Baaghi TV

Tag: فل بینچ

  • سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی

    جسٹس منصور علی شاہ کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا

    فوجی عدالتوں کیخلاف سویلین کے ٹرائل کیخلاف کیس 23 جون کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا تحریری حکمنامہ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ بھی شامل ہے ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ بنچ تشکیل دیں، , نظام عدل کی ساکھ کی عمارت عوامی اعتماد پر کھڑی ہے، موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے،اس وقت ملک میں انتخابات کیلئے سیاسی ماحول کا منظرنامہ چارج ہے ،ایسے سیاسی چارج ماحول میں موجودہ عدالتی بنچ کے خلاف اعتراض کیا جاسکتا ہے، فوجی عدالتوں کیخلاف کیس سننے والے بنچ میں موجود ججز کے تحریری اعتراضات انتہائی سنجیدہ ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایک سینئر جج کے اعتراض پر اس وقت مناسب نہیں ہے کہ رائے دوں

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں کہا کہ ایک سینئر جج کے اعتراض عدالت میں ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے مناسب اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف اعتزاز احسن نے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ،اعتزاز احسن کی طرف سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی حکومت کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کور کمانڈر فیصلہ پر رپڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔سویلین کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے سیکشن 2 اور 59 آئین سے متصادم ہیں آرمی ایکٹ قانون کے سیکشن 2 اور 59 کو کالعدم قرار دیا جائے آرمی ایکٹ کا سیکشن 94 اور 1970 کے رولز غیر مساوی ہے۔سیکشن 94 اور رولز کا بھی غیرآئینی قرار دیا جائے انسداد دہشت گرد عدالتوں کے ملزمان کو عسکری حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عسکری حکام کے حراست میں دئیے سویلین کی رہائی کا حکم دیا جائے ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا ثناءاللہ، عمران خان، پانچوں آئی جیز، تمام چیف سیکرٹریز، وزارت قانون، داخلہ، دفاع، کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ  آٸندہ سماعت پر طلب

    سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ آٸندہ سماعت پر طلب

    پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے ، حسن رضا پاشا نے کہا کہ بار کا کسی کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس پر فل کورٹ نہیں بن رہا تو فل کورٹ میٹنگ بنا دیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں ججز کے آپس میں تعلق اچھے ہیں۔ کل اور آج دو ججوں نے سماعت سے معذرت کی باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی۔کچھ نقاط پر ہماری گفتگو ضروری ہے سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرسنز سے تیل ڈالا گیا۔ عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے۔ اس معاملہ پر مجھے چیمبر میں ملیں،آج پہلی بار آپ عدالت آئے ہیں، باتوں سے نہیں عمل سے خود کو ثابت کریں،چیمبر میں آئیں آپ کا بہت احترام ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر مجھ سے رابطے میں رہے ہیں،معاملہ صرف بیرونی امیج کا ہوتا تو ہماری زندگی پرسکون ہوتی، میڈیا والے بھی بعض اوقات غلط بات کردیتے ہیں،عدالت ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب جو نکتہ اٹھانا چاہیں اٹھا سکتے ہیں، عدالت نے کچھ مقدمات میں حالات کی پیروی کے لیے فریقین کو ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں،ملک میں ہر طرف درجہ حرارت کم کرنا چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو ہی فوقیت دی ہے،ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا،معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر میں آ گئے،نوے کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آ سکے آئین، جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی یے، ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا ختیار ہے، نوے دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے نوے دن کی مدت کے پندرہ دن بعد تاریخ دی،صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے،صدر کو حالات سے اگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی عدالت کے سامنے مسئلہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے ،عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ ،ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا،اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست تک مکمل ہورہی ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گیے،اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے،عدالتی فیصلہ دیکھ کر کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے۔ ہر فریق کے ہر نقطے کا فیصلے میں ذکر کریں گے، بیس ارب کی اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی،دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے ،نصف پولنگ سٹیشن انتہائی حساس یا حساس ہیں، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے، دہشتگردی تو 90 کی دہائی سے ہے عدالت کو بتایا گیا کہ افواج بارڈر پر مصروف ہیں، اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج عدالت کا جاری سرکلر دیکھا یے، جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، جسٹس جمال مندوخیل بینچ سے الگ ہو چکے ہیں ،دوسرا نقطہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے،تیسرا نکتہ یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے، موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم یے، نو رکنی بینچ کے دو اراکین نے رضا کارانہ بینچ سے علیدگی اختیار کی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ دو ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا ستائس فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے،؟ اٹارنی جنرل نے ستائیس فروری کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا،چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا،اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔آرڈر میں دوبارہ بینچ کی تشکیل کا کہا گیا، بینچ کی تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے، دوبارہ 9 رکنی بینچ بنایا جاسکتا تھا، کتنے رکنی بینچ بنا یا ٹوٹا اس میں مت جائیں، ایسا کر کے آپ ہماری حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ بینچ کی تشکیل ہمارا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو پبلک پر اچھالا جانا بدقسمتی ہے، بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کا اندرونی اختیار ہے ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ معاملات حل ہوں .دوبارہ بینچ کے معاملات میں مت جائیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا،سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے، ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں ،فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا ،عدالتننگ بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے،ایک بات یہ زہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں،موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے،گزشتہ ہفتے کویٹہ کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا .فل کورٹ بنانے سے قبل کئی معاملات کو زیر غور رکھنا ہوتا ہے، دیکھنا ہوتا ہے بینچ بنانے سے دیگر کام نہ رکے، فل کورٹ بنانے سے دیگر کیسز متاثر ہوتے ہیں کئی مواقع پر ججز کی عدم موجودگی کے باعث فل کورٹ کا کام متاثر ہوتا ہے،نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا،جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں،آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی کو شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا،دو سال جسٹس فائز عیسیٰ کیس چلا اور عدالت کو سزا ملی ،جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے بھی مقدمہ سزا ہی تھا، ہمارے ایک ساتھی کا دو سال ٹرائل کیا گیا،دو سال کے ٹرائل کے بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ میں آج بھی اتفاق ہے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ نہیں سپریم کورٹ کتنا متاثر ہورہی ہے، آج ججز کی آڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ سیاسی معاملات اور سنی سنائی باتوں پر نشانہ ججز کو بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی کچھ معاملات میں اب بھی ہے، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔سپریم کورٹ میں بیس سال کی نسبت بہترین ججز ہیں ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کے فیصلے پڑھیں، جسٹس شاہد وحید نے بہترین اختلافی نوٹ لکھا،آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے ،قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا، میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا،میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں، جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا ،جو کچھ آج تک کیا آئین اور قانون کے مطابق کیا ،ٹیکس کا معاملہ ہے تو متعلقہ افسر کو کہیں ٹریس کریں ٹیکس معاملے پر کیسے جج کا ٹرائل کریں، جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفی سے روکا تھا، جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا مرحوم باپ کو کیا منہ دکھاوں گا،چیف جسٹس کی کمرہ عدالت میں جذبات سے آواز بھر آئی

    دوران ریمارکس چیف جسٹس عمر عطا بندیال جذباتی ہوگئے، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سماعت کے دوران جذباتی نہیں ہونا ہے،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے، درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں،ہمارے سامنے فاروق نائیک، اکرم شیخ اور دیگر سینئر وکلا موجود ہیں،ہم پہلے حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو معاشی صورتحال پر آگاہی دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا بجٹ میں خسارہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر خسارہ اکتوبر تک رہا تو پھر کیا ہوگا،

    عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنے دیں، عرفان قادر نے کہا کہ میں صرف 3 منٹ بات کرتا ہوں،روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے،آپ جذباتی ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے 3 منٹ کا کہا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ 3 منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کرونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیس کی بات کریںادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا،اٹارنی جنرل صاحب سکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا،معاشی حالات پر عدالت کو آگاہ کروں گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آٹھ اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اس پر جواب دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ، اکرم شیخ اور کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے، پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ بیس ارب کا نہیں پوری معیشت کا یے،ملک کو پندرہ سو ارب خسارے کا سامنا ہے، تیس جون تک شرح سود بائیس فیصد تک جا سکتی ہے،شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے،فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے، اگر بیس ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا،پندرہ سو ارب خسارے میں بیس ارب سے کتنا اضافہ ہو گا، الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے، اگر پورا جمع ہو گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فنڈز وزارت خزانہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے، پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں، رولز کے مطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز سٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے ،کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو تیس اپریل کو الیکشن کروا سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز میں رقم ہونا اور خرچ کے لیے دستیاب ہونا الگ چیزیں ہیں ، سٹیٹ بینک کو رقم اور سونا ریزرو رکھنا ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے دوبارہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین دن سے آپ کو سن رہے ہیں،عدالت کا ایک ایک دن اہم ہے،آپ چاہتے ہیں بینچ میں مزید ججز شامل کریں تاکہ دلائل دوبارہ سے شروع کرنے پڑیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بار فل کورٹ کے مطالبات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ دنیا کے کسی عدالتی سسٹم میں ایسے مطالبات نہیں کیے جاتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ فل کورٹ پر اعتماد ہوگا یہ رویہ درست نہیں،عدالت کا ایک ایک لمحہ اہم ہے،ہمیں بتایا جائے کب الیکشن کرانے ہیں،ہم سیاسی جماعتوں سے بھی الیکشن سے متعلق یقین دہانیاں لیں گے، لگتا ہے اٹارنی جنرل کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،الیکشن کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہے، 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کرائے جاسکے صرف یہ دیکھنا ہے مزید کتنے دن درکار ہوں گے الیکشن کیلئے،ہم اس عدالت میں تمام فریقین کو بلائیں گے، تمام فریقین سے معاونت کیلئے یقین دہانیاں لیں گے،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری خزانہ کو نوٹس جاری کردیے سیکرٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کردی،

    سپریم کورٹ سماعت پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آٸندہ سماعت پر طلب کر لیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار ٹوٹنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نئی صورتحال کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر فل کورٹ کی استدعا کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر قانون نے انتخابات التوا کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے پر قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک اور ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ بھی اس دوران گفتگو میں شریک رہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،وزیر قانون

    اسلام آباد: وزیر قانون نے کہا ہے کہ فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے معاملے پر اسی دن بتا دیا تھا فیصلہ چار تین کا ہے فل بینچ تشکیل دینے سے مقدمات میں ابہام دورہوجائے گا، موجودہ بینچ سے استدعا ہے فل کورٹ تشکیل دیاجائے، ادا رے کی تکریم کے لیے فل کورٹ معاملے کو دیکھے۔

    پی ٹی آئی کا بلدیاتی امیدوار "ڈکیت” نکلا، رنگے ہاتھوں عوام نے پکڑ لیا

    انہوں نےکہاکہ ن لیگ ،جے یوآئی اورپیپلزپارٹی کے وکلا عدالت میں ہیں،ججز کے اختلافی نوٹ کے مطابق چار تین کی نسبت درخواستیں مسترد ہوئیں ہیں،گذشتہ روز 2ججز کا اختلافی فیصلہ آیا الیکشن کمیشن کو قانونی مشورہ دینا میرا کام نہیں،الیکشن کمیشن آرٹیکل 218(3) کے تحت اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا، الیکشن کمیشن کسی فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔

    سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سپریم کورٹ میں درخواست کے کیس میں حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے،حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف مقدمات کی درخواست نمٹا دی

  • پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس ،فیصلہ سنا دیا گیا

    فیصلہ لیٹ ہونے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چودھری پرویز الہیٰ کی ڈپٹی سپیکر کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی ہے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں اسکا کوئی قانونی جواز نہیں، پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں،

    فیصلے کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی، حمزہ شہباز کے ووٹ 179 تھے، جبکہ پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ ملے جسکی بنیاد پر پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ قرار پائے، حمزہ شہباز کی کابینہ کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،حمزہ شہباز نے جو حلف اٹھایا وہ بھی غیر آئینی ہے چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کابطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں،گورنر پنجاب پرویز الہیٰ سے حلف لیں ، آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیا جائے،اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت حلف لیں، حکم پر عمل یقینی بنایا جائے، حمزہ شہباز نے جو بھی قانونی کام کئے وہ برقرار رہیں گے اس آرڈر کی کاپی گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکریٹری کو ارسال کریں،

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے


    قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے ،احمد اویس نے کہا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ ہے دو اپریل سے چل رہا تھا،یہ معاملہ پہلے کیوں سب کو یاد نہ آیا،سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پرہمارے ووٹ شمار نہیں کئے،اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا

    علی ظفر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے،علی ظفر نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارٹی کی کئی کمیٹیوں کا سربراہ بھی ہوتا ہے،عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو بیس منحرف ارکان تھے ان میں سے کتنے ارکان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر ابھی جو آپ دلائل دے رہے ہیں وہ کولیٹرل دلائل ہیں، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جو ممبران منحرف ہوئے انہوں نے دوبارہ دوسری پارٹی کی ٹیکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا ،علی ظفر نے کہا ہک عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ میرے موکل کے خلاف ہے لیکن آئین کے مطابق ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کا حکم نامہ کیا اتفاق رائے پر مبنی تھا ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ جی وہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ تھا ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابات کے بعد جو نتیجہ آیا تھا اس پر رن آف الیکشن ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعلی کے انتخاب تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی رہنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پل کے نیچے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے اب اس معاملے کو کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرلز کے جواب کا انتظار کررہے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی، ڈپٹی اسپیکر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند بھی نہیں ہے،

    ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیراعلی کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا،کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں عدالت نے نوٹسز جاری کرکے کہا تھا قانونی نکات پر دلائل دیئے جائیں، اس عدالت کے 8 ججز نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کیا کہا تھا وہ دیکھ لیا ہے،آرٹیکل 63 اے پر تشریح ہوچکی ہے اس پر اب مزید ضرورت نہیں، یہاں پر کوئی اور ہے جو دلائل دے؟ اس صورتحال میں ہم ایک وقفہ کرتے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ لوگ نظر ثانی کی بنیاد پر تمام کارروائی روکنا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اظہر صدیق اپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ 20میں سے 16 منحرف ارکان نے ن لیگ،2 نے آزاد الیکشن لڑا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل بیمار ہیں اور بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل یکم کو آئیں گے اس وقت تک انتظار نہیں کرسکتے، آپ دلائل دیں،ہم نے سماعت کے پہلے حصے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر دلائل سنے،دوسرے حصے میں ہم نے پارٹی ہیڈ کے متعلق دلائل سنے، عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 والے کیس میں پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ایک فل کورٹ نے 2015میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلہ دیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آپ کا نکتہ سمجھ گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ ایک رائے تھی یا فیصلہ تھا ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے،پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ ایسے دلائل دیں جو ہمیں مطمئن کریں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کاروائی کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس میں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی اور کہا کہ اس کو چیلنج کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر پڑھے لکھے ہیں ، آرٹیکل 63 کی جو زبان ہے وہ ایک عام ادمی بھی سمجھ سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے تمام وکلا نے عدالت کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ دن دوسرے فریقین نے اپنے جواب جمع کرائے ،سماعت میں وقفہ کرتے ہیں ، پونے 6 بجے فیصلہ سنائیں گے،

    منگل وقفے سے قبل کی سماعت پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی