Baaghi TV

Tag: فوجی عدالت

  • سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،

    فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    فوجی عدالتوں نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں 11 مجرموں کو سزا سنائی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث 5 مجرموں کو سزا سنائی گئی،پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،بنوں کینٹ حملے میں ملوث ایک مجرم کو سزا سنائی گئی،ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث دو مجرموں کو سزا سنائی گئی،آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث ایک مجرم،چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث ایک مجرم کو سزا سنائی گئی

    سزا پانے والے 25ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث جان محمد خان ولد طور خان کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمران محبوب ولد محبوب احمدکو10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث فہیم حیدر ولد فاروق حیدر کو 6 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث عبدالہادی ولد عبدالقیوم کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی شان ولد نور محمد کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاوس حملے میں ملوث داؤد خان ولد شاد خان کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد حاشر خان ولد طاہر بشیرکو 6 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عاشق خان ولد نصیب خان کو 4 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی افتخار ولد افتخار احمدکو10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث ضیا الرحمان ولد اعظم خورشید کو 10 سال قید بامشقت
    جناح ہاؤس حملے میں ملوث،محمد بلاول ولد منظور حسین کو 2 سال قید بامشقت

    جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ محمد احسان ولد راجہ محمد مقصود کو 10 سال قید بامشقت
    جی ایچ کیو حملے میں ملوث عمر فاروق ولد محمد صابرکو 10 سال قید بامشقت

    پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث سیِعد عالم ولد معاذ اللہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث یاسر نواز ولد امیر نواز خان کو 2 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث عدنان احمد ولد شیر محمد کو 10 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث شاکر اللہ ولد انور شاہ کو 10 سال قید بامشقت
    پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث رحمت اللہ ولد منجور خان کو 10 سال قید بامشقت

    پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث انور خان ولد محمد خان کو 10 سال قید بامشقت
    پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث بابر جمال ولد محمد اجمل خان کو 10 سال قید بامشقت

    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد خان کو 4 سال قید بامشقت
    ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم شہزاد ولد لیاقت علی کو 3 سال قید بامشقت

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث محمد آفاق خان ولد ایم اشفاق خان کو 9 سال قید بامشقت
    چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث داؤد خان ولد امیر زیب کو 7 سال قید بامشقت
    آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث لئیق احمد ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

  • سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

    سانحہ 9 مئی میں ملوث مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9مئی میں ملوث مجرمان کو سزائیں سنا دی گئیں،9مئی 2023 کو قوم نے سیاسی طور پر بڑھکائے گئے اشتعال انگیز تشدد اورجلاؤ گھیراؤ کے افسوسناک واقعات دیکھے،9 مئی کے پرتشدد واقعات پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں،نفرت اور جھوٹ پر مبنی ایک پہلے سے چلائے گئے سیاسی بیانیے کی بنیاد پر مسلح افواج کی تنصیبات بشمول شہداء کی یادگاروں پرمنظم حملے کئے گئے اور اُن کی بے حرمتی کی گئی ،یہ پر تشدد واقعات پوری قوم کے لئے ایک شدید صدمہ ہیں،9مئی کے واقعات واضح طور پر زور دیتے ہیں کہ کسی کو بھی سیاسی دہشتگردی کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،اس یوم سیاہ کے بعد تمام شواہد اور واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کی گئی،ملوث ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد اکٹھے کئے گئے،کچھ مقدمات قانون کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے لئے بھجوائے گئے جہاں مناسب قانونی کارروائی کے بعد ان مقدمات کا ٹرائل ہوا،13 دسمبر 2024 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی آئینی بنچ نے زیر التواء مقدمات کے فیصلے سنانے کا حکم صادر کیا ،وہ مقدمات جو سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کی وجہ سے التواء کا شکار تھے ، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پہلے مرحلے میں 25 ملزمان کو سزائیں سنا دی ہیں،یہ سزائیں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور مناسب قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد سنائی گئی ہیں،سزا پانے والے ملزمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے تمام قانونی حقوق فراہم کئے گئے

