Baaghi TV

Tag: فوجی اڈے

  • ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو   نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے متعلق حالیہ رپورٹس (اپریل 2026) نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکی اڈوں اور فوجی آلات کو سرکاری طور پر ظاہر کیے جانے والے نقصان سے کہیں زیادہ "وسیع” نقصان پہنچایا ہے۔

    امریکا-اسرائیل-ایران جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں نے اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ امریکی حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ظاہر کیا گیا۔

    این بی سی نیوز اور دیگر ذرائع کی رپورٹس کے مطابق،خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور آلات کو مناسب فضائی دفاعی نظام ہونے کے باوجود ایرانی فضائی حملوں کے باعث شدید نقصان پہنچا ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مرمت پر اربوں ڈالر لاگت آ سکتی ہے ایران کے جوابی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے اہم اثاثوں کو نشانہ بنایا،حملوں میں گودام، کمانڈ ہیڈکوارٹر، طیاروں کے ہینگر، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، رن وے، اور ہائی اینڈ ریڈار سسٹم (بشمول THAAD سسٹم) کو شدید نقصان پہنچا، ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلیے میزائلوں، ڈرونز اور یہاں تک کہ جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔

    امریکی حکام نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مرمت پر اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں ایک واقعے میں، ایرانی ایف-5 لڑاکا طیارے نے امریکی فضائی دفاعی نظام (air defense systems) کو چکمہ دے کر حملہ کیا پینٹاگون نے عوامی سطح پر نقصانات کی مکمل تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں، جس پر امریکی قانون سازوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کویت اور دیگر مقامات پر امریکی اڈے اس حد تک متاثر ہوئے کہ کچھ سہولیات ناقابل استعمال ہو گئیں۔

    رپورٹ میں تین سرکاری حکام، کانگریس کے دو معاونین اور معاملے سے باخبر ایک اور شخص سمیت متعدد ذرائع کے حوالے دیے گئے پچھلی رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکا کو جدید ترین فوجی ساز و سامان سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں قطر میں واقع العدید فوجی اڈے پر نصب ایک ارب ڈالر مالیت کا ریڈار سسٹم بھی شامل ہے۔

  • برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

    برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

    برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

    وزیرِاعظم کیئراسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف حملوں میں شریک نہیں تاہم اپنے اتحادیوں کے اجتماعی دفاع کی حمایت کرتا ہے امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے برطانیہ کے اڈوں کے استعمال کی درخواست کی تھی جسے منظورکر لیا گیا ہے۔

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں 2 لاکھ برطانوی شہری موجود ہیں جو ایران کے حملوں کے نشانے پر ہیں خطرے کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میزائلوں کو ان کے ذخیرہ گاہوں یا لانچرز پر نشانہ بنایا جائے، جہاں سے وہ داغے جاتے ہیں، برطانیہ ایران پر ہونے والے امریکا اور اسرا ئیل کے مشترکہ حملوں میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے کسی حملے میں شامل ہوگا۔

    ایرانی حملے: متحدہ عرب امارات میں اسٹاک مارکیٹس دو دن کے لیے بند

    تاہم برطانوی وزیراعظم نے نے الزام عائد کیا کہ ایران برطانوی مفادات پر حملے کر رہا ہے اور اس کے شہریوں کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے برطانیہ سے زیادہ اقدامات کی توقع کی تھی اور برطانوی شہریوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے، ایران پر حملوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا، ہمارا ماننا ہے کہ اس تنازع کا مذاکرات کے ذریعے حل خطے اور دنیا کے بہتر مفاد میں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ امریکی درخواست کو قبول کرنے کا فیصلہ دوستی اور اتحادیوں کے اجتماعی دفاع اور برطانوی شہریوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیا گیا ہے۔

    ایرانی حملے پر خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا مشترکا اعلامیہ جاری

  • فرانس نے مالی سے فوجی انخلاء شروع کر دیا۔

    فرانس نے مالی سے فوجی انخلاء شروع کر دیا۔

    پیرس :دنیا کی بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے فرانس کو بھی محتاط رہنے پر مجبور کردیا ہے ، فرانس سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ فرانس اپنی فوجی قوت کو مجتمع کرنے کی کوشش کررہا ہے اوردنیا میں پھیلی ہوئی اپنی افواج کواکٹھا کررہا ہے ،

    اس حوالے سے فرانس کےجنرل سٹاف نے اعلان کیا کہ فرانس نے میناکا اڈہ مالی کی افواج کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی مالی سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔اس حوالے سے جنرل اسٹاف نے ٹویٹر پر کہا۔ کہ "منتقلی ایک منظم، محفوظ اور شفاف طریقے سے کی گئی۔ بارکھان آپریشن کے اس اہم عنصر پر توجہ مرکوز کریں جس نے تین بارڈرز اور جنوبی لپٹاکو کے علاقے میں سیکورٹی فراہم کی،”

    وزارت دفاع کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منتقلی اس فریم ورک کا حصہ ہے جو صدر ایمانوئل میکرون نے فروری میں مالی سے باہر بارکھانی فورس کو دوبارہ تشکیل دینے کے لیے ترتیب دیا تھا۔

    فرانس نے ایک اندازے کے مطابق 4,600 فوجیوں کو آپریشن بارکھان کے تحت تعینات کیا تھا جو 2014 میں جی 5 ممالک مالی، نائجر، برکینا فاسو، چاڈ اور موریطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    فرانسیسی افواج نے اب فوجی رسد کو میناکا سے 1,340 کلومیٹر (833 میل) دور نائجر میں نیامی کے پروجیکٹڈ ایئر بیس (BAP) پر منتقل کر دیا ہے، جہاں وہ ساحلی کے علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    فرانسیسی فوج نے کہا کہ اس نے مقامی آبادی کے اہم بنیادی ڈھانچے، تعلیم، نوجوانوں اور صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں کئی ملین یورو کی سرمایہ کاری کی ہے جس نے کارروائیوں کے لیے بارکھانی فورس کی مدد کی۔

    اپریل میں، فرانسیسی فوجیوں کی طرف سے گوسی میں ایک فوجی اڈہ حوالے کرنے کے بعد، مالی کی فوج نے فرانس پر الزام لگایا کہ فرانسیسی افواج نے مالیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا اورپھران کواجتماعی قبروں میں پھینک کرنشانات مٹانے کی کوشش کی لیکن فرانس نے ان الزامات کی تردید کردی

    فرانس کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کے پیش نطر مالی کی فوجی حکومت نے مئی میں فرانسیسی افواج (SOFA) کی حیثیت کو کنٹرول کرنے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کو منسوخ کر دیا اور فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ ساتھ تکوبا کے ماتحت یورپی افواج کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