Baaghi TV

Tag: فوک گلوکار

  • آج والدین شوبز میں آنے کو سپورٹ کرتے ہیں ہمارے دور میں ایسا نہ تھا عطا اللہ عیسی خیلوی

    آج والدین شوبز میں آنے کو سپورٹ کرتے ہیں ہمارے دور میں ایسا نہ تھا عطا اللہ عیسی خیلوی

    فوک گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ میں وہ والد نہیں ہوں جو بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرے. میرے بچے اپنی مرضی کے پروفیشن میں گئے ہیں اور کام کررہے ہیں میں ان کی خوشی میں خوش ہوں. جب ہمارا دور تھا تو اس وقت شوبز میں آنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا . اگر کوئی بچہ گانا گانے یا اداکاری کرنے کی خواہش کرتا تھا تو اس کو کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا تھا بلکہ خاندان ایسے بچے یا بچی کو چھوڑ‌دیا کرتے تھے جو اداکاری یا گلوکاری کے لئے گھر سے باہر نکلتے. عطا اللہ عیسی خیلوی نے کہاکہ میرے

    ساتھ بھی ایسا ہی ہوا مجھے گلوکاری کا شوق تھا لیکن میرے گھر والے اس شوق کے سخت مخالف تھے لیکن میں نے اپنے شوق کی تکمیل کا ٹھان رکھا تھا. میں کام کے لئے کئی سال دھکے کھاتا رہا مجھے کوئی سننے کو تیار نہیں ہوتا تھا. میں لاہور آکر کئی بار رات کو بھوکا سویا لیکن اللہ نے جب عزت مقام مرتبہ دیا تو پھر سب تکلیفیں بھول گئیں. اللہ بہت بے نیاز ہے محنت اور لگن ہو تو وہ راستے آسان بنا دیتا ہے یقینا کامیابی حاصل کرنا آسان بات نہیں ہوتی لیکن لگن اور مسلسل محنت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے.

  • میرا پاکستان میری پہچان ہے عارف لوہار

    میرا پاکستان میری پہچان ہے عارف لوہار

    جشن آزادی کے موقع پر فوک گلوکار عارف لوہار کہتے ہیں کہ میرا ملک پاکستان میری پہچان ہے میں دنیا میں کہیں بھی جاتا ہوں تو پاکستانی ہی کہلایا جاتا ہوں جس پر مجھے فخر ہے میرے والد نے بھی ساری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کی میں بھی کررہا ہوں اور میرے بچے بھی کررہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پاکستانی لباس پہنا میرے والد بھی پاکستانی لباس پہنتے تھے میں بھی پہنتا ہوں اور میرے بچے بھی پاکستانی لباس زیب تن کرتے ہیں۔ عارف لوہار نے

    کہا کہ اس ملک کو ہم نے بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا ہمیں اس چیز کا ہر دم احساس رہنا چاہیے۔ سیاستدانوں کو آپسی اختلافات بھلا کر ملک و قوم کا سوچنا چاہیے،سیاسی اختلافات ہونے چاہیں ذاتی نہیں۔ اس ملک میں ہر طرح کا موسم ہے ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم اس ملک کے باسی ہیں پاکستانی ہیں۔ مجھے اپنے وطن کی مٹی سے محبت ہے اس کی خوشبو میرے رگ رگ میں بستی ہے۔ہمیں اس ملک کی ترقی کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے آو اس موقع پر عزم کریں کہ ملک کی سربلندی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے۔ میری دعا ہے کہ میرا ملک ہنستا رہے بستا رہے اور ہماری قوم متحد رہے.

