Baaghi TV

Tag: فلم انڈسٹری

  • پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص

    پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص

    اسلام آباد:پاکستان میں فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیےبجٹ میں بڑی رقم مختص،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے سال 2022 اور 2023 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ اور ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے شوبز انڈسٹری کے لیے مراعات کا اعلان کیا اور بتایا کہ حکومت فنکاروں کے لیے ’میڈیکل انشورنس پالیسی‘ کو متعارف کرانے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ایک ارب روپے فنڈ کے ساتھ ’بائنڈنگ فلم فنڈ‘ کے قیام عمل میں لایا جائے گا جب کہ ایک ارب روپے کی لاگت سے ’نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ، نیشنل فلم اسٹوڈیو اور پوسٹ پروڈکشن فیسلٹی سینٹر‘ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

    وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں میں اضافہ،لگثرری گاڑیوں پر ٹیکس

    انہوں نے پروڈیوسرز اور سینما مالکان کو ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینما ہالز، فلم میوزیم اور پروڈکشن ہاؤسز بنانے والے افراد کو بھی پانچ سال کی انکم ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔متفاح اسماعیل نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ملکی فلم سازوں کو مشترکہ منصوبوں کے تحت پاکستان میں 70 فیصد شوٹنگ کا پابند کیا جائے گا، تاکہ ملکی سیاحت و صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو بھی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فلم و ڈراما کی پروڈکشن کے آلات کی خریداری پر بھی پانچ سال تک کی کسٹم ڈیوٹی کی معافی کا اعلان کیا۔

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کسٹم ایکٹ 1969 اور فنانس بل 2018 میں ترمیم کرتے ہوئے فلم و ڈراما پروڈکشن کے آلات منگوانے پر سیلز ٹیکس صفر کرکے انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔

    مفتاح اسمٰعیل خوش نصیب وزیرخزانہ:پہلی باربجٹ پیش کرنے کا عمل پرسکون رہا

    حکومت کی جانب سے بجٹ میں فلم و ڈراما انڈسٹری کے لیے مراعات کے اعلان سے چند دن قبل پاکستان ٹیلی وژن میں فلم ڈویژن کا افتتاح بھی کیا گیا تھا جب کہ ’پاک فلکس‘ نامی اسٹریمنگ ویب سائٹ بنانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جہاں پر پی ٹی وی کے مواد کو آن لائن دکھایا جائے گا۔

  • فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کو بحال،پنجابی فلموں میں پھر جان ڈالیں گے،وزیر اطلاعات

    فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کو بحال،پنجابی فلموں میں پھر جان ڈالیں گے،وزیر اطلاعات

    فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کو بحال،پنجابی فلموں میں پھر جان ڈالیں گے،وزیر اطلاعات

    فلمی صنعت کو ریلیف دینے کیلئے فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ فلم اینڈ کلچر پالیسی 2018 کو بحال کر دیا ہے،اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرتب تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا، جلد سفارشات تیار کرکے وزیراعظم کو پیش کریں گے،پنجابی فلم ہمارا قیمتی اثاثہ ، جس پر اس وقت جمود طاری ہے، پنجابی فلموں میں پھر جان ڈالیں گے،فلم کو صنعت کا درجہ دے کر اس شعبے کو رعایت دیں گے، فلموں کی کہانی، معیار، ٹیکنالوجی بہتر بنانا اس قومی پالیسی کا حصہ ہے فلموں کی کہانی، معیار، ٹیکنالوجی بہتر بنانا اس قومی پالیسی کا حصہ ہے، سینما گھرو ں کی بحالی، نئے سینما گھروں کی تعمیرپالیسی کا حصہ ہے،فلموں کی شوٹنگ کے لئے اجازت ناموں کو آسان بنائیں گے،معاشرے سے عدم برداشت اور انتشار کو ختم کرنا ہے معیاری فلموں کی اس وقت بہت ضرورت ہے،فلم انڈسٹری کو ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے،پاکستانی فلموں کی ایکسپورٹ کی حوصلہ افزائی کریں گے،مشترکہ پروڈکشن کے امکانات کو فروغ دیں گے، فلم سازی کیلئے آلات و مشینری کی درآمد میں حکومت تعاون کرے گی

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے فلم انڈسٹری پر عائد ٹیکس کے خاتمہ کے مطالبے پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ،وزیراطلاعات نے وفد کو فلمی صنعت کی بحالی کے بارے میں اقدامات سے آگاہ کیا ،وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرینگے،

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    بشیر میمن کے انکشاف کے بعد عمران خان کیخلاف مقدمہ بنایا جائے،مریم اورنگزیب

    شاہد خاقان عباسی کا وزیراعظم کیخلاف تھانہ شاہدرہ میں غداری کا مقدمہ درج کرانیکا اعلا

  • پرے ہٹ لو  فلم  کیسی ہوگی؟  ایاز خان

    پرے ہٹ لو فلم کیسی ہوگی؟ ایاز خان

    کچھ عرصہ قبل ماہر ہ خان کے انسٹا گرام سے ایک شارٹ ویڈ یو ریلیز ہوئی ۔۔جس میں وہ لال رنگ کا جوڑا پہنے ”پرے ہٹ “ کہتی نظر آئیں ۔۔یہ سین اُنکی آنے والی فلم ’پرے ہٹ لو‘ سے تھا۔ چند روز پہلے اس فلم کا ٹریلر ریلیز کیا گیاہے ۔۔اگر چہ اس فلم میں ماہر ہ کا لیڈ رو ل نظر نہیں آتا۔۔لیکن شائد لیڈ رول میں وہ لوگوں کو اتنا متاثر نہ کر پاتیں جو انہوں نے اپنے سائیڈ رول میں کیاہے ۔

    پرے ہٹ لو فلم کا ٹریلر دیکھتے ہی ایسا لگتاہے جیسے یہ بڑٹش لو کامیڈی فلم ” فور ویڈنگز اینڈ اے فیونرل“ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے ۔جو ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو کسی شادی میںاچانک کسی لڑکی سے ملتا ہے او ر اسے اپنی منزل سمجھ بیٹھتا ہے ۔۔۔۔پرے ہٹ لو میں بھی یہی کہانی نظر آتی ہے ۔۔ٹریلر بڑی حویلی میں شادی کی تقریبات دکھائی گئی ہیں. شروع میں فلمسٹار ندیم ایکٹر شہریار کو کہتے نظر آتے ہیں ”تم ڈرامہ ایکٹر ہو نہ“۔۔۔ویسے تو اس فلم میں سارے ہی ڈرامے سے آئے ہوئے ہیں ۔۔کیا کریں پاکستان میں فلم انڈسٹری تو رہی نہیں۔۔بس اب انہی سے ہی کام چلے گا لیکن اچھا چل نکلا ہے ۔۔ فلمسٹار میر ا جو فلم باجی میں لیڈ رول کررہی ہیں وہ بھی پر ے ہٹ لو کے ٹریلر میں ڈانس کرتی نظر آئی ہیں ۔

    ٹریلر پرے ہٹ لو 

    اس فلم میں شہریا ر (غریبوں کا ر ہتک روشن) اور مایا علی (طیفا گر ل) کا مر کزی کردارہے۔ عاصم رضا کی گزشتہ فلم ہو من جہاں میں شہر یا ر کے ساتھ ماہرہ خان کا مرکزی کردار تھا۔
    شہریار ایک ایسا لڑکا ہے جو شادیوں میں شرکت کرتاہے لیکن خود اپنی شادی کے نام سے دور بھاگتاہے ۔پھر اچانک۔۔۔جیسے کہ فلموں میں ہوتاہے ۔۔ایک لڑکی (مایا علی )پر اُسکی نظر پڑتی ہے جوچراغوں کے پیچھے سے نمودا ر ہوتی ہے ۔۔اور وہ اسے دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔۔جیسے کہہ رہا ہو تو ہی وہ حسیں ہے ۔۔جس کی تصویر خیالوں میں مدت سے بنی ہے ۔۔خیر ایسی شاعری اب کہاں
    سننے کو ملتی ہے ۔۔لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔۔اور ہندی فلموں کی طرح شادی والی حویلی کی چھت پر اکیلے ملتے نظر آتے ہیں اور فیض کے شعر ایک دوسرے کو سناتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد گانا ۔ موج مستی ۔بس کی چھت پر سفر ۔پھر وہی جو ہوتاہے۔ ۔جو کہ اس فلم کے ٹائٹل سے بھی واضع ہے کہ ۔”پر ے ہٹ لو“ لڑکی لڑکے کو کہتی نظر آتی ہے کہ عشق وشق کے چکرمیں تو نہیں پڑ گئے ۔۔۔اور پڑنا بھی مت ۔۔اور پھر اچانک اسے اپنے منگیتر سے اُسے ملواتی ہے تو اُسے احساس ہوتاہے کہ وہ تو واقعی اس چکر میں پڑ چکاہے ۔۔۔اسکے بعد ایکٹر کی آنکھیں لال اور لڑکی کو پکڑ کر اسے گزرے لمحوں کا احسا س دلاتانظر آتاہے۔۔اور لڑکی اسے جھٹک کرایک طرف کرتی ہے . پھر اچانک کسی کی موت دکھائی گئی ہے ٹریلر میں جان اس وقت پڑتی ہے جب ماہرہ خان کی اچانک دھانسو انٹری ہوتی ہے۔
    بہت بڑے سیٹ پر مجرہ کرتی جلو ہ گر ہوتی ہیں۔ماہرہ خان کے اس ڈانس کو دیکھ کر مادھوری ڈکشٹ کاخیال آتاہے . یہی نہیں ڈائریکٹر ماہرہ خان کوکئی آئینوں میں دکھا کر فلم مغل آعظم میں مدھو بالا کے گانے جب پیار کیا تو ڈرنا کیا سے بھی متاثر نظر آتاہے ۔
    فلم میں کامیڈی کے لیےوہی گھسے پھٹے اداکاروں احمد بٹ او ر ڈارمہ ایکٹریس مومو حنا دلپزیر وغیر ہ کو ڈالا گیاہے ۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واقعی فلم بینوں کو ہنسا پاتے ہیں یانہیں۔کیونکہ ”ہو من جہاں میں“ کامیڈی کا فقدان تھا ۔
    ٹریلر کے آخر میں فواد خا ن کی مہمان اداکار کی طرح انٹری ہے جو شاہ رُخ کی طرح زندگی کا فلسفہ جھاڑتے نظر آتے ہیں کہ ”لوگوں کو مزہ کراﺅ انہیں جینا مت سکھاﺅ “ لگتاہے فواد خان کا ےہ مشورہ حمزہ عباسی کے لےے ہے ۔جو آئٹیم سانگ کے خلاف باتیں کرتے نظر آتے ہیں .
    مہمان اداکاروں کو فلم میں ڈالنا فلم کی پرموشن کا پرانا فارمولا ہے اپنی پہلی فلم ہومن جہاں میں بھی عاصم رضا نے حمزہ علی عباسی ، فواد خان، زوہیب حسن اور سائرہ شہروزجیسے مہمان اداکاروں کا سہارہ لیاتھا.
    ٹریلر سے نظر آتا ہے کہ بڑے بجٹ کی فلم ہے ۔سنمیٹو گرافی سے لے کر پروڈکشن میں جان نظر آتی ہے۔
    بہاولپور سے لیکر استبنول کے مناظر۔دکھائے گئیں ہیں ۔ کچھ لوگ اسے گھسی پھٹی لو سٹوری کہہ رہے ہیں آج کل نیا آئیڈیا بہت ہی مشکل ہے ۔ہر آنے والی فلم یا تو ری میک ہے یا پھر کئی فلموںکا چربہ نظر آتی ہے ۔ہر فلم کسی نہ کسی پرانی کہانی سے متاثر ہوتی ہے لیکن فلم کا سکرپٹ، ڈائلاگ ، ٹریٹمنٹ ، اسکی پروڈکشن اور خاص طور پر ایکٹنگ اسے نیا اور الگ بناتی ہے۔جیساکہ شاعر نے کہا ہے کہ
    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
    امید کی جاتی ہے فلم پر ے ہٹ لو میں یہ کوشش کی گئی ہے اور یہ فلم شائقین کو اچھی انٹرٹینمٹ فراہم کرے گی ۔

  • پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
    بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
    اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
    پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
    حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