    سزا پانے والے 25ملزمان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
    1۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث جان محمد خان ولد طور خان کو 10 سال قید بامشقت
    2۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عمران محبوب ولد محبوب احمدکو10 سال قید بامشقت
    3۔جی ایچ کیو حملے میں ملوث راجہ محمد احسان ولد راجہ محمد مقصود کو 10 سال قید بامشقت
    4۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث رحمت اللہ ولد منجور خان کو 10 سال قید بامشقت
    5۔پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث انور خان ولد محمد خان کو 10 سال قید بامشقت
    6۔ بنوں کینٹ حملے میں ملوث محمد آفاق خان ولد ایم اشفاق خان کو 9 سال قید بامشقت
    7 ۔چکدرہ قلعہ حملے میں ملوث داؤد خان ولد امیر زیب کو 7 سال قید بامشقت
    8 ۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث فہیم حیدر ولد فاروق حیدر کو 6 سال قید بامشقت
    9۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث زاہد خان ولد محمد خان کو 4 سال قید بامشقت
    10۔پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث یاسر نواز ولد امیر نواز خان کو 2 سال قید بامشقت
    11۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث عبدالہادی ولد عبدالقیوم کو 10 سال قید بامشقت
    12۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی شان ولد نور محمد کو 10 سال قید بامشقت
    13۔جناح ہاوس حملے میں ملوث داؤد خان ولد شاد خان کو 10 سال قید بامشقت
    14۔جی ایچ کیو حملے میں ملوث عمر فاروق ولد محمد صابرکو 10 سال قید بامشقت
    15۔پی اے ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث بابر جمال ولد محمد اجمل خان کو 10 سال قید بامشقت
    16۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد حاشر خان ولد طاہر بشیرکو 6 سال قید بامشقت
    17۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث محمد عاشق خان ولد نصیب خان کو 4 سال قید بامشقت
    18۔ملتان کینٹ چیک پوسٹ حملے میں ملوث خرم شہزاد ولد لیاقت علی کو 3 سال قید بامشقت
    19۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث،محمد بلاول ولد منظور حسین کو 2 سال قید بامشقت
    20۔پنجاب رجمنٹل سینٹر مردان حملے میں ملوث سیِعد عالم ولد معاذ اللہ خان کو 2 سال قید بامشقت
    21۔آئی ایس آئی آفس فیصل آباد حملے میں ملوث لئیق احمد ولد منظور احمد کو 2 سال قید بامشقت
    22۔جناح ہاؤس حملے میں ملوث علی افتخار ولد افتخار احمدکو10 سال قید بامشقت
    23۔ جناح ہاؤس حملے میں ملوث ضیا الرحمان ولد اعظم خورشید کو 10 سال قید بامشقت
    24۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث عدنان احمد ولد شیر محمد کو 10 سال قید بامشقت
    25۔پنجاب رجمنٹل سنٹر مردان حملے میں ملوث شاکر اللہ ولد انور شاہ کو 10 سال قید بامشقت

    مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو سزا ملے گی
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دیگر ملزمان کی سزاؤں کا اعلان بھی اُن کے قانونی عمل مکمل کرتے ہی کیا جا رہا ہے،9مئی کی سزاؤں کا فیصلہ قوم کے لیے انصاف کی فراہمی میں ایک اہم سنگ میل ہے، 9مئی کی سزائیں اُن تمام لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں جو چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں،سیاسی پروپیگنڈے اور زہریلے جھوٹ کا شکار بننے والے لوگوں کیلئے یہ سزائیں تنبیہ ہیں کہ مستقبل میں کبھی قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،متعدد ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں میں بھی مقدمات زیر سماعت ہیں، صحیح معنوں میں مکمل انصاف اُس وقت ہوگا جب 9مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو آئین و قانون کے مطابق سزا مل جائے گی،ریاست ِ پاکستان 9مئی کے واقعات میں مکمل انصاف مہیا کر کے ریاست کی عملداری کو یقینی بنائے گی ،9مئی کے مقدمہ میں انصاف فراہم کرکے تشدد کی بنیاد پر کی جانے والی گمراہ اور تباہ کُن سیاست کو دفن کیا جائے گا ،9مئی پر کئے جانا والا انصاف نفرت، تقسیم اور بے بنیاد پروپیگنڈا کی نفی کرتا ہے ،آئین اور قانون کے مطابق تمام سزا یافتہ مجرموں کے پاس اپیل اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا حق ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ پر جرمانہ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیس کی سماعت ہوئی

