Baaghi TV

Tag: فوجی عدالت

  • سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اوردوسراقومی سلامتی ہے،عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،عدالتی فیصلہ برقرا رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا، انسداددہشتگردی کاقانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں،عدالت کسی بھی صورت شہریوں کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے سپرد نہیں کر سکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سندھ میں گواہان کے تحفظ کا اہلگ سے قانون بھی موجود ہے۔ آئینی بنچ نے جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ فرخ بخت علی پر ملک مخالف جنگ کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا،فرخ بخت علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیا الحق نے 1974میں کیا، فرخ بخت علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی،کورٹ مارشل کرنے والے ضیا الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے،ضیا الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئرچیف کو بھی اغوا کرلیاگیا تھا،اغوا کار نے اپنے کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ ویسے وجوہات کیا تھیں؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب کیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی،جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  • پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس آفریدی کے الگ الگ فیصلے ہیں، آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتامجسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فئیر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کی اکثرت کیا تھی، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اکثریت 9 ججز سے بنی تھی،21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ویں ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پرجوڈیشل نظرثانی کی رائے دی،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلہ کا جوڈیشل ریویو ہونا چاہیئے، احتجاج اور حملہ میں فرق ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیصلے میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیس کو 9 مئی کے تناظر میں دیکھا جائے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان کو ملٹری ٹرائل میں سزا پر اپیل کا حق دینے سے حکومت نے انکار کیا۔

    9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی، سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہیں چلیں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاستی املاک پر حملہ کرکے ریاست کی سیکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

    جسٹس اظہر حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاؤس پر احتجاج کرتے تھے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کرے، جس پر خواجہ حارث نے کہا ’یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے‘۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی خصوصی ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے 9 اور 10 مئی واقعات پر مرکوز رکھیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، 9 مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیئے تھا، عدالت کا فوکس 9 اور 10 مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سانحہ نومئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 19 مجرمان کی سزا معافی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں اور احتجاج کے بعد فوج نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی فرد کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کر رہی۔ 9 مئی میں ملوث 19 افراد کو فوجی عدالت سے ملنے والی سزائیں معاف کرنے کے فیصلے کو ایک طاقتور پیغام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نےیہ فیصلہ انسانیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد آئین اور قانون کی بالادستی کو فروغ دینا ہے۔سزاؤں کی معافی کا یہ فیصلہ غیر جانبدارانہ طور پر آئین اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے، اور کسی بھی سیاسی یا دیگر نوعیت کے دباؤ سے آزاد ہے۔

    "9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے ساتھ انتقامی کارروائی کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر سزاؤں کی معافی کا فیصلہ کیا گیا جو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے رحم دل اور نرم دل قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔” فوج کا مقصد ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فیصلے کرنا ہے، جو عناصر انسانی حقوق کے نام پر ملٹری قانون اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کر رہے تھے، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک سخت جواب ہے۔ یہ فیصلہ فوج کی جانب سے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور قانون کے احترام میں مکمل طور پر پختہ ہے۔

    "نومئی کے مجرمان کی سزا معافی کا یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت لیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی سیاسی مفاد یا پروپیگنڈے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان سزاؤں کا معاف کیا جانا صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا یا اس پر بے بنیاد قیاس آرائیاں کرنا حقیقت سے دور ہوگا۔”فیصلے سے واضح ہو گیا کہ فوج کی کارروائیاں ہمیشہ قانون اور آئین کے تحت ہوں گی، اور کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان میں ہونے والے ہنگاموں میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوج کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کی سزاؤں میں کمی یا معافی دینے کا فیصلہ ایک نیا پیش رفت ہے، جسے حکومت اور فوج دونوں کے درمیان ایک اچھے تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    آج 9 مئی کے 19 مجرمان کو، جنہیں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل کرتے ہوئے معافی دے دی گئی اور رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا یہ فیصلہ کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے اور ملٹری کورٹ کے عمل کی شفافیت اور آئینی اصولوں کی پیروی کی واضح مثال ہے۔یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ملٹری کورٹس کا ٹرائل مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق اور شفافیت پر مبنی ہے۔ وہ عناصر جو فوجی عدالتوں اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کرتے رہے ہیں، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک زور دار جواب ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملٹری عدالتیں نہ صرف انصاف فراہم کرتی ہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غیر جانبدار رہتی ہیں۔

    آئینی بینچ کی اجازت کے بعد، جس رفتار سے سزائیں سنائی گئی تھیں، اسی تیزی سے مجرمان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل درآمد کیا گیا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور ان افراد کی باقی ماندہ سزا، جو تقریباً چار سے پانچ ماہ تھی، کو معاف کر دیا گیا۔ یہ عمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آئین کی تکمیل میں غیر جانبداری کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

