Baaghi TV

Tag: فوزیہ

  • وزیراعظم سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن کی ملاقات

    وزیراعظم سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن کی ملاقات

    وزیر اعظم شہبازشریف سے امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ملاقات کی ہے

    ملاقات میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کی بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اوردرخواست کی کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کی جلد رہائی کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھائے ،وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے وزارت خارجہ کو ڈاکٹر عافیہ کی خیریت اوران کی جلد رہائی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں پاکستانی مشن کے ساتھ مکمل طور پر رابطے میں رہنے کی ہدایت کی

    وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے لیے انصاف کے حصول میں ڈاکٹر فوزیہ کی کئی سالوں سے انتھک کوششوں کو سراہا اور ڈاکٹرعافیہ کی صحت یابی کے لیے دعا کی.

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

  • صدر،وزیر اعظم اورچیف جسٹس بے بس و بے اختیار ہیں تو بتائیں بااختیار کون ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    صدر،وزیر اعظم اورچیف جسٹس بے بس و بے اختیار ہیں تو بتائیں بااختیار کون ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    کراچی :وطن کی بیٹی عافیہ صدیقی کی بہن اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ اگرصدر، وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے معاملے میں بے بس اور بے اختیار ہیں تو پھر با اختیار کون ہے؟قوم کی بیٹی پر اغیار کے مظالم کب ختم ہوں گے؟ اہل اقتدار عافیہ کو واپس لائیں، عدلیہ کے احکامات کی پابندی کریں ورنہ توہین قوم اور وطن سے غداری سمجھا جائے گا۔ قوم اب بیدار ہوچکی ہے، امریکہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دے چکا ہے، ہمارے ارباب اختیار اور سیاستدان کیوں میٹھی اور پرسکون نیند سو رہے ہیں؟ ایک جانب امریکی مفادات کا تحفظ اور دوسری جانب حقوق نسواں کے گیت گائے جاتے ہیں، عالمی انسانیت پر لمبی لمبی تقاریر کی جاتی ہیں، مگر اٹھارہ سالوں سے ظلم و ستم سہتی، دشمنوں کی قید میں اپنی قوم کی مظلوم و بے گناہ بیٹی کی وطن واپسی کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

    وہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر،کراچی پریس کلب کے باہر ایک انوکھے او رمنفرد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہی تھیں۔ مظاہرے میں مختلف سیاسی و سماجی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء، صحافی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر ایک علامتی جیل کی کوٹھری بنائی گئی، مقامی اسکول کی طالبہ نے جیل میں بند ہو کر ڈاکٹر عافیہ کا کردار ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اورامریکہ کی کارزویل جیل میں موجود، تاجدار مدینہ کی باندی کو بھول گئے ہیں۔ حکمران سو جائیں تو قوم کو جاگنا ہوتا ہے۔ ایک کتے اور بلی کی تکلیف پر تڑپ اٹھنے والے انسانوں کو،ایک انسان کی تڑپ کیوں دکھائی نہیں دیتی؟

    ڈاکٹر عافیہ کا کردار ادا کرنے والی طالبہ نے درد بھرے انداز میں کہا کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور میں اپنی قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کے ساتھ روا رکھے جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طر ف توجہ دلاکر قوم کی مظلوم بیٹی کی فریاد عوام، حکمرانوں، سیاستدانوں،علماء و مشائخ اور عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں تک پہنچارہی ہوں۔ اس علامتی مظاہرے میں عافیہ کے کردار کے ذریعے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا کہ اٹھارہ سال گزر گئے ہیں۔ حکومتیں آ اور جا رہی ہیں لیکن کیا مجال ہے کہ شرمناک بے حسی کی پالیسی کے تسلسل میں ذرا سا بھی فرق آیا ہو۔ اس دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے خاندان پر قیامت گزرتی رہی۔ ظلم کی سیاہ راتیں اب تو صدیوں پر محیط لگتی ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کی فریاد سے عرش تھرا جاتا ہے لیکن ہمارے خوابیدہ حکمرانوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ڈاکٹر عافیہ اس دوران تسلسل کے ساتھ کرب و بلا سے گزر رہی ہیں، ان کی آواز سے زمین لرزتی ہے اور آسمان کانپ جاتا ہے۔ جو ان پر گزر رہی ہے یہ وہ ہی جانتی ہیں یا ان کا اللہ جانتا ہے۔ عافیہ پر روا رکھنے جانے والے مظالم اور جبرو تشدد کی عکاسی کے لئے پریس کلب پر علامتی جیل بنا کر ڈاکٹر عافیہ کے مصائب کی منظر کشی کرنے کی کوشش کو عوام کی بہت بڑی تعداد نے سراہا،

    مظاہرے کے شرکاء آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوں اور ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کو ممکن بنائیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی رحمت و برکت کے باعث ملک و قوم کو حقیقی تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔مقررین اور شرکاء نے طاقتور بڑی سیاسی جماعتوں اور مقتدر قوتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہوش کے ناخن لیں تاکہ انہیں قوم کی بیٹی پر جاری ان مصائب و آلام کا کچھ ادراک ہو سکے جن سے قوم کی بیٹی روز گذرتی ہے، روز جیتی اور روز مرتی ہے