    چھبیسویں ترمیم کے فیصلے تک فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت موخر کرنے کی درخواست خارج کر دی گئی،سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو 20 ہزار روپے جرمانہ کر دیا،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے فیصلہ کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت روکنے کی درخواست خارج کردی ،دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جیلوں میں پڑے ہیں، اُن کا سوچیں،وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ 26 آئینی درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک فوجی عدالتوں کا مقدمہ نہ سنا جائے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آئینی بینچ کو تسلیم کرتے ہیں، جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میں عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پھر آپ کمرہ عدالت چھوڑ دیں، جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن نے نامزد کیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا 26 آئینی ترمیم کالعدم ہو چکی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کی طرف سے تاخیری حربے استعمال ہو رہے ہیں،ہر سماعت پر ایسی کوئی نہ کوئی درخواست آ جاتی ہے،اگر 26 ترمیم کالعدم ہوجائے تو عدالت فیصلوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے،

    عدالت نے حفیظ اللہ نیازی کو روسٹرم پر بلایا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے حفیظ اللہ نیازی سے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کیس چلانا چاہتے ہیں،حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میں یہ کیس چلانا چاہتا ہوں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کوئی پیارا زیرحراست نہیں اس لئے تاخیر چاہتے ہیں،اگر عدالت کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرتے تو یہاں سے چلے جائیں،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے درخواست خارج کی۔

    انسداد دہشتگردی عدالتوں نے ملزمان کی ملٹری کو حوالگی کیسے دی؟ جسٹس نعیم اختر افغان
    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، آرمی ایکٹ فوج کے ساتھ کام کرنے والی کمپنیز ملازمین پر بھی لاگو ہے،یا تو پھر یہ شقیں بھی کالعدم کردیں پھر کہیں سویلین کا وہاں ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ وہ توسویلین کی الگ قسم ہوتی ہے ،خواجہ حارث نے کہا کہ جی بالکل، آرمی ایکٹ سویلین کی کیٹیگری کی بات ہی کرتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کا کیس آرمی ایکٹ کی اس شق میں نہیں آتا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کور کمانڈرز جب اپنےگھرکو بطور دفتر استعمال کریں تو کیا اسے دفتر ڈیکلئیر کرتے ہیں؟ یہ بات کتنی درست ہے کہ یہ آئیڈیا بعد میں آیا کور کمانڈر کا گھربھی دفتر تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ میں ایسے کسی نوٹیفکیشن کی طرف نہیں جا رہا، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ یہ بتائیں انسداد دہشتگردی عدالتوں نے ملزمان کی ملٹری کو حوالگی کیسے دی؟ کیا اے ٹی سی کورٹس کا وجوہات پر مبنی کوئی آرڈر موجود ہے؟ آپ یہ سوال نوٹ کر لیں بیشک آخر میں اس کا جواب دیں، خواجہ حارث نے کہا کہ فوج اور سیویلنز میں فرق مصنوعی ہے،فوجی اہلکار بھی اتنے سویلنز ہیں جتنے عام شہری،

    فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی
    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا کیس کل تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے وفاقی فوجی عدالتوں کو مقدمات کا فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کر دی جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ فیصلہ سنانے کی اجازت دینے کا مطلب فوجی عدالتوں کا اختیار تسلیم کرنا ہوگا،حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میرا بیٹا ڈیڑھ سال سے فوجی تحویل میں ہے، طویل ترین ریمانڈ کیخلاف نہ ہائیکورٹ جا سکتا ہوں، نہ کسی اور عدالت، یا میرے بیٹے کو سزا سنانے دیں یا اُسے جیل بھیجنے کا حکم دے دیں، جسٹس امین الدین خان نے سرزنش کرتے ہوئے جیل میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ ہونے تک سماعت نہ کرنے کی درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ میں 9 مئی کی دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پی ٹی آئی کے سویلین ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کرنے کے خلاف مقدمہ کی سماعت مؤخر کرنے کے لیے ایک متفرق درخواست جمع کرائی گئی تھی،درخواست گزار سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے استدعا کی تھی کہ پہلے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ جاری کیا جائے۔

  • عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب

    عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا

    عمران خان کے ممکنہ ملٹری حراست و ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ملٹری حراست میں دینا ہو تو طریقہ کیا ہوتا ہے؟ سیاست دانوں اور فوجی افسر کے بیانات کی خبریں ریکارڈ پر لائی گئی ہیں، اگر بیانات کسی افسر کی طرف سے آئیں تو وہ سنجیدہ ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزارت دفاع کے پاس آج دن تک ملٹری حراست و ٹرائل کی کوئی اطلاع نہیں ہے، وزارت دفاع کی طرف سے بیان دے رہا ہوں کہ ایسی کوئی چیز ابھی نہیں آئی، اگر کوئی درخواست آتی ہے تو پھر بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی درخواست قبل از وقت ہے؟ آپ کی درخواست پر میں نے نوٹس جاری نہیں کیا بلکہ بیان طلب کیا تھا، اگر جواب آتا کہ ہاں ملٹری ٹرائل ہونے جا رہا ہے تو پھر بات آگے بڑھتی، ہم آج ایک الگ دور میں ہیں، آج کے دور میں الفاظ کی جنگ ہوتی ہے، عدالت آپ کی بے چینی سمجھتی ہے ہماری حدود کو بھی سمجھیں ، میرے پاس اس کیس میں آگے بڑھنے کیلئے کچھ نہیں ہے ،وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت میں کہا کہ میں نے فیلڈ جنرل کورٹ میں 50 سے زائد کیسز کیے ہیں، جس پر عدالت نے پوچھا آپ کیسے سویلینز کوملٹری کورٹس میں لے جاتے ہیں؟ وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت میں کہا کہ متعلقہ مجسٹریٹ کو ملٹری اتھارٹی آگاہ کرتی ہیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاستفسار کیا سویلین کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہے؟ آپ مجھے اس حوالے سے طریقہ کار فراہم کر دیں، عدالت کو ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق واضح جواب نہیں دیا جارہا،وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارا بڑا صاف ستھرا طریقہ کار ہے، ہم بھی قانون شہادت پر چلتے ہیں،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ نیب کے قانون کو سپریم کورٹ نے ڈریکونین قرار دیا لیکن اس میں بھی طریقہ کار موجود ہے، طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے سول عدالت چارج فریم کرے گی، ٹرائل کورٹ اگر کہے کہ کیس ملٹری کورٹ کو بھیجنا ہے تو پھر نوٹس دے کر بھیجا جا سکتا ہے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل سے متعلق حکومت سے واضح مؤقف طلب کر لیا جس پر وزارت دفاع نے مؤقف دینے کے لیے وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے آئندہ سماعت پر واضح مؤقف دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی۔

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان کو ملٹری کورٹ کا خوف کھا گیا، عمران خان عدالت پہنچ گئے،9 مئی مقدمات میں ملٹری کورٹ ٹرائل اور فوجی تحویل میں دینے کے ممکنہ امکان کیخلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان کی درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب ، ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی جیل خانہ جات کو بھی فریق بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سویلین کورٹ کے دائرہ اختیار میں رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور فریقین کو عمران خان کی کسٹڈی ملٹری اتھارٹیز کو دینے سے روکا جائے۔عمران خان نے درخواست میں فیض حمید کا نام لیے بغیر ذکر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خدشہ ہے کہ چند ہفتے قبل گرفتار سینئر ریٹائرڈ فوجی افسر نو اور دس مئی کے مقدمات میں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے اور اسی بنیاد پر فوجی تحویل میں دیا جائے گا،

    بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ ملٹری ٹرائل روکنے کی درخواست پر اعتراضات عائد

    بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ ملٹری ٹرائل روکنے کی درخواست پر اعتراضات عائد

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ ملٹری ٹرائل روکنے کی درخواست پر اعتراضات عائد کر دیئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات عائد کیے،اعتراض میں کہا گیا کہ کسی مخصوص ایف آئی آر کا حوالہ دیے بغیر عمومی ریلیف کیسے مانگا جا سکتا ہے؟

