Baaghi TV

Tag: فیس بک

  • فیس بک سے پیسے کمانے والے صارفین کو بلاول بھٹو زرداری نے خوشبری سنادی

    فیس بک سے پیسے کمانے والے صارفین کو بلاول بھٹو زرداری نے خوشبری سنادی

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز سنگاپور میں میٹا کے دفتر کا دورہ کیا تھا جسکے بعد آج انہوں نے فیس بک صارفین کو خوش خبری سناتے ہوئے میٹا کے دفتر سے مخاطب ہوکرانہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جبکہ ہر دن میٹا پلیٹ فارم تقریبا دو ارب لوگ استعمال کرتے ہیں لہذا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی عوام بھی میٹا کے پلیٹ فارم سے مستفید ہو.

    انہوں نے مزید کہا کہ میں میٹا کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں جو نہ صرف میری ادھر میزبانی کر رہے ہیں بلکہ وہ پاکستان میں بھی کام کر رہے ہیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے. تاکہ پاکستان کی عوام کے لئے موقع فراہم کرسکیں جس میں خواتین کو ٹیکنالوجی کے مطابق اپنا کاروبار کرنے کے لیے تعلیم دلوا رہے ہیں۔ جبکہ تمام نوجوانوں کو بھی بتا رہے ہیں کہ ان پلیٹ فارمز کو کیسے استعمال کیا جائے.

    وزیر خارجہ کے مطابق میٹا کا ایک فیچر ہے جو سٹارز فیچر کے نام سے متعارف ہوا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اور جو نوجوان فیس بک استعمال کر رہے ہیں یا انسٹاگرام استعمال کر رہے ہیں. وہ کوئی بھی ریلز یعنی محدود یا شارٹ ویڈیو بنا کر پیسے کما سکتے ہیں. کیونکہ اس ویڈیو پر ان کو جتنے سٹارز ملیں گے اتنا وہ پیسہ کما سکیں گے.

    ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جتنا مونوٹائیزیشن کے عمل میں اضافہ ہو گا اتنے ہی مواقع پاکستانی فیس بک صارفین کے لیے پیدا ہونگے جبکہ پاکستان کی کاروباری عوام کے لیے بھی تاکہ اپنے معاشی حالات بہتری کی طرف لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا ساتھ ہی ہر مشکل وقت میں میٹا نے پاکستان کے ساتھ کام کیا ہے چاہے وہ کورونا کا زمانہ ہویا پھر چاہے سیلاب میٹا کے ایمرجنسی فیچر بھی ہمارے کام آئے اور انشاءاللہ یہ جو سٹارز مونوٹائیزیشن فیچر ہے اب اس سے بھی پاکستان کی عوام کو فائدہ ہوگا اور میں اس سب کے لیے ٹیم میٹا کا شکر گزار ہوں.


    سوشل میڈیا پلیٹ فارم میٹا نے فیس بک پر کنٹینٹ کریٹرز کا فیچر تمام صارفین کیلئے عام کیا تھا جس کی مدد سے صارفین پیسے کماے کے لیئے اہل ہوگئے تھے جبکہ اس سے قبل یوٹیوب کے برعکس فیس بک پر پیسے کمانے کی آپشن موجود نہیں تھا۔ ابتدائی طور پر میٹا نے فیس بک سٹارز فیچر کو امریکا اور بعد ازاں یورپی ممالک میں پیش کیا تھا لیکن اس کے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک میں اسے متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن جب کوئی صارف سٹارز فیچر پر اپنا اندراج کرنے جاتا تو معلوم ہوتا تھا کہ پاکستانی صارفین فلحال اس کے اہل نہیں ہیں لیکن اب وزیر خارجہ بلاوہ بھٹو زرداری کی کاوش سے پاکستانی بھی میٹا کے اس فیچر سے فائدہ اٹھا پائیں گے.

    طریقہ کار یہ ہے کہ فیس بک صارف نے پہلے فیس بک پروفائل میں جاکر پروفیشنل موڈ کو آن کرنا ہے اور اس کے بعد سٹارز کے آپشن پر جاکر اپنی زاتی معلومات اور بینک اکاؤنٹ کا اندراج کرنا ہے.

  • اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    میٹا نے انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس میں ایک مجوزہ بل کی منظوری دی گئی تو فیس بک پر خبروں سے متعلق تمام مواد ہٹا دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے اس بل میں میڈیا اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور فیس بک سے مالی معاملات پر مذاکرات کو آسان بنایا جائے گا۔

    اس معاملے پر بریفنگ دینے والے ذرائع نے بتایا کہ قانون ساز صحافیوں کے مقابلہ اور تحفظ کے ایکٹ کو سالانہ دفاعی بل میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مقامی نیوز انڈسٹری کی جدوجہد میں مدد مل سکے۔

    امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین کی جانب سےصحافیوں کےمقابلہ اورتحفظ کےایکٹ ( Journalism Competition and Preservation Act) کو سالانہ دفاعی بل کا حصہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ مقامی میڈیا انڈسٹری کو مدد فراہم کی جاسکے۔


    میٹا کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اگر یہ قانون منظور ہوا تو کمپنی کی جانب سے خبروں کو ہٹانے پر غور کیا جائے گا ہم میڈیا اداروں کو ٹریفک اور سبسکرپشنز بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں –

    انہوں نے مزید کہا کہ تجویز یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ پبلشرز اور براڈکاسٹرز پلیٹ فارم پر مواد ڈالتے ہیں کیونکہ "اس سے ان کی نچلی لائن کو فائدہ ہوتا ہے –

    نیوز میڈیا الائنس، ایک تجارتی گروپ جو اخبارات کے پبلشرز کی نمائندگی کرتا ہے، کانگریس پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ مقامی کاغذات بگ ٹیک کے استعمال اور غلط استعمال کے مزید کئی سال برداشت نہیں کر سکتے، اور کارروائی کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

    اسی طرح کے قانون کا اطلاق آسٹریلیا مارچ 2021 میں ہوا تھا جس کے بعد فیس بک نے نیوز فیڈ کو بند کردیا تھا مگر پھر اسے بحال کردیا تھا امریکی بل کے تحت گوگل یا فیس بک پر اگر کسی خبر پر کلک کیا جائے گا تو میڈیا اداروں کو اشتہاری آمدنی میں سے حصہ دینا ہوگا۔

    انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں آتش فشاں پہاڑ پھٹ پڑا، 2,000 رہائشی نقل مکانی پر…

  • فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    سوشل میڈیا کمپنی ’میٹا‘ نے فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ’اکاؤنٹس سینٹر‘ نامی فیچر تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے اور جلد ہی اسے عام صارفین میں بھی متعارف کرایا جا سکے گامذکورہ فیچر کے تحت اب صارفین فیس بک یا پھر انسٹاگرام کی ایپلی کیشن کے ذریعے دونوں ہی سوشل سائٹس کو استعمال کر سکیں گے۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    نئے فیچر کے تحت ابتدائی طور پر صارفین کو کسی بھی ایک ایپلی کیشن پر اپنے تمام اکاؤنٹس کو ایڈ کرنا پڑے گا، جس کے بعد وہ ایک ہی ایپ پر رہتے ہوئے دونوں ایپس کو استعمال کر سکیں گے۔


    یعنی اگر کوئی فیس بک استعمال کر رہا ہوگا تو وہ اسی پر انسٹاگرام آئکون کو کلک کرکے وہیں پر ہی انسٹاگرام پر جا سکے گا اور وہیں سے وہ پوسٹ بھی کرنے کے اہل ہوگا جب کہ صارف کو ایک ہی ایپلیکیشن پر دونوں ایپس کے نوٹیفکیشن بھی موصول ہوں گے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا…

    نئے فیچر کے تحت صارفین کومزید اکاؤنٹس بنانےکی اجازت بھی ہوگی اورصارفین تمام ہی اکاوٗنٹس کوایک ہی ایپلیکیشن کےذریعے کنٹرول بھی کر سکیں گےعلاوہ ازیں مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو اپنے تمام اکاؤنٹس کی معلومات الگ الگ بھی فراہم کی جائےگی اور صارف اپنی مرضی کے اکاؤنٹ کو استعمال کرسکیں گے۔

    فیس بک کا مذکورہ فیچر ٹوئٹر کے ’ٹوئٹ ڈیک‘ سے ملتا جلتا ہے، جس کے ذریعے صارفین بیک وقت بہت سارے اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

    9 سالہ طالبہ نے آئی او ایس ایپ تیار کر لی

  • یوٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح:امریکی نوجوانوں کی ترجیحات بدل گئیں

    یوٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح:امریکی نوجوانوں کی ترجیحات بدل گئیں

    وا شنگٹن:امریکی نوجوانوں نے فیس بک کو چھوڑ دیا، یو ٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح۔ فیس بک اب صرف بوڑھوں میں مقبول ہے، پیو ریسرچ کا تازہ ترین سروے سامنے آگیا۔

    امریکا کے معروف تحقیقاتی ادارے پیوریسرچ سنٹرکے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق امریکی نوعمرشہریوں نے گذشتہ سات سال کے دوران میں فیس بُک کا استعمال ترک کردیاہے اوروہ اب ویڈیو شیئرنگ ایپس یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    پیو کا یہ ڈیٹا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیس بک کی مالک کمپنی میٹا ٹک ٹاک کے مقابلے میں اربوں ڈالرکے اشتہاری کاروبار کھو چکی ہے ،سروے میں شامل قریباً95 فی صد نوعمرافراد نے کہا کہ وہ یوٹیوب استعمال کرتے ہیں جبکہ 67 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے صارفین ہیں۔

    فیس بک کی جانب سے جعلی تبصروں کے خلاف کریک داؤن،

    سروے میں شامل صرف 32 فی صد نوعمروں نے کہا کہ وہ فیس بک پرلاگ اِن کرتے ہیں ۔محققین نے بتایا کہ قریباً 62 فی صد نوعمرافراد نے کہا کہ وہ انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں جو فیس بک کی مادرکمپنی میٹا ہی کی ملکیت ہے جبکہ 59 فی صد نے کہا کہ وہ سنیپ چیٹ استعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    میٹا کے لیے تھوڑی سی اچھی خبر یہ ہے کہ اس کی تصاویراورویڈیو شیئرنگ کی سروس انسٹاگرام امریکی نوعمروں میں 2014-2015 کے سروے کے مقابلے میں زیادہ مقبول پائی گئی ۔سروے میں شامل ایک چوتھائی سے بھی کم نوعمرافراد نے کہا کہ وہ ٹویٹرکبھی کبھاراستعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،عدالت

    اس مطالعہ میں اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ غیرمعمولی مبصرین کو کیا شبہ ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ95 فی صد امریکی نوعمر افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسمارٹ فون ہیں۔نیزان میں سے زیادہ ترکے پاس ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ کمپیوٹرہیں۔محققین نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ سات سال قبل کے سروے کے نتائج کے مقابلے میں مستقل طور پر آن لائن رہنے والے نوعمربچّوں کی تعداد قریباً دُگنا ہوکر 46 فی صد ہوگئی ہے۔پیو کے مطابق یہ رپورٹ 1316 امریکی نوعمرلڑکے لڑکیوں کے سروے پرمبنی تھی۔ان کی عمریں 13 سال سے 17 سال تک تھیں۔

  • فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: دنیا بھر میں معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :ٹیکنالوجی کی خبروں سے متعلق ویب سائٹ ٹیک کرنچ کےمطابق فیس بک کی جانب سےایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ صارفین یکم اکتوبر سے پلیٹ فارم پر کسی بھی طرح کے نئے یا شیڈول لائیو شاپنگ ایونٹس کی میزبانی نہیں کر سکیں گے۔

    سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    کمپنی کا کہنا تھا کہ اقدام کا مقصد اپنی توجہ Reels کی جانب منتقل کرنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یکم اکتوبر کے بعد فیس بک لائیو کو، لائیو ایونٹس نشریات کے لیے بدستور استعمال کیا جا سکے گا، مگر صارفین یہاں اپنی پروڈکٹ پلے لسٹ نہیں بنا سکیں گے یا پھر اپنی فیس بک لائیو ویڈیوز میں پروڈکٹس کو ٹیگ نہیں کر سکیں گے۔

    گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    2 برس قبل متعارف کرایا گیا فیس بک لائیو اسٹریم وڈیو فیچر تخلیق کاروں اوربرانڈز کو اپنی اشیا کی فروخت اورصارفین سے براہ راست روابط کےلیے ڈیزائن کیا گیا تھا تاہم صارفین کےرجحان اورمختصر دورانیے کی وڈیوز کی جانب بڑھتی دلچسپی کے پیش نظر کمپنی فیس بک اور انسٹاگرام دونوں پر اپنی توجہ ریلز پر فوکس کررہی ہے۔

    اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    لائیو اسٹریم شاپنگ ایشیا میں اور خاص طور پر چین میں تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم، چونکہ فیس بک اور ٹِک ٹاک دونوں اپنے لائیو شاپنگ پلانز کو واپس لے رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ عام صارفین کی آگاہی اور لائیو شاپنگ کو اپنانا ایشیا سے باہر اب بھی کم ہے۔

    ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین تک نامناسب مواد کی رسائی روکنے کیلئے فیچرز متعارف کرادیئے

  • پیکا آرڈیننس کالعدم،7 ہزار مقدمات بند،طالبات ہراسگی کیس بھی بند

    پیکا آرڈیننس کالعدم،7 ہزار مقدمات بند،طالبات ہراسگی کیس بھی بند

    پیکا آرڈیننس کالعدم،7 ہزار مقدمات بند،طالبات ہراسگی کیس بھی بند
    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پیکا آرڈیننس کالعدم قرار دینے کا معاملہ ایف آئی اے نے پیکا آرڈیننس کے تحت درج 7 ہزار مقدمات بند کر دئیے

    بیشتر درخواستوں کا تعلق سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور ہتک سے متعلق ہیں پیکا آرڈیننس سابق حکومت کی جانب سے رواں سال فروری میں نافذ کیا گیا تھا ایف آئی اے نے پیکا کے سیکشن 20 کے تحت 7 ہزار مقدمات انکوائریاں درج کیں، 7ہزار کیسز اور انکوائریز میں سے 50 فیصد کیسز کا تعلق پنجاب سے ہے، بند کی گئی 71 فیصد شکایات سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف ہراسگی کی تھیں ہراسگی کا شکار ہونے والی خواتین میں بیشتر تعداد خواتین طالبات کی تھی،ہراسگی کی شکایات میں سے 60 فیصد فیس بک اکاؤنٹس سے خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی تھیں، خواتین نے ذاتی معلومات اور تصاویر استعمال کر کے جعلی اکاؤنٹس بنانے کے خلاف بھی درخواستیں دیں،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دے دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 بھی کالعدم قرار دیدی پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 ہتک عزت کی حد تک خلاف آئین قرار دے دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ میں ہتک عزت کے تحت سزا بھی خلاف آئین قرار دیدی،عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 19 آزادی رائے کا حق دیتا ہے،

    عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ پیکا آرڈیننس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیاں بھی کالعدم قرار دی جاتی ہیں، ایف آئی اے کے افسران نے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا ،عدالت نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا اور کہا کہ سیکریٹری داخلہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف انکوائری کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو انکوائری ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا،عدالت نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ جمع کرائیں،پیکا ترمیمی آرڈی نینس کو آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اور 19اے کی خلاف ورزی میں نافذ کیا گیا پیکا ترمیمی آرڈی نینس کا نفاذ غیر آئینی ہے اس لیے کالعدم قرار دیا جاتا ہے،وفاقی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہتک عزت کے قوانین کا جائزہ لے، توقع ہے وفاقی حکومت آرڈیننس موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کی تجویز دے گی

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

  • فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم،  دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم  کا پیغام

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    فیس بک نے سب سے بڑی “ایک ارب کھانے” کی مہم شروع کی ہے۔

    باغی ٹی وی : رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ آج ہم ایک ارب کھانے کی مہم شروع کر رہے ہیں جو کہ 50 ممالک میں بھوک افلاس سے لڑنے کی سب سے بڑی مہم ہے۔


    ان کا کہنا تھا کہ رمضان ایک مقدس مہینہ ہے جہاں ہم 800 ملین بھوکے لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ مہم اقوام متحدہ کے عالمی خوراک کے پروگرام کے تعاون سے جاری ہے۔

    رواں برس 10 لاکھ افراد فریضہ حج ادا کرسکیں گے


    شیخ محمد نے کہا کہ بھوک اور غذائی تحفظ کی کمی کی وجہ سے ایک حقیقی انسانی بحران ہے۔ یہ مہم متحدہ عرب امارات سے دنیا تک ایک ارب انسان دوست پیغامات پہنچائے گی۔

    دنیا کے مختلف حصوں میں پسماندہ طبقوں اور غذائی قلت کے شکار افراد کے لیے براہ راست خوراک کی فراہمی میں اس مہم کے بڑے شراکت داروں میں اقوام متحدہ کا ورلڈ فوڈ پروگرام، فوڈ بینکنگ ریجنل نیٹ ورک، محمد بن راشد المکتوم ہیومینٹیرین اینڈ چیریٹی ایسٹ، اقوام متحدہ کا ہائی کمیشن برائے مہاجرین، یو اے ای فوڈ بینک، دار البیر سوسائٹی، دبئی چیریٹی اور پروگرام سے مستفید ہونے والے ملکوں کی خیراتی اور سماجی تنظیمیں شامل ہیں۔

    برج الخلیفہ پر اذان کے ساتھ الفاظ بھی آویزاں کئے جائیں گے

    جبکہ اس حوالے سے فیس بک کی جانب سے “Meals for Reels” کے نام سے پروگرام لانچ کیا گیا ہے جس میں آپ اپنی ریلز بنا کر اس مہم کا حصہ بن سکتے ہیں آپ کو اپنی ریلز فیس بک اور انسٹاگرام پر شیئر کرنی ہو گی۔

    ریلز شیئر کرنے کے لیے آپ اپنا اکاؤنٹ بنائیں گے جہاں آپ کھانے کی ویڈیو شیئر کریں گے جس میں وقت کی کوئی پابندی نہیں رکھی گئی۔ اس میں افطار کے وقت اپنے دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ ویڈیو بنائی جا سکتی ہے اور پسندیدہ رمضان ریسیپی بھی شیئر کر سکتے ہیں آڈیو کے لیے فیس بک آڈیو لائبریری سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔

    حرمین شریفین میں دنیا کا سب سے بڑا ایئرکنڈیشننگ پلانٹ

    ان ویڈیوز میں آپ اپنے فالوورز کو عطیہ کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں جس میں #Meals for Reels اور #1BillionMeals شامل ہیں جہاں رابطہ کر کے عطیات جمع کرائے جا سکتے ہیں اس کے کیپشن میں یہ لکھا جا سکتا ہے کہ مل کر بھوک کے خلاف جنگ کریں وغیرہ وغیرہ علاوہ ازیں لوگ کھانے کے پارسل بھی عطیات کے طور پر دے سکتے ہیں-

    مکۃ المکرمہ:بھکارن کےپاس1لاکھ17ہزار ریال اورسونےکےزیورات:سعودی جان کرحیران

  • انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    انسٹاگرام اورفیس بک (میٹا) نے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنالیا-

    باغی ٹی وی : فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اس وقت چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اپنی سروسز کے لیے سب سے بڑا خطرہ خیال کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بھی وہ کئی بار کرچکے ہیں تاہم اب میٹااور انسٹاگرام بھی ٹک ٹاک کا حصہ بن گئے ہیں-

    عالمی خبررسان ادارے کے مطابق ٹک ٹاک پر فیس بک کا اکاؤنٹ ویریفائیڈ ہے جس کے اب تک 23 ہزار سے زیادہ فالورز ہوچکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے حالانکہ اس پر کوئی پوسٹ بھی نہیں کی گئی۔


    فیس بک کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ لوگ تنہا کی بجائے اکٹھے زیادہ کام کرسکتے ہیں اس کے ساتھ گوگل پلے اسٹور پر فیس بک ایپ کا لنک دیا گیا ہے۔


    انسٹاگرام نے بھی ٹک ٹاک میں اکاؤنٹ بنایا ہے جس میں ریلز کو پروموٹ کیا جاتا ہے یا اسے استعمال کرنے کی ٹپس شیئر کی جاتی ہیں۔

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ٹیک کرنچ کے مطابق میٹا کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ اصلی ہے ترجمان نے کہا کہ برانڈز متعدد چینلز کا فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں جو ان کی پراڈکٹس اور سروسز استعمال کرتے ہیں، پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک یا دیگر پر ہمارے برانڈ کی موجودگی کا مقصد بھی یہی ہے۔

    ایسا ممکن ہے کہ فیس بک ٹک ٹاک یا اس کے اشتہاری پلیٹ فارم کو استعمال کرکے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرسکے جو دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورک سے دور ہورہے ہیں 2021 کی آخری سہ ماہی میں پہلی بار فیس بک کو روزانہ اس سروس کو استعمال کرنے والے صارفین کی کمی کا سامنا ہوا تھا۔

    واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    واضح رہے کہ فیس بک اکثرٹک ٹاک ایپ کو اپنا اہم ترین حریف قرار دیتی ہے 2021 کے آخر میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ لوگوں کے پاس متعدد انتخاب ہیں کہ وہ اپنا وقت کیسے گزاریں اور ٹک ٹاک جیسی ایپس بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں ٹک ٹاک پہلے ہی ایک حریف کے طور پر بہت بڑی ہوچکی ہے اور اس کی توسیع بڑے پیمانے پر بہت تیزی سے ہورہی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • ریاستی انتخابات :نریندرمودی کی جیت میں فیس بک کا کردار بے نقاب ہو گیا

    ریاستی انتخابات :نریندرمودی کی جیت میں فیس بک کا کردار بے نقاب ہو گیا

    نئی دہلی: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے بھارت میں ہونے والے حالیہ ریاستی انتخابات میں بھی مودی کی جماعت بی جے پی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    باغی ٹی وی : قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپوٹ کے مطابق مقامی کمپنی "دی رپورٹر کلیکٹو” اور ” ایڈ واچ ” نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 22 ماہ کے دوران بھارت میں ہونے والے 10 انتخابات کے دوران فیس بک پر اشتہارات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا –

    جس میں 10 میں سے 9 الیکشن کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سب سے سستے اشتہارات دیئےبشمول 2019 کے قومی پارلیمانی انتخابات جن میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی، پارٹی کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں اشتہارات کے لیے کم شرح وصول کی گئی۔

    حجاب معاملہ پر بھارتی سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار

    رپورٹرز کلیکٹو (TRC)، بھارت میں قائم ایک غیر منافع بخش میڈیا تنظیم، اور سوشل میڈیا پر سیاسی اشتہارات کا مطالعہ کرنے والے ایک تحقیقی پروجیکٹ ایڈ واچ (ad.watch) نے فروری 2019 اور نومبر 2020 کے درمیان فیس بک پر دیے گئے 5 لاکھ 36 ہزار 7 سیاسی اشتہارات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

    ایڈ لائبریری ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی،میٹا پلیٹ فارمز آئی این سی Meta Platformsc کے ‘شفافیت’ ٹول جو اس کے پلیٹ فارمز پر سیاسی اشتہارات کے ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فیس بک نے بی جے پی کے امیدواروں کے اشتہارات دس لاکھ بار دکھانے کے 41 ہزار 844 روپے چارج کیے جب کہ کانگریس اور دیگر حزب مخالف کی جماعتوں سے اتنی ہی تعداد کے لیے 53 ہزار 7 سو 76 روپے چارج کئے-

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    آج اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر سونیا گاندھی نے اپنی تقریر میں فیس بک کے اس دہرے معیار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو سیاست رہنے دیا جائے اور حکومت دیگر ہتھیکنڈوں کے بجائے پرفارمنس سے الیکشن جیتیں۔

    جبکہ ان نتائج سے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اندیشوں (پی ڈی ایف) کو تقویت ملتی ہے کہ فیس بک کی پالیسیاں اور الگورتھم انتخابی سیاست اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جولائی میں فیس بک کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات اور ووٹنگ کے عمل، جو جمہوری حکومت کی بنیاد ہیں، سوشل میڈیا کی ہیرا پھیری سے خطرے میں ہیں یہ 240 ملین کے قریب صارفین کے ساتھ ایک غیر جانبدار اور اندھا پلیٹ فارم ہے۔

    اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    فیس بک نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ دہلی حکومت کی طرف سے شہر میں 2020 کے فسادات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے سے استثنیٰ دیا جائے اور یہ شکایت کہ فیس بک کو نفرت پھیلانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

    عدالت کا حکم دیگر ممالک میں ہونے والے تنازعات اور بحث و مباحثے پر مبنی تھا، خاص طور پر امریکہ، جو کہ 2016 کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے فیس بک کا استعمال کیے جانے والے انکشافات سے متاثر ہوا تھا۔

    گزشتہ برس اسرائیلی فوج نےفلسطینی صحافیوں پر260 سے زائد حملےکیے، رپورٹ

  • فیس بک نے برطانوی وزیراعظم کی برقع پوش خواتین کے خلاف پوسٹ ڈیلیٹ کردی

    فیس بک نے برطانوی وزیراعظم کی برقع پوش خواتین کے خلاف پوسٹ ڈیلیٹ کردی

    لندن : امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے فیس بک سے 2018 میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کے بارے میں متنازع تبصرے کو نفرت انگیز قرار دے کر ہٹا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میٹا کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم کے تبصرے کو نفرت انگیز قرار دیا گیا، جنہوں نے ڈیلی ٹیلیگراف میں ایک کالم میں برقع پہننے والی مسلمان خواتین کو ’لیٹر باکس‘ سے تشبیہ دی تھی۔

    امریکی باشندے نے نیا ملک بنانے کے لئے جزیرہ خرید لیا

    عرب نیوز کے مطابق بگ برادر واچ (بی بی ڈبلیو) نامی ایک ادارے نے فیس بک پر تجرباتی طور پر کچھ جعلی اکاؤنٹس بنائے جس پر بورس جانسن کے ماضی میں کیے گئے تبصرے کو تحریر کیا تو کمپنی نے ان کمنٹس کو نفرت انگیز، ہراسانی اور بلنگ قرار دیا اور اسے فیس بک سے ہٹا دیا۔

    بی بی ڈبلیو نے اپنے جعلی اکاؤنٹ سے وزیراعظم کے جملے دہراتے ہوئے ایک پوسٹ شائع کی جس میں ایک برقع پوش خاتون کو دکھایا گیا، پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’یہ بہت احمقانہ ہے کہ لوگ لیٹر باکس بن کر گھومتے پھریں۔‘ اس اکاؤنٹ کو بُلنگ اور ہراسگی پر مشتمل مواد شائع کرنے پر بند کر دیا گیا۔

    چانسلر اینجیلا رینر نے فروری میں ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ دہشت گرد کو پہلے گولی ماریں اور اس کے بعد سوال پوچھیں اسے بھی فیس بک نے بند کر دیا۔ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کو اکثر مسلمانوں کے بارے میں متنازع بیانات اور سلوک روا رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    روسی فوجی حسیناؤں میں مقابلہ حسن

    انکوائری کے بعد پارٹی نے قرار دیا تھا کہ بورس جانسن کا تبصرہ پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں۔ اس سے قبل بورس جانسن نے برقع پوش مسلمان خواتین کو ’بینک ڈکیت‘ کہا تھا۔

    رواں برس کے شروع میں برطانیہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر اور کنزرویٹو پارٹی ہی کی سینیئر رہنما نصرت غنی نے دعوٰی کیا تھا کہ جب انہیں انڈر سیکرٹری کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو ان کے ساتھ مسلمان ہونے کی وجہ سے پارٹی میں تعصب برتا گیا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے ایک امام قاری عاصم کو اسلاموفوبیا کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے تعینات کیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے وزرا نے کوئی ’بامعنی رابطہ‘ نہیں رکھا-

    جوہری مذاکرات:امریکی عورتیں حجاب اور وائٹ ہاؤس کوامام بارگاہ میں بدلیں،ایران کی شرائط