  • عارف لوہار اپنا پہلا عشق کسے کہتے ہیں؟‌

    عارف لوہار اپنا پہلا عشق کسے کہتے ہیں؟‌

    فوک گلوکار عارف لوہار نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کا پہلا عشق کون ہے. عارف لوہار نے کہا ہے کہ میرا پہلا عشق میرے والد ہیں میں‌نے ان سے بہت کچھ سیکھا. ہم جدید زمانے کے ساتھ چل ضرور رہے ہیں لیکن کبھی بھی اپنی روایات کو نہیں چھوڑا نہ ہی ملک ملک پھرنے کے بعد بھی اپنے انداز اور ملبوسات کو تبدیل کیا ہے میں آج بھی وہی پہنتا ہوں جو ہمارے خاندان کی روایت ہے. میں‌آج بھی لاچا پہنتا ہوں میرے بچے بھی لاچا پہنتے ہیں اور رتی برابر بھی نہیں‌کبھی کہا کہ یہ کیا لباس ہم پہن رہے ہیں یا ہمیں‌لباس تبدیل کرنی کی اجازت دی

    جائے وہ بھی ہمارے خاندان کی روایات کو لیکر چل رہے ہیں. عارف لوہار نے مزید کہا کہ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا آج بھی کرتا ہوں میری اہلیہ میرے دکھ سکھ کی ساتھی تھیں وہ بیوی تو اچھی تھیں ہی لیکن بہت اچھی ماں بھی تھیں. میری بیوی خوبیوں کا مجموعہ تھیں، ان کا یوں دنیا سے چلے جانا یقینا میرے لئے بہت بڑا دھچکا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ہر گلوکار کی اپنی اپنی خصوصیت ہے کوئی کچھ گاتا ہے کوئی کچھ گاتا ہے.عارف لوہار کہتے ہیں‌کہ انہیں صوفی کلام سے خاص قسم کی عقیدت ہے. جس تن نوں لگدی اوتن جانے گانا میرے دل کے بہت قریب ہے۔ یاد رہے کہ عارف لوہار ایک شو کی غرض سے ملک سے باہر ہیں اگلے ماہ وطن واپسی کریں گے.

  • عالم لوہار کی 43 ویں برسی کل منائی جائیگی

    عالم لوہار کی 43 ویں برسی کل منائی جائیگی

    فوک گلوکار عالم لوہار کی کل 43 ویں برسی منائی جائیگی، صوفی کلام کو منفرد انداز میں گانے اور شیر پنجاب کہلائے جانے والے عالم لوہار کی فیملی میں ان سے پہلے کوئی نہیں گاتا بجاتا تھا. عالم لوہار نے کم عمری میں ہی پنجابی کہانیاں اور شاعری پڑھنا شروع کر دیں تھیں اس کے بعد صوفیا کے کلام کو گانے لگے، ان کے کلام کو سننے کےلئے ان کے گائوں میں دود دور سے لوگ آنے لگے.عالم لوہار نے گائیکی میں چمٹا بجانے کے انداز کو متعارف کروایا ان سے پہلے کسی گلوکار نے چمٹا نہیں بجایا تھا.سریلی آواز کے مالک اس فوک گلوکار نے کبھی بھی کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی تھی ان کی آواز انہیں‌قدرت کا عطا کردہ انمول تحفہ تھی. عالم لوہار کی شہرت جب ان کے گائوں سے نکل کر ملک بھر میں پہنچی تو پاکستان فلم انڈسٹری نے بھی ان کو

    بلایا.1948 میں انہوں نے اپنا پہلا فلمی گیت گایایہ گیت میاں محمد بخش کی شاعری پر مشتمل تھا. اس کے بعد انہوں نے جگنی گیت گایا اس گیت کے بعد تو شہرت جیسے ان کے گھر کی باندھی بن گئی انہیں وہ شہرت ملی جو آج تک کسی اور فوک گلوکار کے حصے میں نہیں آئی، جگنی ان کی اپنی کمپوزیشن تھی.قصہ یوسف ہو یا زلیخا عالم لوہار نے جس انداز سے سنایا لوگ ان کے دیوانے بن گئے.جگنی کو عالم لوہار کے بعد کئی گلوکاروں نے گانے کی کوشش کی لیکن جو انداز عالم لوہار کا رہا وہ کسی اور کا نہ تھا.انہوں نے برطانیہ امریکہ کینڈا میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا.عالم لوہار نے لوک داستانیں سنانے کا جو رواج شروع کیا وہ ان سے پہلے کوئی نہ متعارف کروا سکا.عالم لوہار 3 جولائی 1979 میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے.