Baaghi TV

Tag: فل کورٹ

  • چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس ہوا،

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز نے شرکت کی. سینیئر پیونی جج جسٹس منصور شاہ سعودی عرب سے آن لائن شریک ہوئے.سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس ختم ہو چکا ہے،فل کورٹ اجلاس لگ بھگ ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ اجلاس سپریم کورٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے حوالے سے منعقد کیا گیا، مقصد مقدمات کی تعداد میں کمی اور عدالتی کارکردگی کو بڑھانا تھا، سپریم کورٹ کے ججز کا فُل کورٹ اجلاس دو دسمبر کو دوبارہ ہو گا،سپریم کورٹ کے فُل کورٹ اجلاس میں زیرالتواء 59 ہزار سے زائد مقدمات کو نمٹانے اور کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں، رجسٹرار سپریم کورٹ نے زیر التواء مقدمات سے متعلق بریفنگ دی،

    جاری اعلامیہ کے مطابق یہ اجلاس ادارے میں سپریم کورٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مقدمات کو نمٹانے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں کیس کے بیک لاگ کو کم کرنے اور عدالتی کارکردگی کو بڑھانے کے اقدامات پر توجہ دی گئی تھی۔ رجسٹرار نے موجودہ کیس بوجھ کا ایک جائزہ فراہم کیا اور مقدمات کے بروقت فیصلے کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے تازہ ترین اعدادوشمار پیش کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت 59,191 مقدمات زیر التوا ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ کے تیار کردہ کیس مینجمنٹ پلان 2023 پر مبنی ایک ماہ کا نیا منصوبہ متعارف کرایا۔ اس منصوبے میں واضح معیارات کا تعین کرنا، تمام زمروں کے مقدمات کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا شامل ہے۔کیس مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیتے ہوئے، معزز ججوں نے پلان کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے متعدد حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ فوجداری اور دیوانی مقدمات، جیسا کہ ماہانہ پلان میں تفصیل سے بتایا گیا ہے، خصوصی دو اور تین رکنی بنچوں کو مختص کیے گئے تھے تاکہ کیس کے جلد اور جلد حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ عزت مآب ججز نے نظام کی مزید بہتری کے لیے قیمتی بصیرت اور سفارشات پیش کیں، عزت مآب جسٹس سید منصور علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے اضافی تجاویز پیش کیں جن کا مقصد کیس کے بیک لاگ کو کم کرنا اور ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے طریقہ کار کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے اور اس کے بعد تین ماہ اور چھ ماہ کے منصوبے شامل ہیں۔ معزز چیف جسٹس نے تمام ججز کا شکریہ ادا کیا کہ وہ کیس مینجمنٹ پلان کو مکمل طور پر لاگو کرنے کے عزم کے ساتھ بیان کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ ہیں۔ 2 دسمبر 2024 کو طے شدہ فل کورٹ میٹنگ کے اگلے سیشن میں پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس میں ججز کے تحفظات سمیت مختلف عدالتی امور زیر غور آئے،واضح رہےکہ 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کیا تھا،ان کی تقریب حلف برداری میں جسٹس منصور علی شاہ نے عمرے پر ہونے کے سبب شرکت نہیں کی تھی

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

    چیف جسٹس یحی آفریدی حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ پہنچ گئے

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کو سپریم کورٹ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ سلیم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا،جسٹس یحیی آفریدی نے چیف جسٹس چئمبر سنبھال لیا،سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 28 اکتوبر کو ججز کا فل کورٹ اجلاس بلا لیا

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ بھی اپڈیٹ کر دی گئی،ویب سائٹ پر قاضی فائز عیسیٰ کی جگہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام چیف جسٹس پاکستان کے طور پر اپڈیٹ کر دیا گیا۔ویب سائٹ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سینئر موسٹ جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لے لیا ہے،چیف جسٹس پاکستان کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہوئی جہاں صدر مملکت آصف زرداری نے ان سے حلف لیا،تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس،کئی ججز شریک نہ ہوئے

    قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس،کئی ججز شریک نہ ہوئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا

    فل کورٹ ریفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا،فل کورٹ ریفرنس میں ایڈہاک ججز سمیت سپریم کورٹ کے ججز شریک ہیں،سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ بیرون ملک ہونے کے باعث شریک نہ ہوئے،جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ بھی فل کورٹ میں شریک نہ ہوئے،جسٹس شہزاد احمد خان بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوئے،فل کورٹ ریفرنس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ،نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز شریک ہیں ،فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے وکلاء، عدالتی عملہ اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہے،ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس جمال خان مندوخیل شریک ہیں،ریفرنس میں جسٹس محمد علی مظہر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شریک ہیں،ریفرنس میں جسٹس مسرت ہلالی ،جسٹس عرفان سعادت خان ،جسٹس نعیم اختر افغان شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عقیل عباسی شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں ایڈہاک ججز جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں بھی شریک ہیں، الوداعی ریفرنس میں شریعت اپیلیٹ بنچ کے دو عالم ججز بھی شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں 12 مستقل جج صاحبان، 2 ایڈہاک ججز اور 2 عالم ججز شریک ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنی حدود میں کام کریں، اٹارنی جنرل
    چیف جسٹس پاکستان قاضی عیسیٰ کے لیے الوداعی فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے خود کو بطور قابل وکیل منوایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی بھی نمائندگی کی، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان میں تعلیمی نظام کی روانی یقینی بنائی، انہوں نے بلوچستان میں جنگلی حیات کو بچانے کے لیے کردار اداکیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان 5 سال خدمات انجام دیں، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کردار ادا کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنی حدود میں کام کریں، سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں،چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی قاضی فائیزعیسیٰ نے طویل وقفے تک نہ بلائی گئی فل کورٹ میٹنگ بلائی اور عوامی اہمیت کے مقدمات کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ شفافیت اور عوامی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    میری زندگی میں ویٹو پاور میری اہلیہ کو حاصل،ہر کریڈٹ میں میری اہلیہ کاہاتھ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
    فل کورٹ ریفرنس ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اردومیں تقریر کی اور کہا کہ میں آج اردو میں خطاب کرنا چاہوں گا،آج آئین اور قانون کی باتیں نہیں کروں گا،تقریب میں شریک تمام افراد کامشکور ہوں، اٹارنی جنرل اورفاروق ایچ نائیک کا بھی مشکورہوں ، ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو یہاں موجود نہیں ،افتخار چودھری کاشکریہ جنہوں نے چیف جسٹس بلوچستان بنایا،میرے پیشے اور شادی کو 42 سال ہوگئے،میری اہلیہ نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،میری زندگی میں ویٹو پاور میری اہلیہ کو حاصل ہے،ہر کریڈٹ میں میری اہلیہ کاہاتھ ہوتا تھا، مجھے کسی سے سیکھنے کو نہیں ملا، وکیلوں نے مجھے بہت سکھایا، بلوچستان میں ایک غیر فعال عدالت عالیہ کا کام شروع ہوا، بلوچستان میں بہت ساری چیزیں کیں،میرے والد بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے، میری والدہ نے مجھے نصیحت دی ڈگری کرلو پھر جو مرضی کرلینا، تعلیم کے فوراً بعد میری شادی بھی ہوگئی،مجھے ایک دفعہ کال آئی کہ چیف جسٹس بلا رہے ہیں، میں انگریزی اخبار میں لکھ رہا تھا، مجھے لگا چیف جسٹس نے ڈانٹنے کے لیے بلایا ہے، چیف جسٹس نے کہا بلوچستان میں کوئی جج نہیں، آپ چیف جسٹس بنیں، چیف جسٹس بلوچستان بننے کے بعد زندگی بدل گئی، بلوچستان میں جو کام کیے ان کا لوگوں کو معلوم ہے، بلوچستان میں جو کیا اہلیہ کا کردار تھا لیکن اہلیہ نے کہا نام نہیں لایا جائے گا،بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں اہلیہ کے ساتھ گیا، دو لوگ میرے ساتھ آئے، پروفیسر ڈاکٹر مشتاق بطور پرائیویٹ سیکریٹری اور محمد صادق بلوچستان سے ساتھ آئے، جزیلا اسلم کا بطور رجسٹرار انتخاب کرنا اچھا فیصلہ تھا، کبھی کاز لسٹ بنانے میں دخل نہیں کیا۔

