Baaghi TV

Tag: فنکار

  • پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں، اقبال پٹھانے خان

    پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں، اقبال پٹھانے خان

    اسلام آباد(انٹرویو:محمداویس ) معروف لوک گلوکار پٹھانے خان کے فرزند اقبال پٹھانے خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں میرا گلہ ہے کہ جو مقام پٹھانے خان کو ملنا چاہیے تھا نہیں دیا گیاپٹھانے خان نے لوک گلوکاری کے زریعے پاکستان کانام دنیا بھر میں روشن کیامیری عمر گزر گئی لیکن میں آج تک خاں صاحب کے سر تک نہیں پہنچ سکا پٹھانے خان کو 1979 میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے مل کر انہیں آفر کی جو چاہتے ہیں بتائیں آپکو دیا جائیگا لیکن انہوں نے سادہ زندگی گزارنے کو ترجیح دی پٹھانے خان محبت کرنیوالےخوش بخت اور خوشحالی انسان تھے انکی معروف کافی”میڈا عشق وی تو میڈایار وی تو” جو انہوں نے گایا ویسا میں آج تک نہیں گا سکا،

    ان خیالات کا اظہار معروف لوک گلوکار اقبال پٹھانے خان نے وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافیوں کے دوری کوٹ ادو پریس کلب کے دوران صحافیوں کیساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اقبال پٹھانے خان نے کہا کہ خان صاحب کی نوے گھنٹے کی ریکارڈنگ محفوظ ہے اس کو کسی پلیٹ فارم پر جاری کیا جائے تاکہ ان کے مدعا اس کو دیکھ اور سن سکیں مجھے پٹھانے خان کے کلام کو گاتے ہوئے عمر گزر گئی لیکن ان جیسا نہیں گا سکا اسلام آبادنیشنل کونسل آف دی آرٹس لوک ورثہ پنجاب آرٹ کونسل سندھ آرٹ کونسل اور ملک کے مختلف علاقوں میں جاری پرفارم کرچکا ہوں

    اقبال پٹھانے خان نے کہا کہ میرے علاوہ خاندان میں سے کوئی بھی گلوکاری کیطرف نہیں آیا حالانکہ مجھ سے اچھی آواز رکھنے والے میری فیملی میں موجود تھے اقبال پٹھانے خان نے گلہ کیا کہ پٹھانے خانایک بہت بڑا نام تھا جسے اپنے منفرد طرز گلوکاری کیوجہ سے شہرت ملی لیکن بدقسمتی سے انہیں اپنے ملک میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو انکا حق تھا پٹھانے خان کا گایا ہوا تمام کلام محفوظ ہے اور وہ ہر پاکستانی کا سرمایہ ہے سوشل میڈیا پر پٹھانے خان کے نام سے لوگ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے ہیں والد کے بعد حکومت کیجانب سے اعزازیہ مقرر کیا گیا تھا جو میری والدہ اورانکی وفات کے بعدبہن کو ملتا رہا بعد میں وہ بند ہو گیا پٹھانے خان نے لوک گلوکاری کے زریعے ملک وقوم کانام دنیا بھر میں روشن کیاجومیرے لئے باعث فخر ہے

  • الحمراء میں فیسٹیول لہور لہوراے جاری،”کیہہ جانا میں کون“  ڈارمہ پیش

    الحمراء میں فیسٹیول لہور لہوراے جاری،”کیہہ جانا میں کون“ ڈارمہ پیش

    الحمراء میں فیسٹیول لہور لہوراے جاری ہے۔
    فیسٹیول میں آزاد تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”کیہہ جانا میں کون“ پیش کیا۔
    ڈرامہ میں عالمی شہرہ آفاق صوفی شاعر بابا بلھے شاہؒ کی سوچ وفکر کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
    ڈرامہ میں دیکھنے والوں کو بابابلھے شاہ ؒ کی شاعری میں موجود آفاقی پیغام بارے بتا یا گیا۔

    بابا بلھے شاہؒ کی شاعری پیار و محبت، امن وسلامتی اور رواداری کے پیغام پر مبنی ہے۔ سربراہ الحمراء طارق محمود چوہدری ڈرامہ ڈاکٹر ریاض بابر نے تحریر کیا جبکہ ملک اسلم ڈرامہ کے ہدایت کار تھے۔  آرٹس کونسل الحمراء میں بسلسلہ فیسٹیول لہور لہور میں لازوال کہانیوں پر مبنی تھیٹر ڈرامے عوامی توجہ کو مرکز بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز آزاد تھیٹر گروپ نے اپنا شہکار ڈرامہ ”کیہہ جانا میں کون“ پیش کیا۔ڈرامہ میں عالمی شہرہ آفاق صوفی شاعر بابا بلھے شاہؒ کی سوچ وفکر کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ڈرامہ میں دیکھنے والوں کو بابابلھے شاہ ؒ کی شاعری میں موجود آفاقی پیغام بارے بتا یا گیا۔

    ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء طارق محمود چوہدری نے اس حوالے سے اپنے تاثرات میں کہا کہ بابا بلھے شاہؒ کی شاعری پیار و محبت، امن وسلامتی اور رواداری کے پیغام پر مبنی ہے، الحمراء صوفیاء کرام کے فن و شخصیت سے نوجوان نسل کو روشناس کروا رہا ہے۔ڈرامہ”کیہہ جانا میں ڈاکٹر ریاض بابر نے تحریر کیا جبکہ ملک اسلم ڈرامہ کے ہدایت کار تھے۔

    حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

    ہیلی کاپٹر حادثہ، امریکی ڈرون کے چرچے،جعلی ٹویٹ،سازشی پکڑے گئے

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

  • سب فنکار گھروں سے نکل کر سیلاب زدگان کے لئے فنڈ ریزنگ کریں راحت فتح‌ علیخان

    سب فنکار گھروں سے نکل کر سیلاب زدگان کے لئے فنڈ ریزنگ کریں راحت فتح‌ علیخان

    پاکستان کے صف اول کے گلوکار راحت فتح علیخان نے اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ کر سیلاب زدگان کے لئے لندن میں ایک کنسرٹ کیا ہے، اس کنسرٹ سے ملنے والی رقم کو متاثرین سیلاب پر خرچ کیا جائیگا . اس کنسرٹ میں راحت فتح علیخان کے بیٹے شازمان علی خان نے بھی ان کے ساتھ پرفارم کیا جسے بہت زیادہ سراہا گیا ہے. اس موقع پر راحت فتح‌علیخان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی فنکار برادری سے اپیل کی. انہوں‌ نے کہا کہ پاکستان پر یہ وقت بہت ہی مشکل ہے کئی جانیں جا چکی ہیں مالی جانی نقصان بہت زیادہ ہو چکا ہے لوگ بے آسرا ہیں ان کو ہماری مدد کی ضرورت ہے . تو تمام فنکار برادری اپنے اپنے گھروں سے نکلے اور سیلاب زدگان کے

    لئے فنڈ ریزنگ کرے. راحت فتح‌علیخان نے مزید کہا کہ ہمارا ملک ہر لحاظ سے مشکل میں ہے چاہے وہ سیاسی صورتحال ہو یا قدرتی آفت ، ہمارے متاثرین سیلاب بہن بھائی بہت مشکل میں ہیں ان کے بچے مر گئے ہیں کہیں کسی کی ماں بہن بیوی مر گئی ہے ، لوگ اجڑ گئے ہیں اس لئے یہ وقت سیاسی سماجی ہر طرح‌ اختلاف بھلا کر ایک ساتھ چلنے کا وقت ہے. ہمیں آگے بڑھ کر اپنے بہن بھائیوں کو گلے لگانا ہے ان کو خوشیاں دینی ہیں ان کی اجڑی دنیا کو پھر سے بسانا ہے.

