Baaghi TV

Tag: فلسطینی ریاست

  • فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، حماس کی کوئی گنجائش نہیں،امریکی صدر

    فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، حماس کی کوئی گنجائش نہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے لیکن حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کر کے خوشی محسوس کر رہا ہوں، سال پہلے امریکا کی حالت بری تھی لیکن میری قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ آج امریکا میں مہنگائی کو شکست دی جا چکی ہے، معیشت مضبوط ہے، فوج مضبوط ہے اور عالمی سطح پر نئی دوستیاں قائم ہو رہی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے 7 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرائی، اسرائیل اور ایران کی جنگ بھی روکی۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات چاہتا ہوں، لیکن سوچتا ہوں ہمیں اقوام متحدہ سے کیا ملا؟ امریکا اپنی خود مختاری اور سلامتی کا بھرپور دفاع کرے گا، غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو جیل جانا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اب ہونی چاہیے، فلسطینی ریاست قائم کی جائے مگر حماس امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، حماس اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے، فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے انعام ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی اثاثوں کو امریکی جہازوں نے کامیابی سے نشانہ بنایا، ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔ یوکرین میں اموات روکنے کی کوشش کر رہا ہوں، پیوٹن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں مگر بھارت روسی تیل خرید کر پیوٹن کو مضبوط کر رہا ہے، روس سے مصنوعات کی خریداری بند ہونی چاہیے۔

    ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اہم باتیں کیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے نیو یارک میں ًٰ گفتگو کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ انھوں نے کئی ممالک کے درمیان جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ بند کرانے میں بھی ٹرمپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا اس کلیدی کردار پر امریکی صدر کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    امریکا: سیکریٹ سروس کا بڑا ایکشن، ایک لاکھ سے زائد سم کارڈز کا نیٹ ورک تباہ

    ایشیا کپ ٹی20: سری لنکا نے پاکستان کو 134 رنز کا ہدف دے دیا

    مستونگ میں دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، 4 زخمی

  • امریکا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو نمائشی اقدام قرار دیدیا

    امریکا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو نمائشی اقدام قرار دیدیا

    واشنگٹن: امریکا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات کو نمائشی قرار دے دیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہے ہماری ترجیح نمائشی اعلانات نہیں بلکہ سنجیدہ سفارتکاری ہے اور امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی ہماری ترجیح ہےخطے میں امن وخوشحالی صرف حماس کے بغیر ممکن ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اس اقدام کو ’دہشت گردی کے لیے غیر معمولی انعام‘ قرار دیا ہے،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ہمیں اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر اس پروپیگنڈے اور فلسطینی ریاست کے مطالبے کے خلاف لڑنا ہوگا، کیونکہ یہ اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈالنے اور دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کے بعد آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے بڑے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا،یہ فیصلہ 2 ریاستی حل کے حق میں عالمی کوششوں کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ مستقبل کی فلسطینی حکومت یا سیکیورٹی ڈھانچے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے حماس کے رہنماؤں پر نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا،کینیڈین وزیراعظم مارک کرنی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت شعوری طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، اسی لیے کینیڈا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا،پرتگال کے وزیرِ خارجہ پاؤلو رینجل کے مطابق فلسطین کو تسلیم کرنا ان کی مستقل اور دیرینہ پالیسی ہے، جبکہ آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت کا حصہ ہے۔

  • اسرائیل نے عرب وزرائے خارجہ کا مغربی کنارے کا دورہ روک دیا

    اسرائیل نے عرب وزرائے خارجہ کا مغربی کنارے کا دورہ روک دیا

    اسرائیل نے فلسطینی صدر کی دعوت پر مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کا دورہ کرنے والے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو روک دیا ہے، جس کے بعد یہ اہم سفارتی دورہ ملتوی کر دیا گیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو اتوار کو مغربی کنارے کا دورہ کرنا تھا تاکہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی جا سکے، تاہم اسرائیل نے اس دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔اسرائیلی حکام نے ایک بیان میں کہا کہ وہ رام اللہ میں ہونے والے مجوزہ اجلاس کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ وزرا فلسطینی ریاست کے قیام پر بات کرنا چاہتے ہیں، مگر "اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا”۔

    عرب ردعمل
    اردن کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ایک قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اردن، مصر، سعودی عرب اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے رام اللہ کا دورہ اس لیے ملتوی کیا کیونکہ اسرائیل نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔

    واضح رہےکہ یہ اجلاس ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس سے قبل ہونا تھا، جس کی مشترکہ میزبانی فرانس اور سعودی عرب کریں گے۔ یہ کانفرنس 17 سے 20 جون تک نیویارک میں منعقد ہوگی، جہاں فلسطینی ریاست کے قیام کے مسئلے پر عالمی سطح پر بات چیت متوقع ہے۔

    سفارتی ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام فلسطین سے متعلق بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ اور عرب ممالک کے تعاون کے خلاف ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

    چین ایشیا میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی وزیر دفاع

    پاکستان بھارت جنگ ہوئی تو میرے پاس کچھ نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

    دبئی میں بھارتی ایونٹ میں شاہد آفریدی کی شرکت پر بھارتی صحافی سیخ پا

    مودی حکومت قوم کو گمراہ کر رہی ہے، بھارتی اپوزیشن کی تنقید

  • سعودی عرب نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو مسترد کر دیا

    سعودی عرب نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کو مسترد کر دیا

    سعودی عرب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب میں فلسطینی ریاست قائم کرنے سے متعلق اسرائیلی بیان کو مسترد کیا گیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صہیونی وزیر اعظم فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا بیان غزہ میں سنگین جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔فلسطینیوں کی جبری بےدخلی منظور نہیں ہے۔ اور فلسطینیوں کو ان کا جائز حق مل کر رہے گا یہ ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان پر دیگر عرب ممالک کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔مصر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیان کو سعودی عرب کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست اپنے ملک میں بنا سکتا ہے۔

    ایم کیو ایم میں کوئی اختلاف نہیں،مصطفیٰ کمال

    سعودی عرب میں 21 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن گرفتار

    نئی دہلی کی وزیراعلیٰ بھی مستعفی ہو گئیں

    امریکا ، جاپان سمیت 16ممالک سے مزید 118پاکستانی بے دخل