    چیف جسٹس فائز عیسی کو اشتعال دلایا جائے تو جہنم کی آگ بھی ان کے سامنے کچھ نہیں، نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
    نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے جانے پر خوشی بھی ہے اور افسوس بھی، کچھ لوگوں کو شاید عجیب لگے لیکن جسٹس فائز عیسی کو مسکرا کر ملیں تو ایسے ہی جواب ملتا،الوداعی ریفرنس سے نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خطاب پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نرم مجاز انسان ہیں، اگر آپ قاضی فائز عیسیٰ کو اکسائیں گے تو پھر آپ پر قیامت ٹوٹ پڑے گی ان کے غصے سے بچنا مشکل ہے، میں نے بھی ایک مرتبہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز کے غصے کا سامنا کیا،میرا یہ تجزیہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا، اگر چیف جسٹس فائز عیسی کو اشتعال دلایا جائے تو جہنم کی آگ بھی ان کے سامنے کچھ نہیں، چیف جسٹس فائز عیسی جسٹس یحی آفریدی کی باتیں سن کر ہنسنے لگے،نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے اعزاز میں ظہرانہ سرکاری خرچ پہ نہیں بلکہ ذاتی خرچ پر ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے دور میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کیا، چیف جسٹس کا موڈ غصے کے آدھے گھنٹے بعد نارمل ہوجاتا تھا،چیف جسٹس کے اعزاز میں آج دیا جانے والا ظہرانہ سرکاری خرچ پر نہیں، چیف جسٹس نے کہا ظہرانے کا خرچ آپ خود اٹھائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کمی محسوس کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اچھا دور گزار کرجارہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بہترین انسان پایا،چیف جسٹس خواتین کے حقوق کے لیے پیش پیش رہے ہیں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے بہت کچھ سیکھا ہے،میں اور ساتھی ججز ساتھی ججز اور متعلقہ ہائی کورٹس کے تعاون سے دعا ہے اللہ ہمیں کامیاب کرے، چیف جسٹس کے اہل خانہ کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کرتا ہوں،قوم کیلئے ضروری ہے کہ اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے، فوری طور پر دور دراز علاقوں کی ضلعی عدلیہ پر توجہ دینا ہوگی، میری پہلی ترجیح دوردراز علاقوں کی ضلعی عدلیہ ہوگی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • 6ججزکا خط،سپریم کورٹ  کے   فل کورٹ اجلاس  کا اعلامیہ جاری

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججزکا خط ، سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے اعلامیہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : اعلامیے کے مطابق ‏چیف جسٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا خط 26 مارچ کو موصول ہوا، ‏ہائیکورٹ کے ججز کی جانب سے خط 25 مارچ کو لکھا گیا،‏ چیف جسٹس نے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ اور دیگر ججز کے ساتھ افطار پر ملاقات کی، ‏ججز سے ملاقات چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ پر ہوئی-

    ‏اعلامیے کے مطابق تمام ججز کے تحفظات کو ڈھائی گھنٹے تک ایک، ایک کر کے سنا گیا، 27مارچ کو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون سے ملاقات کی ، ‏ چیف جسٹس نے صدرسپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کے سینئر ممبرز سے ملاقاتیں بھی کیں، 27مارچ کو شام 4 بجے چیف جسٹس نے فل کورٹ میٹنگ طلب کی –