  • پی ٹی آئی میں ایک سے بڑھ کر ایک "فنکار”

    پی ٹی آئی میں ایک سے بڑھ کر ایک "فنکار”

    پاکستان تحریک انصاف ملک کی سیاسی پارٹی کے ساتھ ساتھ وہ واحد جماعت ہے جو سیاستدانوں کے علاوہ "فنکاروں "کی دولت سے بھی مالا مال ہے. پی ٹی آئی میں ایک سے ایک بڑھ کر” فنکار” موجود ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی آپنے آپ میں کسی فنکار سے کم نہیں ہیں اسی طرح ان کے چیف سیکیورٹی آفیسر شہباز گل بھی فنکاری میں اپنا مقام رکھتے ہیں .

    شہباز گل کی گرفتاری کے بعد عمران خان اور ان کر سابق وفاقی وزراء نے الزام عائد کیا کہ شیباز گل پر تشدد کیا گیا مگر ان سے جیل میں ملاقات کرنے والے پی ٹی آئی کے اپنے ہی وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ شہباز گل بالکل ٹھیک ہیں ان پر تشدد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا کچھ عرصہ قبل موٹر وے پر حادثہ ہوا جس میں ان کی گاڑی الٹ گئی ، شہباز گل پہلے تو اپنی گاڑی کے پاس بڑے اطمینان سے کھڑے رہے اور بعد میں انہوں نے پورا بازوو ہی پٹی سے بھر دیا ایسی کمال اداکاری کی کہ لگتا تھا کہ واقعی ان کا بازو ٹوٹ گیا ہے.

    شہباز گل کا ڈرائیور بھی کسی سے کم نہیں ، موصوف نے بھی ڈرامے بازی میں کمال کر دیا، جس وقت شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تو پولیس شہباز گل کو لے گئی اور اس کا ڈرائیور گاڑی لے گیا اور موبائل فون تھامے گھومتا رہا پھر اچانک اسے بنی گالا سے سکرپٹ دیا گیا اور شہباز گل کا ڈرائیور اسی ہاتھ میں پٹی باندھے منظر عام پر آگیا اور جھوٹا بیان دیا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے.

    بات یہیں ختم نہیں ہوئی، پی ٹی آئی کے اتحادی بھی ڈرامے بازی میں اپنی مثال آپ ہیں، چند ماہ قبل پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے بھی اچانک اپنے بازو پر پٹی باندھ لی اور اس کا الزام مسلم لیگ ن پر عائد کر دیا، لیکن میڈیا کے سامنے بات کرتے ہوئے اور مسلم لیگ ن کے رہنماوں کو بد دعا دیتے ہوئے بھول گئے کہ ان کے پورے بازو پر پٹی بندھی ہے اور پورا ہاتھ اٹھا کر بد دعا دی جس نے پرویز الہیی کی فنکاری عیاں کر دی.

    سیاستدانوں کا اگر ایوارڈ شو منعقد کیا جائے تو عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل اور چوہدری پرویز الہی پہلا ایوارڈ حاصل کرنے مین کامیاب ہو جائیں گے.

  • ’’اسلامی ٹچ‘‘ دینے والے فنکاروں کو اب ’’قانونی ٹچ‘‘ کی ضرورت ہے، رانا ثناء اللہ

    ’’اسلامی ٹچ‘‘ دینے والے فنکاروں کو اب ’’قانونی ٹچ‘‘ کی ضرورت ہے، رانا ثناء اللہ

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ’’اسلامی ٹچ‘‘ دینے والے فنکاروں کو اب ’’قانونی ٹچ‘‘ کی ضرورت ہے کیونکہ فارن فنڈنگ کے مجرم 8 سال سے ’’قانونی ٹچ‘‘ سے بھاگ رہے ہیں۔

    آسمانی طاقت اور عوام عمران خان کے ساتھ ہیں،شیخ رشید

    شیخ رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عالمی بنارسی ٹھگ غیر ملکیوں سے غیرقانونی ڈالر لیتے پکڑے گئے ہیں، ہر چوری پکڑے جانے پر ’’جھوٹا عمران اینڈ فارن ایجنٹس کمپنی‘‘ مکاری، فنکاری اور عیاری کرنے لگتے ہیں۔

     

    سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،چودھری پرویزالٰہی

     

    انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس سے پتہ چلا کہ عمران نیازی کا کتنا گندا کردار ہے، شہدا کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے گندے اور گھٹیا کردار ہیں۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نے 8 سال پوری کوشش کی کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اکبر ایس بار کو سچا ثابت کر دیا، اللہ تعالیٰ کا پاکستان پر کرم ہوا اور جعلی صادق اور امین کی اصلیت قوم کے سامنے آگئی۔

     

    قبل ازیں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ زمینی طاقتیں 15 حکمران جماعتوں کے ساتھ ہیں جبکہ آسمانی طاقت اور عوام عمران خان کے ساتھ ہیں۔
    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات اور ایکسپورٹ کم ہو رہی ہیں، وزیر خزانہ ایک ہفتے ٹیکس لگاتے ہیں اور دوسرے ہفتے اٹھا لیتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کی ساری آئینی ترامیم ملک کے لیے نہیں اپنی ذات اور مفاد کے لیے کی گئی ہیں، حتیٰ کہ قرضے کے لیے بھی آرمی چیف کو فون کرنے پڑ رہے ہیں۔

  • فیصل قریشی بھڑک گئے لیکن کس بات پہ؟

    فیصل قریشی بھڑک گئے لیکن کس بات پہ؟

    بی جے پی کے رہنما کے گستاخانہ بیان پر ہر کوئی شدید غصے میں ہے، اداکار فیصل قریشی نے تو مطالبہ کر دیا ہے کہ بھارت کا بائیکاٹ کیا جائے. فیصل قریشی نے ایک وڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ بھارت کا بائیکاٹ کررہی ہے لیکن ہماری طرف سے ابھی تک ایسا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ فیصل قریشی نے مزید کہا کہ اس وقت اتنا اہم مسئلہ چل رہا ہے لیکن ہمارے لوگ اس پر خاموش کیوں ہیں۔ فیصل قریشی نے مزید کہا کہ ہم سب کو مل کر اس پہ بات کرنی چاہیے اور بھارت کا بائیکاٹ کرنا چاہیے فنکار اور عوام اس حوالے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں کیونکہ اب بہت ہو چکا۔

    یاد رہے کہ حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما کی طرف سے ہمارے پیارے نبی کے حوالے سے گستاخانہ بیانات دئیے گئے ہیں اس پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ہر کوئی سراپا احتجاج ہے بھارت کے خلاف اس وقت ہمارے لوگوں میں بہت زیادہ غم و غصہ پایا جاتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کی جانب سے نبی کریم کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کی ہے۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ بارہا کہہ چکے ہیں فاشسٹ مودی کی قیادت میں بھارت مذہبی آزادی پامال کررہا ہے، بھارت میں مسلمانوں پر شدید ظلم و ستم جاری ہے۔

  • کراچی سفید شیر کی ہلاکت: شوبز فنکار انتظامیہ پر برہم، چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ

    کراچی سفید شیر کی ہلاکت: شوبز فنکار انتظامیہ پر برہم، چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ

    کراچی: چڑیا گھر میں نایاب نسل کے سفید شیر کی ہلاکت کے بعد شوبز ستاروں نے انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز کراچی چڑیا گھر میں نایاب نسل کے سفید شیر کی ہلاکت کی خبر سامنےآنے کے بعد ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی جب کہ ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا تھا کہ شیر کو پھیپھٹروں کی ٹی بی تھی اور وہ گزشتہ 13 روز سے بیمار تھا اور علالت کے باعث ہی شیر کی موت ہوئی ہے۔

    تاہم شوبز ستارےانتظامیہ کی اس دلیل سے بالکل بھی متفق نہیں ہیں انہوں نے چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت پر شدید افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے چڑیا گھر کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    photo:Instagram

    اداکارہ یشما گل نے شیر کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے مینجر کے ہمراہ کراچی چڑیا گھر گئی تھیں جانوروں کے لیے کھانا لے کر لیکن انہیں کہا گیا کہ مسئلہ حل ہوچکا ہے اور شیر سمیت تمام جانوروں کو مناسب خوراک فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم 5 گھنٹے بعد انہیں اپنے ایک دوست کی طرف سے یہ تصویر موصول ہوئی انہوں نے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر برستے ہوئے کہا جو بھی اس جرم میں ملوث تھا کیا اب آپ خوش ہیں کیا حکومت اب فنڈز جاری کردے گی-

    Photo:Instagram

    یشما گل نے ایک اور انسٹااسٹوری پر چڑیا گھر کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک میں جہاں ہم جانوروں کی خوراک کا انتظام بھی کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

    Photo:Instagram

    یاسر حسین نے بھی انتظامیہ کی لاپرواہی پر برہمی کا اظہار کیا-

    Photo:Instagram

    اداکارہ ارمینا خان نے بھی یشما گل کی پوسٹ کو شئیر کرتے ہوئے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ان پر تشدد کرنا ،انہیں بھوکا مارنا،بے زبان پر ظلم ان سب سے میرا دل ہل جاتا ہے انہوں نے انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیسے کر لیتے ہو یہ سب ڈرو اس وقت سے جب اس کا حساب ہوگا-

    Photo:Instagram

    اداکارہ اشنا شاہ نے مرے ہوئے شیر کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ شیر کی موت کی ذمہ دار تپ دق کی بیماری کو قرار دینے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ٹھیکیدار نے جانوروں کو کھانا دینا بند کردیا تھا اور یہ نایاب جانور ایک لمبے عرصے سے بھوکے تھے۔

    اداکارہ اشنا شاہ نے اپنے تمام فالوورز کو بتایا کہ ہم نے جانوروں اور جنگلی حیات کی دیکھ بھال کرنے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے لہذا چڑیا گھروں کو فوری طور پر ختم کردینا چاہئے۔ پاکستان کے پاس جانوروں کو اتنی مقدار میں بھی کھانا کھلانے کے پیسے نہیں ہیں جتنی کہ انہیں ضرورت ہے۔

    photo:social meida

    اداکارہ عائشہ عمر نے بھی کراچی چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور شیر کی ہلاکت کی وجہ تپ دق کی بیماری کو قرار دینے پر انتظامیہ
    پر شدید تنقید کی۔


    سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کارکن شنیرا اکرم نے بھی کراچی چڑیا گھر میں شیر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ مرگیا کیونکہ ہم اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکے۔ چڑیا گھر وہ جگہ ہونی چاہئے جہاں جانور تحفظ، صحت کی سہولیات، بحالی، تفریح اور افزائش کے لیے جاتے ہیں۔ کم از کم لوگ پھر ان کا مشاہدہ کرنے جاسکتے ہیں۔ شنیرا اکرم نے چڑیا گھر کو جانوروں کی جیل قرار دیا۔

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نایاب نسل کا سفید شیر ہلاک

    ثابت ہوگیا کہ عمران خان ایک نااہل حکمران ہیں،بلاول

    دورہ بھارت کی دعوت، چیئرمین سینیٹ نے "جواب ” دے دیا

  • انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    انوپم کھیر ۔۔۔ فن کے بجائے جنگ کا حامی تحریر: محمد فہد شیروانی

    شدت پسندانہ ہندو ذہنیت سے لبریز انوپم کھیر کی انتہا پسندی سے کون واقف نہیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انوپم کھیر نے لکھا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے”۔ صرف اسی ایک بیان سے آپ انوپم کھیر کی کھال میں چھپا خونخوار بھیڑیا دیکھ سکتے ہیں جو نہتے معصوم و مظلوم کشمیریوں کا خون پینے کو بیتاب ہے۔
    نسل کشی کے حوالے دینے والے آدمخور طبیعت انوپم کھیر کو انڈیا میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ انوپم کھیر کی آنکھوں پر جمی انسانیت سے عاری ہندووانہ سیاہ پٹی اسے انسان اور انسانی ہمدردی سے دور کر چکی ہے۔
    کشمیر کا مسئلہ اس وقت دنیا کو درپیش سب سے بڑی مسائل میں سے ایک ہے جس کے باعث اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کی دو جوہری طاقتیں پاکستان اور انڈیا اس مسئلے کو لے کر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے رہتے ہیں اور ان کی عوام بھی دل جان سے اپنی افواج کا ساتھ دیتے ہیں بالخصوص پاکستانی۔ پاکستان کا ہر جوان، ہر بوڑھا، ہر بچہ ایسے موقع پر فوجی بن کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر پاکستانی خواتین بھی کسی طور مردوں سے پیچھے نہیں۔

    انڈیا کی جانب سے کشمیر میں پیدا کی گئی حالیہ کشیدگی اور ظلم کی ہر انٹرنیشنل فورم پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اداکاروفنکار جنہں امن و آشتی کا پیامبر سمجھا جاتا ہے ان میں موجود چند شرپسند نہ امن چاہ رہے ہیں نہ آشتی۔ اپنی شہرت کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے شرپسندوں میں سب سے بڑا نام سطحی کردار ادا کرنے والے انڈین اداکار انوپم کھیر کا ہے۔ جب کبھی انڈیا پاکستان میں کشیدگی بڑھتی ہے انوپم کھیر فوراً شرپسندی شروع کرکے اپنی افواج اور قوم کو بھڑکانا شروع کر دیتا ہے جس سے کسی اور کا نقصان ہو یا نہ ہو انڈین فوج کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال پاکستانی فوج کی جانب سے گرائے گئے انڈین طیارے اور ابھی نندن ہے۔
    انوپم کھیر نے آرٹیکل 370 کے ختم ہونے پر کشمیریوں کے حق آزادی کے سلب ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔ انڈین چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کشمیر میں ہندوؤں کو ایک الگ جگہ دینی چاہئیے تاکہ وہاں ہندو آبادکاری ہو سکے۔ فلمی سکرین پر بظاہر معصوم نظر آنے والا انوپم کھیر دراصل کتنے کٹھور و ظالم دل کا مالک ہے یہ حقیقت اب سب پر آشکارا ہو چکی ہے۔
    انوپم کھیر کے علاوہ بہت سے دیگر انڈین اداکار بھی کشمیریوں کا حق مارنے والے اس آرٹیکل کے ختم ہونے کے حق میں باتیں کر رہے ہیں اور کشمیر میں انڈین فوج کی پر تشدد کاروائیوں کی کھلم کھلا تائید کر رہے ہیں۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر پاکستانی فنکار و اداکار اس حساس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ اس ایشو کی جانب توجہ دلاتے ہوئے پاکستان کی مشہور بلاگر جویریہ صدیقی نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ "ہمارے بیشتر اداکار مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کتراتے کیوں ہیں”؟
    انڈیا کو لے کر ہمارے فنکاروں کے منہ پر لگے تالے اچنبھے کی بات ہے۔ اس نازک موقع پر عام عوام کی طرح شوبز برادری کو بھی اپنے ملک اور افواج کا ساتھ دیتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہئیے۔ ہمیں انڈیا سے فلموں میں کام، ناچ، گانا یا لچر پن نہیں چاہئیے، ہمیں صرف اور صرف انڈیا اور کشمیر میں بسنے والے مسلمان بہن بھائیوں کا تحفظ چاہئیے۔ ہر معاملے میں بڑھ چڑھ کر بولنے والے فنکاروں، اداکاروں کو خاموشی توڑتے ہوئے انڈیا کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ اب فن کی سرحدوں کا تعین بھی ہو جانا چاہئیے۔
    بلاشبہ ہم لوگ امن کے داعی ہیں لیکن ہماری امن کی اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
    انوپم کھیر ذہن نشین کر لو۔۔۔ “نہ کھیر دیں گے نہ کشمیر دیں گے، بس ہم چیر دیں گے”۔

  • رنگ باز

    رنگ باز

    معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے۔ جہاں رہتے ہوئے انسان کو آئے روز مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انسانوں کا واسطہ انسانوں سے ہی پڑتاہے۔ ہر انسان مجبور یوں ، ضرورتوں اور مفادات کا غلام ہے۔ وہ روز باہر نکلتاہے تاکہ اس جنگل میں اپنی صلاحیت اور حیثیت کے مطابق اپنا حصہ گھر لا سکے۔ صبح ہوتے ہی انسانوں کا ریلا گھروں سے نکلتاہے جو بظاہر تو الگ الگ کام دھندے کرتے نظر آتے ہیں مگر ان سب کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہوتاہے کہ اس انسانوں سے بھرے جنگل میں وہ اپنا حصہ کیسے حاصل کریں۔
    کسی نے کیاخوب کہا ہے کہ ” بندہ بندے دا دارو اے تے بندے ای بندے دا مارو اے ”
    اس کاروبار زندگی میں سب انسان برسرپیکار نظر آتے ہیں. کچھ ایمانداری سے کچھ بے ایمانی سے ، کوئی زور زبردستی اور دھونس دھاندلی سے ، کوئی پیار اخلاق اور رواداری سے کوئی مانگے تانگے سے اپنا اپنا حصہ اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ کسی کو اسکی سوچ کے مطابق، کسی کو کم اور کسی کو اپنی اوقات سے کہیں زیادہ حصہ ملتاہے اور کسی کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ جنہیں معقول حصہ ملتاہے وہ صبر شکر کرتے ہیں ،جنہیں کم ملتاہے وہ واویلا مچاتے ہیں. اور کجن کا ہاتھ بڑے حصے پر پڑ جاتا ہے وہ اپنا حصہ لے کرآگے آگے اور جنہیں حصہ نہیں ملتا اُسکے آگے پیچھے چلتے کچھ دُم ہلاتے نظر آتے ہیں کہ شائد کچھ انہیں بھی مل جائے .
    کچھ راہ میں صرف چھینا جھپٹی کے لیے بیٹھے رہتے ہیں ۔اور دوسروں کا حصہ چھین کر اتراتے پھر تے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے مگر اُن کی بڑی دھاک ہوتی ہے اور انہیں اُن کا حصہ اُن کے گھر پہنچ جاتاہے۔

    جن کے پاس اُن کی ضرورت سے کہیں زیادہ جمع ہوجاتاہے اُن کی حوس بھی اُتنی ہی بڑھ جاتی ہے وہ بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں ۔دولت کو کئی گُنا کرنے کے طریقے اپناتے ہیں ۔ اور دولت اور جائیدادوں کے انبار لگاتے ہیں اورپھر اُن میں سے اکثر خود کو خدا ترس عوام دوست اور سخی ثابت کرنے کے لیے خیراتی ادارے ، ہسپتال اور مفت کھانوں کے دسترخوان بھی سجاتے نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے کارخانوں میں کام کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی تو دور وقت پر مزدوری تک دینے سے بھی ان کی جان جاتی ہے۔

    رنگ باز کسی رام چوبارے سے، کسی گلی کے نکڑ سے، کسی کھڑکی کے پیچھے سے نیشنل جیوگرافی کے کسی فوٹو گرافر کی طرح سب کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کیسے خود کو اشرف المخلوق کہنے والے انسان اپنے حصے کی تلاش میں مارا مارا پھرتاہے۔ کوئی مارا ماری کرتا پھرتاہے ۔کچھ دست گریباں ہیں ۔کچھ کو دووقت کی روٹی میسر نہیں اور کچھ کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔
    لیکن وہ خود کونسا فرشتا ہوتاہے یا پھر اُس کے لیے کونسا من وسلوا اُترتاہے ۔اُسے بھی پیٹ لگا ہوتاہے ۔اس لئے اسے بھی روزباہر نکلنا پڑتاہے ۔ لوگوں سے ملنا پڑتاہے اپنا حصہ ڈھونڈنا پڑتاہے۔
    لیکن رنگ باز کسی کا حق نہیں مارتا۔ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے فن سے وہ اپنا حصہ کماتاہے ۔رنگ باز ایک ایسا کریکٹر ہے ۔جو ہر معاشرے میں پایا جاتاہے ۔ رنگ باز کی جو تعریف ہم سُنتے آئے ہیں وہ حقیقت میں رنگ باز نہیں بلکہ موقع پر ست کی تعریف ہے ۔
    رنگ باز تو کوئی الگ ہی مخلوق ہے۔وہ زندنگی میں رنگ بھرتاہے ،انسانوں کو ہنساتاہے ، انہیں حیران کرتاہے ، انہیں سوچنے پر مجبور کرنے والا کردارہے ۔ رنگ باز زندگی سے چڑتانہیں ، جھگڑتا نہیں، زندگی سے بھاگتا نہیں بلکہ زندگی کو گلے لگا کر اس کے رنگوں اور اسکے انگوں کا لُطف اُٹھاتاہے ۔اور زندگی سے الجھتے لوگوں بھی رنگ سمیٹنے کی دعوت دیتاہے ۔

    رنگ باز انسانوں کے معاشرے کا وہ کردار ہے جو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی انجان بنا رہتاہے۔ وہ سب کوالُجھا ہوا چھوڑ کر خود اُلجھن سے نکل جاتاہے ۔ رنگ باز ایسا فنکار ہوتاہے جو اپنے فن سے آشنا ہوتاہے لیکن اپنے فن کو بے جاحصہ حاصل کرنے میں ضائع نہیں کرتا۔وہ اُتنا حصہ لیتاہے جتنی اُسکی ضرورت ہوتی ہے۔ رنگ باز ایک الگ ہی طرح کا انسان ہوتاہے ۔اسے انسانوں سے ملنے اُن سے باتیں کرنے انہیں ہنسانے اور کبھی انہیں الجھانے میں زیادہ لُطف آتاہے ۔ کبھی کوئی اسے جوکر کہتاہے ،کوئی مسخرہ سمجھتا ہے کوئی باتونی تو کوئی چول یا پھر جوکر .مگر رنگ باز سب کی سُن کر ہنستا آگے بڑھ جاتاہے ۔

    رنگ باز کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی ذہانت اور چکنی چیڑی باتوں سے خود کو تھوڑا بہت فائدہ ضرور پہنچا تاہے ۔ رنگ باز بہت ہی ہنس مکھ، حاضر جواب ،اور صورتحال کے مطابق ڈھلنے والا یا پھر یوں کہیے کہ صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مگر وہ موقع پرست نہیں ہوتا بلکہ موقع کا درست استعمال جانتاہے ۔ مفت کے مشورے دینے میں اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا مگر غلط مشورہ نہیں دیتا۔ کوئی راستہ پوچھ لے تو گھر تک چھوڑ کرآنے میں خوشی محسوس کرتاہے ۔

    لوگ اپنی زندگیوں میں سارا دن اپنے تھوڑے بہت حصے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ لیکن رنگ باز زندگی کے رنگوں کی تلاش میں پھرتاہے ۔۔ وہ رنگ اکٹھے کرتا ہے بانٹاہے ، بکھیرتاہے ۔اورزندگی میں رنگ بھرتاہے۔کیونکہ اُس کی بھوک بہت کم ہوتی ہے ۔
    وہ لوگوں کی خوشی میں بھی بن بلائے پہنچ جاتاہے تو دُکھ میں بھی۔ چاہے کرسیاں لگوانی ہوں یا کھانا تقسیم کروانا ہووہ سب سے آگے نطر آتاہے ۔ آخرمیں خود بھی پیٹ پھر کر کھانا کھا کر چلتا بنتاہے۔
    لوگ اپنی زندگیوں سے ایسے جونجتے پھر تے ہیں ایسے لڑتے پھرتے ہیں کہ زندگی کے رنگوں کو دیکھنے کی حس کھوبیٹھتے ہیں ۔لیکن رنگ باز نہ صرف خود ان رنگوں سے لطف اندوز ہوتاہے بلکہ اورں کو بھی رنگ بانٹتا اورکبھی آئینہ دکھاتا گزر جاتاہے۔۔ رنگ باز کوڈھونڈنا مشکل نہیں ۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں بستا۔۔ آپ کے ارد گرد ہی کہیں گھومتا پھر تا ہے۔