Baaghi TV

Tag: فیصلہ

  • وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،سپریم کورٹ کا تحریری حکم

    وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،سپریم کورٹ کا تحریری حکم

    سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا سیکنڈ پول 22 جولائی کو کرنے سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔سپریم کورٹ کا 10 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جسٹس اعجاز الاحسن نے تحریر کیا۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ فریقین کی یقین دہانی پر لاہور ہائیکورٹ کے حکم میں ترمیم کررہے ہیں۔

    سپریم کورٹ کے جاری کردہ حکمنامے کے مطابق وزیراعلیٰ کے انتخاب کا سیکنڈ پول قانون کے مطابق ہو گا، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے سیکنڈ پول کو ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی چیئر کریں گے، اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر پول کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

    سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اوران کی کابینہ عدالت کو کرائی گئی یقین دہانی کےمطابق صاف شفاف انتخاب کرائیں گے، پنجاب کےعوام کو نمائندگی اور گورننس کےحقوق کے لیے وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

    تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ذمہ داری آئینی خلاء کو پر کرنے کے لیے 22 جولائی تک ہوگی، وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کی ذمہ داری آرٹیکل130 کی شق 2 کے تحت 22 جولائی تک محدود ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اپنے 27 مئی 2022 کے مختصر فیصلے کی تفصیلات آج سے ایک ہفتے کے بعد جاری کرے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ایوان کا ماحول خوشگوار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے، امید ہے پرویز الہیٰ اور حمزہ شہباز کی پرامن انتخابات کی یقین دہانی پر عملدرآمد ہوگا۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمنی انتخابات تک حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ ہی کام کریں گے، مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنے پر پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اور ق لیگ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس نمٹایا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمہ میں فریقین کے اتفاق رائے سے22جولائی کو رائے شماری کا دن مقرر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 17جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب کے بعد 22جولائی کو وزیر اعلیٰ کا انتخاب منعقد ہوگا اور اس دوران حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کام جاری رکھیں گے۔

  • سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپریم کورٹ نے اچھا فیصلہ دیا،ہماری مانی گئی،پرویزالہی

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ آج سپریم کورٹ کا بڑا اچھا فیصلہ ہے
    جو چیز یں ہم چاہتے تھے وہ مانی گئی ہیں، میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس رولز کے مطابق ہو گا کوئی پسند ،ناپسند نہیں ہوگی ۔

    چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے بھی کہا ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت اور پولیس استعمال نہیں کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ 22جولائی تک ہاوس مکمل ہو جائے گا جس کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو گا.

    سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ22جولائی کو اجلاس پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ میں ہوگا اور کہیں نہیں ہوگا ، جو ماحول عدالت کے اندر بنا وہ عدالت کے باہر بھی رہنا چاہئیے، یہی جمہوریت ہے.

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرمیاں محمود الرشید نے کہا کہ عدلیہ نے صاف اور شفاف الیکشن کی راہ ہموار کر دی ہے ،امید کرتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہونگے ۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، تین ماہ کا بحران ہم نے 3 سیشنز میں حل کردیا ہے،حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی اپیل پر سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی اس بینچ میں شامل تھے۔

    لاہور سے پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاستدان یا اپنے مسائل خود حل کریں یا ہمارے پاس آکر ہماری بات مانیں۔

    لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ کےلیے قائم مقام وزیر اعلیٰ کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوں گے، ، کیس کا تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کریں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے، ججز جواب نہیں دے سکتے، حکومتی بنچز کو اپوزیشن کا احترام کرنا ہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل عدالت نے کیس کی سماعت آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کی تھی اور پرویز الہٰی کو حکم دیا تھا کہ وہ عمران خان سے رابطہ کرکے آدھے گھنٹے میں عدالت کو آگاہ کریں، جس کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو عمران خان کی ہدایت سے متعلق آگاہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حمزہ کو قائم مقام وزیراعلیٰ کے طور پر 17 جولائی تک قبول کیا ہے، عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس، پنجاب الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری قانون پر عمل کریں۔ بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے جن حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں وہاں پبلک فنڈز استعمال نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کا حصہ ہے، الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروانے کا کہہ دیتے ہیں۔بابر اعوان نے کہا کہ شفاف ضمنی انتخابات اور مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ بطور وزیراعلیٰ قبول ہیں، الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات موجود ہیں۔

    چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ حمزہ شہباز صاحب آپ کا ارادہ ہے دھاندلی کرنے کا؟ جس پر جواب دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کوئی دھاندلی نہیں ہو گی۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت مجموعی حکم جاری کرے گی چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہیں پڑے گی۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کو خاندانی تنازع نہ بنائیں تو بہتر ہے۔

    حمزہ شہباز کو نگراں وزیر اعلیٰ بنانے پر پرویز الہٰی اور پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کے درمیان اختلاف ہوگئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویزالہٰی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کے لیے حمزہ پر عائد کی جاسکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا، صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئر سیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید روسٹرم پر آئے، اور انہوں نے کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے، انتخاب کے لیے17 جولائی کے بعد کا وقت دے دیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے محمود الرشید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ درخواست گزار نہیں اس لیے آپ کو نہیں سن سکتے۔پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اپنے پارٹی لیڈر سے مشاورت کر کے15 منٹ میں عدالت کو آگاہ کروں گا، محمود الرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لینا ضروری ہوگیا ہے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک قانونی پوزیشن لیں اور ہمیں بتائیں، جو حکم جاری کریں گے وہ کسی ایک کے فائدے میں نہیں ہوگا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ بابر اعوان صاحب! آپ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟بابر اعوان نے بتایا کہ درخواست گزار سبطین خان کا وکیل ہوں، 16 اپریل کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی، لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کو ایوان میں طلب کیا گیا۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے کچھ نکات پر اختلاف کیا ہے، ایک جج نے کہا ہے کہ انہوں نے 197 ووٹس حاصل کیے، اگر 25 ووٹ نکال لیں تو 172 ووٹ بچیں گے، اس طرح پہلے پول میں حاصل اکثریت چلی گئی تو یہ انتخاب متنازع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ گنتی سے 186 ووٹ نہیں بنتے تو ری پول ہو گا، اتفاق نہیں کرتا کہ کوئی ممبر موجود نہیں تو انتظار کر کے ووٹنگ کرائی جائے، ممبران جو موجود ہوتے ہیں اسمبلی ہال میں ہوں یا چیمبرز میں، ان کے ووٹ شمار ہوتے ہیں، آپ صرف بتائیں کہ ووٹنگ کے لیے کم وقت دینے کی درخواست پر کیا دلیل ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بظاہر آپ کے حق میں ہوا ہے، آپ بتائیں کہ آپ کے حق میں فیصلہ ہوا یا نہیں؟ آپ اپنی درخواست کی بنیاد بتائیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست تو یہ ہے کہ کچھ اراکین حج پر، کچھ شادی بیاہ پر گئے، ان کو آنے دیں، سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کیوں کرے؟ کیا پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ مزید وقت دیا جائے؟ کس اصول کے تحت ہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کریں؟ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟

    اس پر پی ٹی آئی نے پنجاب میں دوبارہ انتخابی عمل کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے 7 دن کا وقت مانگ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں، آپ کے منحرف اراکین کے ووٹ پہلے ہی نکل چکے ہیں، پی ٹی آئی کے اراکین کو لاہور پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری جماعت کا مسلم لیگ ق سے اتحاد ہے، ہم تجویز پر رضا مند نہیں ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ پرویز الہٰی امیدوارہیں انہیں اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟چوہدری پرویز الہٰی نے عدالت میں کہا کہ محمود الرشید کے مشورے پر ہی آمادہ ہوا ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معاشرے میں بہت تقسیم ہوگئی، سیاست میں بہت تقسیم بھی ہوگئی، آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے؟

    بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے،حمزہ شہباز کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئینی خلا نہیں بنانا۔پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہےعدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن کریں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان سے سوال کیا کہ آپ کے امیدوار کی مرضی کچھ اور ہے، دوسری سائیڈ سے ان کا اتفاق رائے ہے، آپ کی اب مرضی کیا ہے؟ آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے؟بابر اعوان نے کہا کہ عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ ہمیں قبول ہوگا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ آئینی صورت حال ہے، اسے حل کریں، مزید خراب نہ کریں۔بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی ہیں لیکن یہ الگ جماعتیں ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دو دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ شہباز17 جولائی تک وزیر اعلیٰ، یہی 2 آپشن ہیں۔

    بابر اعوان نے کہا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کو جلد نمٹائے، نور مقدم کے والدین کی استدعا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کو جلد نمٹائے، نور مقدم کے والدین کی استدعا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کو جلد نمٹائے، نور مقدم کے والدین کی استدعا

    نور مقدم کے والدین نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے کیس جلد نمٹانے کی استدعا کر دی

    نور مقدم کے والدین نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بھی نورمقدم کیس کا فیصلہ کرے ،نور مقدم کے والد شوکت مقدم اور والدہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا گفتگو کی ہے ،جس میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ نورمقدم چلی گئی، ہم نے بہت تکلیف برداشت کی نور مقدم کے جانے سے جو تکلیف اٹھائی بیان نہیں کر سکتا ہماری درخواست ہے کہ ہائی کورٹ بھی نور مقدم کیس کا فیصلہ جلد کرے،

    واضح رہے کہ نور مقدم قتل کیس سے متعلقہ اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج پھر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی، جسٹس عامر فاروق کی عدالت کی آج کی کاز لسٹ ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے کینسل کردی گئی

    قبل ازیں کورٹ رپورٹر،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم اور والدہ بھی آج اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن پریس روم میں فیاض محمود اور میری ریکوئسٹ پر آئے وہاں دوستوں نے میری برتھ ڈے کیک کٹنگ رکھی تھی وہ بھی اس میں شامل ہوئے ان کو بیٹی کے بغیر بہت غمزدہ دیکھا ہے اللہ تعالیٰ ان کو صبر عطا فرمائے آمین

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے ،

    قبل ازیں نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے فیصلہ سنایا،عدالت نے شریک ملزمان ظاہر جعفر کے ملازمین جمیل اور افتخار کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ،عدالت نے ملزم کے والدین کو بری کر دیا،عدالت نے تھراپی ورکس ملازمین کو بھی بری کر دیا ،کمرہ عدالت میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ،نورمقدم کے والد شوکت مقدم بھی فیصلہ سننے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے کمرہ عدالت میں وکلاء اور میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، عدالت کے باہرپولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،جب فیصلہ سنایا گیا تو نور مقدم کا قاتل ظاہر جعفر بھی عدالت میں موجود تھا،

    :کس کوکیوں اورکتنی سزا دی ؟ نور مقدم قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ،

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • علی ظفر کی ہمدردیاں جانی ڈیپ کے ساتھ

    علی ظفر کی ہمدردیاں جانی ڈیپ کے ساتھ

    گلوکار و اداکار علی ظفر نے کہا ہے کہ جانی ڈیپ کے ساتھ جو بھی ہوا ہے میں اسے شاید صرف ایک فیصد ہی سمجھ سکتا ہوں میری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں ۔گلوکار نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ یا پیسے جانی ڈیپ کی اس تکلیف کو کم نہیں کر سکتی جو انہوں نے اس سارے وقت میں سہی ہے ۔مزید کہا کہ اس کیس کے دوران ان کی زندگی کا جو اہم وقت برباد ہوا ہے اس میں وہ اپنے مداحوں کے لئے بہت کچھ کر سکتے تھے ان کے چہروں پر مسکراہٹیں لا سکتے تھے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوسکا۔

    جانی ڈیپ نے اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں میرے کیس کو دیکھ کر دوسرے مرد اور عورتیں جن کے حالات میرے جیسے تھے ان کو مدد ملی ہو گی ۔مجھ پر میڈیا کے زریعے جو الزامات لگائے گئے انہوں نے میرے کیرئیر اور زندگی پر منفی اور گہرا اثر ڈالا ۔جانی ڈیپ نے عدالت کا شکریہ بھی ان لفظوں میں ادا کیا ” جیوری نے مجھے میری زندگی واپس کردی میں ان کا شکر گزار ہوں“۔
    جانی ڈیپ کو پوری دنیا میں ان کے مداحوں نے اس مشکل وقت میں بہت زیادہ سپورٹ کیا لیکن جب فیصلہ ان کے حق میں آیا تو انہوں نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔
    یاد رہے کہ امریکی ریاست ورجینیا کی جیوری نے جانی ڈیپ کیس کا فیصلہ سنایا فیصلے کے مطابق جانی ڈیپ کو بدنام کرنے پر سابقہ اہلیہ ایمبر ہرڈ 15 ملین ڈالر جرمانہ دیں گی جبکہ ایمبر ہرڈ پر غلط الزام لگانے پر ڈیپ سابقہ بیوی کو 2 ملین ڈالر دیں گے۔

  • سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا

    سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا

    لاہور:سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا،اطلاعات کے مطابق نصیر آباد پولیس نے سابق اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کی تفتیش مکمل کر کے چالان سیشن کورٹ لاہور میں جمع کرا دیا ہے۔چالان کے مطابق سابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے اسد بھٹی کے ساتھ مل کر شہباز تتلہ کو قتل کیا۔

    پولیس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نے سابق ایس ایس پی مفخر عدیل کو عمر قید کی سزا سنا دی،عدالت نے 2 سال 3 ماہ بعد مفخر عدیل کے خلاف قتل کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے شریک 2 ملزمان کو بری کر دیا

    یاد رہے کہ عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق مفخر عدیل اور اسد بھٹی نے شہباز تتلہ کو کلمہ چوک سے سرکاری جیپ میں اغوا کیا۔ مفخر عدیل نے کولڈ ڈرنک میں نشہ آور چیز ملا کر شہباز تتلہ کو پلاٸی جس سے وہ بے ہوش ہو گیا۔

    چالان میں بتایا گیا ہے کہ مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کے منہ اور ناک پر ٹیپ لگاٸی اور اسٹور روم میں لے جا کر مقتول کے منہ پر تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا۔ سانسیں بند ہونے سے شہباز دم توڑ گیا۔

    چالان کے مطابق ملزمان نے شہباز کو نیلے ڈرم میں سر کے بل ڈالا، پھر ڈرم میں تیزاب بھی ڈال دیا، جس سےلاش کچھ دیر میں محلول بن گٸی۔ محلول کو گھر کے گٹر میں ڈال دیا گیا۔
    پولیس چالان کے مطابق ملزمان نے ڈرم، تیزاب کا کین، کپڑے، تکیہ، تولیہ اور دیگر سامان گجومتہ نالا میں پھینک دیا تھا۔

    خیال رہے کہ شہباز تتلہ کے اغوا کا مقدمہ تھانہ نصیرآباد میں رواں سال 7 فروری کو درج کیا گیا تھا۔

    ایس ایس پی مفخر عدیل 12 فروری 2020 سے لاپتہ تھے۔ 10 مارچ کو پنجاب پولیس نے ایس ایس پی مفخرعدیل کو گلگت سے حراست میں لے کر لاہور منتقل کیا تھا۔ وہ پنجاب پولیس کو شہباز تتلہ کے اغوا اور مبینہ قتل میں پولیس کو مطلوب تھے۔

    اس سے قبل ملزم مفخرعدیل نے شہباز تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے قتل کے بعد لاش کوتلف کردیا۔

  • سانحہ مری کیس کا فیصلہ آج ہی دوں گا، جسٹس چودھری عبدالعزیز

    سانحہ مری کیس کا فیصلہ آج ہی دوں گا، جسٹس چودھری عبدالعزیز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سانحہ مری کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس چودھری عبدالعزیزنے کیس کی سماعت کی،جسٹس چودھری عبدالعزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ مری کیس کا فیصلہ آج ہی دوں گا، عدالت غفلت برتنے والے محکموں کیخلاف انکوائری کا حکم دے گی،عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن اور کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو طلب کرلیا

    گزشتہ سماعت پر عدالت نے کہا تھا کہ رمضان المبارک کے بعد کیس کو نمٹایا جائے گا،عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات کو جوابات تحریری طور پر لانے کی ہدایت کی ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کتنا اسٹاف موجود ہے؟ نمائندہ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے کہا کہ راولپنڈی کیلئے 7 لوگ کام کر رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ کب سے تعینات ہیں اور کتنے غیر قانونی منصوبوں پر کارروائی ہوئی؟ 2008 میں ایکسپریس وے مری بن رہا تھا دور دور تک لائٹ نظر نہیں آتی تھی،اب مری جائیں تو روشنیاں ہی روشنیاں ہیں،اگر اجازت کے بغیر تعمیراتی کام ہو رہا تو آپ کیا کر رہے ہیں؟

    ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات نے کہا کہ ہم انکی رپورٹ بنا کر متعلقہ اداروں کو بھیجتے ہیں، غیر قانونی تعمیرات کے 150 کیسز بنائے گئے،پولٹری فارم بند کروائے گئے،عدالت نے کہا کہ اس کی مکمل لسٹ آئندہ سماعت پر پیش کریں ،غیر قانونی تعمیرات کرنے والے کتنے افراد کو سزا ہوئی ، حکام نے کہا کہ 60کے قریب لوگوں کو جرمانے ہوئے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خلاف ورزی کرنے والوں کی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا ؟ کیا اب مری میں قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی؟ محکمہ ماحولیات نے کہا کہ مری ،کہوٹہ، کوٹلی ستیاں میں پانچ سال میں 150 خلاف ورزیاں ہوئیں وکیل نے کہا کہ مری ،کہوٹہ، کوٹلی ستیاں کو 2008 میں قدرتی پارک ڈکلیئر کر دیا گیا تھا ،

    عدالت نے حکم دیا تھا کہ مری، کہوٹہ، کوٹلی ستیاں میں کتنے این او سی جاری کیے گئے اسکی رپورٹ جمع کروائیں ،یہ بھی بتائیں محکمہ ماحولیات نے آخری مرتبہ کب انسپکشن کی اگر یہ نیچرل پارک ڈکلیئر ہوا تو آپ این او سی کیسے جاری کر سکتے ہیں ؟

    یاد رہے کہ 9 جنوری کو مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں افراد سڑکوں پر پھنس گئے، شدید سردی اور دم گھٹنے سے ایک خاندان کے 8 افراد سمیت 23 سیاح جاں بحق ہو گئے تھے۔

    سانحہ مری،برفانی طوفان کے وقت برف ہٹانے والی 20 گاڑیاں کہاں تھیں؟ تہلکہ خیز انکشاف

    مری واقعہ،ن لیگ کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ

    مری سانحہ،مذہبی جماعتیں ریسکیو ،رفاہی کام میں متحرک، ووٹ لینے والی جماعتیں غائب

    مری سانحہ،سیاحوں کے لیے داخلہ تاحال بند

    مری میں اموات زیادہ ہوئیں جوقوم سے چھپائی جارہی ہیں،حمزہ شہباز

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے

    سانحہ مری،ثابت کریں کہ کسی خاتون نے کمرے کیلئے زیور گروی رکھا،ہوٹل ایسوسی ایشن

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    سات اے سی مری تبدیل ہوئے، کیا کوئی سیاسی طاقتور ہے ادھر؟ عدالت

    سانحہ مری،سارا کام واٹس ایپ گروپوں میں چلے گا تو نتائج یہی ہونگے،عدالت

  • سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن شہری قتل کیس، فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن شہری قتل کیس، فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن شہری قتل کیس، فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کو قتل کرنے اور جلانے کے مقدمے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے،

    انسداد دہشت گردی عدالت آج کیس کا فیصلہ سنائے گی، کیس کا فیصلہ کوٹ لکھپت جیل میں سنایا جائے گا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے،

    قتل کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرنے اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے فیکٹری مینجر نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے قتل کیس میں 89 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی ایک ملزم عدنان کو اعتراف جرم کرنے پر سے تین ماہ قبل ایک سال کی قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدنان نے واقعے کی ویڈیو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی تھی جس میں ملزمان کے کردار کو درست قرار دیا گیا تھا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس 3 دسمبر کو سیالکوٹ میں اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا تھاانسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے پریانتھا کمارا پر جب فیکٹری ملازمین نے حملہ کیا تو پروڈکشن منیجر نے انہیں چھت پر چڑھا کر دروازہ بند کردیا،تاہم 20 سے 25 مشتعل افراد دروازہ توڑ کر اوپر آگئے اور پریانتھا پر حملہ کردیا، اس موقع پرپروڈکشن منیجر درخواست کرتا رہا کہ پریانتھا نےکچھ کیا ہے تو انہیں پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔تاہم ہجوم نے ایک نہ سنی اور الٹا پروڈکشن منیجر کو زدوکوب کیا۔

    فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہرچوک پرلےگئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔

    پریانتھا کمارا کے بھائی کمالا سری نتاشا کمارا کا کہنا تھا کہ وہ تحقیقات سے مطمئن ہیں، انہیں پاکستان پسند ہے اور اب بھی ان کے پاکستان کے بارے میں خیالات اچھے ہیں، حکومت ایسے اقدامات کرے کہ ایسا مزید کوئی واقعہ رونما نہ ہو

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن حکومت کیا چاہتی ہے ؟ وزیر خارجہ نے بتا دیا

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    پریانتھا کمارا کی نعش کی بے حرمتی کرنے والا ملزم عدالت پیش

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ، وزیراعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیشرفت

    سانحہ سیالکوٹ،ہاتھ جوڑ کر سری لنکا والوں سے معافی مانگتا ہوں،مولانا طارق جمیل

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن شہری قتل کیس میں اہم پیشرفت

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن شہری قتل کیس،ایک ملزم کو سزا سنا دی گئی

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن شہری قتل کیس کی تحقیقات مکمل

  • ڈپٹی اسپیکر ہی وزیراعلیٰ کا الیکشن کروائے گا:لاہور ہائیکورٹ کےفیصلےنے ن لیگ کوکُمک پہنچادی

    ڈپٹی اسپیکر ہی وزیراعلیٰ کا الیکشن کروائے گا:لاہور ہائیکورٹ کےفیصلےنے ن لیگ کوکُمک پہنچادی

    لاہور:ڈپٹی اسپیکر ہی وزیراعلیٰ کا الیکشن کروائے گا:لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے ن لیگ کوکُمک پہنچادی ،اطلاعات کے مطابق ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے لئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ہی الیکشن کروائے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات دینے سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اپیلیں خارج کی ہیں۔
    پی پی رہنما راجا پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں ان کے مقابلے کسی اور امیدوار کے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔

    پی پی پی رہنما راجا پرویز اشرف بلامقابلہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں۔ آج اسپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جانے کے آخری وقت تک راجا پرویز اشرف کے مقابل کسی اور امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے جس کے بعد انہیں بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس کل دن 12 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔شیڈول کے مطابق کل کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلانے کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق، قاسم سوری اور سیکریٹری قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

  • نور مقدم قتل کیس،فیصلہ آ گیا،مرکزی ملزم سفاک ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم

    نور مقدم قتل کیس،فیصلہ آ گیا،مرکزی ملزم سفاک ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی،عدالت نے شریک ملزمان ظاہر جعفر کے ملازمین جمیل اور افتخار کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ،عدالت نے ملزم کے والدین کو بری کر دیا،عدالت نے تھراپی ورکس ملازمین کو بھی بری کر دیا،

    ظاہر جعفر کے ڈرامے کام نہ آئے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی ہے عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کو فیصلے کی کا پی فراہم کردی ،نور مقدم کے قاتل کو سزائے موت کے علاوہ بھی تین سزائیں سنائی گئی ہیں،جنسی زیادتی پر پچیس سال قید دو لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی گئی، حبس بے جا میں رکھنے پر دس سال قید ایک لاکھ جرمانہ کی سز سنائی گئی،زور زبردستی پر ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا گئی

    تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مجرم ظاہر جعفر کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی جاتی ہے،مجرم نور مقدم کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دے گا، مجرم نے لواحقین کو رقم نہیں دی تو اس کی زمین یا کوئی پراپرٹی بقایا جات میں شامل کی جائے گی مجرم 5 لاکھ روپے جمع نہیں کرائے تو 6 ماہ کی قید کاٹنا پڑے گی،جبری زیادتی کے جرم پر 25سال قید،2لاکھ جرمانہ کی سزا کا حکم دیا گیا ہے ملزم جرمانہ مقتولہ کے ورثاء کو ادا کرے،اغواء کے جرم پر ظاہر جعفر کو 10 سال قید ایک لاکھ جرمانہ کا حکم دیا گیا ہے دفعہ 342 کے جرم پر ایک سال قید دی گئی ہے

    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم محمد جان کو دفعہ 109 اور 364 کے تحت 10 سال قید،ایک لاکھ جرمانہ کا حکم دیا گیا ہے ملزم کو دفعہ 368 کے تحت10سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ کا حکم دیا گیا ہے ملزم کو دفعہ 176 کے تحت ایک سال قید ایک لاکھ جرمانہ کا حکم دیا گیا ہے ملزم افتخارکو دفعہ 109 اور 364 کے تحت10سال قید،ایک لاکھ جرمانہ کا حکم دیا گیا ہے ملزم کو دفعہ 368 کے تحت 10سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ کا حکم دیا گیا ہے

    نور مقدم کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ ممکن ہے تفتیشی نے ملزم کو جان بوجھ کر فائدہ دینے کیلئے نقائص رکھے ہوں، پولیس حکام چاہیں تو تفتیشی کیخلاف کارروائی کر سکتے ہیں، تفتیش میں بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے،تفتیش کے نقائص، پولیس گواہان کے بیانات میں تضاد سے بھی کیس خراب نہیں ہوا،تھیراپی ورکس کے مالک اور ملزم کے والدین کے ساتھ کوئی میسج یا آڈیو پیغام نہیں پیش کیا گیا، ٹھوس شواہد کے بغیر نہیں کہا جا سکتا کہ طاہر ظہور قتل کا علم رکھتے تھے،سائنسی اور فرانزک شواہد نے ثابت کیا کہ نورمقدم کا قتل ظاہر جعفر کے ہاتھوں ہوا،نور مقدم کی لاش ظاہر جعفر کے کمرے سے برآمد کی گئی تھی، ملزمان کے وکلاء استغاثہ کے شواہد کو جھٹلانے میں ناکام رہے، شواہد نہیں کہ ذاکر اور عصمت بیٹے کے قتل کے ارادے سے واقف تھے،استغاثہ نے ثابت کرنا تھا کہ والدین بیٹے کے ارادے سے واقف تھے،
    ظاہر جعفر کی والدین سے ہوئی گفتگو کا ٹرانسکرپٹ یا ٹیکسٹ میسج موجود نہیں،صرف رابطے دکھاتی سی ڈی آر سزا کے لئے ناکافی قرار ہیں

    کمرہ عدالت میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ،نورمقدم کے والد شوکت مقدم بھی فیصلہ سننے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے کمرہ عدالت میں وکلاء اور میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، عدالت کے باہرپولیس کی بھاری نفری تعینات تھی،جب فیصلہ سنایا گیا تو نور مقدم کا قاتل ظاہر جعفر بھی عدالت میں موجود تھا،

    اس مقدمہ میں مجموعی طور پر 12 ملزمان شامل تفتیش رہے جن میں سے چار ملزمان یعنی مرکزی ملزم ظاہر جعفر، اُن کے والد ذاکر جعفر، سکیورٹی گارڈ افتخار اور مالی جان محمد زیرِ حراست رہے دیگر آٹھ ملزمان کو دورانِ سماعت ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا رہائی پانے والوں میں سے چھ ملزمان تھیراپی ورکس کے ملازمین تھے جبکہ دیگر دو میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ اوران کا باورچی جمیل شامل تھے

    فیصلے سے قبل نور مقدم کے والد عدالت پہنچے تھے تو انکا کہنا تھا کہ امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا،امید ہے قانون کی بالا دستی ہو گی ہم نے ملزمان کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا مانگی ہے مجھے اپنی بیٹی نورمقدم پرمکمل یقین ہے وہ نیک لڑکی تھی وہ کسی غلط چیزمیں ملوث نہیں تھی سی سی ٹی وی سے بھی ثابت ہوا کہ نور مقدم کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ،ہمیں عدالت پر بھروسہ ہے، ہمیں امید ہے کہ انصاف ملے گا،جو ظلم ہوا اسکی سب کو سزائیں ملیں گی،

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ،وکلا عدالت پہنچ گئے، تھیراپی ورکس ملازمین بھی عدالت پیش ہوئے عدالت نے تھیراپی ورکس ملازمین کی حاضری لگائی عملے نے تھراپی ورکس کے وکلا اور ملازمین کو فیصلے کے وقت سے آگاہ کیا، مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر سمیت چار گرفتار ملزمان ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں پیش کر دئیے گئے کمرہ عدالت سے تمام افراد کو باہر نکال دیا گیا ،جج نے حکم دیا کہ میں نے ملزمان سے بات کرنی ہے سب افراد کمرہ عدالت سے باہر نکل جائیں

    دو روز قبل عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،نورمقدم قتل کیس کا سپیڈی ٹرائل 4 ماہ 8 دن جاری رہا,کیس میں 19 گواہان کے بیان قلمبند ہوئے ،اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں 20 جولائی 2021 کو نورمقدم کو قتل کیا گیا تھا نور مقدم قتل کیس میں مدعی مقدمہ کے وکلاء شاہ خاور،نثار اصغر اور بابر حیات سمور نے دلائل مکمل کر لیے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کی استدعا کی تھی

    نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ملزم ظاہر جعفر ، ذاکر جعفر ،عصمت آدم، افتخار، جمیل، جان محمد پر فرد جرم عائد تھی تھراپی ورک کے طاہر ظہور سمیت دیگر 6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ملزم ظاہر جعفر اس کے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں ہیں۔ظاہر جعفر کے والدین پر نور مقدم قتل کیس میں اعانت جرم کا الزام ہے

    نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر نے عدالت پیشی کے موقع پر ڈرامے کئے کبھی پولیس پکڑ کر لائی، کبھی وہیل چیئر پر لایا گیا کبھی سٹریچر پر لایا گیا، انہی ڈراموں کو مد نظر رکھتے ہوئے ظاہر جعفر کے وکیل نے ملزم کا میڈیکل چیک اپ کروانے کی درخواست دائر کی جس کو عدالت نے مسترد کر دیا تھا، مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے عدالت کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے نور کو قتل نہیں کیا، حالانکہ پولیس تفتیش اور شواہد سے یہ بات ثابت ہو چکی کہ نور مقدم کا قتل اسی نے کیا،

    واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کو قتل کر دیا گیا تھا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،پولیس نے مرکزی ملزم ظاہرجعفر کو جائے وقوعہ سے حراست میں لیا تھا

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نورمقدم قتل ، نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، ملزمان کے نفسیاتی ٹیسٹ کی آئی رپورٹ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ریمانڈ میں توسیع

    نور مقدم قتل کیس، ایک اور ملزم نے ضمانت کے لئے رجوع کر لیا

    نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر ہاوس کے تین ملازمین کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل

    نور مقدم کیس، سسٹم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب،کیس الجھ گیا، مال کی چمک دمک شروع

    ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے،تھراپی ورکس کے مالک کی نور مقدم کیس میں صفائیاں

    نور مقدم کو انصاف دلوائو.. | مبشر لقمان نے سپر سٹارز کا ضمیر جھنجوڑ دیا

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا عدالت میں ایک اور ڈرامہ

    نورمقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پاگل ہے، عدالت میں درخواست دائر

    نور مقدم قتل کیس، سماعت بغیر کارروائی ملتوی

    نورمقدم قتل کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم کو اندر بلا کر عدالت نے میڈیا کو باہر نکال دیا

    بیٹی کو ناحق قتل کیا گیا، ملزم کوسزائے موت سنائی جائے،نورمقدم کے والد کا عدالت میں بیان

    نورمقدم قتل کیس کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کا ایک اور ڈرامہ،سوشل میڈیا صارفین برس پڑے

    نور مقدم قتل کیس،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو آج عدالت کیسے پیش کیا گیا؟

    نور مقدم قتل کیس، ڈاکٹرز کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    نورمقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے قتل کے الزام سے صاف انکار کردیا

    نور مقدم قتل کیس،سفاک ملزم مکر گیا،عدالت جمع کروایا گیا بیان باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    نور مقدم قتل کیس۔ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی تینوں درخواستیں خارج کر دی گئی ہیں

     

  • کورٹ کی اپروچ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے،عدالت

    کورٹ کی اپروچ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے،عدالت

    کورٹ کی اپروچ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے،عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیر ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا شاہ محمدکی الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اتنی سنگین خلاف ورزی ہو گی تو پھر تو پوری سیاسی جماعت ذمہ دار ہو گی اتنی خلاف ورزی کہ ایک وزیر بیلٹ باکس ہی اٹھا کر لے جائے،الیکشن کمیشن کا آرڈر دکھا دیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ کورٹ کی اپروچ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، بتا دیں کہ یہ عدالت رٹ کے دائرہ اختیار میں کس حد تک جا سکتی ہے؟ بیلٹ باکس اٹھانے کے الزامات معمولی نہیں ہیں،عدالت جو بھی آرڈر کرے گی وہ عدالتی نظیر بنے گی، الیکشن کمیشن کو تو مزید مضبوط اور بااختیار کرنا چاہیے

    وکیل شاہ محمد نے کہا کہ اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسر نے اپنی جگہ کوئی اور بندہ بٹھا رکھا تھا،

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر شاہ محمد خان کی نااہلی کیخلاف فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شاہ محمد کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی،عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد شاہ محمد کی نااہلی کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ سے تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر شاہ محمد خان نے نااہلی کیخلاف اپیل واپس لے لی ،سپریم کورٹ نے واپس لینے کی بنیاد پر سابق صوبائی وزیر کی اپیل خارج کر دی، الیکشن کمیشن نے صوبائی وزیر شاہ محمد خان کو نا اہل قرار دیا تھا جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ نا اہلی کیخلاف اپیل نا قابل سماعت ہے، بہتر ہے اپیل واپس لیکر متعلقہ فورم سے رجوع کریں،وکیل شاہ محمد خان کا کہنا تھا کہ اپیل واپس لے لیتے ہیں،متعلقہ فورم سے رجوع کریں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے صوبائی وزیر خیبرپختونخوا شاہ محمد کو 5سال کے لیے نااہل کردیا تھا الیکشن کمیشن نے صوبائی وزیر شاہ محمد کے بیٹے مامون رشید کو بھی الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دے دیا دونوں باپ بیٹے نے بکاخیل میں پولنگ اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی تھی الیکشن کمیشن نے شاہ محمد کو ڈی نوٹیفائی کردیا، صوبائی وزیر نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    یوسف رضا گیلانی اس وقت اہم عہدے پر،گیلانی نااہلی کیس کی سماعت ملتوی

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    چیف الیکشن کمشنر پر الزامات، ن لیگ نے بڑا اعلان کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیں کیونکہ تمہارے پاس اس کی بھی ویڈیوز ہونگی،شہری کا مریم نواز کو جواب

    عام انتخابات کی تیاری کی جائے، چیف الیکشن کمشنر کا حکم آ گیا

    علی امین گنڈا پور پر جرمانہ کے باوجود کسی قسم کا اثر نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر