Baaghi TV

Tag: فلم

  • فلم ”باربی“ کوپنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے نمائش کی اجازت مل گئی

    فلم ”باربی“ کوپنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے نمائش کی اجازت مل گئی

    ہالی ووڈ کی نئی فلم ”باربی“ کوپنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے نمائش کی اجازت مل گئی-

    باغی ٹی وی: ہالی ووڈ کی نئی فلم ”باربی“ کو ریلیز کے دس روز کے بعد پنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے کچھ مناظر کی کاٹ چھانٹ کے بعد لیئر قرار دے کر سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت مل گئی۔ فلم میں قابل اعتراض مواد کی بنا پر پنجاب میں فلم کی نمائش روکی گئی تھی سنسر بورڈ پنجاب نے 20 جولائی کو فلم باربی کی نمائش کی اجازت دی تھی، ڈسٹری بیوٹر نے سنیما انتظامیہ کو آگاہ بھی کردیا تھا لیکن پھر اگلے ہی روز فلم کی نمائش روک دی گئی تھی۔

    1 جولائی کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی فلم ”باربی“ پاکستان میں تنازعے کا شکار بنی ہوئی تھی جس کو آخر کار پنجاب سینسر بورڈ نے اب کلیئر قرار دے دیا ہے،فلم کی نمائش کی اجازت دینے کا فیصلہ فُل سنسر بورڈ ریویو کے بعد کیا گیا ہے۔

    کنگنا نے نام لئے بغیر کس کو ویمنائزر کہہ دیا ؟

    نگراں وزیراعلٰی پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر فلم ”باربی“ کی اسکریننگ کے لئے فلم سینسر بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں فلم کا ریو کر کے قابل اعتراض مواد نکالنے کے بعد ریلیز کا فیصلہ کیا گیا ہے فلم کی نمائش مؤخر ہونے کی وجہ فلم میں ”ہم جنس پرستی سے متعلق موا د“ تھا جس کو اب سینسر کرکے عوام کےلئے فلم کی نمائش کی اجازت دی دی گئی ہے اس فلم پر ویتنام میں بھی پابندی عائد کی گئی تھی، فلم میں ایک نقشے میں بحیرہ جنوبی چین کے علاقے کو چین کا حصہ دکھانے پر اعتراض کیا گیا تھا۔

    افتخار ٹھاکر کی نٹرنیشنل پنجابی فلم ” منڈا ساؤتھ ہال دا ” کو سنسر سرٹیفیکیٹ …

    وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کےمطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر قابل اعتراض مواد کے باعث فلم باربی کو سنسر بورڈ کے فل ریویو کیلئے بھیجا گیا تھا فل سنسر بورڈ ریویو سیشن میں چیئرمین توقیر ناصر سمیت تمام ممبران نے شرکت کی، فل ریویو بورڈ نے قابل اعتراض حصے سنسر کر کے فلم باربی کو نمائش کے لیے کلیئر کیا۔

    پاکستانی ایکٹرز صرف پیسے کی زبان سمجھتے ہیں فصیح باری خان

  • 25 جون، موسیقار مدن موہن کا یوم پیدائش

    25 جون، موسیقار مدن موہن کا یوم پیدائش

    مدن موہن ہندی فلموں کے مشہور و مقبول اور معزز موسیقاروں میں سے ایک تھے۔ وہ سب سے زیادہ پسند کیے جانے والوں میں سے ایک تھے – 25 سال پر محیط کیریئر میں، انہوں نے صرف 100 سے زیادہ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں سے صرف 25 باکس آفس پر ہٹ ہوئیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہائی پرہیزگار طبیعت تھی اور اس نے اپنی فلموں کے لیے جتنی دھنیں بنائی وہ آج بھی موسیقار حلقوں میں شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ مدن کوہلی 25 جون 1924 میں پیدا ہوئے، وہ راج بہادر چونی لال کے بیٹے تھے.

    جنہوں نے بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے مشہور اسٹوڈیوز میں کام کیا۔ بچپن سے ہی وہ موسیقی کی طرف مائل اور باصلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ درحقیقت، اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے کمپوزیشن کا ایک حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے زیادہ تر یا تو مناسب فلموں کی کمی کی وجہ سے استعمال نہیں کی گئیں یا ان کی فلموں کے لیے متبادل دھنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بالی ووڈ میں میوزک ڈائریکٹر سی رام چندر کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اور اپنی پہلی بڑی فلم دی آئیز (1950) کے ساتھ ملی جو کہ ایک محبت کا مثلث ہے۔ فلم کامیاب رہی۔ اس کے بعد موہن کے پاس کافی کام آیا۔ ان کی پہلی فلموں میں ان کے بچپن کے دوست راج کپور کے ساتھ فلموں کی تریی تھی – آشیانہ (1952)،دھون (1952) اور پاپی (1953)۔

    جبکہ بدقسمتی سے موہن کے لیے، انھوں نے جن فلموں کے لیے کمپوزنگ کرنے کا انتخاب کیا، انھوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا، اور یہ صرف بھائی بھائی (1956) کے ساتھ تھا، جس میں لیجنڈری کمار بھائیوں، اشوک کمار اور کشور کمار نے کام کیا تھا، کہ انھیں کچھ کامیابی ملی۔ لیکن اس کے بعد سے، چیزیں کھردری ہو گئیں۔ ریلوے پلیٹ فارم (1955)، گیٹ وے آف انڈیا (1957)، جبکہ بہترین موسیقی کے ساتھ، زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے، تمام سرکردہ ستاروں نے کام کرنے کے لیے پہلے ہی ایک خاص موسیقار کا انتخاب کر لیا تھا (مثلاً نوشاد،) جس نے ڈیبیوٹنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، چاہے وہ باصلاحیت ہو۔

    پھر، 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی میں، چیزیں بہتر کے لیے بدل گئیں۔ دیکھ کبیرا رویا (1957) اور عدالت (1958) کے لیے ان کے اسکور نے یہ ظاہر کیا۔ اور 1960 کی دہائی میں، وہ واقعی انپدھ (1962) کے ساتھ نظر آنے لگے، ان کے گانوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچا دی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ غزل کے بادشاہ کے طور پر جانے جانے لگے، حالانکہ وہ عدالت (1958) کے ساتھ پہلے ہی گوسامر دھنوں کے لیے اپنی شہرت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے راج کھوسلہ کی دو فلموں – وہ کون تھی (1964) اور میرا سایا (1966) کے ساتھ مزید تجارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلمساز چیتن آنند کے ساتھ بھی کام کرنا شروع کیا، جس کے لیے انہوں نے ایک جنگی فلم حقیقت (1964) میں اپنا سب سے شاندار اسکور بنایا۔

    اگرچہ انہوں نے اپنے گلوکاروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن لتا منگیشکر کے ساتھ ان کے کام کا خاص تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس نے ان دونوں کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ افسانوی مجموعہ 1951 میں اداا (1951) کے ساتھ قائم ہوا اور ان کی موت تک (اور بعد میں) جاری رہا۔ موہن کے پاس لتا کی آواز میں بہترین آواز لانے کا یہ خاص ہنر تھا – وہ سنجوگ (1961) میں، نیلا آکاش (1965) میں جاونٹی اور میرا سایا (1966) میں پرکشش آواز دے سکتی تھی۔ تاہم، یہ جذباتی گانوں میں تھا کہ وہ اپنے بہترین تھے۔ 1970 کی دہائی میں، جب ہرے راما ہرے کرشنا (1971) جیسی فلموں کے مغربی گانے، موہن نے تب بھی شاعرانہ دھنیں ترتیب دیں۔

    ان کی سخت جمالیاتی حس کی وجہ سے وہ اگر تجارتی طور پر کامیاب فلم ساز نہیں تو حساس فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ مانگ میں تھے، اور انہوں نے ہرشیکیش مکھرجی، سمپورن سنگھ گلزار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے معزز ناموں کے ساتھ تعاون کیا، بیدی کے ساتھ ان کا تعاون خاص طور پر نمایاں رہا جیسا کہ دستک کے ساتھ تھا۔ 1970) کہ انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا – یہ وہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جسے ان کی زندگی میں ملا 1975 میں، 51 سال کی عمر میں، موہن کا جگر کے سیروسس سے انتقال ہو گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد دو فلمیں ریلیز ہوئیں – موسم (1975) اور لیلا مجنوں (1975) – موسیقی کی شاندار کامیابیاں بنیں۔ تاہم، تین دہائیوں کے بعد، دو فلموں نے موہن کو خراج تحسین پیش کیا۔

    ایک اب تمہارے ہولے وطن ساتھیو (2004) تھی، ایک جنگی فلم جس نے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا عنوان حقیت (1964) کے ان کے ایک گانے سے لیا گیا تھا۔ تاہم یہ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ دوسری فلم، ویر زارا (2004) نامی رومانوی نے ایک موسیقار کے لیے زیادہ موزوں خراج تحسین پیش کیا – ہدایت کار، یش چوپڑا نے ان کی کچھ غیر استعمال شدہ کمپوزیشنز لیں اور انہیں فلم میں استعمال کیا۔ ویر زارا (2004) کی شاندار کامیابی، خاص طور پر اس کے ساؤنڈ ٹریک (75 سالہ لتا منگیشکر کے ساتھ جو اب بھی ہمیشہ کی طرح سریلی ہے) نے مدن موہن کو اب تک کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا.

  • نہیں کروں گا فلم میں‌ کام دانش تیمور

    نہیں کروں گا فلم میں‌ کام دانش تیمور

    اداکار دانش تیمور کی صلاحیتوں سے کون واقف نہیں ہے. انہیں چھوٹی اور بڑی سکرین پر یکساں‌مقبولیت حاصل ہے. ان کے ھوالے سے خبریں ہیں کہ انہوں نے حال ہی میں ایک فلم میکر کو فلم کرنے سے منع کر دیا ہے. دانش تیمور کو ایک بڑے بجٹ کی فلم میں‌ منہ مانگا معاوضہ دئیے جانے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے فلم کرنے سے منع کر دیا . اور منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو اس فلم میں اپنا کردارپسند نہیں آیا اور کردار سننے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ فلم نہیں کریں گے. دانش تیمور اس سے پہلے بھی ڈائریکٹر سنگیتا کی فلم میں‌کام کر چکے ہیں، ان کی اس فلم کو خاص پذیرائی نہیں‌ ملی تھی.

    حال ہی میں ان کا ڈرامہ سیریل کیسی تیری خود غرضی اختتام پذیرہوا ہے اس میں دانش تیمور نے ایک ایسے عاشق کا کردار نبھایا جو اپنی پسند کو پانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے. دانش کے اس کردارپر بہت زیادہ تنقید ہوئی تاہم ان کی اداکاری کو بہت زیادہ پسند کیا گیا . اس ڈرامے میں ان کے ساتھ اداکارہ درفشاں نے مرکزی کردار ادا کیا . یاد رہے کہ دانش تیمور آئزہ خان کے شوہر ہیں اور دونوں کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں.

  • مریم اورنگزیب سےترکیہ کی فلمی صنعت کےنمائندہ وفد کی ملاقات،فلمی میلے میں پاکستان کی شرکت کا اعلان

    مریم اورنگزیب سےترکیہ کی فلمی صنعت کےنمائندہ وفد کی ملاقات،فلمی میلے میں پاکستان کی شرکت کا اعلان

    استنبول:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے پاکستانی فلموں کی نمائش کے لئے ترکیہ میں منعقد والے فلمی میلے میں پاکستان کی شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم اور ڈرامہ کسی بھی ملک کا عالمی سطح پر تشخص بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، پاکستان کے شمالی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، ترکیہ کے فلم ساز ان خوبصورت سیاحتی علاقوں میں فلم بندی کرسکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کیلئے ہائیکورٹ کے 4 ججز کے نام تجویز کر دیئے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ترکیہ کی فلمی صنعت کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کو بتایا گیا کہ فلم فیسٹیول کی تاریخ کا تعین آئندہ ہفتے ترکیہ میں اس حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کیا جائے گا۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ڈرامہ اور فلم کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی تین نئی فلمیں فیسٹیول میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے لئے فزیبلٹی تیار کی جائے گی۔ ملاقات میں پاکستان میں جدید ترین فلم پروسیسنگ لیب کے قیام اور ترکیہ کی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعلیمی نصاب میں فلم سازی اور اداکاری کے مضامین شامل کرنے کیلئے تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ایف اے ٹی ایف اجلاس، پاکستان نے بھارت کی بدنیتی پر مبنی مہم مسترد کردی

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1970ءکی دہائی میں پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا فلم بنانے والا ملک تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءمیں فلمی صنعت کی بحالی کاکام شروع ہوا۔ ہم نے ملکی تاریخ کی پہلی فلم اینڈ کلچر پالیسی تشکیل دی، فلمی صنعت کو ٹیکس میں استثنا، نئی فلمیں بنانے کے لئے مالی معاونت جیسی سہولیات دیں جبکہ پاکستان میں فلموں کی تیاری پر 70 فیصد تک ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فلم کی کہانی، معیار، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال قومی فلم پالیسی کا حصہ ہے، اس کے علاوہ نئے سینما گھروں کے قیام، بحالی اور فنکاروں کو مراعات دینے کے لئے اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

    بھارت میں گوگل پر 16 ملین ڈالر جرمانہ

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ فلم اور سیاحت کے شعبہ میں پاکستان کے 70 فیصد نوجوانوں کو شامل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے، نوجوانوں کے لئے فلمی شعبہ میں انٹرنیشنل ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں جن میں بہترین ساکھ کے حامل پروڈیوسرز کو مدعو کیا جائے گا۔ وفد نے ترکیہ کی فلمی صنعت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ فلم اینڈ ڈرامہ انڈسٹری میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں قائم نیدرلینڈز، ترکی اور فرانس کی بہترین کمپنیاں فلم پروسیسنگ لیب میں تکنیکی معاونت فراہم کر سکتی ہیں۔

  • زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اکثر آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں زومبی دیکھے ہونگے۔ فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ زومبی دراصل چلتی پھرتی گلی سڑی لاشیں ہوتی ہیں جو کسی وائرس کے پھیلاؤ سے، یا کسی اور زومبی کے کسی نارمل انسان کو کاٹنے سے بن جاتے ہیں۔ زومبیوں میں سوچنے سمجھنے یا ماحول کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ اّن میں صرف ایک ہی صلاحیت ہوتی ہے۔ بندہ یا گوشت کھانا۔ زومبی کا تصور انسانی تہذیبوں میں کب آیا اور یہ فلموں میں کب نمودار ہوئے؟ پہلے یہ جانتے ہیں۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ قدیم یونانیوں میں زومبی یعنی مرنے کے بعد دوبارہ چلنے پھرنے والے مردوں کا خوف موجود تھا۔ اّنہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کئی علاقوں سے ایسی قبریں ملی ہیں جن میں ڈھانچوں کے اوپر بڑے بڑے پتھر رکھے جاتے تھے۔ غالباً اس خیال سے کہ مردے دوبارہ سے چلنا شروع نہ ہو جائیں۔

    ماضی قریب میں دیکھیں تو شاید ستروییں صدی میں زومبی سے متعلق لوک داستانیں شمالی امریکہ کے ملک ہائیٹی میں ملتی ہیں۔ جہاں گنے کی کاشت کے لئے افریقہ سے غلام لائے جاتے۔ ان داستانوں میں زومبی ایک طرح سے ان غلاموں کی مشکل زندگی یا مر کر کی آزاد ہونے کی تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتی۔

    مغربی افریقہ ، برازیل اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں ‘ووڈو” مذہب کے ماننے والوں میں بھی زومبی کا تصور ہایا جاتا ہے۔ ان میں کچھ کا یہ ماننا ہے کہ اس مذہب کے پیشوا جنہیں "بوکور” کہا جاتا ہے, وہ جڑی بوٹیوں، ہڈیوں اور جانوروں کے گوشت سے ایک سفوف سا تیار کرتے ہیں جس سے انسان زومبی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سفوف کو زومبی پاؤڈر کہتے ہیں۔

    سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ اگر کسی شخص کو ایک خاص طرح کا کیمکل جو شاید زومبی پاؤڈر میں بھی موجود ہو، جسے tetrodotoxin کہتے ہیں۔ اگر اسکی معمولی مقدار دی جائے تو چند ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن سے ںظاہر ایک انسان زومبی سا دکھے یعنی اُسے چلنے پھرنے میں دشواری ہو، سانس اُکھڑنا شروع ہو جائے یا وہ کنفوژن کا شکار ہو جائے۔ اس کیمیکل کے زیادہ استعمال سے انسان کوما میں بھی جا سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔

    البتہ جس طرح سے فلموں میں زومبی دکھائے جاتے ہیں انکا سائنس میں کوئی ٹبوت نہیں ۔یہ محض فکشن ہے۔ زومبی کے تصور نے جدید دور میں اُس وقت زور پکڑا جب 1962 میں ایک فلم آئی Night of the Living Dead۔ اس فلم کی مقبولیت کے بعد ہالی وڈ میں اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں زومبی دکھائے جاتے ہیں۔ ان فلموں میں موجود زومبی چلتی پھرتی لاشیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہیں۔

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.

  • ‘ہم دو ہمارے بارہ’ بالی ووڈ میں مسلمانوں کےخلاف نئی پروپیگنڈا فلم:مسلمان پریشان

    ‘ہم دو ہمارے بارہ’ بالی ووڈ میں مسلمانوں کےخلاف نئی پروپیگنڈا فلم:مسلمان پریشان

    ممبئی:‘ہم دو ہمارے بارہ’ بالی ووڈ میں مسلمانوں کے خلاف نئی پروپیگنڈا فلم، اس فلم کے ذریعے مسلمانوں کو پھر سے نشانہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے ،اطلاعات ہیں کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مسلمان خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرتے، انہیں بے بنیاد حقائق کو بنیاد بنا کریہ فلم بنائی گئی ہے اوراس کے ذریعے مسلمانوں کی کردار کُشی کی جائے گی

    انتہا پسند ہندوؤں نے بھارت کے پہلے وزیراعظم کے مجسمے کو توڑ دیا،ویڈیو وائرل

    بھارت میں مسلمان کل آبادی کا 11 فیصد ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت میں ہندو انتہا پسند یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں مسلمان خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرتے اس لئے ایک وقت آئے گا جب بھارت میں ہندو اقلیت میں چلے جائیں گے۔

    بالی ووڈ کی نئی فلم ‘ہم دو ہمارے بارہ’ کا چند روز قبل ہی پوسٹر ریلیز کیا گیا، پوسٹر میں ہندی زبان میں لکھا گیا ہے کہ ‘جلد ہی چین کو پیچھے چھوڑوں گا’۔ فلم کے پوسٹر کو دیکھ کر صاف طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ فلم کو بنایا ہی مسلمانوں کے خلاف اس پروپیگنڈے کی ترویج کے لیے ہے کہ بھارت میں مسلمان بڑھ رہے ہیں۔

    بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    ‘ہم دو ہمارے بارہ’ کے پوسٹر کی ریلیز کے بعد کے بعد بھارت میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔

    بھارت میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھانے والے رانا ایوب نے اپنی ٹوئٹ میں فلم کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سنسر بورڈ ایسی فلم کی اجازت کیسے دیتا ہے جس میں مسلمانوں کو ملک کی بڑھتی آبادی کی وجہ کے طور پر دکھایا گیا ہو اور مسلمان خاندان کی تصویر استعمال کرکے ڈھٹائی سے نفرت پھیلائی جارہی ہو۔

     

     

    ہدایت کار کی ڈھٹائی
    دوسری جانب فلم کے ہدایت کار کمل چندرا نے کمال دھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خیال میں سینما اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے، ‘ہم دو ہمارے بارہ’ کا پوسٹر بالکل بھی قابل اعتراض نہیں ۔ اسے صحیح طریقے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    کمل چندرا نے مزید کہا کہ آج لوگ سوچ رہے ہیں کہ ہماری فلم کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہم کسی خاص کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے بغیر یہ فلم بنا رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ لوگوں کو یہ فلم اچھی لگے گی کیونکہ بڑھتی آبادی ہمارے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

    گزشتہ کئی برسوں سے بھارت میں کھل کر مسلم دشمنی کی جارہی ہے اور اس حوالے سے بھارت کی ہندی فلم نگری میں بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات پر مبنی فلمیں بنائی جارہی ہیں۔

    رواں برس کشمیر فائلز کے نام سے ایک فلم ریلیز کی گئی تھی جس میں تاریخی حقائق کو مسخ کرکے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کو جبری طور پر نکالا گیا۔

  • پاکستان کرکٹ اسٹارشعیب اختر کے گھٹنوں کے آپریشن،مداحوں سے دعاؤں کی اپیل

    پاکستان کرکٹ اسٹارشعیب اختر کے گھٹنوں کے آپریشن،مداحوں سے دعاؤں کی اپیل

    لاہور:پاکستان کرکٹ ٹیم کی پہچان سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے گھٹنے کے آپریشن کے لیے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔شعیب اختر نے کہا ہے کہ وہ احباب سے دعائے صحت کی درخواست کرتےہیں

    شعیب اختر کے ساتھ 2011 کے سیمی فائنل میں کیا ہوا ؟

    اس سلسلے میں سابق فاسٹ باولرشعیب اختر نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کے گھٹنوں کے اب تک 5 آپریشنز ہوچکے ہیں اور امید ہے کہ یہ چھٹا آپریشن آخری ہوگا اور انھیں درد سے ہمیشہ کے لئے نجات مل جائے گی۔

    شعیب اختر نے پاکستان کے لیے کھیلنے کو باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ وہ اس آپریشن کے لیے کافی عرصے سے انتظار کررہے تھے تا کہ ٹھیک ہوکر دوبارہ ہلکی پھلکی کرکٹ شروع کرسکیں۔

     

    اسپیڈ اسٹار کا کہنا تھا کہ اس سرجری میں دونوں گھٹنوں کی جزوی تبدیلی ہوگی اور یہ 8 گھنٹے طویل سرجری ہوگی۔ سرجری کے بعد تقریبا 3 ہفتے کا آرام کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ شعیب اختر نے پاکستان نے لئے 1997 سے 2011 تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔

    بہت جلد چھری کے نیچے آنے والا ہوں۔ شعیب اختر

    یاد رہے کہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نےچند دن پہلے اپنی زندگی پر ‘راولپنڈی ایکسپریس’ نامی فلم بنائے جانے کی تصدیق کردی۔

    شعیب اختر نے دسمبر 1997 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل سے کیریئر کا آغاز کیا تھا، انہوں نے 46 ٹیسٹ میچ کھیلے، جس میں انہوں نے مجموعی طور پر 178 وکٹیں حاصل کیں۔

    شعیب اختر نے 163 ون ڈے میچز میں 247 جب کہ 15 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 19 وکٹیں حاصل کیں، انہوں نے مارچ 2011 میں ریٹائرمنٹ لی تھی، کیریئر کو الوداع کہنے سے قبل وہ کافی عرصے تک فٹنیس کے مسائل سے دوچار رہے تھے۔

    شعیب اختر نے اپنی زندگی پر ‘راولپنڈی ایکسپریس’ فلم بننے کی تصدیق کردی

    انہیں دنیا کے فاسٹ ترین باؤلر کا اعزاز بھی حاصل ہے، کہا جاتا ہے کہ ان کی باؤلنگ کی رفتار 100 میل فی گھنٹہ کے برابر ہوتی تھی، اپنے کیریئر میں وہ کئی تنازعات، اسکینڈلز اور مسائل سے دوچار رہے جب کہ کیریئر ختم ہونے کے بعد بھی وہ اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔

  • فلم کی عکس بندی کے دوران مسلح افراد کا حملہ،8 خواتین کا ریپ

    جنوبی افریقا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب فلم کی عکس بندی کی جگہ پرمسلح افراد نے حملہ کیا اور فلم بندی میں حصہ لینے والی 8 نوجوان خواتین کی عصمت دری کی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولیس نے جمعہ کی شام کو بتایا کہ مسلح افراد نے جنوبی افریقا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب فلم کی عکس بندی کی جگہ پر حملہ کیا اور فلم بندی میں حصہ لینے والی 8 نوجوان خواتین کی عصمت دری کی۔

    سعودی عرب :منی لانڈرنگ میں ملوث تین غیرملکیوں کو سزا

    جنوبی افریقی پولیس حکام کے مطابق جوہانسبرگ کے مغرب میں کروگرسڈورپ کے مضافات میں جمعرات کے حملے کے تناظر میں اتوار تک تقریباً 20 مشتبہ افراد میں سے تین کو گرفتار کیا جا چکا ہے گینگ نے ورک ٹیم پر اس وقت حملہ کیا جب اس کے ارکان فلم بندی شروع کرنے کے لیے ساز و سامان اور سجاوٹ کی تیاری کر رہے تھے۔

    برطانیہ میں غیرملکی کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی شناخت کروانا ضروری قرار

    انہوں نے بتایا کہ جن نوجوان خواتین پر حملہ کیا گیا ان کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان تھیں ان میں سے ایک خاتون کو دس مردوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ایک خاتون کو آٹھ مردوں نے مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ورک ٹیم کے مردوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کے کپڑے اور سامان چھین لیا گیاایسا لگتا ہے کہ مشتبہ افراد غیر ملکی ہیں، خاص طور پر غیر قانونی کان کن ہوسکتے ہیں۔

    جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا نے اعلان کیا کہ انہوں نے پولیس وزیر کو حکم دیا ہے کہ "اس جرم کے مرتکب افراد کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔

    اوسطاً، جنوبی افریقا کی پولیس کو ہر 12 منٹ میں عصمت دری کی رپورٹ موصول ہوتی ہے۔ اس بڑی تعداد کے باوجود ملک میں عصمت دری کے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں-

  • یوٹیوب نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرمختصرفلم پرپابندی لگادی

    یوٹیوب نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرمختصرفلم پرپابندی لگادی

    لاہور:یوٹیوب نے بھارت میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والی مختصر فلم پر پابندی لگا دی ہے۔

    آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے اپنے عمل کو جاری رکھتے ہوئے بھارتی حکومت نے یوٹیوب کو بھارت میں 9 منٹ سے زائد کی مختصر فلم کشمیر کے لیے ترانہ پر پابندی لگانے پر آمادہ کیا ہے جس میں بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔

    یہ فلم ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ساز آنند پٹوردھن، سندیپ رویندر ناتھ اور کرناٹک گلوکار ٹی ایم کرشنا کی جانب سے بنائی گئی ہے، مختصر فلم 12 مئی کو ریلیز ہوئی تھی، یہ یکم مئی کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ایک ہزار دن کے موقع پر تھی، جب مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    بھارتی حکومت کی قانونی شکایت کے بعد ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم نے ہندوستان میں ناظرین کے لیے مختصر فلم کو بلاک کردیا ہے۔

    یوٹیوب لیگل سپورٹ ٹیم کی جانب سے سندیپ رویندر ناتھ کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے ویڈیو کو بلاک کرنے کا نوٹس موصول ہوا ہے، یوٹیوب کے خط میں بھارتی حکومت کی طرف سے بات چیت کا اشتراک کرنے میں اپنی نااہلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ نوٹس خود ہی خفیہ ہے۔

     

    بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندیپ نے کہا کہ انہیں یہ بات ظلم کے مترادف لگی کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست چند منٹوں کی ویڈیو کلپس اور قلم کی طاقت سے ڈرتی ہے، میڈیا پرسنز، دانشوروں کے خلاف حالیہ حکومتی کریک ڈاؤن کا ایک نمونہ ہے، بنیادی مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جو سیاست، پالیسی سازی، گورننس اور بنیادی طور پر ریاست کے ڈھانچے اور اخلاقیات سے متعلق اہم مسائل پر یکطرفہ گفتگو پر سوال اٹھاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد کشمیر میں پابندیوں نے انہیں وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کرنے کی ترغیب دی۔

    سندیپ رویندر ناتھ نے کہا کہ مقصد اور محرک یہ تھا کہ آج کے کشمیر کی سچائی کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔

    فیڈریشن آف فلم سوسائٹیز آف انڈیا (FFSI) کیرالہ ریجن نے مختصر فلم پر پابندی کی مذمت کی ہے۔

    ایف ایف ایس آئی کے صدر چیلاور وینو نے ایک بھارتی اخبار کے حوالے سے بتایا کہ فلم کشمیر کی حقیقی حیثیت کے بارے میں ایک راستہ دکھاتی ہے، یہ فلم کشمیر کے سرحدی دیہاتوں کی خاموش چیخوں کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ نافذ ہے۔

    مختصر فلم میں جبری گمشدگیوں اور فوجی جبر سے متعلق حوالہ جات ہیں اور اس کے ساتھ ایک تامل احتجاجی راک ٹریک بھی ہے، فلم کے ذریعے فلمساز نے کشمیر فائلز جیسی فلموں کی مقبولیت سے متصادم ہونے کی کوشش کی، جسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو ولن بنانے کی کوشش کے لیے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