    یہ 19 مجرمان وہ ہیں جنہوں نے اپنے رحم کی درخواست خود دی تھی اور ان کی سزا میں معافی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔ یہ لوگ تقریباً ایک سال اور چھ ماہ کی سزا مکمل کر چکے تھے اور صرف چند ماہ کی باقی سزا تھی، جس کو معاف کیا گیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوج کسی بھی فرد کے ساتھ انتقامی کاروائی نہیں کر رہی بلکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس سے پہلے بھی اپریل 2024 میں 20 مجرمان کی سزاؤں کو معاف کیا تھا، اور اب ان 19 مجرمان کے معاملے میں بھی انسانیت اور ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی رحم دلی اور انسانیت کے تئیں ہمدردی کا واضح اظہار ہے۔یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ملٹری ٹرائل اور قانون کی شفافیت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف قانون کی شفافیت کا پتا چلتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ باقی مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے کا حق برقرار ہے اور وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے مطابق مزید کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظام انصاف میں انسانی ہمدردی اور رحم کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا اور اس پر بے تکی قیاس آرائی کرنا غیر مناسب ہے۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف مجرمان کی باقی ماندہ سزا میں کمی لانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ ملٹری کورٹس کی شفافیت، انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلوں کا لینا، یہ سب چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج کے ٹرائل سسٹم میں انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے دوران مجرمان نے رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کی تھیں، ان مجرمان کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جارہا ہے جبکہ دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں،مجموعی طور پر 67 مجرمان نے رحم کی پٹیشنز دائر کی تھیں، 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے ’کورٹس آف اپیل‘ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا تھا، 19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا،دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سزاؤں کی معافی ہمارے منصفانہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے، یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اپریل 2024ء میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کر دی گئیں،19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان
    2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان
    3۔لئیق احمد ولد منظور احمد
    4۔امجد علی ولد منظور احمد
    5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان
    6۔سِیعد عالم ولد معاذاللہ خان
    7۔زاہدخان ولد محمد نبی
    8۔محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان
    9۔ حمزہ شریف ولد محمد اعظم
    10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار
    11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ
    12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل
    13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد
    14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ
    15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر
    16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد
    17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا
    18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین
    19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

    ان مجرمان کوضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے،دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں ،سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

  • فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    امریکا نے 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو سزائیں سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی ٹریبونلز کی جانب سے سزاؤں کی سنائی جانے والی کارروائی پر تحفظات ہیں،فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی، شفافیت اور مناسب عمل کی ضمانتوں کا فقدان ہے، پاکستانی حکام آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کا احترام کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے بھی اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کئے جانے والے فیصلے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں، برطانوی حکومت نے بھی پاکستان میں فوجی عدالتوں سے 25 شہریوں کو سزاؤں پر اپنا ردعمل جاری کیا ہے،برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے قانونی عمل میں دخل اندازی نہیں کرتا، برطانیہ اپنی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت، آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہے۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نومئی بہت بڑا حادثہ تھا ، یہ سزائیں بہت پہلے سنا دینی چاہیئں تھیں

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کی دی گئیں ہیں ، شہدا کے مجسوں کو توڑنا ملک دشمنی اور غداری ہے، منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی، جب تک ہمارا دفاع مضبوط ہے ملک کو خطرہ نہیں،ڈیڑھ برس کے بعد مجرموں کو سزا سنائی گئی اور فیصلہ آیا، یہ بہت بڑا سانحہ تھا، امریکہ، برطانیہ میں ایسا حادثہ ہوا تو راتوں کو بھی عدالتیں کھلی رہیں اور سزائیں ہوئیں ،لیکن پاکستان میں تاخیر ہوئی،میانوالی،مردان، پشاور، لاہور، پنڈی تمام شہروں میں شہدا کے نشانوں کی توہین کی گئی،ملک کو باہر کی بجائے اندر سے خطرے اس طرح کے تھے،اختلاف کرنا حق ہے لیکن سیاست میں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، پاکستان کے شہدا کی نشانیوں‌پر حملہ حب الوطنی نہیں ہے،شہدا کے مجسموں کو زمین پر پھینکا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آج سانحہ 9مئی کے 25ملزموں کو سزائیں سنائی گئی ھیں۔ ھونا تو چاہئے تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح فوری انصاف ھوتا۔ اس تاخیر نے ملزموں اور انکے سہولت کاروں کے حوصلے بڑھاۓ۔ ایک تاریک دن کی مذمت سے بھی گریز کیا گیا۔ جس سے شہداء اور غازیوں کی توھین کرنے والوں کو ھییرو بنا یا گیا۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی