Baaghi TV

Tag: فوجی عدالتیں

  • فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کالعدم کرنے کی استدعا،وفاقی حکومت کی اپیل

    فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کالعدم کرنے کی استدعا،وفاقی حکومت کی اپیل

    اسلام آباد: سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ،وفاقی حکومت نے بھی فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل کر دی

    اپیل میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں سے متعلق حکم کو کالعدم کرنے کی استدعا کر دی، وفاقی حکومت نے اپیل میں اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم کو معطل کرنے کی بھی استدعا کی، اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی اور سیکشن 59(4) کو چیلنج کیا گیا تھا ، کیس میں اصل تنازع سپریم کورٹ کے فیصلے میں حقائق اور آرٹیکل 199 کے تحت دستیاب فورم کو مد نظر نہ رکھنا ہے ،سویلین کی تعریف میں تمام شہری آتے ہیں چاہے وہ دہشت گرد ہوں یا دشمن،سپریم کورٹ کی جانب سے 2(1) ڈی اور 59(4) کو کالعدم کرنے سے نان یونیفارم شہریوں کے حوالے سے قانون ختم ہو گیا، وفاقی حکومت کو تمام درخواستوں میں فریق بنایا گیا تھا ،

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی،جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بنچ ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا، جسٹس امین الدین خان،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی بینچ کا حصہ ہیں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا اور 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی ٹو کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں، تحریری فیصلے میں آرمی ایکٹ کی سیکشن 59 (4) بھی کالعدم قرار دے دی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ فوج کی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کے ٹرائل آرمی کورٹس میں نہیں ہوں گے، 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تمام ملزمان کے ٹرائل متعلقہ فوجداری عدالتوں میں ہوں گے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ہونے والے کسی ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی خصوصی عدالتوں میں ٹرائل بارے میں فیصلہ پر تمام ججز متفق ہیں، آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا فیصلہ محفوظ ہے۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • وزارت داخلہ نے  فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ چیلنج کردیا

    وزارت داخلہ نے فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ چیلنج کردیا

    اسلام آباد: وزارت داخلہ نے فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے فیصلے کے معاملے پر وزارت داخلہ نے ابتدائی اپیل سپریم کورٹ میں دائر کردی ،وزارت داخلہ نے اپیل میں فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،وزارت داخلہ کی جانب سے مکمل اپیل 2 ہفتوں میں دائر کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا اور 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی ٹو کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں، تحریری فیصلے میں آرمی ایکٹ کی سیکشن 59 (4) بھی کالعدم قرار دے دی گئی۔

    کراچی آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر

    فیصلے میں کہا گیا کہ فوج کی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کے ٹرائل آرمی کورٹس میں نہیں ہوں گے، 9 اور 10 مئی کے واقعات کے تمام ملزمان کے ٹرائل متعلقہ فوجداری عدالتوں میں ہوں گے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ہونے والے کسی ٹرائل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی خصوصی عدالتوں میں ٹرائل بارے میں فیصلہ پر تمام ججز متفق ہیں، آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا فیصلہ محفوظ ہے۔

    دوسری جانب ترجمان نگران وزیراعلیٰ سندھ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی تردید کر دی ہے خود وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایک انٹرویو میں اپیل دائر کیے جانے کی تردید کی ہے۔

    اسٹیٹ بینک نےخواتین کو بلا سود قرضے کی سہولت کا آغاز کر دیا

    ترجمان نگران وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا نے کہا کہ حکومت سندھ نے سویلینز کی ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیے کوئی اپیل دائر نہیں کی یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ حکومت سندھ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ اطلاعات سامنےآئی تھیں کہ حکومتِ سندھ نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت عام شہریوں کے ٹرائل کو ”غیر آئینی“ قرار دینے کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔

    موقع ملا تو سندھ کے شہروں کو لاہور اور فیصل آباد جیسا بنائیں گے،سعد رفیق …

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل ،سندھ حکومت نے اپیل کی تردید کر دی
    ترجمان نگران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے سویلین کی ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے لیئے کوئی اپیل دائر نہیں کی،یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ سندھ حکومت نے ملٹری کورٹس میں سویلین کی ٹرائل کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل فائل کی ہے

    دو دن قبل سندھ حکومت کی جانب سے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف ایک اپیل سپریم کورٹ میں لائی گئی تھی،تاہم عدالتی وقت ختم ہو گیا تھا اور اپیل دائر نہ سکی تھی، مروجہ طریقہ کار کے مطابق اس درخواست کو اگلے روز خود ہی دائر ہو جانا تھا،جب خبریں سامنے آئیں تو سندھ حکومت خاموش رہی تا ہم آج دو دن بعد سندھ حکومت نے تردید کر دی اور کہا کہ کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی،

    دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی تھیں جس میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبرکو فوجی عدالتوں میں سویلینزکا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا، فوجی عدالتوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے، علاوہ ازیں سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی تھی،9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • سینیٹ اجلاس، فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کی منظوری پر احتجاج

    سینیٹ اجلاس، فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کی منظوری پر احتجاج

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا، احتجاج ملٹری کورٹس کی حمایت میں منظور قرارداد پرکیاگیا ،اراکین کی جانب سے ایوان میں شور شرابہ کیا گیا، کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں قرارداد منظور کر کے ہم نے اچھا نہیں کیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے اراکین کو بیٹھنے کی ہدایت کی گئی، اراکین کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے حق میں منظور کی گئی قرارداد پر بات کی اجازت دی جائے،

    کامران مرتضی نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے اصرار کیا اور کہا کہ اس دن ایوان میں جو قرارداد منظور کی گئی اس پر بات کرنا چاہتا ہوں، سعدیہ عباسی نے کہا کہ جب تک مذکورہ قرارداد پر بات نہیں ہوتی ایوان نہیں چلنے دیں گے، سینیٹ میں ممبران اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ایجنڈے سے قبل کچھ روز قبل منظور ہونے والی قرارداد پر بات کی اجازت دی جائے، احتجاج اور شور شرابے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ اجلاس پیر تین بجے تک ملتوی کردیا، صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ اس طرح بات نہیں ہو سکتی، اس لہجے میں بات نہیں ہو سکتی، ہاؤ س کی عزت رکھیں، بیٹھیں گے تو بات ہو گی، اراکین نہ بیٹھے تو چیئرمین سینیٹ نے اجلاس ملتوی کر دیا.

    سینیٹ وقفہ سوالات،ملک بھر میں ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضے کی تفصیلات سینیٹ میں جمع کروا دی گئی، تحریری جواب میں کہا کہ ملک بھر میں ریلوے کی 13 ہزار 974 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے،ریلوے کی 5512 ایکڑ زرعی،3309 ایکڑ رہائشی،769 ایکڑ کمرشل اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے،سندھ میں 5ہزار 948،پنجاب 5809،کے پی 1181 اور بلوچستان میں 1034 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے،اراضی واگزار کروانے کےلیےتمام ڈویژنل سپریٹینڈنٹس کو احکامات جاری کئے گئے ہیں.

    واضح رہے کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور ہوئی تو اس وقت ایوان میں 15 سینیٹرز موجود تھے، 9 سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں اور تین نے قرارداد کی مخالفت کی, تین خاموش رہے۔

    گزشتہ روز سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ چیلنج

    فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ چیلنج

    وزارت دفاع نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا

    آرمی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کافیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،وزارت دفاع نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم قرار دی گئی دفعات بھی بحال کرنے کی استدعا کر دی ،آرمی ایکٹ کی کالعدم قرار دی گئی سیکشن 59(4) بھی بحال کرنے کی استدعا کی گئی،وزارت دفاع نے اپیلوں پر حتمی فیصلے تک فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کیخلاف حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،

    اپیل میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے جن درخواستوں پر فیصلہ دیا وہ ناقابل سماعت تھیں، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات کالعدم ہونے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبرکو فوجی عدالتوں میں سویلینزکا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا، فوجی عدالتوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے، علاوہ ازیں سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی تھی،9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل روکا جائے، سندھ کے بعد بلوچستان،کے پی حکومت کی درخواست

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل روکا جائے، سندھ کے بعد بلوچستان،کے پی حکومت کی درخواست

    سندھ حکومت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے

    سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں بذریعہ ایڈووکیٹ جنرل درخواست دائرکی جس میں فوجی عدالتوں میں سویلنزکا ٹرائل روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار، اپیل پر فیصلے تک سپریم کورٹ کا حکم معطل کرنےکی استدعا کی گئی ہے،سندھ حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے قانون اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، درخواست میں آرمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کی کالعدم دفعات بحال کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    بلوچستان حکومت نے بھی فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا ،آرمی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کے فیصلہ کوکالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،بلوچستان حکومت نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم قرار دی گئی دفعات بھی بحال کرنے کی استدعا کر دی

    خیبر پختونخوا حکومت نےبھی فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا ،بلوچستان حکومت نے بھی آرمی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہ کرنے کے فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 23 اکتوبرکو فوجی عدالتوں میں سویلینزکا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا، فوجی عدالتوں کے خلاف تحریک انصاف نے بھی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے، علاوہ ازیں سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی تھی،9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    ملک بھر کے شہداکے لواحقین فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف متحد ہوگئےشہدا فورم بنالیا پیر کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائرکرنے کا اعلان کر دیا، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے استحکام اور انسداد دہشت کردی کے لیے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں سپریم کورٹ شہدا کا خون رائیگاں نہ جانے دے اپنے فیصلےپر نظرثانی کرے

    انور زیب کا کہنا تھا کہ شہدا فورم کا مطالبہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو سپریم کورٹ ملک و قوم کی سلامتی کے ضامن کے طور پر دوبارہ بحال کیا جائے، نوابزادہ جمال رئیسانی کا کہنا ہے کہ شہدا کے فرزند اور بھائی کی حیثیت سے آپ سے بات کر رہا ہوں،ہم آج یہاں اپنے شہدا کےلیے جمع ہوئے ہیں،ہم نے جو قربانیاں دیں وہ اس ملک کی سلامتی کے لیے دیں، خدارا ملٹری کورٹس کو بحال کیا جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے شہدا کے لواحقین کو رنج کا سامنا کرنا پڑ رہا، شہدا نے اس ملک کےلیے قربانیاں دیں،

    شہداء کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے،کارگل وار میں 400 شہدا کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے، ہم اپنے شہدا کا خون کبھی رائگاں نہیں ہونے دیں گے،محمد جمشید کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کوسانحہ قرار دیا جائے تو کم نہ ہوگا،2013 میں میرے والد نے بلوچستان میں بم دھماکے میں اپنی جان دی،اس شہید نے اپنے ملک سے جو وفا کرنی تھی وہ وہ کر گئے،اس قوم نے اس شہید سے جو وفا کرنی ہے وہ نظر نہیں آ رہی، اس ملک کی ملٹری کورٹس کو ختم کرنے کا فیصلہ افسوس ناک ہے، سول کورٹ کی اتنی اتھارٹی نہیں کہ وہ انٹیلیجنس کے معاملات کی جانچ کر سکےآپ کی زندگی سے کوئی چلا جائے تو آپ کو اس دکھ کا اندازہ ہوگا،

    میر فرید رئیسانی نے کہا کہ قاضی فائز عیسی صاحب کیا آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان میں ایک جج نے دہشت گرد کو سزا دی، جیسے ہی جج عدالت سے نکلا اس پر حملہ کر دیا گیا،چیف صاحب خدارا شہدا کی فیملیز کی طرف دیکھاجائے، میانوالی اور پسنی میں ہمارے لوگوں پر حملہ ہوچکا، میں اپنے شہدا کا لہو کن کے ہاتھوں پر تلاش کروں،12 ربیع الاول کے جلوس کے شرکاء کو شہید کر دیا گیا، 21 ڈی سیکشن کو بحال کیا جائے تاکہ کلبھوشن کی طرح کوئی اور دہشتگردی نہ کرے،کلبوشن نے یہاں لسانیت کی بنیاد پر دہشتگردی کروائی،سول کورٹس اتنی طاقتور نہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلے کر سکیں،اگر ہم اپنے ملک کے لیے اپنے والدین کو قربان کر سکتے ہیں تو دوہری شہریت کیا چیز ہے،

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،اعتزاز احسن

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن اور سلمان اکرم راجہ نے فوجی عدالتوں کے حوالہ سے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بہت اہم کیس تھا بہت اہم فیصلہ دیا،فیصلہ جمہوریت اور پورے نظام کو مستحکم کرے گا،سپریم کورٹ نے ثابت کر دیا کہ بالادستی صرف قانون کی ہوگی،بادشاہ اس لیے بادشاہ ہے کہ قانون اس کو بادشاہ بناتا ہے، تمام اداروں کو یہ اطلاع ہو جانی چاہیے کہ آپ جتنے بھی طاقتور ہوں قانون سے بالاتر نہیں، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف ہم نے جدودجہد کی،آج کی خبر تھی کہ ملٹری کورٹس میں کاروائی شروع ہوگئی،کاروائی کے بارے میں اٹارنی جنرل نے موقف لیا تھا کہ ہم بغیر اطلاع کوئی کاروائی شروع نہ کریں گے،سپریم کورٹ کو اطلاع ٹرائل شروع کرنے کے بعد دی گئی،9 مئی اور دس مئی کے واقعات کے ملزمان پر حکومت نے جو الزام لگایا،ان کے خلاف مقدمہ فوجی نہیں سویلین عدالتوں میں چلے گا،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آج اس فیصلے کے بعد سویلین اداروں میں اعتماد آئے گا،میں شکر گزار ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو حوصلے سے سنا،دلائل کے لیے تمام فریقین کو موقع دیا گیا،عدالت کی جانب سے بہترین فیصلہ دیا گیا،تفصیلی فیصلے سے وکلا، عدالتوں اور عام عوام کے لیے رہنمائی ملے گی،102 لوگوں کو فی الحال ریلیف ملا ہے،وہ تمام افراد فوجی حراست سے سویلین حراست میں جائیں گے، عدالت کا پہلا اصول ہے کہ جج آزاد ہونا چاہیے،جج کو یہ فکر نہ ہو کہ اگر فیصلہ اس کے حق میں دے دیا تو ٹرانسفر نہ کر دے،آئین کے تحت عدالت وہی ہو سکتی ہے جو ہائی کورٹ کی دسترس میں ہو،فوجی عدالت میں دو افسران بیٹھے ہوئے ہیں وہ آزاد تو نہیں ہوسکتی ،

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    کراچی والوں کے لئے بڑی خوشخبری، کراچی سرکلرریلوے کے لیے ہوں گی 40 کوچز تیار

    پرائیوٹ کمپنی نے غریب ریل مسافروں پر مہنگائی کا بم گرا دیا

  • سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیدیا ،فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں خلاف قواعد ہونے پر خارج کر دی گئیں ،آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 کی ذیلی شق ایک کالعدم قرار دے دی گئی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا.جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل عام عدالتوں میں ہوگا،ملزمان کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مقدمات عام عدالتوں میں چلائے جائیں ،سپریم کورٹ نے فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا،جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا

    عدالت نے فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی درخواستیں واپس کردیں،جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ فوجی تحویل میں افراد کی درخواستوں کے ساتھ بیان حلفی نہیں ہیں، فوجی تحویل میں 9 ملزمان کی درخواستیں واپس لے لی گئیں،

    جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نےسماعت کی،بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں،اٹارنی جنرل بنچ کے سامنے پیش، دلائل کا آغازکردیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہوچکا ہے ،ممنوعہ علاقوں اور عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دہشتگردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کے لیے نہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،ملزمان کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی ٹو کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے،نو مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہوگا،فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی شہادتیں ریکارڈ ہوں گی،آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے،ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جا سکیں گی،دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتائوں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015 کے ملزمان عام شہری تھے، غیرملکی یا دہشتگرد؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان میں ملکی و غیرملکی دونوں ہی شامل تھے،سال 2015 میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشتگردوں کے سہولت کار بھی شامل تھے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردوں کیلیے ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کیلئے نہیں ؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 8 کی زیلی شق تین سے کیسے جوڑیں گے ؟ آئین کے مطابق تو قانون میں آرمڈ فورسز سے تعلق ضروری ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون واضح ہے پھر ملزمان کا تعلق کیسے جوڑیں گے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپکی تشریح کو مان لیا توآپ ہر ایک کو اس میں لے آئیں گے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دیتا ہے ،سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسے آتے ہیں؟

    جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 8 کیا کہتا ہے اٹارنی جنرل صاحب؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کے برخلاف قانون سازی برقرار نہیں رہ سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے، افواج کے نظم و ضبط کے لیے موجود قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟ 21ویں آئینی ترمیم کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ افواج کا نظم و ضبط اندرونی جبکہ افواج کے فرائض کے انجام میں رکاوٹ ڈالنا بیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسے شخص کا ٹرائل ہوسکتا جو اسکے زمرے میں آئے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پر چھوڑی جا سکتی ہے؟آئین بنیادی حقوق کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بناتا ہے، عام شہریوں پر آرمی کے ڈسپلن اور بنیادی حقوق معطلی کے قوانین کیسے لاگو ہوسکتے؟ عدالت نے یہ دروازہ کھولا تو ٹریفک سگنل توڑنے والا بھی بنیادی حقوق سے محروم ہوجائے گا، کیا آئین کی یہ تشریح کریں کہ جب دل چاہے بنیادی حقوق معطل کر دیے جائیں؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے اندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون پڑھیں تو واضح ہوتا ہے یہ تو فورسز کے اندر کے لئے ہوتا ہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسے دیکھائیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنا بھی اس قانون میں جرم بن جاتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لیکن قانون مسلح کے اندر موجود افراد کی بھی بات کرتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات فورسز میں ڈسپلن کی حد تک ہو تو یہ قانون صرف مسلح افواج کے اندر کی بات کرتا ہے،جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین اور قانون فرائض کی ادائیگی کو پاپند آرمڈ فورسز کو کرتا ہے،قانون انہیں کہتا ہے کہ آپ فرائص ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پر نہیں لگے گا،آپ اس بات کو دوسری طرف لیکر جارہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں جو انہیں ڈسٹرب کرے ان کے لئے قانون ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے،میں لیاقت حسین کیس سے بھی دلائل دینا چاہوں گا، اٹارنی جنرل نےا ایف بی علی کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بریگیڈئیر ایف بی علی ریٹائرڈ ہوچکے تھے،ایف بی علی ریٹائرڈ تھے اس لیے سیکشن 2 ون ڈی کے تحت چارج ہوئے،دیکھنا یہی ہوتا ہے کہ کیا ملزمان کا تعلق آرمڈ فورسز سے ثابت ہے یا نہیں،
    اس عدالت نے 21ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ فیئر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہوگا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ ساری آرمڈ فوسز کے کیسز پڑھ رہے ہیں، ان کیسز کا موجودہ سے کیا تعلق ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری گزارش یہ ہے کہ گٹھ جوڑ والا معاملہ موجود ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کوٹ مارشل کو آئین تسلیم کرتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ مجھے اسی نقطے کی وضاحت کر دیں،

    خیال رہے کہ سانحہ 9 مئی سے متعلق فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع ہوگیا اور وفاقی حکومت نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا تھا اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکم نامےکی روشنی میں عدالت کو ٹرائلزکے آغاز سے مطلع کیا جارہا ہے اور فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کوپاکستان آرمی ایکٹ 1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا جبکہ گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر ہاؤس لاہورپر حملے میں ملوث ہیں اور گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی، آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پرحملے میں بھی ملوث ہیں۔

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،90 دن میں انتخابات کیس،سماعت کیلئے مقرر

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،90 دن میں انتخابات کیس،سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے اہم مقدمات کی سماعت ہو گی، فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل اور 90 دنوں میں انتخابات کیس سماعت کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کیخلاف کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گی،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ 23اکتوبر کو سماعت کرے گا، بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

    نوےروز میں انتخابات کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ 23اکتوبر کو سماعت کرے گا، بنچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روزسپریم کورٹ میں پاک عرب ریفائنری ملازمین کیس میں التوا دینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس حوالہ سے ریمارکس دیئے، وکیل ملازمین نے استدعا کی کہ پاک عرب ریفائنری ملازمین کا کیس 15 دن کے بعد مقرر کر دیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں عام انتخابات اور سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس مقرر ہونے والے ہیں،سپریم کورٹ میں مشکل مقدمات آنے والے ہیں جس دوران دیگر کیسز سننا مشکل ہو گا، اس کیس کو دو ماہ بعد مقرر کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کی،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،