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ‏ فل کورٹ کی میٹنگ میں ہائیکورٹ کے ججز کے لکھے گئے خط پر تبادلہ خیال کیا گیا، اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ چیف جسٹس کو وزیراعظم سے ملاقات کرنی چاہیے،‏ وزیراعظم نے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ چیف جسٹس، سینئر جج اور رجسٹرار سے ملاقات کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ ‏ ججز کے معاملات اور عدالتی امور میں ایگزیکٹو کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،‏ کسی بھی صورتحال میں عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا-

    چیف جسٹس سے ملاقات ختم،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ

    اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ، عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے دوران انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی، انکوائری کمیشن کسی نیک نام ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کرنے کی تجویز دی گئی، ‏ طے پایا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ذریعے انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی جائیگی-

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ‏ اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات میں وزیراعظم نے یقین دلایا آزاد عدلیہ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، عدلیہ کی آزادی کیلئے فیض آباد دھرنا کیس کے پیراگراف 53 کے مطابق قانون سازی کی جائیگی، وزیراعظم سے ملاقات کے بعد چیف جسٹس نے دوبارہ فل کورٹ میٹنگ بلائی، فل کورٹ میٹنگ کے اندر وزیراعظم سے کی گئی ملاقات کی تفصیلات بتائی گئیں-

  • ججز کا خط،چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس

    ججز کا خط،چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس

    اسلام آبادہائی کورٹ ججز کے خط کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کا جائزہ لیا جارہا ہے، اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل شریک ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس شاہد وحید،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی موجود ہیں،جسٹس یحیٰ آفریدی،عرفان سعادت اورجسٹس محمد علی مظہر،جسٹس مسرت ہلالی بھی شریک ہیں،جسٹس عائشہ صدیقی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی فل کورٹ اجلاس میں موجود ہیں،

    میڈیارپورٹس کے مطابق اس معاملے پر اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے حوالے سے لکھے گئے خط پر غور کیا گیا۔

    سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس سے قبل میٹنگ روم کی سکیورٹی کلیئرنس کا کام جاری ہے،بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ سکریننگ کیلئے پہنچ گیا

    ججز کا خط،پاکستان بار کونسل کا اجلاس 5 اپریل کو طلب
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا خط، پاکستان بار کونسل نے ہنگامی اجلاس دس روز بعد طلب کرلیا،پاکستان بار کونسل نے ججز کے خط پر اہم اجلاس طلب کرلیا ،پاکستان بار کونسل کا اجلاس 5 اپریل کو طلب کیا گیا ،اجلاس میں ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل تھے،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز سامنے آئی، جسٹس منصور علی شاہ نے معاملہ میں فل کورٹ بنانے کی ابزرویشن دے دی۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق کیس میں 22 جون کو میں نے نوٹ لکھا تھا ،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے آنے کے کے بعد اس کیس کو فل کورٹ کو سننا چاہیے ،آج بھی چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ نیب ترامیم کیس کو فل کورٹ سنےابھی تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ نہیں ہوا ،اگر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہو جاتا تو معاملہ مختلف ہوتا ،پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے سیکشن 3 اور چار کی موجودگی میں فل کورٹ یہ کیس سن سکتا ہے، 

    جسٹس منصور نے کیس کی سماعت سے معذرت نہیں کی، سماعت جاری ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث خرابی صحت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکے ،خواجہ حارث کی جانب سے وکیل ڈاکٹر یاسر عمان عدالت میں پیش ہوئے وکیل ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کی عدم حاضری کی وجہ سے معذرت خواہ ہیں،

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ درخواست ابھی پری میچور ہے، میں اگلے مہینے ریٹائر ہو رہا ہوں، مجھے اس مقدمے کا فیصلہ کرنا ہے یہ بہت اہم مقدمہ ہے، جسٹس منصورعلی شاہ نے حکومتی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیمی ایکٹ کی موجودگی میں آپ کی کیا رائے ہے کہ موجودہ بینچ کو سننا چاہئے یا نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تیاری کر کے آئیں ہم اس مقدمے کی سماعت کا شیڈول بنائیں گے، خواجہ حارث کے معاون نے اپنے موکل کیطرف سے جواب جمع کرایا ہے،وفاقی حکومت جواب پر اپنا موقف دے داچھی چیز ہے بینچ کے خیالات میں تنوع ہیں،مخدوم صاحب وفاقی حکومت کے وکیل ہے، آپ کو 26 سماعتیں دلائل کیلئے دیں،اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، نئے جواب پر اگر مزید دلائل دینا ہے تو موقع دینے کو تیار ہیں،کیس کی سماعت 28 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرینگے ، میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا، اہم معاملہ ہے اور اسکی طویل عرصے سے سماعت بھی ہو رہی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے نکتے پر عدالت میں کوئی بحث ہی نہیں ہوئی،

    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

  • سویلینزکے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کاحکمنامہ جاری

    سویلینزکے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کاحکمنامہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس کی گزشتہ سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں کے کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیاحکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 2021 میں قرار دے چکی بینچز کی تشکیل کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، چیف جسٹس بطور ماسٹر آف روسٹر بینچ کی تشکیل پر فیصلہ کرچکے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے فل کورٹ بنانےکی درخواست دی، فل کورٹ بنانےکی استدعا مستردکی جاتی ہے، اٹارنی جنرل نےکہا کہ بینچ کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہےکہ بینچ کی تشکیل واحد چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔

    فیصلےمیں کہا گیا ہےکہ موجودہ حالات فوجی عدالتوں کے کیس میں فل کورٹ بینچ تشکیل دینا ممکن نہیں، چیف جسٹس پاکستان کا موقف ہےکہ اس وقت موسم گرما کی تعطیلات کے باعث فل کورٹ بنانا ممکن نہیں، ملٹری کورٹس کے کیس کی سماعت کے لیے 9 رکنی بینچ میں سے جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس سردار طارق مسعود بینچ میں بیٹھنے سے انکار کرچکے، جسٹس منصور علی شاہ نےکیس سننے سے معذرت کی، فل کورٹ بنانا اس وقت تکنیکی بنیادوں پر ممکن نہیں ہے، لہٰذا درخواست خارج کرنےکی بنا پر نمٹائی جاتی ہے۔

    اگست کا مہینہ جیل میں، بشریٰ بی بی زمان پارک سے غائب

    واضح رہے کہ حکومت نے 9 مئی کے واقعات کے بعد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانےوالوں کے خلاف مقدمات ملٹری کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا تھا اور متعدد افراد کے مقدمات فوجی عدالت میں بھجوائے جا چکے ہیں اس فیصلے سے قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں ہونے والی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے دوران اس عزم کا اظہارکیا گیا تھا کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد اوران کے سہولت کاروں اورماسٹرمائنڈز کو کٹہرے میں لایا جائے گافوجی عدالتوں میں سویلین مقدمات کیخلاف درخواستیں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، سینیئر وکیل اعتزاز احسن، کرامت علی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دائر کر رکھی ہیں۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  • پیپلز پارٹی چیف جسٹس پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتی،قمر زمان کائرہ

    پیپلز پارٹی چیف جسٹس پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتی،قمر زمان کائرہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہےکہ پیپلز پارٹی چیف جسٹس سے محاذ آرائی میں انتہائی اقدام نہیں چاہتی۔

    باغی ٹی وی: قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ڈیڈ لاک نہیں بلکہ ڈائیلاگ چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی بس اتنا چاہتی ہے کہ چیف جسٹس فل کورٹ بنائیں۔

    کراچی: ایس ایچ اوز کو باڈی وارن کیمرے یونیفارم کے ساتھ منسلک رکھنے کا حکم

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چیف جسٹس پاکستان سے محاذ آرائی نہیں چاہتی اور ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے حکومت نے پیپلز پارٹی سے سرکاری سطح پر کوئی بات نہیں کی۔

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شیری رحمان نے کہا تھا کہ صدر مملکت پارلیمنٹ کو قانون سازی نہ سکھائیں۔ انہوں نے بل نظر ثانی کے لیے واپس بھیج کر ثابت کر دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

