Baaghi TV

Tag: فیس بک

  • آسٹریلیا میں فیس بک کے خلاف کرمنل کیس دائر:200 ارب ڈالر کا نقصان

    آسٹریلیا میں فیس بک کے خلاف کرمنل کیس دائر:200 ارب ڈالر کا نقصان

    سڈنی:آسٹریلیا میں فیس بک کے خلاف کرمنل کیس دائر:200 ارب ڈالر کا نقصان ،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کی ارب پتی کاروباری شخصیت نے فیس بک پر کرمنل کیس دائر کردیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا میں کان کنی کی صنعت سے وابستہ ارب پتی شخص اینڈریو فوریسٹ نے دھوکہ دہی پر مبنی اشتہار سے ان کی تصویر ہٹانے میں ناکامی پر فیس بک پر کیس دائر کردیا ہے۔

    اینڈریو نے اپنے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ فیس بک پر دھوکہ دہی پر مبنی اشتہار میں ان کی تصاویر کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن متعدد بار شکایات کے باجود فیس بک انتظامیہ ان کی تصویر ہٹانے میں ناکام رہی ہے۔ جو کہ اس کی مجرمانہ غفلت ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ فیس بک پر چلنے والے جعل سازی پر مبنی اشتہار میں پہلی بار 2019 میں ان کی تصویر استعمال کی گئی تھی، اس بات کا علم ہونے پر میں نے نومبر 2019 میں فیس بک کے بانی کوایک کھلے خط میں تمام صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔

    تاہم اتنا عرصہ گزرنے کے باجود فیس بک انتظامیہ اس اشتہار کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نہ صرف میری بلکہ دیگر مشہور شخصیات کی تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو سرمایہ کاری کرکے راتوں رات امیر بنانے کی بوگس اسکیموں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

    اینڈریو نے کرپٹو کرنسی کے فوائد اجاگر کرنے پر فیس بک پر آسٹریلیا کے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کی خلاف ورزی کے بھی الزامات عائد کیے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں پہلی بار فیس بک کے خلاف کرمنل کیس دائر کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا میں دائر ہونے والے اس مقدمے کے بارے میں فیس بک کی بانی کمپنی میٹا کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    فیس بک کی بانی کمپنی میٹا نیٹ ورکس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں اس پلیٹ فارم پر روزانہ ایکٹو ہونے والے صارفین کی تعداد کم ہوکر 1 ارب 92 کروڑ 90 لاکھ پر آگئی ہے۔ جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 1ارب 93 کروڑ تھی۔

    یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی حریف کمپنیوں سے مسابقت کی وجہ سے کمپنی کے ریونیو کی شرح بھی سست ہوئی ہے۔ جب کہ ایڈورٹائرزنے بھی فیس بک پر خرچ کی جانے والی رقم میں کٹوتی کردی ہے۔

    ادھر نیویارک کے حصص بازار میں میٹا کے شیئرز میں بھی 20 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں میٹا کی اسٹاک مارکیٹ ویلیومیں 200 ارب ڈالر کم ہوگئے۔ جب کہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول ٹوئٹر، اسنیپ اور پنٹریسٹ کے شیئرز کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

    میٹا کے بانی مارک زکر برگ کا ڈیلی ایکٹو صارفین کی تعداد میں کمی پر کہنا ہے کہ ہماری فرم کی سیلز گروتھ میں کمی کی اہم وجہ آڈیئنس خصوصا نوجوانوں کا دوسرے پلیٹ فارمز پر منتقل ہونا ہے۔

    میٹا کے چیف فنانشل آفیسر ڈیو وہینر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ گوگل کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم کے ریونیو میں کمی کی ایک اہم وجہ ایپل کے آپریٹنگ سسٹم میں پرائیویسی میں تبدیلی بھی ہے۔

    ایپل کی جانب سے لاگو کی گئی اس نئی پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے برانڈز کے لیے فیس بک اور انسٹا گرام پر اپنے ٹارگیٹ اور اشتہاری کاری کے نتائج کو جانچنا مشکل بنا دیا ہے۔

    انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ رواں سال ہمیں اشتہارات کی مد میں 10 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو۔

  • فیس بُک پر دوستی ، نوجوان سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا

    فیس بُک پر دوستی ، نوجوان سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا

    سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ فیس بک پر دوستی دو لڑکے لڑکی سے ملنے کیلئے موٹر سائیکل پرصادق آباد پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : فیس بک پر دوستیاں اور پھر شادی کوئی نئی بات نہیں فیس بک پرجعلی اکاؤنٹس بنانے والوں نے کئی لوگوں کی زندگیاں خراب کر دیں فیس بک پر جعلی فیس بک اکاؤنٹس سے لڑکیوں سے دوستی بڑھانا، شادی کرنے کے وعدے کرنے،نوکریوں کے بہانے لڑکیوں بلا کر جنسی حراساں کرنے اور پھر ان کی نامناسب تصاویر لےکر بلیک میل کرنے کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں-

    مجھ سے دوستی کرو گی ؟خاتون کو دوستی کی آفر کرنیوالا ملزم گرفتار

    ایسا ہی ایم اور واقعہ سامنے آیا ہے جس میں فیس بک پر دوستی کرنے والا لڑکا اپنے دوست کے ساتھ لڑکی سے ملنے صادق آباد پہنچ گیا اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے دونوں کی دوستی فیس بک پر ہوئی جس کے بعد لڑکا اپنے دوات کے ساتھ 700 کلومیٹر دور موٹر سائیکل پر لاہور سے صادق آباد پہنچ گیا ۔

    پولیس کے مطابق لڑکے نے صادق آباد سے سکول کی لڑکی کو ساتھ بٹھایا اور نکل پڑے رات کو بہاولپور کے قریب قومی شاہراہ پر پولیس کو شک پڑا کہ سکول وردی میں ملبوس لڑکی اس وقت کہاں گھوم رہی ہے انہوں نے روک لیا پھر پول کھل گیا-

    پولیس کے مطابق لڑکی کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا جب کہ لڑکے کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے –

    شراب فروشی کی بڑی کوشش ناکام

    دوسری جانب پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے حازق نامی ملزم گرفتارکر لیاہے متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ میں آفس سے واپس آ رہی تھی تو ملزم نے میرا راستہ روکا،ہراساں کیا،مموبائل نمبر مانگا اور دوستی کرنے کی آفر کرنے لگا،خاتون نے ون فائیو پر کال کی تو پولیس فوری مدد کے لئے پہنچی اور ملزم کو گرفتار کر لیا

    ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا ہے کہ فیصل ٹاؤن پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا خواتین کو ہراساں اور بدتمیزی کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں خواتین فوری مدد کیلئے پولیس سیفٹی ایپ ڈاون لوڈ کریں،

    بابو صابو کے قریب ویگن اور ٹرالر کا خوفناک تصادم

    قبل ازیں 16 سالہ لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنانے کا معاملہ،ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کے حکم پر فیصل ٹاؤن پولیس نے بروقت کارروائی کی اور دونوں ملزمان گرفتار کر لئے، گرفتار ملزمان میں عاصم اور مرتضی شاہد شامل ہیں، متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ملزمان حوالات میں بند ہیں، ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کا کہنا ہے کہ خواتین کا جنسی استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،ملزمان کو قرارواقعی سزا دلوانے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے،

    بدمعاش تھانوں میں حاضری لگوانے پنہچ گئے۔۔ڈی آئی جی آپریشنز محمد عابد خان کا کہنا ہے کہ لاہور میں غنڈہ عناصر کی کوئی جگہ نہیں۔ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر رضا تنویر نے تمام ایس ایچ اوز کو بدمعاشوں کی حاضریاں مکمل کروانے کی ہدایت کردی،تھانہ گلشن راوی۔ملت پارک۔نواں کوٹ میں 05 بدمعاشوں نے حاضری لگوائی۔ تھانہ گلشن راوی میں نادر گجر اور سفارش علی نے حاضری لگائی۔ تھانہ ملت پارک میں خاور ڈوگر اور صابر عرف کالی نے حاضری لگائی نواں کوٹ میں ذوالفقارعرف بھٹو نے حاضری لگائی ،ڈی آئی جی آپریشنز محمد عابد خان کا کہنا ہے کہ تھانہ جات میں بدمعاشوں کی حاضریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    خاتون سے دست درازی، نازیبا تصاویر کیس،عدالت نے سنایا فیصلہ

  • فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے جاسوسی اور دیگر غیرقانونی سائبر سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق میٹا نے ہیکنگ میں ملوث گروپس سے منسلک 1500 فیس بک،واٹس ایپ اور انسٹاگرام پیجز کو ہٹا دیا ہے فیس بک نے 50 ہزار سے زائد افراد کو انتباہ جاری کیا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ 100 سےزائد ممالک میں جاسوسی کی کمپنیوں نے سرگرم افراد،سیاستدانوں، صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے میٹا نے انہیں سائبرمرسنری یا ڈجیٹل غارت گر قرار دیا ہے دلچسپ بات یہ ہےکہ تمام اکاؤنٹس کا سرا سات ایسی کمپنیوں سے جاملتا ہے جن کی اکثریت کا تعلق اسرائیل سے ہے۔

    میٹا کمپنی میں سیکیورٹی سربراہ ناتھیانل گلائشر نے بتایا کہ بھرتی برائے ڈجیٹل جاسوسی‘ کی صنعت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے وابستہ افراد بلند ترین بولی دینے والے افراد کو بے دریغ نشانہ بناتےہیں بعد میں ہیکنگ بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میٹا نے انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے 1500 اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے ہیں۔

    فیس بک پروہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے گئے ہیں جو کوگنائٹ، بلیک کیوب اور بلیو ہاک وغیرہ جیسی مشکوک کمپنیوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا سربراہ ادارہ کوب ویب ٹیکنالوجی ہے یہ ساری کمپنیاں مختلف لوگوں سے رقم لے کر دوسرے اداروں اور افراد کی جاسوسی کرتی ہیں-

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    اس کے علاوہ چین اور مسیڈونیا کی کمپنیوں سے منسلک مشکوک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے گئے ہیں میٹا کمپنی کے مطابق اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے جاسوس و نگراں کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی-

    دوسری جانب ایک کمپنی کا مؤقف یہ تھا کہ وہ مجرموں اور’دہشتگردوں‘ کی ہی نگرانی کررہی ہے لیکن میٹا کمپنی کے مطابق حکومتی ناقدین، صحافی، اقلیتی افراد، حزبِ اختلاف سے وابستہ لوگ اور اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد اس کے بے دریغ شکار ہیں۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

  • بطور بیرون ملک آرمی آفیسر فیسبک آئی ڈی بنا کرلوگوں کو لوٹا

    بطور بیرون ملک آرمی آفیسر فیسبک آئی ڈی بنا کرلوگوں کو لوٹا

    جعلی فیس بک آئی ڈی بنا کر پاکستانی عوام کو لوٹنے والے 5 غیر ملکی نائجیرن باشندوں کو ضلع کہچری میں پیش۔ ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر جیل حکام نے عدالت میں پیش کیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ زولفقار باری نے 5 ملزمان کو مزید 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ جیل حکام حوالے کر دیا۔ملزمان فیس بک پر جعلی فیک اکاؤنٹ بنا کر لوگوں سے رقم ہتھیا رہے ہیں , ایف آٸی اے
    ملزمان سادہ لوح شہریوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے سے فراڈ کرتے تھے۔متاثرہ شخص سے بیس لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹ میں منگوائے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر

    ملزمان خود کو بیرون ملک کی خاتون ظاہر کرتے تھے تفتیشی رپورٹ، ملزمان خواتین کی آئی ڈی بنا کر خود کو بیرون ملک کی آرمی آفیسر ظاہر کرتے ہیں ,تفتیشی افسر
    ملزمان کو مزید جوڈیشل ریمانڈ پر جیل خکام کے حوالے کر دیا گیا

  • اوکاڑہ: شیرگڑھ میں صحابہ کرام کے خلاف فیس بک پر توہین آمیز مواد نشر کرنیوالا ملزم گرفتار

    اوکاڑہ: شیرگڑھ میں صحابہ کرام کے خلاف فیس بک پر توہین آمیز مواد نشر کرنیوالا ملزم گرفتار

    اوکاڑہ(علی حسین) سوشل میڈیا پر صحابہ کرام کے خلاف توہین آمیز گستاخانہ مواد نشر کرنیوالا ملزم علی زوار حسین گرفتار کرلیا گیا۔ اوکاڑہ کے نواحی علاقے شیرگڑھ سے تعلق رکھنے والا علی زوار حسین گزشتہ کئی دنوں سے اپنے فیس بک اکاونٹ پر حضرت ابوبکرالصدیقؓ اور صحابہ کرام کے خلاف گستاخانہ اور توہین آمیز مواد نشر کررہا تھا۔ مقامی افراد اور فیس بک فرنڈز کے کئی بار متنبہ کرنیکے باوجود بھی ملزم مسلسل مذہبی منافرت پھیلاتا رہا۔ بعض افراد کی نشاندہی پر ایس ایچ او تھانہ شیر گڑھ اعظم چشتی نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ درج کروانے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ناموس صحابہ دفعات کے تحت ملزم کے خلاف کاروائی کی جائے۔

  • اوکاڑہ: فیس بک پر مذہبی منافرت پھیلانے والا شخص گرفتار، مقدمہ درج

    اوکاڑہ: فیس بک پر مذہبی منافرت پھیلانے والا شخص گرفتار، مقدمہ درج

    اوکاڑہ تھانہ راوی کی حدود سے فیس بک پر فرقہ وارانہ مذہبی منافرت والا مواد اپ لوڈ کرنے والا نوجوان گرفتار کرلیا گیا۔سہیل لاشاری نے اپنے نام سے فیس بک آئی ڈی بنائی ہوئی تھی۔ جس پر وہ مذہبی منافرت والا مواد اب لوڈ کرتا جس میں اشتعال انگیزی والے الفاظ ادا کرتا رہتا۔ پولیس نے چھاپہ مارتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے وہ موبائل قبضہ میں لیا جس میں فرقہ وارانہ نفرت انگیز مواد اب تو لوڈ تھا۔ 295a اور 29 ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔اوکاڑہ ملزم سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • فیس بک نے اپنی 69 ہزار ایپلی کیشنز بند کردیں‌

    فیس بک نے اپنی 69 ہزار ایپلی کیشنز بند کردیں‌

    نیویارک : فیس بک نے اپنی ہزاروں ایپلیکیشنز بند کر دیں، فیس بک کے مطابق خارج کردہ ایپس قریب چار سو مختلف ڈیویلپرز کی ہیں جبکہ امریکی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بند کردہ ایپلیکیشنز کی تعداد انہتر ہزار بتائی ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق فیس بک میں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل میں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں لے جانے کے لیے صارفین کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جو کہ پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

    یاد رہے برطانوی حکومت نے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کی تحقیقات کے بعد فیس بک کو صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت نہ کرنے کے جرم میں 6 لاکھ 63 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

  • فیس بک کی اپنے صارفین کے لیے ایک اور آسانی

    فیس بک کی اپنے صارفین کے لیے ایک اور آسانی

    آن لائن بینکنگ کے بعد پیش خدمت ہے ڈیجیٹل کرنسی ” لبرا ” کوائن ۔
    آن لائن بینکنگ سے بات آگے بڑھانے کے لیے فیس بک انتظامیہ نے ڈیجیٹل کرنسی ” لبرا ” کوائن متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ کرنسی 2020 تک عام استمال میں آجائے گی ۔ اور اس کرنسی کو واٹس اپ اور مسینجر کے ذریعے منتقل کیا جاسکے گا ۔ جس سے وہ سب لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے جو بینک اکاونٹ ہولڈر نہیں ہیں ۔بینک اکاونٹ نہ رکھنے والے لوگ اس کرنسی سے آن لائن خریداری بھی کر سکیں گے ۔ فیس بک انتظامیہ اس سہولت کے بدلے انتہائی معمولی معاوضہ وصول کرے گی ۔ فیس بک ذرائع کے مطابق 2020 میں یہ کرنسی عام لوگوں کے استعمال میں بھی آجاٸے گی اور اس سے اگلے مرحلے میں لبرا کرنسی آف لائن ادائیگی کے لیے بھی استعمال ہوگی اور لوگ اسے ٹراسپورٹ میں سفر کے لیے بھی استعمال کر سکیں گے ۔ لبرا کوائن کی پشت پر ویزا اور ماسٹر کارڈ جیسے ادارے ہیں جبکہ دیگر ادارے ادائیگی کے اس طریقے کو مستقبل میں قبول کریں گے ۔