Baaghi TV

Tag: فوری جنگ بندی

  • پاکستان اور ملائیشیا کا غزہ میں فوری جنگ بندی  پر زور

    پاکستان اور ملائیشیا کا غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور

    پاکستان اور ملائیشیا نے غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت اور فوری جنگ بندی کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے 3 روزہ دورہ ملائیشیا کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ یہ شہباز شریف کا وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ملائیشین ہم منصب کی دعوت پر پہلا دورہ تھا۔دفتر خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات 1957 میں قائم ہوئے جو باہمی احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں اور مارچ 2019 میں یہ تعلقات تذویراتی شراکت داری میں بدل گئے۔وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشین وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک نے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مسلم امہ میں یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، جیوپولیٹیکل امور اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں وزرائے اعظم نے غزہ میں شہری آبادی کے تحفظ پر زور دیا اور افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ اسلاموفوبیا، عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر تشدد کی مذمت بھی کی گئی۔قبل ازیں، وزیراعظم شہباز شریف کو کوالالمپور میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (IIUM) کی جانب سے قیادت اور طرزِ حکمرانی کے شعبے میں فلسفے کی اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ملک و قوم کی خدمت میں نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔

    نیشنل پریس کلب حملہ،جوائنٹ کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے

    تجارت اور سرمایہ کاری،سعودی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچ گیا

  • غزہ میں انسانی صورتِ حال بدترین، فوری جنگ بندی ناگزیر: انتونیو گوتریس

    غزہ میں انسانی صورتِ حال بدترین، فوری جنگ بندی ناگزیر: انتونیو گوتریس

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورتِ حال بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو عالمی امن کا ضامن ہونا چاہیے کیونکہ اس کا قیام عالمی یکجہتی اور بین الاقوامی امن کے تحفظ کے لیے عمل میں آیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی امداد کی فوری اور بلا روک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے، وہاں فوری اور پائیدار جنگ بندی ناگزیر ہے اور یرغمالیوں کی رہائی بھی ہونی چاہیے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے کچھ سب سے اہم مسائل کی نشاندہی کی جن میں خود مختار ریاستوں پر حملے، بھوک کو ہتھیار بنانا، سچائی کو دبانا اور بڑھتے سمندر جو ساحلی علاقوں کو نگل رہے ہیں شامل ہیں۔انہوں نے تین جاری جنگوں، غزہ، یوکرین اور سوڈان کا ذکر کیا جو اس سال اقوامِ متحدہ کی 80 ویں سالگرہ پر چھائی ہوئی ہیں اور کہا کہ تینوں تنازعات کا اختتام صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔

    ہر سال ستمبر میں ریاستوں اور حکومتوں کے سربراہان نیویارک میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں جہاں وہ اپنی عالمی ترجیحات پیش کرتے ہیں۔ سیکریٹری جنرل کی افتتاحی تقریر روایتی طور پر اجلاس کا ماحول متعین کرتی ہے۔اس سال جب اقوام متحدہ اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہا ہے، انتونیو گوتریس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد ادارے کے قیام کو یاد کیا، جب ممالک نے اسے ’ انسانیت کے بقا کی عملی حکمتِ عملی’ کے طور پر قائم کیا تھا۔

    ٹرمپ کی تقریر بے ربط اور متنازع دعوؤں سے بھرپور تھی،امریکی میڈیا کی تنقید

    پاک فضائیہ اور بحرین نیشنل گارڈ کے درمیان دفاعی تعاون پر اتفاق

    بھارت اگلے ماہ سب سے بڑی ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون مشق کرے گا

    فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، حماس کی کوئی گنجائش نہیں،امریکی صدر