    بیرونی دشمن کے ساتھ اندرونی سازشیں بھی ملک کوعدم استحکام کاشکارکررہی ہیں،مولانا احمد لدھیانوی

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ صدر کہہ رہے ہیں کہ یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہےاور ساڑھے 3 سال صدر ہاؤس کو آرڈیننس فیکٹری کی طرح چلاتے رہے، وہ پارلیمنٹ کے اختیارات سے کیسے واقف ہو سکتے ہیں۔

  • انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا،عطاتارڑ

    انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا،عطاتارڑ

    پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ اورمسلم لیگ (ن) کے رہنما عطاتارڑ نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز واضح اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے،عمرا ن خان کی طرح چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی سربراہ کے طورپر جب ہدایات جاری کیں تومعیار بدل گیا ہے، یہ انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا ، آئینی ماہرین کابھی خیال ہے کہ اس معاملے کی فل کورٹ سماعت سے مزید بہتری آئے گی ۔

    مسلم لیگ نواز الیکشن سے بھاگ رہی ہے. شیخ رشید

    ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ حمزہ شہباز واضح اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں عمران خان نے اپنے ارکان کو پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا کہا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہدایات عمران خان نے پارٹی سربراہ کےطور پر جاری کی تھیں مگر جب ایسی ہی ہدایات مسلم لیگ (ق) کےسربراہ چوہدری شجاعت نےجاری کیں تو معیار بدل گیا۔ انہوں نےکہا کہ رن آف الیکشن 186ووٹ حاصل نہ کرنے پر کرایا جاتاہے۔

     

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

     

    انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کےخط پر اعتراض کیا جاتاہے مگرعمران خان کا خط معتبر سمجھا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ لوگ انصاف کے دوہرے معیار پرسوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بارایسوسی ایشن کےسابق صدور نے بھی سوال اٹھایا کہ دوہرا معیار کیوں ہے؟۔ ترامیم میں درج ہے کہ پارٹی سربراہ ہی ہدایات جاری کرسکتاہے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کےمعاملے پر پارٹی سربراہ کےکردارپر روشنی ڈالی گئی تھی۔

     

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

     

    انہوں نے کہاکہ پارٹی سربراہ کی ہدایات اگر مقدم نہیں ہیں تو کیا ضمنی الیکشن کالعدم قراردیا جائےگا؟۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں چیئرمین سینیٹ کےالیکشن کے موقع پر بھی 7ووٹ مسترد کیے گئے اور کہاگیا کہ پریذائیڈنگ افسر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے جو فل کورٹ کےبغیر حل نہیں ہوسکتا ۔ عطاتارڑ نے کہاکہ عمران خان محاذآرائی اور گالم گلوچ کی سیاست کرتاہے،ہم عوام کی حالت بہتر کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ آئینی ماہرین کا کہنا ہے فل کورٹ سے معاملے میں مزید بہتری آئے گی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ فرح گوگی بہت سے مقدمات میں مطلوب ہے،اسے واپس لے آئیں تو پتہ چل جائےگا کہ عمران خان نے کتنی کرپشن کی ہے۔

  • اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہبازکے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے

    عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل نے ہدایات کی ہیں کہ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں کہ پیش نہ ہوں۔ہم نظر ثانی درخواست دائر کرینگے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ابھی تک ہم نے فریق نہیں بنایا، عدالت نے بیرسٹرعلی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کیس کو جلدی سے مکمل کریں ، ہم فل کورٹ ستمبرکے دوسرے ہفتے تک نہیں بنا سکتے، عدالت اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنے گی،پیپلزپارٹی تو کیس کی فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا،عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے دلائل دیئے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں،اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں،

    عرفان قادر نے کہا کہ فل کورٹ کے مسترد کیے جانیکے فیصلے پر نظر ثانی فائل کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربے جیسا ہے 1988میں صدر نے کابینہ کو ہٹایا،63 والے کیس میں آج جو سوال ہے وہ اس وقت نہیں تھا، 21 ویں ترمیم کے فصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے ،کیا 17 میں س8ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا،دلائل کے دوران21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا ، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا، 18 ویں اور 21 ویں ترمیم والے کیس میں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں آیا،63 اے والے کیس میں بھی ایسا کوئی ایشو سامنے نہیں آیا، علی ظفر آپ درخواست کے میرٹس پر دلائل دے کر عدالت کی معاونت کریں،جو دلائل میں باتیں کی گئیں اس کے مطابق فل کورٹ تشکیل نہیں دی جاسکتی تھی، اس عدالت کا موقف تھا کہ وزیر اعظم جو چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ،علی ظفر نے کہا کہ اس وقت 63 اے سے متعلق سوال تھا کہ کیا یہ شق درست ہے یا نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس عظمت نے اپنے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی بات کی،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والے اعلیٰ وقار کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے عدالتی کارروائی کو سنیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، علی ظفر نے فیصلے سے حوالہ دیا اور کہا کہ آرٹیکل63 اے آئین کی ایس شق ہے جو پارٹیوں میں نظم پیدا کرتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی لائن پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستیں 13/4 کی نسبت سے خارج ہوئی تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی نکات پر معاونت کریں یا پھر ہم بینچ سے الگ ہوجائیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ کچھ وکلا عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود ہیں،علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم والے کیس میں کچھ ججز نے اپنے الگ سے وجوہات لکھیں تھیں،

    سپریم کورٹ میں علی ظفر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر کے دلائل پر استفسارکیا کہ اٹھارویں ترمیم نے 63 شق کو موڈیفائی کیا ، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں،پارلیمانی پارٹی اور پارٹی ہیڈ کیا الگ لگ ہوتے ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے ؟پارٹی ہیڈ منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اکیلے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، کوئی اصول ہوگا،میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی پروسیس ہوگا ، علی ظفر نے کہا کہ دنیا بھی میں آخری فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے پارٹی ہیڈ کا آئینی اختیار فیصلے پر عمل کرانا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس پر کوئی رکن خلاف جاتا ہے تو سربراہ ایکشن لیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ہیڈ کچھ بھی شروع نہیں کر سکتا ،علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ پارٹی ہیڈ نہیں لکھا جسٹس جواد خواجہ نے اکیسویں ترمیم والے کیس مل یں 63کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا،جسٹس جواد خواجہ نے اپنے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی تھیں،میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا،آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایت پارلیمانی پارٹی کرتی ہے ،آرٹیکل 63 میں پہلے 1998 میں پارلیمانی پارٹی لکھا تھا جو 2002 میں تبدیل ہو کر پارلیمانی ہیڈ لکھا گیا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا یا اس کی شروعات کرنے کا اختیار آئین کے مطابق پارٹی ہیڈ کے پاس ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق جج میاں ثاقب نثار نے وہ درخواستیں خارج کرکے ایک الگ سے نوٹ لکھا تھا، ثاقب نثار نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ایک دہائی سے فلور کراسنگ کا سبب رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی،جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے، اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا،جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، علی ظفر کا کہنا تھا کہ
    آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی،سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش کہا میں بھی عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں پارٹی ہیڈ کا معاملہ پہلے الگ سے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سالڈ ریزن ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لئے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ عامر رحمان نے کہا کہ میں صرف آرٹیکل 27کے تحت عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کی ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تواستعمال نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرا فریق یہاں موجود ہے لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا،اقوام متحدہ میں جو ملک ممبر نہیں ہوتا وہ آبزرور ہوتا ہے ،

    کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    قبل ازیں چوہدری مونس الٰہی 9 ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،بائیکاٹ کے باوجود ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چوہدری شجاعت کے وکیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر آج ان کے وکلاء سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچ گئے.پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک اور پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی