا دوسرانام ہے :مولانا فضل الرحمٰن

    ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کا دوسرانام ہے :مولانا فضل الرحمٰن

    ملک میں صدارتی نظام آرہا ہے؟صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ سمجھیں گے:اطلاعات کےمطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے اب ملک میں صدارتی نطام آنے والا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگرصدارتی نطام لایا گیا تو اسے ڈکٹیٹرشپ ہی سمجھیں گے

    سربراہ پی ڈی ایم کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے وسائل پر صوبے کے بچوں کا حق ہے، اگر کل سرائیکی صوبہ بنتا ہے تو پھرسرائیکی بچوں کا حق ہوگا، پارلیمانی طرز حکومت کا مطلب کوئی صدارتی نظام نہیں چلے گا، صدارتی نظام ڈکٹیٹرشپ کی علامت ہے، ایوب خان اور ضیا الحق کے صدارتی نطام نے نقصان پہنچایا ، آج پھر صدارتی نظام کی باتیں میثاق ملی کے خاتمے کی باتیں ہیں، ایسی تجاویز پاکستان کوایک بار پھر دولخت کرنے کی سازش نظر آتی ہیں۔

    لیہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئےپی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آئین کو کہیں سے بھی چھیڑا گیا تو ان کو پاکستان توڑنے کا آج سے ذمہ دارقراردیتے ہیں، آئین کو چھیڑنا ملک کو توڑنے کے مترادف ہوگا، اس ملک کے ہم مالک ہیں اور مالک قبضہ چھڑوانا جانتے ہیں، تبدیلی کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، جس کشتی کو انہوں نے ڈبویا اس کو ساحل پر لانا چیلنج ہے ،

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 23 مارچ کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے، آئین کا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے، بنیادی ڈھانچے کے چار عناصر ہیں، اسلام آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے، دوسرا عنصرجمہوریت ہے، اس کا مطلب پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ نہیں آسکتی، کوئی طالع آزما پاکستان کے اقتدار پر قبضہ نہیں کرسکتا، آئین کا تیسرا عنصر ملک کا وفاقی نظام ہے جبکہ چوتھا عنصر پارلیمانی طرز حکومت ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس کی تھی، آئین کہتا ہے قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جاسکتا، مسئلہ آئین نہیں، بڑی مشکل آئین پرعملدرآمد نہ کرنا ہے، پارلیمنٹ ایسے لوگوں سے بھر دی جاتی ہے جن کو قرآن وسنت سے دلچسپی نہیں اور ہماری اسٹیبشلمنٹ بھی پاور پالیٹیکس کرتی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ جعلی اسمبلی ہے اس کے اندر جمہوریت کی روح نہیں ہے، جعلی اسمبلی نے فیٹیف کے دباؤ پرقانون سازی کرکے پاکستان کوغلام بنا دیا، نا اہل حکومت سال میں چارمرتبہ بجٹ پیش کرتی ہے،

  • مولانا فضل الرحمن کی اعلیٰ ظرفی ! اپنے تمام مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے” کہہ دیا

    مولانا فضل الرحمن کی اعلیٰ ظرفی ! اپنے تمام مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے” کہہ دیا

    ڈیرہ اسماعیل خان:مولانا فضل الرحمن کی اعلیٰ ظرفی ! اپنے مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے” کہہ دیا ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے”کہہ کراعلیٰ ظرفی کا تیر چلا دیا

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ پی ڈی ایم کا مقابلہ نااہل حکمرانوں سے ہے، اب یہ ملک میں نہیں ٹھہر سکتے، ہم ان کو بھگائیں گے اور عوام کی نمائندہ حکومت بھی لائیں گے۔ جس گھرانے میں پیدا ہوا گلی محلوں کے لفنگوں کو میں جواب دے نہیں سکتا، صوبہ کے بلدیاتی انتخابات کو دومراحل میں کراکے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کی سازش کی گئی۔

    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نااہلوں کا مقابلہ کر رہے ہیں،عمران خان واقعی باہر کا ایجنڈالیکر آیا، اسکے حق میں پروپیگنڈا کرنے والے آج شرمندہ ہیں ، اب یہ ملک میں نہیں ٹھہر سکتے انکو ہم بھگائیں گے، جعلی وزیر اعظم کے چین میں ہوتے ہوئے بھی چین کی قیادت نے وڈیو لنک سے بات کی اور براہ راست ملاقات نہیں کی۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بلاول، زرداری سے ملاقات پر مجھے اعتماد میں لیا، پی ڈی ایم کبھی بھی صدارتی نظام کی حمایت نہیں کرے گی۔

    قبل ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میانوالی کے علاقے کندیاں میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، وہ اس حیثیت سے دیگر جماعتوں سے مل سکتے ہیں، کے پی الیکش میں کامیابی حاصل کر کے تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا جمعیت پی ٹی آئی کی ناجائز حکومت کو تسلیم نہیں کرتی، ہم جلد عوام کو اس ناجائر حکومت سے چھٹکارا دلوائیں گے، پارلیمنٹ عوام کا عہدہ ہے، ان کے بغیر آمریت ہی ہے۔

  • مولانا فضل الرحمن کل کیا کریں گے:ترجمان نے تفصیلات جاری کردیں

    مولانا فضل الرحمن کل کیا کریں گے:ترجمان نے تفصیلات جاری کردیں

    بنوں :مولانا فضل الرحمن کل کیا کریں گے:ترجمان نے تفصیلات جاری کردیں،اطلاعات کے مطابق اس سال مولانا فضل الرحمن کی طرف سے سی پیک اور 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے شیڈول جاری کردیا گیا ہے

    ترجمان جےیوآئی اسلم غوری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جےیوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان 5 فروری کو دن 10 بجے ابپارہ چوک میں خطاب کریں گے،مولانا فضل الرحمان آبپارہ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے، مولانا فضل الرحمان آبپارہ سے قافلہ کی قیادت کرتے ہوئے ڈی آئی خان کیلئے روانہ ہوں گے ،

    ترجمان جےیوآئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان موٹروے پر ہکلہ کے مقام پر سی پیک کا عوامی افتتاح کریں گے ،مولانا فضل الرحمان دن 12 بجے ہکلہ میں کارکنان سے خطاب کریں گے،پشاور، اٹک، ٹیکسلا، صوابی کے قافلے ہکلہ سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں ڈی آئی خان روانہ ہوں گے ،مولانا فضل الرحمان کا پنڈی گھیپ، عیسی خیل، میانوالی، لکی مروت، بنوں کے کارکنان کنڈل کے مقام پر سی پیک پر استقبال ہوگا،مولانا فضل الرحمان ڈی آئی خان پہنچ کر یارک کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کریں گے،

  • مولانا فضل الرحمن دن کوخواب دیکھنے لگے

    مولانا فضل الرحمن دن کوخواب دیکھنے لگے

    اسلام آباد:مولانا فضل الرحمن دن کوخواب دیکھنے لگے،اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان وقت سے پہلے سیاسی خواب دیکھنے لگے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مولانا حسب عادت بلوچستان میں آئندہ حکومت سازی کیلئے جوڑتوڑ کرنے پرلگ گئے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان سے سابق وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی نے ملاقات کی ہے اور مولانا کو بلوچستان میں حکومت حاصل کرنے کے گُر بھی بتائے ہیں

    ذرائع کےمطابق مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں مولانا عبدالغفورحیدری، مولانا عبدالواسع، آغا محمود شاہ، کامران مرتضی شریک ہوئے ، اس ملاقات میں اپوزیشن لیڈر کے پی کے اسمبلی اکرم خان درانی ایم این اے مولانا کمال الدین بھی شریک ہوئے

    ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پارٹی میں شمولیت کی دعوت کو قبول کرلیا، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ نواب اسلم رئیسانی آئندہ چند روز میں بلوچستان میں بڑا جلسہ کرکے جےیوآئی میں شامل ہوں گے

    اس حوالےسے مزید معلوم ہوا ہے کہ اسلم رئیسانی نے کو یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان میں آئندہ جےیوآئی حکومت بنائے گی، اسلم رئیسانی نے اس وقت مولانا کو اپنی شمولیت کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ جےیوآئی بلوچستان کی بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے،

    اسلم ریئسانی سے ملاقات کےدوران مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ لوگ نا اہل حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں،نواب صاحب آپکی شمولیت سے جےیوآئی بلوچستان میں مزید مضبوط ہوگی،

  • شہبازشریف نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ 23 مارچ دما دم مست قلندرہوجائے:مولانا فضل الرحمن

    شہبازشریف نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ 23 مارچ دما دم مست قلندرہوجائے:مولانا فضل الرحمن

    پشاور:شہبازشریف نے میری ذمہ داری لگائی ہے کہ 23 مارچ دما دم مست قلندرہوجائے:مولانا فضل الرحمن نے اپنی نیت ظاہر کردی،اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نوازشریف کا وطن، ن لیگی قائد واپس آئیں، موجودہ حکومت ناجائز اور نااہل ہے ، عوام مسائل کے گرداب میں دھنس گئے ، مہنگائی سے جینا دوبھر ہوگیا ہے اور23مارچ کو شروع ہونے والا مارچ حکمرانوں کی رخصتی کا آغاز ہوگا۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے منی بجٹ پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ منی بجٹ پر قومی اسمبلی میں کوئی بحث نہیں ہوئی،ایک نیا بل تیار کیا جارہا ہے جس میں اسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کے کنٹرول میں چلا جائے جائے،حکومت اب بھی جو قرضے لے رہی ہے وہ کمرشل بنکوں سے لے رہی ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 23 مارچ کو اسلام اباد کی طرف مارچ کریں گے ، اس حوالے سے پنجاب میں شہباز شریف اور کے پی میری ذمہ داری لگائی گئی، مہنگائی مارچ کی تیاریاں جاری ہیں ، ناجائز اور نااہل حکومت نے ملکی معیشت تباہ کر دی ہے ، اس صورتحال سے ملک کو نکالنا قومی فریضہ ہے ، بلدیاتی الیکشن میں حکمران جماعت کو شکست بھی اپوزیشن کی فتح ہے ، ثابت ہو گیا کہ عوام کو حکومت پر اعتماد نہیں ہے ، اگلا مرحلہ حکمران جماعت کے لیے اس سے بھی برا ہوگا۔

    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پہلے دھرنے اور اب میں فرق ہے ، پی پی پی اور اے این پی کو کبھی بھی اپنا مخالف نہیں سمجھا ، حکمران خوش نا رہیں کہ اپوزیشن آپس میں لڑ رہے ہیں ہم دیگر پارٹیوں کو بھی اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں ، ہم ملک میں رہتے ہوئے خود مختار ہیں ، نواز شریف واپس آئیں ان کا وطن ہے ، افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اس کے لیے ہمیں بھی کوشش کرنی ہوگی۔

  • ڈر ہے کہ عمران خان دھاندلی سے جیت جائے گا،اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ کے مخالف ہیں:مولانا فضل الرحمن

    ڈر ہے کہ عمران خان دھاندلی سے جیت جائے گا،اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ کے مخالف ہیں:مولانا فضل الرحمن

    لاڑکانہ:ڈر ہے کہ عمران خان دھاندلی سے جیت جائے گا،اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ کے مخالف ہیں:,اطلاعات کے مطابق آج لاڑکانہ میں حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ چیلنج یہ نہیں عمران خان نے معیشت تباہ کی ہے بلکہ چیلنج یہ ہے بہتری کون لائے گا۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ڈر ہےکہ عمران خان دھاندلی سے جیت جائےگا اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ کے خلاف ہوں

    لاڑکانہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ یہ نیب میرا احتساب کرے گا، نیب کے ذریعے سزا دینا بھی پاکستان کی سیاست کا حصہ تھا، اسی لیے توہم نے کہا تھا ایک ہم ہیں جسے نیب نہیں چھیڑسکتا ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر صوبے کے لوگ اپنے وسائل کے مالک ہیں، کوئی مائی کا لال کسی دوسرے کے حق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا، آج پاکستان کی آزادی چھینی جارہی ہے، ملک کا سٹیٹ بینک جعلی حکومت نے براہ راست آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اگر ایسا ہوا تو وہ ملک کے بجائے ڈائریکٹ عالمی مالیاتی ادارے کو جوابدہ ہوگا جو انتہائی غلط ہے،

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ غلطی سلطنت عثمانیہ نے کی جس کے باعث وہ تباہ ہوا، اس وقت پاکستان کے بقاء کو داو پر لگایا جارہا ہے۔ ہم 22 کروڑعوام کوکسی بین الاقوامی قوت کا غلام نہیں بننے دیں گے، ہمارے مالیاتی ادارے آزاد ہونے چاہئیں، جس سمت میں جارہے ہیں اس سمت کوتبدیل کرنا ہے۔ ملک تب رہ سکتا ہے جب سب آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزاریں، ہمارے حقوق کا فیصلہ آئین کی روح سے ہو گا۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سندھ میں تیس سال پہلے یہ شعورنہیں تھا، جمعیت علما کی مسلسل محنتوں نے ایک نیا شعوردیا ہے، اسی ہمت اورعزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ ہم نے ڈاکٹر خالد سومرو کا راستہ چھوڑا نہیں، یہ سندھ ڈاکٹر خالد کے قاتلوں کا نہیں، اس کے بھائیوں کا ہے، وطن عزیز کے لیے ہم نے پہلے بھی قربانیاں دیں اور اب بھی عزم کرنا ہے کہ کسی بین الاقوامی قوت کا ہمیں ساتھی نہیں بننا، پاکستان کو حریت اور آزادی کی شناخت دینی ہے، مسلط افراد کو شکست دے چکے آپ فاتح اور حکمران شکست خوردہ ہیں۔

  • مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں
    حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا
    آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں
    آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے
    پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟ اگر آپ واقعی اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام
    #قصوریات