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان کو ملٹری کورٹ کا خوف کھا گیا، عمران خان عدالت پہنچ گئے،9 مئی مقدمات میں ملٹری کورٹ ٹرائل اور فوجی تحویل میں دینے کے ممکنہ امکان کیخلاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان کی درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب ، ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی جیل خانہ جات کو بھی فریق بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سویلین کورٹ کے دائرہ اختیار میں رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور فریقین کو عمران خان کی کسٹڈی ملٹری اتھارٹیز کو دینے سے روکا جائے۔عمران خان نے درخواست میں فیض حمید کا نام لیے بغیر ذکر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خدشہ ہے کہ چند ہفتے قبل گرفتار سینئر ریٹائرڈ فوجی افسر نو اور دس مئی کے مقدمات میں میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے اور اسی بنیاد پر فوجی تحویل میں دیا جائے گا،

    بات اُن کے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں،عمران خان

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • حسان نیازی کیس، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

    حسان نیازی کیس، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کے بھانجے حسان نیازی کی بازیابی کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ،عدالت نے مزید دلائل کیلئے فریقین کے وکلا کو طلب کرلیا،چوہدری اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے درخواست گزار کی بیٹے حسان نیازی سے ملاقات کرانے کی ہدایت کی، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ سے استفسار کیا کہ کیا بنا ملاقات کے حوالے سے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے روبرو اسی نوعیت کے کیسز زیر سماعت ہیں،بہتر حل یہی ہے کہ یہ سپریم کورٹ میں جائیں،اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی، سپریم کورٹ میں یقین دہانی کے باوجود ملاقات نہیں کرائی گئی،

    جسٹس سلطان تنویر احمد نے استفسار کیا کہ کیا وہ یقین دہانی صرف 102 گرفتار افراد سے متعلق تھی؟ اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ان تمام افراد کیلئے تھا جو آرمی کی کسٹڈی میں ہوں، عدالت عالیہ آرمی کسٹڈی میں آفراد سے ملاقات کیلئے حکم جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، عدالت عظمٰی کو بتایا گیا کہ کوئی صحافی اور وکیل آرمی کسٹڈی میں نہیں، عمران ریاض خان، حسان نیازی ودیگر آرمی کسٹڈی میں موجود ہیں،آرمی ایکٹ آئین میں دئیے گئے حقوق نہیں چھین سکتا،بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی گئی،ایک صحافی اور ایک وکیل سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جاسکتی،

    عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ صاحب آپ کیا کہتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا معاملہ زیرِ سماعت ہے، سپریم کورٹ میں ملاقات کا معاملہ سامنے آیا، سپریم کورٹ نے ابھی تک اس کیس میں کوئی فیصلہ نہیں دیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی صورت ہے کہ آرمی کسٹڈی میں ملاقات کرائی جاسکتی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے انڈر ٹیکنگ دی عدالت کا فیصلہ نہیں آیا، سپریم کورٹ تو انڈرٹیکنگ سے زیادہ سہولیات دینے کا حکم بھی دے سکتی ہے، کسی قانون میں آرمی کسٹڈی میں آفراد سے ملاقات کی گنجائش نہیں،عدالت عالیہ کی طرف سے کوئی بھی مزید پیچیدگی پیدا کریگا،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل ملاقات کرا سکتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے کہا کہ جی اٹارنی جنرل ملاقات کرا سکتے ہیں، عدالت نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل جو سپریم کورٹ میں انڈرٹیکنگ دیں ان سے انحراف ہوسکتا ہے، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ انڈرٹیکنگ میں ملاقات کیلئے ایس او پیز بنانے کا کہا گیا لیکن پتہ نہیں ابھی ایس او پیز بنے ہیں یا نہیں، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ سر حکومتی رپورٹ میں حسان نیازی کی گرفتاری، راہداری ریمانڈ، عدالت میں پیش کرنے کا نہیں بتایا گیا،حسان نیازی کو آرمی کے حوالے کرنے کیلئے قانون سے انحراف کیا گیا، عدالت نے کہا کہ آپ کو بھی سنیں گے آپ مزید تیاری کریں،

    جسٹس سلطان تنویر احمد نے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی درخواست پر سماعت کی ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حسان نیازی کا کیس ملٹری کورٹ میں چلایا جائیگا، پولیس نے حسان نیازی کو آرمی کے حوالے کر دیا ہے، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ حسان نیازی کی والدین سے ملاقات کرانے کا حکم دیا جائے،حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی درخواست گزار نے حسان نیازی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر کی بازیابی کی درخواست حسان نیازی کی درخواست کیساتھ یکجا

    پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر کی بازیابی کی درخواست حسان نیازی کی درخواست کیساتھ یکجا

    پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر کو ملٹری کورٹس کے حوالے کرنے کا معاملہ ،لاہور ہائیکورٹ نے محمد مجید کی بازیابی کی درخواست حسان نیازی کی درخواست کیساتھ یکجا کردی

    عدالت نےمزید سماعت 25 اگست تک ملتوی کردی جسٹس سلطان تنویر احمد نے حیدر مجید کی درخواست پر سماعت کی ،پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے ،فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بیرسٹر حسان خان نیازی کیس سے لنک ہے، اس کیساتھ 25 اگست کو سنیں گے، پنجاب حکومت کے وکیل نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر محمد مجید کو فوج کے حوالے کرنے کا بیان دیا تھا

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواستگزار کے والد کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں ٹکٹ ہولڈر بھی تھے،پولیس نے حراست میں لیا، بتایا نہیں جارہا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے،عدالت درخواستگزار کے والد کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے،

    قبل ازیں حسان خان نیازی کی بازیابی سے متعلق درخواست کا معاملہ ،پولیس نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کروا دیا ،پولیس نے رپورٹ میں کہا کہ حسان خان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں نامزد ہیں حسان نیازی جناح ہاؤس حملہ کیس میں مرکزی ملزمان میں شامل ہیںحسان نیازی کو ٹرائل کے لیے ملٹری کے حوالے کردیا گیا ہے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • حسان نیازی کا کیس فوجی عدالت منتقل

    حسان نیازی کا کیس فوجی عدالت منتقل

    حسان نیازی مشکل میں پھنس گئے، گرفتاری ایبٹ آباد سے ہوئی، کوئٹہ پولیس کے حوالے کر دیئے گئے، کوئٹہ سے حسان نیازی کو پنڈی بھجوا دیا گیا، اب پنڈی سے لاہور لایا جائے گا، حسان نیازی کا کیس فوجی عدالت منتقل کر دیا گیا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کیس میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق حسان نیازی کا کیس سول کورٹ کی بجائے ملٹری کورٹ میں چلے گا، حسان نیازی کو پنڈی سے لاہور منتقل کر دیا جائے گا، حسان نیازی لاہورپولیس کو مطلوب ہیں حسان نیازی پر جناح ہاؤس حملہ اور کور کمانڈر کے یونیفارم کی تضحیک کرنے کا الزام ہے،

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ ہیں ،بیرسٹر اعتزاز احسن روسٹرم پر آ گٸے ،اعتراز احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں حالیہ ترامیم عدالت میں پیش کردی اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی ترامیم کا نوٹس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ اس قانون کے بعد ایجنسیوں کو اختیار دیا جار ہا بغیر وارنٹ کسی کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چیف جسٹس اکیلے از خود نوٹس نہیں لے سکتا،خوش قسمتی سے بل ابھی زیر بحث ہے دیکھتے ہیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان اس قانون پر کیا رائے دیتا ہے زیادہ علم نہیں اس بل بارے اخبارات میں پڑھا ہے،

    اعتراز احسن نے کہا کہ اس وقت سپریم کورٹ کے چھ ججز کی حیثیت فل کورٹ جیسی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل ہے یا قانون ہے،آپ نے ہمارے علم میں لایا آپ کا شکریہ،اعتراز احسن نے کہا کہ ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے،

    چیف جسٹس کی آبزرویشنز کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل کا اغاز کردیا ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بتائیں آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 175/3 کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتا،جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا آئین میں ایسی کوئی شق ہے جس کی بنیاد پر آپ بات کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپکا سوال نوٹ کرلیتا ہوں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ پھر میرے سوال سے ہٹ رہے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب آئینی طریقہ کار کی جانب بڑھ رہے ہیں کیس کیسے ملٹری کورٹس میں جاتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کو قانون سازوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جاسکتا، بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت تو آئین پاکستان نے دے رکھی ہے،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ذکر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ممبرز آرمڈ فورسز اور دفاعی معاملات کیلئے مخصوص ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملٹری کورٹس کورٹ آف لا نہیں تو پھر یہ بنیادی حقوق کی نفی کے برابر ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق ملٹری کورٹ سے صلب کرنا چاہتے ہیں آرمڈ فورسز سے تعلق پر ٹرائل ہو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا کل عدالت ممکن نہیں ہو گی ایک جج دستیاب نہیں ہیں
    آگے کچھ جج چھٹیوں پر جانا چاہتے ہیں جون سے کام کر رہے ہیں ہمیں ایک پلان آف ایکشن دینا ہو گاملٹری کورٹ میں سویلین کا ٹرائل ایک متوازی جوڈیشل سسٹم نہیں ہمیں اعتزازاحسن صاحب نے بتایا کہ پارلمینٹ بہت جلدی میں ہے ۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس معاملے پر آپ کیا کہتے ہیں ؟اٹارنی جنرل نے کہاکہ میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ مزید لوں گا دشمن ممالک کے جاسوس اور دہشت گردوں کے لیے ملٹری کورٹ کا ہونا ضروری ہےہم عدالت کو یقین دہانی کروا چُکے ہیں کہ کن وجوہات پر مشتمل فیصلے دیں گے آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی، اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آرڈی میں تھے، جیلوں میں بھی جاتے تھے،مگر ان لوگوں نے حملے نہیں کئے،
    نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے،ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہوتو ان کے پاس ہتھیار ہیں، وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں،ایسا نہیں ہوسکتا ان پر کہیں حملہ ہورہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں،وہ نو مئی کو گولی بھی چلاسکتے تھے

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ گولی چلائی کیوں نہیں یہ بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہوکہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں، اس لئے ٹرائل کررہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی حکومت 12 اگست کو جارہی ہے یہ کیا یقین دہانی کروائیں گے،اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ نے عدالت سے چھٹیوں پر جانے سے قبل فیصلہ کرنے کی استدعا کی،

    ملڑی کورٹ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ دو ہفتوں تک تو بینچ کے ممبران دستیاب نہیں ،جیسے ہی ججز دستیاب ہوں گے کیس سنیں گے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو بھی صبح 8 سے شام 8 بجے تک بیٹھیں اور فیصلہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں، روز رات 9 بجے تک بیٹھتا ہوں، اس بنچ کے ممبران کا بھی حق ہے وہ اپنا وقت لیں، چایک ممبر کو محرم کی چھٹیوں سے بھی واپس بلا لیا گیا ہے، ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی،آپ نے ساری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے جنہوں نے اس عدالت کو فعال بنانے میں مدد کی ہے ان کیلئے دل میں احترام ہے، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے،میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے،فوج سرحدوں کی محافظ ہے،

    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ یہ چھ رکنی بینچ اب آئیدہ دو ہفتے تک دستاب نہیں ہے کیس کہ آئندہ سماعت میں دو ہفتوں سے بھی زائد کا وقت لگ سکتا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ کس کی ہدایات لے کر سپریم کورٹ کو بتا رہے ہیں ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں افواج پاکستان کے انتہائی سینئر افسران کی جانب سے دی گئی ہدایات عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ٹرائل نہیں ہوگا اٹارنی جنرل کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں برقرار رہیں گی ،میانوالی ایئربیس گرائی گئی، وہاں معراج طیارے کھڑے تھے،ہم فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے،میرے ایک ساتھی جج نے ایک اہم زمہ داری نبھانی ہے میں وہ یہاں بتانا نہیں چاہتا،کچھ ججز کو صحت کے سنگین ایشو ہوسکتے ہیں،کچھ ججز کو چھٹیوں کی ضرورت ہے،عدالتی امور چلتے رہنے چاہئیں اس لئے میں دل سے کوشش کررہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ افواج پاکستان شہریوں پر بندوقیں تان لیں، فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے،

    واضح رہے اٹارنی جنرل نے عدالت کے علم میں لائے بغیر کسی سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار