Baaghi TV

Tag: فوج

  • سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری

    سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملک کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کی فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    باغی ٹی وی : دریاؤں کی صورتحال : آئی ایس پی آر کے مطابق اٹک , تربیلا , چشمہ , گڈو کے مقام پر نچلے سیلاب سے سندھ کے علاوہ تمام دریامعمول کےمطابق بہہ رہے ہیں ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب۔

    کے پی

    آئی ایس پی آر کے مطابق مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔

    جنوبی پنجاب

    آئی ایس پی آر کے مطابق تمام پہاڑی طوفان معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں سوائے مٹھاون، کاہا اور سانگھڑ ہل میں کچھ بڑھے ہوئے بہاؤ کے۔ مقامی کمانڈروں نے راجن پور اور ڈی جی خان کا دورہ کیا۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    بلوچستان، جھل مگسی

    آئی ایس پی آر کے مطابق گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیاگیا ہےگندھاوا اور گردونواح میں کوئی الگ تھلگ علاقہ نہیں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا خضدار۔ M-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔

    نصیرآباد
    آئی ایس پی آر کے مطابق دن بھر بارش نہیں ہوئی۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    چمن

    آئی ایس پی آر کے مطابق چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے جبکہ نوشکی میں آج بارش نہیں ہوئی۔ پھنسے ہوئے لوگوں کے لیےامدادی سرگرمیاں جاری ہیں پکا ہوا کھانا 1000 سےزیادہ لوگوں کو پیش کیا گیا 3 مقامات پر تباہ ہونے والے N-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

    لسبیلہ

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے ناکہ، بیلہ، دودر، حب اور گڈانی میں 5 فیلڈ میڈیکل کیمپ طبی امداد فراہم کر رہے ہیں N-25 کھول دیا گیا ہے پلوں کی مرمت کا کام جاری ہےگوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا MI-17 کی 2 قسمیں چلائی گئیں اور حب اور اتھل میں 1500 کلو راشن کی اشیاء تقسیم کی گئیں –

    قلعہ سیف اللہ

    آئی ایس پی آر کے مطابق پورے ضلع قلعہ سیف اللہ میں بارش کی اطلاع ہے جبکہ مسلم باغ خزینہ میں لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 200 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    جی بی

    آئی ایس پی آر کے مطابق KKH میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی کے تودے گرنے کی اطلاع ہے۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

  • فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر معمولی بارشوں سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں کرا چی، بالخصوص جنوبی علاقوں میں گزشتہ 6-8 گھنٹوں کے دوران شدید بارش ہوئی-

    کراچی کے چند علاقوں میں 106 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی گجر، اورنگی اور محمود آباد سمیت تمام نالوں سے بارش کے پانی کی نکاسی جاری ہے-

    کراچی میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے شہر کے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا کام جاری ہے سول انتظامیہ، پاک فوج اور رینجرز کہ 388 ٹیمز مسلسل۔نکاسی آب میں مصروف ہے کراچی کے بڑے برساتی نالوں میں پانی کا بہائو عروج پر ہے

    برساتی نالوں میں پانی کی انتہائی سطح کے بعد ڈی واٹرنگ سے ہی زیرآب علاقوں کو کلئیر کیا جا سکتا ہے
    وقت کے ساتھ ساتھ پانی کی سطح اور بہائو کم ہو جائے گا کنٹونمنٹ بورڈذ، ڈی ایچ اے حکام سمیت پاک فوج اور رینجرز امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں-

    واضح رہے کہ کراچی میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، دوپہرسے شروع ہونے والی اس موسلا دھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ندیوں میں پانی کا بہاﺅ تیز ہوگیا، ملیر میمن گوٹھ کے بعد گڈاپ ندی میں بھی طغیانی ہے۔

    کراچی شہر کے مختلف علاقوں گلشن حدید، ملیر، اسٹیل ٹان، گھگھر پھاٹک، نیشنل ہائی وے، سپرہائی وے، گلزار ہجری، بفرزون، نارتھ کراچی، یوپی موڑ، سرجانی ٹاﺅن، ڈسکوموڑ، گلستان جوہر، حیدری، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گڈاپ کاٹھور، گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ، ایم اے جناح روڈ، کے ڈی اے، شادمان ودیگر علاقوں موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

    گلستان جوہر، گلشن اقبال، گڈاپ، لیاقت آباد، ملیر سمیت کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے، شہر بھر کی سڑکیں زیر آب اور دریا کے مناظر پیش کررہی ہیں جب کہ برساتی پانی گھروں میں بھی داخل ہوچکا ہے جس کے باعث شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    کراچی میں رات سے جاری بارش کے باعث مختلف علاقوں کی سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا جس سے علاقہ مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے-

    کراچی حیدر آباد موٹروے پر پانی کا بڑا ریلا آ جانے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے،رات گئے ہونے والی شدید بارش کے باعث چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک کو معطل کرنا پڑا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں تیز اور موسلا دار بارش کا سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کا امکان ہے جب کہ آئندہ دو روز کے دوران کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق گذشتہ دنوں بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ گوادر کے جنوب میں ہے، سسٹم کا پھیلاؤ کراچی اور زیریں سندھ پر اب بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ سسٹم کے تحت کبھی تیز اور کبھی معتدل بارش ہورہی ہے، پیر کو بھی دن بھر ہلکی اور معتدل بارش کا سلسہ جاری رہنے کاامکان ہے۔ 14 جولائی کی شام سے بارش برسانے والا ایک اور سسٹم بھی آسکتا ہے،جو 18 جولائی تک اثر اندازرہےگا پہلے سسٹم کی طرح دوسرا سسٹم بھی مضبوط ہوسکتا ہے، دوسرے سسٹم میں تیز اور موسلا دار بارش کا امکان ہے۔

  • کورونا پرغلط حکمت عملی ،لاک ڈاون نے سری لنکا تباہ کردیا،صدرفرار،فوج میں بغآوت

    کورونا پرغلط حکمت عملی ،لاک ڈاون نے سری لنکا تباہ کردیا،صدرفرار،فوج میں بغآوت

    کولمبو:کورونا پرغلط حکمت عملی ،لاک ڈاون نے سری لنکا تباہ کردیا،صدرفرار،فوج میں بغآوت جاری ہے اوراب تویہ خبریں بھی بڑی تیزی سے وائرل ہورہی ہیں کہ ملک کے وجود کوخطرات لاحق ہوگئے ہیں ،

     

     

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پروائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صدراوردیگرعزیزواقارب کو نیوی کے جہازمیں بٹھا کرکسی نامعلوم منزل کی طرف لے جایا جارہاہے ،

     

     

    کولمبوسے ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کے اندربغاوت پھیل چکی ہے اورکئی فوجی افسران توصدر کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے ، تاہم یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون سے اعلیٰ فوجی افسران ہیں

     

    سری لنکا میں حالیہ تباہی پرسری لنکن اوردیگرعالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سری لنکا کو جوآج دن دیکھنے پڑرہےہیں یہ اصل میں کورونا وبا کے دوران غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کی وجہ آج ہرسری لنکن اپنی اوراپنے ملک کی بقا کی جنگ لڑرہا ہے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سری لنکا میں کورونا وبا کے دوران مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے ملک معاشی تباہی کے دھانے پرپہنچ گیا اوراب سری لنکا عملی طور پردیوالیہ ہوچکا ہے اور دوسرے لفظوں میں سری لنکا کا دیوالیہ نکل چکا ہے

     

     

    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1545745855533268992

     

     

    کولمبو: سری لنکا میں مشتعل مظاہرین نے صدارتی ہاؤس پر دھاوا بولا اور سوئمنگ پول میں تیراکی کرتے رہے اور صدر کے زیر استعمال لگژری آئٹمز دیکھتے رہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے مظاہرین نے ہفتے کے روز کولمبو میں صدر گوٹا بایا راجا پکسے کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا اور متعدد پولیس اور فوجی رکاوٹوں اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور کئی کلپس میں مقامی لوگوں کو پول میں تیراکی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

     

    دوسروں کو گھر میں گھستے ہوئے دیکھا گیا اور صدر کے ذاتی سامان کی تلاشی لی اس منظر نے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کو چونکا دیا ہے کیونکہ ملک میں ہنگامہ آرائی ختم ہونے سے انکاری ہے۔

     

    ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جانے کے بعد بہت سے لوگوں نے سری لنکا کے بحران پر اپنا موقف بیان کیا۔

    صدر کے سوئمنگ پول میں لوگوں کے اتفاق سے نہانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’لوگوں نے مہنگائی کی وجہ سے ان کے گھر پر دھاوا بولا کیونکہ یہ خود عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے۔

     

    ملک میں اشیائے ضروریہ کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور ٹویٹر صارف نے لکھا، "شہریوں کے پاس کھانا، گیس نہیں ہے، لیکن، یہ عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے لیے ہیں لیکن اب اس پر مظاہرین نے قبضہ کر لیا ہے۔”

  • چین نے فوج کے کہنے پر امداد کی ورنہ شہباز کو تو وہ 100 بھی نہ دیں۔ شیخ رشید

    چین نے فوج کے کہنے پر امداد کی ورنہ شہباز کو تو وہ 100 بھی نہ دیں۔ شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے دعوی کیا ہے کہ: چین نے جو امداد کی ہے وہ فوج کے کہنے پر کی ہے ورنہ تو وہ شہباز شریف کو ایک سو روپیہ بھی نہ دیتے۔
    ایک بیان میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ: ہمارا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام کا ہے اور غریبوں کے خلاف گلا گھونٹ بجٹ جاری ہے لیکن آئی ایم ایف اب بھی فیصلہ نہیں کررہا۔

    ان کا مزید کہنا تھا: اب سانس لینے پر ہی ٹیکس لگنا باقی ہے۔جماعت اسلامی کے مہنگائی ٹرین مارچ کی حمایت کرتا ہوں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ: مہنگائی کی شرح 30 فیصد بڑھ گئی ہے۔ سپر ٹیکس صنعتوں کو اور10 سے 40 ہزار دکانوں پرفکسڈ ٹیکس لگنا ایک ظلم ہے۔ سیاسی لوٹوں کو ادائیگی ڈالروں میں ہوئی۔

    انہوں نے کہا: ہرکوئی گوادر میں سنگ بنیاد رکھتا ہے لیکن تعمیرات نہیں کرنے دی جاتی۔کفن اورقبر کا ریٹ دگنا ہوگیا ہے۔ غریب کا مسئلہ مہنگائی اورشہباز کا مسئلہ مری ہائے وے ہے۔

    واضح رہے گزشتہ دنوں وزیراعظم نے ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ ہمارے دوست ملک چین نے بھی ہمیں امداد بھیج دی ہے۔

    علاوہ ازیں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی چین امداد واللی بات کی تصدیق کردی تھی۔

  • فوج اور اسکی قیادت نے پرویز مشرف کو پاکستان واپس بلا کر درست اور جرات مندانہ فیصلہ کیا،شیخ رشید

    فوج اور اسکی قیادت نے پرویز مشرف کو پاکستان واپس بلا کر درست اور جرات مندانہ فیصلہ کیا،شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو فوج اور اس کی قیادت نے پاکستان واپس بلا کر درست اور جرات مندانہ فیصلہ کیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف کے پاس اس فیصلے کی حمایت کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں تھا، پاکستان کے تمام آرمی چیفوں کے خلاف نوازشریف نے لڑائی لڑی اور سیاسی بحران پیدا کیا اور مطلب پڑنے پر ان کے آگے گھٹنے ٹیکے۔


    شیخ رشید نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کا ایجنڈا اپنے کیسسز ختم کرنا اور آئی ایم ایف کی مہنگائی مسلط کرنا ہے۔ عالمی سازش کی عدم اعتماد تحریک کی شروعات بھی لندن سے ہوئی۔


    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اب نواز شریف کو پاکستان آنے سے کس نے روکا ہے۔آج پنجاب میں آئین کے برخلاف دو اجلاس ہو رہے ہیں جس کی پاکستان اور دنیا میں کوئی مثال نہیں۔

    واضح رہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک اہم بیان میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے۔ اللہ انہیں صحت دے۔ ہماری لیڈرشپ کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو واپس آجانا چاہیے لیکن یہ فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کیلئے ان کی فیملی سے رابطہ کیا گیا ہے پرویزمشرف کی فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔ پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی اور ان کے ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ وہ ان کو ایسی کنڈیشن میں سفر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں؟

    انہوں نے کہا تھا کہ اگریہ دونوں چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی انتظامات کیےجاسکتے ہیں، انسٹی ٹیوشن محسوس کرتاہے کہ جنرل مشرف کو اگر ہم پاکستان لاسکیں تو لانا چاہیے کیوں کہ ان کی کنڈیشن ایسی ہے۔

    جس پر سابق وزیراعظم نوازشریف نے ٹوئٹر پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے‌حوالے سے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

  • پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے : آرمی چیف

    پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے : آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان میں مکمل امن واپس آ کر رہے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پشاور کور ہیڈکوارٹرکا دورہ کیا جہاں پر انہیں پاک افغان بارڈر سے متعلق ، سکیورٹی صورتحال ، ضم ہونے والے اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک آرمی کے سپاہیوں ، قبائلی عمائدین ، ایف سی ، لیوی خاصہ دار اور پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج پرعزم ہے ، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں سکیورٹی فورسز کا کردار قابل قدر ہے ، سماجی و اقتصادی منصوبے علاقے کے پائیدار استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

  • بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج  پاگیا

    بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا

    تل ابیب :بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں۔

    اسرائیلی میڈیا زور زور سے چیخ رہا ہے کہ اسرائیلی فوج شدید بحران کی حالت میں ہے اور ایسے حال میں کہ میڈیا فوجی یونٹوں میں عصمت دری اور جنسی حملوں کی کثرت کی خبریں دے رہا ہے، دوسرے لوگ حکومت کی احتیاطی افواج کی بغاوت کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔

    اسرائیلی اخبار یدیعوتھ احارونوتھ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک سال میں 1542 ریپ اور جنسی حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    عبرانی زبان کے اس اخبار کے مطابق، اگرچہ ملٹری پراسیکیوٹر کے دفتر مربوطہ اداروں میں 1,542 شکایات درج کی گئی ہیں، لیکن صرف 31 مقدمات پر کارروائی ہوئی ہے اور اسرائیلی فوج نے باقی کو نظر انداز کر دیا ہے۔

    یدیعوتھ احارونوتھ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی دفاعی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں اسرائیلی فوج میں جنسی جرائم کے بارے میں ہولناک معلومات شائع کی گئیں، جن کا تعلق 2020 سے ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ 2012 کے بعد سے یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ شکایات کے اس حجم کے باوجود صرف 51 اسرائیلی فوجیوں پر مقدمہ چلایا گیا۔

    اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 کے پہلے 12 مہینوں میں 26 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، 391 غیر اخلاقی حرکتیں کی گئیں اور اسرائیلی فوج میں خواتین فوجیوں کی 92 تصاویر اور کلپس تقسیم کی گئیں۔

    احارونوتھ نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں کنیسٹ کمیٹی کے چیئرمین رام بن بارک کے حوالے سے لکھا ہے کہ “مجھے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ایک خطرناک اور تہدید آمیز واقعہ ہے، اسرائیلی فوج کو ان اقدامات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔”

    لیکن یہ صرف اسرائیلی فوج کا مسئلہ نہیں ہے، حکومت کے قومی نیٹ ورک “کان” نے چند روز قبل اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اسرائیلی فوج کے درجنوں احتیاطی سپاہیوں کی بغاوت اور غیرمتوقع فوجی مشق میں شرکت سے انکار کی خبر دی تھی۔
    عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق، 120 احتیاطی فوجیوں نے اپنے یونٹ کمانڈروں کی طرف سے غیر اعلانیہ فوجی مشق میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا، اور یونٹ اپنے نصف فوجیوں کے ساتھ مشق کے لیے چلی گئی۔

  • بھارت:فوج کی زیرنگرانی انتخابات کا فیصلہ:آغازپنجاب سے:ہزاروں فوجی تعینات

    بھارت:فوج کی زیرنگرانی انتخابات کا فیصلہ:آغازپنجاب سے:ہزاروں فوجی تعینات

    چنڈی گڑھ :بھارت:فوج کی زیرنگرانی انتخابات کا فیصلہ:آغازپنجاب سے:ہزاروں فوجی تعینات ،اطلاعات کے مطابق بھارتی پنجاب کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس کرونا راجو نے کہا ہے کہ پنجاب کو الاٹ کی گئی 75 اضافی کمپنیوں میں سے 50 کل (پیرکو) ریاست پہنچ جائیں گی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایس کرونا راجو نے ڈپٹی کمشنروں،ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسروں،پولیس کمشنروں اورا یس ایس پیز کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور الیکشن کمیشن کے احکامات پرمکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔کرونا راجو نے الیکشن کمیشن کے تمام قواعد وضواب چیف سکریٹری اور دیگر سینئر حکام کے نوٹس میں بھی لائے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک ایپ cVIGILشروع کی گئی ہے اور اس پر درج شکایات کا ازالہ 100 منٹ کے اندر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے مناسب تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی۔ سی ای او نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق 15 جنوری تک ریلیاں نہیں نکالی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے ۔

    ادھر اطلاعات ہیں‌ کہ الیکشن کمیشن نے اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور کے انتخابی شیڈول کا ہفتہ کے روز اعلان کیا جس کے مطابق ان تمام ریاستوں میں انتخابی پروگرام سات مرحلوں میں مکمل کیے جائیں گے۔

    اتر پردیش میں سات مراحل میں، منی پور میں دو مرحلوں اور اتراکھنڈ، پنجاب اور گوا میں ایک مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 10 فروری کو ووٹنگ ہوگی اور تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی۔

    پانچ ریاستوں میں کل 690 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابی نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہو گیا ہے۔ انتخابات کے دوران کووڈ کے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔اتر پردیش کی 403 سیٹوں، پنجاب کی 117، اتراکھنڈ کی 70، منی پور کی 60 اور گوا کی 40 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی ، جس کے لیے ان ریاستوں میں بھارتی فوج کی سینکڑوں کمپنیاں تعیناتی کےلیے تیار ہیں

  • مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

    مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

    مری : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی اور پنجاب حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق مری سانحہ پر انتظامیہ پر برس پڑی۔

    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ مری میں کیا اتنی برف پہلی دفعہ پڑی تھی؟ حکومت میں جو سیاحوں کو آج کے المناک سانحہ کا قصور وار ٹھہرا رہے ہیں وہ خدارا ہوش کریں-

     

     

    انہوں نے لکھا کہ متاثرین کی امداد میں فوجی جوانوں، مقامی شہریوں اور ہوٹلوں کا کردار قابل تعریف ہے مگر انتظامیہ کی کارکردگی قابل مذمت ہے۔

    ادھر آج شام پولیس کی طرف سے ایک دُکھ بھری خبرجاری کی گئی کہ مری میں جہاں سانحہ کی وجہ سے ایک طرف جنازے اُٹھ رہے ہیں وہاں دوسری طرف انتظامیہ اورحکام لوگوں سے یہ درخواستیں کررہے ہیں‌کہ خدارا ابھی نہ جائیں رش کم ہونے دیں مگرکوئی بات سُننے کے لیے تیار ہی نہیں‌

    مری سے یہ مناظردیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بڑی عجیب بات ہے کہ حکومت پچھلے دو روز سے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہہ رہی تھی لیکن لوگوں نے پرواہ تک نہ کی اور اتنے بڑے سانحہ کا سامنا کرنا پڑا

    دوسری طرف ابھی ابھی مری سے اسی حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکام اب بھی سیرسپٹے کے شوقین افراد کو انتظار کرنے اور رش کم ہونے تک مری نہ جانے کی گزارشات پیش کررہے ہیں لیکن عوام الناس کو پرواہ تک نہیں اورپھرایسے آنکھیں بند کرکے آگے بڑھ رہے ہیں کہ شاید اس کے بعد دوبارہ موقع ہی نہ ملے

    مری سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے باوجود منچلے مری جانے پر بضد، داخلی راستوں پر بڑی تعداد موجود ہیں،ملکی سیاحتی مقام مری میں برفانی طوفان اور ہلاکتوں کے باوجود منچلے مری جانے پر بضد ہیں۔

    آگاہی اعلانات کے باوجود بڑی تعداد میں سیاح مری کے داخلی راستوں پر موجود ہیں جس کے باعث اسلام آباد سے مری جانے والے راستے پر شدید ٹریفک جام ہوگیا۔17 میل کے علاقے پر رینجرز نے راستہ بند کردیا جبکہ رینجرز اور انتظامیہ کی شہریوں سے واپس جانے اورتعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔

    پاک فوج کے دستے عوام الناس کی خدمت میں مصروف ہیں اور سخت سردی میں محنت اورمحبت کے ساتھ خدمت کی وجہ سے ان کےپسینے چھوٹ رہے ہیں لیکن ان کو بس ایک ہی فکر ہے کہ ہمارے اہل وطن مشکلات اورنقصان سے محفوظ رہ سکیں ، انہیں مقاصد کے تحت مری کے تمام انٹری پوائنٹس پر سیاحوں کو روکنے کیلئے خصوصی پکٹس قائم کردی گئیں ہیں۔

    اُدھر انتظامیہ نے اتوار کی رات تک گاڑیوں کے مری داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ مری کو آفت زدہ بھی قرار دے دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ مری میں شدید برفباری اور سیاحوں کے رش کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور 20 سے زائد افراد کی گاڑیوں میں اموات کے بعد سیاحتی مقام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

  • ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری

    ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری

    راولپنڈی:ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری،اطلاعات کے مطابق پاک فوج ، نیوی اور ایف سی کے دستوں کا گوادر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری جبکہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ بھی لگایا جارہا ہے ۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں سے بلوچستان کی ساحلی پٹی شدید بارشوں کی زد میں ہے، پاک فوج ، نیوی اور ایف سی کے دستوں کا گوادر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ کلانچ اور سردشت میں خصوصی امدادی سرگرمیاں شروع کی جا رہی ہیں ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرین میں خیمے ، کمبل اورراشن ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچائےگئے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے جبکہ پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے پسنی میں امدادی سامان پہنچایاگیا ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کلانچ، سردشت اور سن سٹار کی وادیوں اور دور دراز دیہات میں ریلیف کی خصوصی کوششیں جاری ہیں، گوادر کے پرانے علاقوں سے بھی پانی نکالنے کا عمل جاری ہے، آرمی ، ایف سی اور پاکستان کوسٹ گارڈ کی طرف سے متاثرین کے لئے میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں جبکہ گوادر اولڈ ٹاؤن بھی پانی نکالنے کے آپریشن کا مرکز رہا ہے اورمتاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی کو نکالنے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔

    ادھر کمشنرمکران ڈویژن شبیراحمدمینگل نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مکران ڈویژن کے ضلع گوادر اور ضلع کیچ کے بیشتر علاقوں گوادرشہر ،سنٹسر ، پسنی اور ضلع کیچ کےسب تحصیل بلنگورمیں طوفانی بارشوں سے کافی نقصانات ہوئے ہیں اورلوگوں کے گھر زیرآب آگئے تھے جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع گوادراورکیچ کے سب تحصیل بلنگورکو آفت زدہ قراردیاہے،

    انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت اورکسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکران کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے اورضروری اقدامات کرنے کا حکم دے دیا گیاہے ، انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تربت کے ڈپٹی کمشنرنے آج بھی دشت سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کرکے امدادی سرگرمیوں اورنقصانات کا جائزہ لیاہے،جبک پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان بھی پہنچ چکے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امداد دینے کے لیے ہمارے پاس سامانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید امدادی سامان بھی منگوائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ،پی ڈی ایم اے،لیویز،پولیس،پاک فوج،ایف سی ،تحصیل انتظامیہ ،نیوی سمیت تمام ادارے مکران ڈویژن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ضلع کے افسران کی چھٹیاں بھی منسوخ کردیئے ہیں۔انہوں نے کیچ ،گوادرسمیت مکران کے عوام سے اپیل کی کہ کمزور بندات اورندیوں کے پاس کم از کم رات کو نہیں ٹھہریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں ۔اگر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوا تو اپنے اپنے علاقوں کے انتظامیہ کو فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ انہیں ریسکو اور امدادی سرگرمیاں وقت پر پہنچائی جاسکیں ۔

    رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کی حالیہ طوفانی بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے نمنٹے کے لئے پسنی میں ہنگامی اجلاس صدارت کی ۔ جس میں رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ کمشنر مکران شبیر جان مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن ر جمیل احمد بلوچ اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ اور دیگر مختلف محکموں کے آفیسران نے شرکت کی ۔

    اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ نے حالیہ طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں اور اب تک کی پیش رفت سے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کو تفصیلی بریفینگ دی ۔ رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

    اس مشکل کی گھڑی میں پسنی کی عوام کے ساتھ ہوں ہم ہر ممکن کوشش اور اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کر سکیں ۔ طوفانی بارشوں سے ہونی والی تباہی اور نقصانات کا جائزہ لے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے گا ۔اس موقع پر انہوں نے پریس کلب پسنی کے سامنے بیھٹے احتجاجی میونسپل کمیٹی پسنی ڈیلی ویجیز ملازمین سے بھی ملاقات کی ۔

    میونسپل کمیٹی پسنی کے ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کے تنخواہوں اور مستقل ملازمت کے مطالبے کو وزیراعلی بلوچستان اور اسمبلی میں آواز اٹھاؤں گا ۔

    رکن صوبائی اسمبلی میرحمل کلمتی رکن صوبائی اسمبلی ثنا بلوچ کمشنر مکران شبیر احمد مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ پسنی میں طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور جائزہ لیا