Baaghi TV

Tag: فوزیہ صدیقی

  • عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    امریکہ میں قید پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اسکائی نیوز کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ "نئے شواہد” کی بنیاد پر آزاد ہو جائیں گی جو ان کی بے گناہی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، 52 سالہ، جو کبھی دنیا کی سب سے زیادہ مطلوب خواتین میں شامل تھیں، پر الزام تھا کہ ان کا القاعدہ کی قیادت سے تعلق تھا اور 2010 میں انہیں افغانستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹ کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے ناقدین "لیڈی القاعدہ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدلنے کی امید ہے۔ "مجھے امید ہے کہ مجھے بھلا نہیں دیا جائے گا اور میں انشاء اللہ جلد ہی رہائی پاوں گی۔” انہوں نے مزید کہا، "میں… ظلم کا شکار ہوں، صاف اور سادہ بات ہے۔ ہر دن اذیت ہے… یہ آسان نہیں ہے۔”

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل، کلف اسٹافورڈ اسمتھ، نے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے کیس پر صدارتی معافی جاری کریں اور انہوں نے بائیڈن کو 76,500 الفاظ پر مشتمل ایک رپورٹ بھیجی ہے۔اس رپورٹ کو اسکائی نیوز نے دیکھا ہے، لیکن اس میں دی گئی تمام معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔بائیڈن کے پاس ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اس درخواست پر غور کرنے کا وقت ہے۔ اب تک بائیڈن نے 39 افراد کو معافی دی ہے اور 3,989 سزاؤں میں کمی کی ہے۔
    aafia

    کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ابتدائی طور پر مشتبہ سمجھا گیا تھا، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقدمے کے دوران وہ گواہیاں دستیاب نہیں تھیں جو ان کی بے گناہی کو ثابت کر سکتی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 میں پاکستان آئی تھیں، تو انہیں اغوا کر کے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس نے انہیں افغانستان کے بگرام ایئربیس پر منتقل کر دیا۔

    سی آئی اے نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا اور وہ واحد خاتون تھیں جنہیں 2000 کی دہائی کے اوائل میں "ایکسٹراورڈنری رینڈیشن” کے پروگرام کے تحت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ایکسٹراورڈنری رینڈیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں کسی گرفتار شخص کو خفیہ حراست میں منتقل کیا جاتا ہے یا کسی تیسرے ملک بھیجا جاتا ہے تاکہ تحقیقات کی جا سکے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے دوران، 2010 میں جج نے کہا تھا: "ریکارڈ میں کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ امریکی حکام یا ایجنسیاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کی 2008 میں گرفتاری سے پہلے حراست میں لے کر آئی تھیں،” اور یہ کہا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شروع میں "غلط مفہوم” نکالا تھا کیونکہ ایجنسیاں یہ سمجھتی تھیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک نیوکلیئر فزکس کی ماہر ہیں جو تابکاری بم پر کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی پی ایچ ڈی تعلیم میں تھی۔

    سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار جان کریاکو کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی میں "دہشت گردی کے رجحانات” تھے۔ جان کریاکو نے سی آئی اے میں 2004 تک انسداد دہشت گردی کے محکمے میں کام کیا اور کہا کہ سی آئی اے ڈاکٹر صدیقی کو "قابل اور خطرناک” سمجھتی تھی۔کریاکو نے دعویٰ کیا کہ جب وہ سی آئی اے کے ساتھ کام کر رہے تھے، تب انہوں نے ڈاکٹر صدیقی پر تشدد کرنے کی تردید کی۔ "اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 میں گرفتار کر کے کسی خفیہ مقام پر بھیجا گیا ہوتا، تو مجھے اس کا علم ہوتا۔”

    ڈاکٹر صدیقی کی بہن فوزیہ نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں جانتی ہوں کہ وہ بے گناہ ہیں۔ اگر میں جانتی کہ ان میں کوئی گناہ ہے تو میں اپنی ساری زندگی اس کے لیے وقف نہ کرتی۔ وہ جہاں ہیں وہ وہاں نہیں ہونی چاہیے۔”

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • 20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد نے امریکی جیل میں قید معروف پاکستانی محقق اور ماہر نفسیات ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ کی صحت، قید کی حالت اور رہائی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے اس موقع پر امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی کانگریس اور وزارت خارجہ کے حکام شامل تھے، تاکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔پاکستانی وفد میں شامل سینیٹر بشریٰ انجم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے امریکی حکام سے ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ امریکی حکومت 20 جنوری سے پہلے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ کر لے گی”۔ سینیٹر بشریٰ انجم نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس حوالے سے عالمی برادری کا بھی کردار اہم ہے۔

    عافیہ صدیقی کو 2003 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2010 میں انہیں امریکا کی جیل میں 86 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔پاکستانی وفد کی اس ملاقات کا مقصد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی کوششوں کو تیز کرنا تھا تاکہ انہیں طویل عرصے سے جاری قید سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر وفد نے امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کرنے کی درخواست کی، اور ان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی اپیل کی۔پاکستانی حکومت نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے معاملے کو ہر سطح پر اٹھا کر انہیں جلد سے جلد انصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کو ان کے اہل خانہ کے پاس رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "میرے اپنوں نے میرا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے، مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حکومت پاکستان نے جو خط امریکا کو لکھا ہے، اس میں وزیرِ اعظم کا پیغام شامل ہے۔ اگر وزیرِ اعظم خود یہ خط بھیج سکتے ہیں تو کم از کم ڈپٹی وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو بھی اس خط کے ساتھ امریکا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ خط کو عزت ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر چیئرمین سینیٹ یا وزیرِ خارجہ خود یہ خط لے کر جاتے تو امریکی حکومت پر اس کا زیادہ اثر پڑتا۔ بدقسمتی سے مجھے امریکا جانے سے روکا گیا اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔”ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 1500 افراد کو ایک ہی دن میں معافی دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ، "صدر بائیڈن نے ایک دن میں 1500 افراد کو معافی دی، جبکہ ہمارے وفد کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکا اور وہ بغیر کسی نتیجے کے واپس آ رہا ہے۔ عافیہ کی رہائی کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ ایک نیکی ہے لیکن ان کے حق میں نہیں کی جا رہی۔”انہوں نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا جو ان کی اور عافیہ کی آواز بنے ہیں، اور ان کے لیے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آج کی عدالتی کارروائی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا جانے کے لیے ایک وفد بھیجا تھا لیکن یہ وفد محض تین دن کے لیے امریکا پہنچ سکا جبکہ کم از کم اس وفد کا دورہ آٹھ دن کا ہونا چاہیے تھا۔عمران شفیق کا کہنا تھا کہ، "وفد پانچ دن کی تاخیر سے پہنچا اور ان کی ملاقاتیں اور اہم میٹنگز جو طے کی گئی تھیں، وہ نہیں ہو سکیں۔ امریکی وکیل اسمتھ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک ڈیکلریشن عدالت میں جمع کرایا، جسے عدالت میں پڑھا گیا، اور یہ ایک دل توڑنے والی داستان ہے۔”وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جو وفد امریکا بھیجا تھا، وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ "جو اہم ترین میٹنگز ہونی تھیں، ان میں بھی وفد تاخیر کا شکار ہو گیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

  • عافیہ صدیقی کی واپسی کی کنجی حکومت پاکستان کے پاس ہے،فوزیہ صدیقی

    عافیہ صدیقی کی واپسی کی کنجی حکومت پاکستان کے پاس ہے،فوزیہ صدیقی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    عافیہ کے وکیل مسٹر اسمتھ نے اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کروادیا، عدالت نے عافیہ صدیقی کو امریکی حکام کے حوالے کرنے سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئیں،فوزیہ صدیقی نے عدالت میں کہا کہ عافیہ صدیقی کی واپسی کی کنجی حکومت پاکستان کے پاس ہے،نومبر سے حکومت ہماری مدد کرے ،جو بائیڈن حکومت کے ہوتے ہوئے عافیہ کا معاملہ حل ہونا چاہیے،نئی امریکی حکومت کے آنے کے بعد معاملہ التواء کا شکار ہو جائے گا،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ عافیہ صدیقی کی امریکہ حوالگی سے ایجنسیز متعلق سوالات الگ رکھیں ورنہ درخواست کا مقصد حل نہیں ہوگا،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے استفسار کیا کہ دوگل صاحب معاملہ کورٹ میں آگیا ہے کیسے الگ رکھیں ، جمعے تک عدالتی سوالات پر مفصل رپورٹ دیں میں آج آرڈر نہیں کر رہا کوئی ،عدالت نے وزارت خارجہ کے وکیل سے کہا کہ آپ بھی اپنے آفس کا تفصیلی جواب دےدیں،ورنہ سب کو یہاں بٹھا دونگا ، جمعے تک کا وقت ہے مفصل رپورٹ دیں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ سے مفصل رپورٹ جمعہ تک طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

  • عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    عافیہ صدیقی سے بہن فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا کیس ، اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی عافیہ صدیقی سے امریکی جیل میں ملاقات طے پا گئی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی دو اور تین دسمبر کو عافیہ صدیقی سے امریکہ میں ملاقات کریں گی سینیٹر مشتاق اور سینیٹر طلحہ بھی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ہوں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی

    امریکہ میں عافیہ صدیقی کے وکیل بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے ،اور کہا کہ عافیہ صدیقی امریکہ کی ایک بد ترین جیل میں قید ہیں ،ہماری کوشش یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کو جلد از جلد دوسری جیل منتقل کیا جائے ،

    کیس کی سماعت کے بعد وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ عافیہ صدیقی کے کیس کی سماعت آج ہوئی،عدالت کو عافیہ صدیقی کے وکلا کی طرف سے بتایا گیا کہ دو تین دسمبر کو فوزیہ صدیقی کی ملاقات طے ہوئی ہے، فوزیہ صدیقی کی امریکہ میں سیکورٹی کنسرن ہیں،حکومت سیکورٹی یقینی بنائے،عدالت نے احکامات جاری کئے ہیں،اس وقت سب سے بڑ ا مسئلہ ہمیں در پیش ہے کہ عافیہ صدیقی بدنام ترین جیل کے ایک سیل میں قید ہیں، چھوٹا سا سیل ہے، ان پر بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے شکایات مل رہی ہیں کہ وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ انکا جیل تبدیل کیا جائے کسی ایسے جیل میں رکھا جائےجہاں دنیا کے مسلمہ قوانین کی روشنی میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ہو،انکو اذیت سے نجات دلائی جائے، امریکہ میں عافیہ کے وکیل آج آن لائن عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے دو ہفتے کا افغانستان کا دورہ کیا اور کچھ ثبوت ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہیں، تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی جا سکتیں،

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    عافیہ صدیقی کیس،ساتویں آٹھویں سماعت حکومت اس حوالے سے کچھ کرنا نہیں چاہتی،عدالت

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

  • اگر کوشش کریں تو عافیہ کی واپسی بہت آسان ہے،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    اگر کوشش کریں تو عافیہ کی واپسی بہت آسان ہے،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    امریکی جیل میں عافیہ صدیقی سے ملاقات کے بعد ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی واپس کراچی پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی: کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے ساتھ دوسری ملاقات جولائی میں ہے، سینیٹر مشتاق احمد نے خونی رشتے سے بڑھ کرساتھ دیا عافیہ صدیقی سے پہلے بھی ملاقات ہوسکتی تھی لیکن اس حکومت نے کرائی، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے مدد کی عافیہ صدیقی کے ساتھ ملاقات میں ایک بڑا ہاتھ اسلام آباد ہائیکورٹ کا بھی تھا، فوزیہ نے ایک بار پھر دہرایا کہ عافیہ کی رہائی کی کنجی اسلام آباد میں ہے تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ عافیہ صدیقی اتنےبرے حال میں ہے، اگر کوشش کریں تو عافیہ کی واپسی بہت آسان ہے۔

    ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ 20 سال کے بعد اپنی بہن سے ملنے کی کامیابی ملی، میں امریکی حکام سے امید رکھتی ہوں ان کے دل بھی نرم ہوں گے- یہ ایک چھوٹی سی امید ضرورت ہوئی، ملاقات کا کام پہلے بھی ہوسکتا تھا لیکن اس حکومت نے کیا،دوسری ملاقات جولائی میں ہے میری خواہش اس میں عافیہ کا ہاتھ پکڑ کر واپس لے آؤں،عافیہ کی واپسی بہت آسان ہے اگر کوشش کریں،عافیہ جس حال میں تھی اسے پہچان ہی نہیں پائی،میں یہاں اسکے بچوں کو کیا منہ دکھاؤنگی کہ میں انکی ماں کو چھوڑ کر آئی ہوں،

    پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہےمارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کےمبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کےبعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں تھی۔

    چین 430 ارب ڈالر کے ساتھ عرب ملکوں کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار …

    عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے معاملے میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب امریکا نے 5 سال بعد یعنی 2008 میں انہیں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائنائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔

    دوسری جانب جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی افسران نے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی لیکن جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں بعدازاں عافیہ صدیقی کو امریکا منتقل کیا گیا، ان پر مقدمہ چلا اور 2010 میں ان پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کرنے کے بعد 86 برس قید کی سزا سنا دی گئی۔

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