Baaghi TV

Tag: فلکیات

  • پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    سالِ نو کا پہلا سُپر مون آج رات ہوگا، پورا چاند آسمان پر معمول سے بڑا اور زیادہ چمکدار دکھائی دے گا۔

    پاکستان میں سپر مون کا آغاز شام 5 بجکر 51 منٹ ہوگا۔ سپارکو کے مطابق سپرمون چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا دکھائی دے گا یہ روایتی طور پر وولف مون کہلاتا ہے فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس کا سب سے خوبصورت منظر چاند کے طلوع کے وقت رات کے ابتدائی حصے میں دیکھا جا سکے گا یہ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے سپر مون سلسلے کا آخری سپر مون ہوگا۔

    سائنس دانوں کے مطابق سپر مون اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند زمین کے عام فاصلے کے مقابلے میں زیادہ قریب آ جاتا ہے، اس قربت کے باعث چاند معمول سے زیادہ بڑا ا اور روشن نظر آتا ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا

    16 سالہ طالبہ سے جنسی زیادتی،حنا پرویز بٹ کا متاثرہ طالبہ کے گھر کا دورہ

    لاہور موسم کی خرابی اور دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر

  • موجودہ صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہو گا؟

    موجودہ صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہو گا؟

    موجودہ صدی کا طویل ترین سورج گرہن، 2 اگست 2027 کو ہوگا۔

    دنیا بھر کے فلکیات کے شائقین اور سائنسدان ایک نایاب فلکیاتی مظہر کا انتظار کر رہے ہیں، جسے اس صدی کے سب سے شاندار اور طویل ترین سورج گرہنوں میں شمار کیا جا رہا ہے اس میں زمین، چاند اور سورج ایک ایسی نادر سیدھ میں آئیں گے کہ چاند، سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دے گا، جس سے کئی علاقوں میں دن تبدیل ہوکر رات کی طرح تاریک ہو جائے گا،موجودہ صدی کا یہ طویل ترین سورج گرہن، 2 اگست 2027 کو ہوگا۔

    سائنسدانوں کے مطابق، یہ گرہن اس لحاظ سے منفرد ہو گا کہ مصر کے تاریخی شہر ‘لکسر’ کے قریب یہ مکمل حالت 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک قائم رہے گی، جو اس صدی کے کسی بھی زمینی مقام پر سب سے لمبے دورانیے کا گرہن ہوگا،سورج گرہن کی مکمل لکیر (Path of Totality) جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سے گزرے گی، ان میں اسپین کے کچھ علاقے، مراکش، الجزائر اور تیونس، لیبیا، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ کے علاقے شامل ہیں۔

    گرہن کی ابتدا مشرقی امریکا کے سمندر سے ہوگی اور یہ سفر تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر طے کر کے بحرِ احمر کے پار افریقہ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلے گا،مکمل گرہن کے دوران آسمان یکایک مدھم پڑ جائے گا، جیسے سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل روشنی پھیلتی ہے، جانوروں میں غیر معمولی چپ سادھ لی جائے گی، پرندے گھونسلوں کا رخ کریں گے، اور ستارے و سیارے دن کے وقت نمایاں ہوں گے اس لمحے سورج کا کرونہ یعنی اُس کی بیرونی فضا، چاند کے گرد ایک چمکتی ہوئی انگوٹھی کی صورت میں دکھائی دے گا، جو ایک دلکش منظر تخلیق کرے گا۔

    ماہرین اسے فلکیاتی تحقیق کرنے والوں اور عوامی آگاہی کے لیے ایک قیمتی موقع قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس دوران شمسی فضا، درجہ حرارت میں تبدیلی اور روشنی کی شدت پر تجربات کیے جا سکتے ہیں،پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بیشتر حصوں میں اس دن جزوی سورج گرہن نظر آئے گا یعنی سورج کا ایک حصہ چاند سے ڈھک جائے گا، جس کے نتیجے میں ہلکی تاریکی اور مدھم روشنی کا منظر بنے گا، البتہ مکمل گرہن کا نظارہ ان علاقوں میں ممکن نہیں ہوگا۔

    سورج گرہن کے دوران انفراریڈ اور الٹرا وائلٹ شعاعیں آنکھ کے ریٹینا اور بینائی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لئے اسے ڈائریکٹ آنکھ سے دیکھنا کسی بھی بڑے نقصان سے دوچار کرسکتا ہے،ماہرین بھی بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف براہِ راست دیکھنا آنکھوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اس کے لیے صرف آئی ایس او سے سند یافتہ حفاظتی چشمے (سولر ویِونگ گلاسز) استعمال کیے جائیں۔ عام دھوپ کے چشمے یا شیشہ استعمال کرنا قطعاً محفوظ نہیں ہے۔

    یہ سورج گرہن اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ اگلا طویل اور مکمل سورج گرہن اس کے تقریباً 17 سال بعد یعنی 2044 میں ہوگا، اس موقع پر سائنسی اور فلکیاتی تحقیق میں نئی راہیں تلاش کرنے کے مواقع بھی ہیں اور عام لوگوں کے لیے یہ ایک ایسا منظر ہوگا جو شاید انہیں زندگی میں صرف ایک بار دیکھنے کو ملے۔

  • رواں سال رونما ہونے والے 6 نایاب فلکیاتی مظاہر

    رواں سال رونما ہونے والے 6 نایاب فلکیاتی مظاہر

    فلکیاتی ماہرین کے مطابق سال 2025 میں نظام شمسی کی گردش کے نتیجے میں کچھ نایاب فلکیاتی مظاہر نمودار ہونے والے ہیں۔

    باغی ٹی وی: فلکیاتی ماہرین کے مطابق جنوری میں آپ نظام شمسی میں ایک تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے جب سورج کے گرد گھومنے والے چھ سیارے جنوری کے وسط میں ایک قطار میں آ کر ایک قوس سی بنا لیں گے جسے آپ 21 جنوری سے چار ہفتوں کے لیے دیکھ سکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو، اس پر بادل یا گرد و غبار نہ ہو چند روز بعد فروری میں ساتواں سیارہ مرکری بھی اس قوس میں شامل ہو جائے گا۔

    فلکیاتی سائنس کی تنظیم ”Planetary Society“ کے سربراہ بروس بیٹ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ عام حالات میں انہیں دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسٹار لنک سروس کی یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں میں موسم بہار تک لانچ متوقع

    سورج گرہن

    فلکیاتی ماہرین کے مطابق رواں سال دو سورج گرہن ہوں گے، لیکن ویسا مکمل سورج گرہن نہیں ہو گا جو پچھلے سال اپریل میں دنیا کی کچھ حصے میں نظر آیا تھا اور روشن دن کچھ دیر کے لیے تاریک ہوگیا تھاپہلا گرہن 29 مارچ کو ہو گا جو یورپ، ایشیا، افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں دیکھا جا سکے گایہ جزوی گرہن ہو گا جبکہ دوسرا گرہن 21 ستمبر کو ہو گا جو آسٹریلیا، انٹارکٹیکا، بحرالکاہل اور بحر اوقیانو س کے علاقوں میں دیکھا جا سکے گا یہ گرہن بھی جزوی ہو گا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے آپ کو اگلے سال کا انتظار کرنا پڑے گا، جو 12 اگست 2026 میں روس، گرین لینڈ، اسپین اور پرتگال کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا مکمل سورج گرہن کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 2 منٹ اور 18 سیکنڈ ہو گا۔

    سعود نے لالی ووڈ کی تباہی کا ذمہ دار 2 بڑی شخصیات کو ٹھہرا دیا

    چاند گرہن

    14 مارچ کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے مکمل چاند گرہن ہوگا جسے شمالی اور جنوبی امریکہ، یورپ، سربیا اور شمال مغربی ایشیا میں دیکھا جا سکے گااس سال آپ کو زیادہ روشن اور زیادہ بڑا چاند یعنی ”سُپر مون“ دیکھنے کے تین مواقع ملیں گے آپ کو یہ نظارہ سال کے آخری تین مہینوں یعنی اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں ملے گا۔

    قطبین کی روشنیاں

    شمالی اور جنوبی قطب کے قریب رہنے والوں کو رات کے وقت آسمان پر مختلف رنگوں کی روشنیاں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کچھ لوگ تو یہ نظارہ دیکھنے کے لیے دور دراز سے ان علاقوں کا سفر کرتے ہیں، قطبی روشنیوں کا تعلق سورج پر آنے والے طوفانوں سے ہے شمسی طوفان کے نتیجے میں بڑی مقدار میں برقی ذرات خارج ہوتے ہیں اور زمین کے قطبی علاقے میں مقناطیسی لہروں کو متاثر کرتے ہیں جس سے وہاں کی فضا میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن کے ایٹم برقی ذرات خارج کرتے ہیں جو ہمیں مختلف رنگوں کی روشنیوں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔

    بھارت نےٹیسٹ کرکٹ کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا منصوبہ بنا لیا

    فلکیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے سورج اپنے 11 سالہ طوفانی دور سے گزر رہا ہے اور اس سال سورج سے برقی ذرات کا اخراج نمایاں طور پر زیادہ ہو گا، اس لیے یہ سال قطبی روشنیوں کے زیادہ دلفریب مناظر فراہم کرے گا۔

    شہابیوں کی بارش

    شہابیے خلا میں گردش کرتی ہوئی چھوٹی بڑی چٹانیں ہوتی ہیں، جب وہ زمین کے قریب پہنچتی ہیں تو زمین کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے وہ ہوا کی رگڑ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، ہمیں روشنی کی لکیر اسی وقت دکھائی دیتی ہے جب وہ جل کر راکھ ہو رہے ہوتے ہیں، خلا میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں لا محدود تعداد میں شہابیے موجود ہیں جب زمین سورج کے گرد گردش کے دوران وہاں سے گزرتی ہے تو شہابیوں کی ایک بڑی تعداد زمین کی طرف لپکتی ہے، جو رات کی تاریکی میں آسمان پر روشنیوں کی بارش کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

    فلکیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سال اگست اور دسمبر میں شہابیوں کی بارش اپنے عروج پر ہو گی، رات تاریک اور آسمان صاف ہوا تو آپ اس کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

    بچے کے ولادت، پیٹ کمنز دورہ سری لنکا نہیں جائیں گے

  • 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    ماہرین نے 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویر عکس بند کر لی-

    باغی ٹی وی: باقیات کی یہ تصویر سیرو ٹولولو اِنٹر-امیریکن آبزرویٹری میں موجود وکٹر ایم بلینکو ٹیلی اسکوپ میں نصب ڈارک انرجی کیمرا (ڈی ای کیم) سے عکس بند کی گئی۔

    چینی ماہرین فلکیات نے ایس این 185 نامی اس سُپر نووا کا پہلی بار مشاہدہ 185 عیسوی میں بطور ’مہمان ستارے‘ کے طور پر کیا تھا کیوں کہ یہ آسمان پر ایک نئی چمکدار روشنی کے طور پر ظاہر ہوا تھا ماہرین کے مطابق یہ سپرنووا 1800 برس قبل ایک ستارہ تھا جو پھٹ کر سپرونووا بن چکا ہے۔

    سب سے پہلے ریکارڈ ہونے والے سُپر نووا کی جگہ اب صرف RCW 86 نامی ملبے کا ایک چھلہ موجود ہے سائنس دانوں کے مطابق یہ تصویر اس سپر نووا کی باقیات کے 1800 سال کے ارتقائی سفر کے متعلق معلومات پر روشنی ڈالےگی۔

    محققین کی ٹیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈی ای کیم کے زبردست وائڈ فیلڈ ویژن کی بدولت ماہرین فلکیات نے سپر نووا کی مکمل باقیات کا انتہائی نایاب نظارہ، جیسا کہ یہ آج دِکھتا ہے، تشکیل دیا ہے۔

    ماہرین کا عرصے سے یہ ماننا رہا ہے کہ اس چھلے کو وجود میں آنے کے لیے ستارے کے پھٹنے کے بعد تقریباً 10 ہزار سال کا عرصہ لگا ہوگا۔ لیکن تازہ ترین دریافت کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ 2000 سال کے مختصر عرصے میں بھی ہوسکتا ہے۔

    تصویر کو بغور دیکھا جائےتو اس میں بڑے پیمانے پر فولاد کی موجودگی کا انکشاف ہوتا ہے جس کے متعلق محققین کا کہنا تھا کہ یہ چیز ایک مختلف نوعیت کا دھماکا ہونے کے متعلق معلومات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

  • سانپ نما جھرمٹ میں چھپا نیبیولا دریافت

    سانپ نما جھرمٹ میں چھپا نیبیولا دریافت

    یورپین سدرن آبزرویٹری (ای ایس او) نے زمین سے 6000 سال نوری فاصلے پر موجود سانپ نما ستاروں کے جھرمٹ میں چھپی ایک نیبیولا کی نئی تصاویر جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی: Sh2-54 نامی نیبیولا اوراس جیسے متعدد اجرامِ فلکی’سرپن‘نامی سانپ نما ستاروں کی جھرمٹ کی دم میں واقع ہیں اس علاقے میں اس نیبیولا کے علاوہ دیگر مشہور اجرامِ فلکی موجود ہیں جن میں میں ایگل نیبیولا اور اومیگا نیبیولا شامل ہیں۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    نیبیولا ایک ایسا خطہ ہوتا ہے جہاں نئے ستارے وجود میں آتے ہیں۔ ان علاقوں میں گیس اور غبار کے بڑے بڑے بادل ہوتے ہیں جو آپس میں مل کر نئے ستارے بننے میں مدد دیتے ہیں –

    زیادہ تر نیبیولے کسی ستارے کی موت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سپر نووا (supernova) بھی کہلاتے ہیں۔ باقی ماندہ نیبیولے نئے ستاروں کے بننے کے وقت پیدا ہوتے ہیں اس لئے ان کو ستاروں کی نرسری بھی کہا جاتا ہے۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    نیبولا زیادہ تر دھول اور گیسوں کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں نمایاں گیسیں ہائیڈروجن اور ہیلیم ہیں نیبیولے دو ستاروں کے درمیانی جگہ میں جسے انٹر سٹیلر سپیس کہتے ہیں پائے جاتے ہیں۔

    نیبیولا میں موجود غبار کے بادل قابلِ دید روشنی کو جذب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو دیکھنا مشکل ہوتا ہے لیکن انفرا ریڈ روشنی ان غبار کے بادلوں کے پار جاسکتی ہیں۔

    اب ٹیلی اسکوپ ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت سائنس دان زمین سے 6000 ہزار نوری سال کے فاصلے پرموجود اس نیبیولا اور اس جیسے دیگر اجرامِ فلکی کا قریبی جائزہ لے سکتے ہیں۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

  • ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    واشنگٹن: ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی نیئر انفرا ریڈ تصویر کھینچی ہے اس تصویر میں ٹیلی اسکوپ نے معمول سے آٹھ گُنا زیادہ آسمان کے حصے کو عکس بند کیا ہے جس سے ماہرین فلکیات کے لیے نئے دروازے کھولنے کی مدد ملے گی جو جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے لیے ممکنہ اہداف تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یہ تصویر جو ایک تکنیک کا مظہر ہے، مستقبل میں سائنس دانوں کو دور دراز موجود کہکشاؤں کی تشکیل اور ساخت کو بہتر سمجھنے میں مدد دے گی اور اس کے ساتھ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے لیے نئے اہداف کا تعین کیا جائے گا۔

    یہ تصویر 3D-DASH نامی پروجیکٹ کا نتیجہ ہے اور اسے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے وائیڈ فیلڈ کیمرہ 3 (WFC3) نے ہبل کے ایڈوانسڈ کیمرے برائے سروے کے اضافی آرکائیو ڈیٹا کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ یہ آسمان کے 1.35 مربع ڈگری پر پھیلا ہوا ہے، جو تقریباً چھ مکمل چاندوں کے برابر ہے، اور اس میں ہزاروں کہکشائیں ہیں۔ اس کا مقصد مستقبل میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر دوربینوں کے ذریعے مزید مطالعہ کے لائق کہکشاؤں کی شناخت کرنا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ہبل ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کھینچی گئی یہ تصویرMikulski Archive for Space Telescopes سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔ یہ تصویر انتہائی بڑی ہے اور اس کا سائز 19 گِیگا بائیٹس ہے۔

    ٹورنٹو یونیورسٹی کے ڈنلپ انسٹی ٹیوٹ برائے فلکیات اور فلکی طبیعیات کے ماہر فلکیات اور نئی کہکشاؤں کے رہنما لامیا مولا نے کہا،کہ میں دیو ہیکل کہکشاؤں کے بارے میں متجسس ہوں، جو کائنات میں سب سے زیادہ وسیع ہیں جو کہ دوسری کہکشاؤں کے انضمام سے بنتی ہیں۔”-یک بیان میں کہا. "ان کے ڈھانچے کیسے بڑھے، اور کس چیز نے ان کی شکل میں تبدیلیاں لائیں؟ موجودہ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ان انتہائی نایاب واقعات کا مطالعہ کرنا مشکل تھا، جس نے اس بڑے سروے کے ڈیزائن کو متحرک کیا۔

    عام طور پر، اتنی بڑی تصویر بنانے کے لیے ہبل کو 2,000 گھنٹے کا مشاہدہ کرنا پڑتا تھا، لیکن مولا کی ٹیم نے ڈرفٹ اینڈ شفٹ (DASH) نامی ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا، جو ایک سے زیادہ شاٹس لیتی ہے اور انہیں ایک ساتھ جوڑ دیتی ہے، جس سے انفرادی تصاویر کو آٹھ گنا بڑی جمع کیا جاتا ہے۔ WFC3 کے عام فیلڈ آف ویو (0.04 x 0.04 ڈگری) سے۔ مزید برآں، ہر بار جب یہ زمین کا چکر لگاتا ہے تو ایک تصویر لینے کے بجائے، ہبل DASH تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ تصاویر لے سکتا ہے مجموعی طور پر 1,256 انفرادی WFC3 شاٹس کے ساتھ، اس نے پورے موزیک کو مکمل کرنے میں صرف 250 گھنٹے کا مشاہدہ کیا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    تصویر میں زیادہ تر کہکشائیں انفراریڈ روشنی کے دھبوں کے طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے زیادہ دور نظر آتے ہیں جیسا کہ وہ تقریباً 10 بلین سال پہلے موجود تھے، اور ان کے اندر موجود شاندار ستاروں کی شکل والے خطوں کی روشنی کو کائنات کی وسعت سے قریب اورکت طول موجوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آپ ان کہکشاؤں کو 3D-Dash امیج ایکسپلورر سے تصویر کے آن لائن انٹرایکٹو ورژن میں مزید تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔

    بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے ہبل ٹیلی اسکوپ کو استعمال کرتے ہوئے آسمان کے کوسموس فیلڈ نامی خطے کی پہلی تصویر لی۔

    کوسموس فیلڈ آسمان کا وہ علاقہ ہے جو زمین سے دیکھے جانے والے سیکسٹنٹ نامی ستاروں کی جھرمٹ سے دو ڈگری کے زاویے پر موجود ہے اس علاقے کا انتخاب ماہرینِ فلکیات نے اس لیے کیا تاکہ دور دراز موجود، کہکشاؤں سے ماورا خلا کو صاف شفاف دیکھا جاسکے کوموس فیلڈ میں لاکھوں کہکشائیں دیکھی جاسکتی ہیں جن میں سے کچھ 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

  • کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ہونے والے بگ بینگ کے بعد سے پھیل رہی ہے لیکن اسپیس اور ٹائم کے معکوس پھیلاؤ کی وجہ سے اس میں تیزی سے “قابل ذکر” تبدیلی آسکتی ہے اور یہ بڑے سکڑاؤ کی طرف بڑھ رہی ہے جو شاید ایک نیا بگ بینگ ثابت ہو۔

    اس سے پہلے کہ آپ اپنا سامان باندھنا شروع کریں اور نئی کائنات میں منتقل ہونے کے طریقوں کے بارے میں سوچیں، جان لیں کہ جب سائنس دان ان چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں تو وہ اسے لاکھوں سالوں کے پیمانے پر کرتے ہیں۔

    سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق، “کائنات میں توسیع کا خاتمہ حیران کن طور پر جلد ہی ہو سکتا ہے۔”لیکن جلد ہی کا مطلب ہے “اگلے 65 ملین سالوں کے اندر”۔

    محقق پال اسٹین ہارڈ نے لائیو سائنس کو بتایا کہ “65 ملین سال پہلے ہی چکژولب سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا اور روئے زمین پر ڈائنوسارز کے خاتمے کا باعث بنا تھا۔”ان کا کہنا ہے کہ “کائناتی پیمانے پر، 65 ملین سال نمایاں طور پر مختصر ہیں۔”

    سٹین ہارڈ اور ساتھی محققین آندرے کوسمین اور اینا ایجاس کے مقالے کا کہنا ہے کہ ایک بار جب توسیع ختم ہو جائے گی تو کائنات دوبارہ سکڑنا شروع کر دے گی، اور اس میں موجود تمام مادے اور توانائی ایک چھوٹے حجم میں قید ہو جائیں گے۔

    مقالے میں مزید بتایا گیا کہ ہر ستارہ جو ہم رات کے آسمان میں دیکھ سکتے ہیں وہ ایک عظیم بلیک ہول سے ٹکرا جائے گا جس کا افق اربوں نوری سال پر محیط ہے۔

    یہ سب کب ہوگا، اور اگر یہ بالکل ہوگا بھی تو اس کا انحصار اس قوت کی پیمائش پر ہے جسے سائنس دان صرف مدھم انداز میں سمجھتے ہیں۔

    ڈارک انرجی ایک پراسرار قوت کو دیا جانے والا نام ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کرنے کی بجائے وقت کے ساتھ ساتھ تیز تر کر رہی ہے۔

    لیکن نیو جرسی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں پرنسٹن سینٹر فار تھیوریٹیکل سائنس کے ڈائریکٹر سٹین ہارڈ کے مطابق، ڈارک انرجی وہ قوت نہیں ہے جس پر سائنس دانوں نے کبھی یقین کیا تھا بلکہ ایک حقیقی مادہ ہے جسے وہ “Quintessence” کہتے ہیں۔

    یہ مادہ زوال پذیر ہوسکتا ہے، کائنات کے پھیلاؤ کے لیے دباؤ کو کمزور کر سکتا ہے اور کشش ثقل کو راستہ دے سکتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ناقابل یقین حد تک گھنے، اور ناممکن طور پر گرم یکسانیت کی طرف لے جائے گا۔

    کچھ نظریات پیش گوئی کرتے ہیں کہ کائنات کے سکڑنے کے ساتھ ہی وقت پیچھے کی طرف بھاگنا شروع کر سکتا ہے۔

    اگرچہ اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ پیش گوئیاں، جیسا کہ سائنس دانوں کی ایک ٹوٹتی ہوئی کائنات کی پیش گوئی، ممکن ہے کہ بنی نوع انسان کے ڈائنوسار کے راستے پر جانے کے کافی عرصے بعد خالصتاً نظریاتی رہیں۔