Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    سعودی عرب اور متعدد دیگر ممالک نے فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کنٹرول بڑھانے سے متعلق حالیہ فیصلوں کی سخت مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان پر سعودی عرب، فلسطین، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئی لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لکسمبرگ، ناروے، پرتگال، سلووینیا، اسپین اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے، جبکہ عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرلز بھی اس میں شامل تھے۔

    پیر کے روز جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں بہت وسیع نوعیت کی ہیں، ان کے تحت فلسطین کی زمین کو نام نہاد اسرائیل کی ریاستی زمین قرار دیا جا رہا ہے ان اقدامات کے ذریعے اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیزکیاجا رہا ہے، اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جارہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریاں اور انہیں مزید توسیع دینے کے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں اور 2024 میں عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ فیصلے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور عملی طور پر الحاق (ڈی فیکٹو انضمام) کی طرف پیش رفت کا حصہ ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے اسرائیل کی آبادکاری پالیسی میں غیر معمولی تیزی، خصوصاً E1 منصوبے کی منظوری اور اس کے ٹینڈر کے اجرا، فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ممالک نے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی آبادیاتی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے الحاق کی مخالفت کرتے ہیں،وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو فوری طور پر روکے اور ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ مغربی کنارے کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا۔

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    بیان میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تناظر میں یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیااس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا اور یروشلم میں بار بار اسٹیٹس کو کی خلاف ورزیوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

    ممالک نے مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل کے عزم کا اعادہ کیا، جو عرب امن منصوبے، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اسرائیل فلسطین تنازع کا خاتمہ علاقائی امن، استحکام اور انضمام کے لیے ناگزیر ہے، اور ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے کے عوام اور ریاستوں کے درمیان بقائے باہمی کو ممکن بنا سکتا ہے۔

    جرمنی میں افغان شہری کا چاقو سے حملہ، متعدد افراد

    وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے واجب الادا ٹیکس محصولات فوری طور پر جاری کرےیہ رقوم فلسطینی اتھارٹی کو پیرس پروٹوکول کے مطابق منتقل کی جانی چاہئیں اور یہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ غیر قانونی آبادکاریوں کے پھیلاؤ، جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

  • اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

    اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی نمازیوں کے لیے جمعہ کی نماز کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں حاضری محدود کرتے ہوئے تعداد 10 ہزار مقرر کر دی ہے یہ پابندیاں رمضان المبارک کے آغاز پر نافذ کی گئی ہیں۔

    اسرائیلی ادارے کوگات کے بیان کے مطابق صرف وہی فلسطینی نمازی داخل ہو سکیں گے جو پیشگی خصوصی اجازت نامہ حاصل کریں گے مردوں کے لیے کم از کم عمر 55 سال، خواتین کے لیے 50 سال جبکہ 12 سال تک کے بچوں کو قریبی رشتہ دار کے ساتھ آنے کی اجازت ہوگی، یہ پابندیاں صرف مقبو ضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوں گی، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لیا تھا تمام اجازت نامے سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوں گے اور واپسی پر ڈیجیٹل اندراج بھی لازم ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ محمد العباسی کو احاطہ مسجد سے گرفتار کر لیا فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتاری کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری اور نمازیوں پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

  • غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ میں جاری جنگ میں امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف ہو اہے-

    رپورٹ کے مطابق، غزہ میں امریکی ساختہ ممنوعہ تھرموبیرک بموں کے استعمال کے نتیجے میں تقریباً 3,000 فلسطینی فضا میں تحلیل ہو گئے، جن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا ،رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مہلک ہتھیار امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہیں،طبی اور دفاعی ماہرین نے ان بموں کی تباہ کاریوں کی جو تفصیلات بتائی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں-

    ان بموں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اس قدر شدید تپش میں انسانی جسم چند سیکنڈز کے اندر براہِ راست راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہداء کی شناخت یا باقیات کا ملنا ناممکن ہو جاتا ہے یہ بم ارد گرد کی تمام آکسیجن کھینچ کر ایک ‘ویکیوم’ پیدا کر دیتے ہیں، جس سے عمارتوں کے اندر موجود لوگ بھی بچ نہیں پاتے۔

    ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس انکشاف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صدی کا بدترین جنگی جرم قرار دیا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسے ادارے غزہ کے اس امتحان میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

  • اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے-

    حکام کے مطابق یہ حملے مختلف مقامات پر کیے گئے اور شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہےہلاکتوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد بھی شامل ہے حماس نے اسرائیل کی کارروائیوں کو ’جرائم‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مزید انسانی نقصان روکا جا سکے۔

    اس سے قبل اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی کے بعد غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی دیکھی گئی تھی، لیکن تازہ حملوں کے بعد صورتحال دوبارہ تشویشناک ہو گئی ہےاسرائیل نے ان حملوں کو اپنی ’قومی سلامتی اور میزائل حملوں کے ردعمل‘ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں شہریوں کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔

    اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔

  • جنگ بندی کی خلاف ورزی،  اسرائیل کی غزہ میں فضائی حملے،6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید

    جنگ بندی کی خلاف ورزی، اسرائیل کی غزہ میں فضائی حملے،6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے، آج ہونے والے حملوں میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے غزہ سٹی اور خان یونس میں فضائی حملے کیے جن میں 6 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہےکہ اسرائیلی طیاروں نے حماس اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنایا، اس کے علاوہ اسلحےکے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت نہیں پیش کیےگئے۔

    دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانےکی مذمت کرتے ہوئےکہا ہےکہ اسرائیل کے بے بنیاد اور کھوکھلے دعوے امن معاہدے کے ثالثوں، اسرائیل کے ضامنوں او ر پیس کونسل میں شامل تمام فریقین کی توہین ہے۔

    ٹرمپ نے ایران کو ’ڈیڈ لائن‘ دیدی،امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات پہنچ گیا

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔

    امریکا و اسرائیل کی غلطی سے پورا خطہ خطرے میں پڑ سکتا ہے، ایرانی آرمی چیف

  • مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی-

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے،قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے یہودیوں کی دربدری کی رپورٹ مرتب کی تھی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، انہوں نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فلسطینی تو شامل نہیں لیکن نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دیکھنا چاہیے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟

  • معصوم فلسطینیوں کا شہید کرنیوالے اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض میں اضافہ

    معصوم فلسطینیوں کا شہید کرنیوالے اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض میں اضافہ

    غزہ میں معصوم شہریوں کا خون بہانے والے اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل، خاص طور پر پی ٹی ایس ڈی اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی وزارت اور طبی رپورٹس کے مطابق غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے فوجیوں میں ذہنی و نفسیاتی امراض کی تعداد نمایاں طور پر بڑھی ہے 60 فیصد سے زیادہ زخمی فوجیوں میں ذہنی صدمے کی علامات پائی گئیں ایک تحقیق میں 12 فیصد ریزرو فوجیوں نے پی ٹی ایس ڈی کی علامات کی اطلاع دی جو قبل از جنگ کی سطح سے بہت زیادہ ہے۔

    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ

    بڑے پیمانے پر 80,000 سے زائد فوجیوں کو جنگ کے بعد ذہنی صحت کے مسائل کے باعث علاج یا نگرانی کی ضرورت پڑی علاوہ ازیں خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ماہرین نفیسات کہتے ہیں کہ جنگی تشدد، خوف، ساتھیوں کی موت اور مشن کے دوران انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا مشاہدہ مجرمانہ عمل یا تشدد سے زیادہ نفسیاتی صدمہ پیدا کرتا ہے۔

    انڈونیشیا کا سمندری نگرانی پر مامور طیارہ لاپتہ

  • غزہ بورڈ آف پیس میں کون کونسے اراکین شامل ؟نام سامنے آگئے

    غزہ بورڈ آف پیس میں کون کونسے اراکین شامل ؟نام سامنے آگئے

    وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے ، وزیرخارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں۔

    آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گےاس کے علاوہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

    کرکٹ کی تاریخ کا 253 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    غزہ میں ‘بورڈ آف پیس’ کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور نظم و حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

    انڈر19 ورلڈکپ :بھارتی کپتان نے بنگلادیشی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

  • پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے،دفتر خارجہ

    پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے،دفتر خارجہ

    پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ فلسطین ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق قائم ہو اور اس کا دارالحکومت الاقصیٰ ہو۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں اپنے رفقا سے ملاقاتوں میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات کو اجاگر کیا انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ازبکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے بھی مذاکرات کیے اس دوران انہوں نے نئے دفتر کی عمارت پر پاکستانی پرچم بھی لہرایا اور رِبن کٹنگ کے ذریعے عمارت کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا، جس کے بعد سیاہ اور سبز درختوں کی پودے لگانے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔

    نائب وزیراعظم نے اس موقع پر سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے بریفنگ میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

  • حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    غزہ:فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے،تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کر دیں۔

    خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے،اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی اس منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی یہ اتفاق 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی اجلاس میں طے پایا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