Baaghi TV

Tag: فکر

  • "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    ہر انسان کی زندگی کے اندر کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جب اس لگنے لگتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے، وہ اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا. وہ ٹھکرا دیا گیا ہے، کائنات نے اسے ٹھکرا دیا ہے، اللہ نے اسے ٹھکرا دیا ہے (معاذاللہ). لوگوں میں اس کی مقبولیت نہیں رہی اور اس کی اونچی آواز سے سماعت چھین لی گئی ہے، اس کی بات سنتا کوئی نہیں. لوگ اس کو پسند نہیں کرتے، اس کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اب اس کے پاس نہیں بیٹھتے. ہر طرف مایوس ہی مایوسی ہے، اندھیر ہی اندھیرا ہے. بات تو کسی حد تک درست ہے، اکثریت لوگ یہاں آ کر ہار قبول کر لیتے اور زندگی کی اس مشکل دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں.

    لیکن!!!

    یہ اندھیرے یہ مایوسیاں، ان کا وجود صرف اور صرف ہمارے دل و دماغ میں ہوتا ہے. چیزوں کی حقیقت ضرور ہوتی ہے مگر جس حد تک ہم سوچ رہے ہوتے ہیں ویسا بالکل نہیں ہوتا. ہم اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں یہ بھی ہماری سوچ ہی کی طاقت ہوتی ہے. ان مایوس سوچوں کی واحد وجہ ہماری سوچ، ہمارے مقصد، ہماری شخصیت اور ہمارے زاویہ نظر کا چھوٹا ہونا ہے. زندگی ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ کا نام ہے اور چھوٹی بڑی ناکامیاں اس سفر کی خوبصورتی اور اس جنگ کی معراج ہیں، تاج ہیں.

    لیکن

    اگر آپ کا مقصد یہ شان و شوکت، یہ تعریفوں کے پل، یہ ڈگریوں کی دوڑ اور شہرت کی بھوک تھا تو اچھے سے سمجھ لیجیے آپ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، جو کچھ آپ کے ساتھ ہو گیا ہے وہی ہونا تھا. کیونکہ یہ چیزیں عارضی ہیں، یہ چیزیں کھوکھلی ہیں اور چِھن جانے والی ہیں. لہٰذا، زندگی کی یہ طویل المدت اور اعصاب شکن جنگ لڑنے کے لیے، اپنے اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کریں، اپنے زاویہ نگاہ کو بڑا کریں. اپنے اندر کے اک خوبصورت فرد کو ایک قد آور شخصیت بنانے کے لیے اپنی کھوکھلی بنیادوں کو توکل، محاسبہ، عزم، دوام، استقلال، مستقل مزاجی، مردم شناسی، علم، تدبر، تفکر اور تعلق باللہ کے ساتھ بھریں. وگرنہ، زندگی کی یہ جنگ بہت مشکل ہے، گھپ اندھیرا اور بے گھڑے ہیں. ہمارا کام اس سفر میں، اس رستے ہر چلتے رہنا ہے، راستے کھولنا، خوبصورت وادیاں دکھانا اور بالآخر منزل تک پہنچانا اللہ کا کام ہے. کامیابیوں کی اس وادی میں ڈر جانے والوں، بغیر حکمت عملی ترتیب دیے بس چل پڑنے والوں اور رب کی مدد اترنے کا یقین نہ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں.

    لہذا..!

    اپنے آپ کو مایوسیوں کے اس جکڑ لینے والے چنگل سے چھڑوانے کے لیے اور اس اندھیرے میں روشنی کے حصول کے لیے اپنے آپ کو چھوٹی سوچ سے آزاد کریں، لوگوں کی باتوں اور ان عبادتوں سے نکلیں، اگر ہمارے دل میں رشتہ داروں، دوستوں، ہمسایوں سے مقابلہ، حسد، بغض اور غرور کے جراثیم بھرے ہوئے ہیں تو پھر میرے بھائی اس اندھیرے میں آپ کو روشنی نہیں مل سکتی.

  • خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    اپنے بے ربط اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے کونسا معرکہ سر کرنا ہے تم نے؟؟
    یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری ہیں جو لکھتے ہیں اس میں تمھارے الفاظ کسی پہ کیا اثر انداز ہوں گے؟؟

    آخر تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ہر وقت کہاں کا غم، کہاں کی سوچ یہ دنیا اس کے لوگ جن کے لیے تمھارا دل تڑپتا ہے یہ تمھیں کچھ نہی سمجھتے۔ تمھاری باتیں ان کے لیے بے معنی ہیں !!! تم لب کھولو یہ سن بھی لیں تو چند دن میں دوبارہ اپنی دنیا میں لوٹ جائیں گے۔ یہ دنیا بڑی مزے کی چیز ہے پیاری چند لمحوں میں انسان کا دل لبھا لیتی ہے !! کبھی کبھار تو بہت بڑے ایمان اور تقوی والے لوگ اس کے آگے اپنا سب ہار دیتے ہیں — یہ نگاہ کو ایسا خیرہ کرتی ہے کہ یہاں رب کے کہے گئے کلمات لوگوں کے دلوں پر اثر کرنا چھوڑ دیتے ہیں —
    اور تمھیں لگتا ہے کہ تم نے آواز دی اور دنیا پلٹ آئی۔ لب کھولے اور ہدایت کی روشنیاں بٹ گئیں ؟؟؟؟؟ تم نے کہا اور تمھاری قوم نے صدیوں کے اختلاف بھلا کر حق کے جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کا عزم کر لیا؟ یہ سوچیں نظریات اور حق گویائی بہت مہنگی چیز ہے۔ یہ بدلے میں جانوں کی قربانیاں مانگتی ہے۔ چھوڑ دو !!
    اس چیز کے لیے تڑپنا کہ ماضی میں بغداد کے گلی کوچوں میں تمھاری قوم نے اجتماعی زندگی پر انفرادی موت کو ترجیح کیوں دی تھی —
    چھوڑ دو یہ سوچنا کہ تمھاری قوم کو برسوں سے مذہبی فرقہ پرستی کے نام پر جو زہر پلایا جا رہا ہے اس نے اس مسلم امت کے کتنے نوجوانوں کو نگل لیا چھوڑ دو یہ پریشانیاں اور رونے۔ مجھے سنو میں تمھارا مخلص دوست — میری مانوں ضمیر کا گلا دبا دو بے حس بن جاؤ اور جینا شروع کرو یقین مانو مزے کی دنیا تمھاری منتظر ہے!!

    یعنی میرے دوست تم یہ کہنا چاہتے ہو غلامی کی زندگی اپنا لوں میں ؟؟ شعور کا گلا دبا دوں اور اس دنیا کے دھوکے میں مگن ہو جاؤں اور میری قوم ؟؟؟

    اپنی قوم کو بھول جاؤں صرف اس لیے کہ وہ بہت کم سنتے ہیں !!!
    مجھے علم ہے میرے بے ترتیب الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں یہ بھی علم ہے کہ یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری موجود ہیں لیکن کروڑوں دنیا پرستوں کے مقابلے میں بہت کم !!!!

    حق گویائی اگر جرم ہے تو کیا اس جرم کے ڈر سے انسان عقیدہ چھوڑ دے ؟ نظریات بیچ دے غلامی قبول کر کے طاغوت کے آگے سر جھکا دے؟
    نظریات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی میرے دوست گردنیں سولی پر چڑھ جاتی ہیں نظریات نہیں بکتے !!!!

    ہر وہ شخص جو غلامی کی زندگی کو ترک کر کے خوداری کی موت کو ترجیح دیتا ہے اس کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ اپنی قوم کو غفلت کی نیند سے جگانے میں کامیاب ہو جائے!!
    سو میرے دوست مجھے بہکانا چھوڑو مجھے لگے رہنے دو اس بات کا غم نہ کرو کہ قافلہ کتنا کم ہے — انقلاب انسانوں کی بہتات سے نہیں برپا ہوتے انقلاب نظریات پر ڈٹ جانے سے برپا ہوا کرتے ہیں۔