Baaghi TV

Tag: فیٹف

  • بھارت نے فیٹف میں میرے  بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا،علی امین گنڈا پور

    بھارت نے فیٹف میں میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا،علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نےواضح کیا کہ بھارتی حکومت نے فیٹف میں ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیاہے-

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے فیٹف میں بھارت کو بے نقاب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارتی حکومت نے فیٹف میں ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا، بھارت پاکستان اور خطے میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے، فیٹف کو خط لکھ کر بتایا جائے گا کہ بھارت نے کشمیر اور گلگت بلتستان میں کیا تخریب کاریاں کیں، علی امین گنڈا پور نے بھارت کو فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈلوانے کا بھی اعلان کردیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی حکومت نے فیٹف میں علی امین گنڈاپور کا بیان پاکستان کے خلاف بطور ثبوت جمع کروایا تھا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وہ طالبان کو گرفتار کرتے ہیں لیکن ادارے انہیں رہا کر دیتے ہیں، بھارتی مؤقف ہے کہ یہ بیان پاکستان میں ریاستی سطح پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا ثبوت ہے،بھارتی حکومت نے اس بیان کو پاکستان کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خود پاکستانی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار کا اعتراف ہے، جو بھارت کے ان الزامات کی تائید کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔

    راولپنڈی میں جرگے کے فیصلے پر خاتون کا قتل:6ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    فیٹف کے قریبی ذرائع کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کی باضابطہ درخواست بھی جمع کروائی گئی ہے اگرچہ فیٹف کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، مگر بھارتی حکومت اور میڈیا اس معاملے کو خوب اچھال رہے ہیں تاکہ پاکستان پر عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔

    اماراتی سفیر کی نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات

  • پاکستان فیٹف کےمعیار پرعمل کرنیوالے ٹاپ 10 ممالک میں شامل،گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

    پاکستان فیٹف کےمعیار پرعمل کرنیوالے ٹاپ 10 ممالک میں شامل،گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

    اسلام آباد: پاکستان ایف اے ٹی ایف کے معیارات پر عمل درآمد کرنے والے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہوگیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کا مضبوط امکان پیدا ہوگیا ہے 17 اکتوبر سے 21 اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف کا اجلاس منعقد ہوگا۔

    پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلانز کی تکمیل بڑی کامیابی ہے۔آرمی چیف

    ذرائع کے مطابق 21 اکتوبر کو پاکستان کا فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان ہے کیوں کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کرچکا ہے۔

    فیٹف ٹیم نے اگست کے آخری اور ستمبر کے پہلے ہفتہ تک پاکستان کا دورہ کیا تھا ذرائع کےمطابق پاکستان کے اقدامات پر فیٹف کی ٹیکنیکل ٹیم مطمئن ہوکر واپس گئی تھی اور ٹیم نے تمام متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ فیٹف جائزہ ٹیم کا مقصد قوانین پر عمل درآمد کے لیے پولیٹیکل وِل کو سمجھنا تھا۔ فیٹف اجلاس کے اختتام پر 21 اکتوبر کو پیرس میں پریس کانفرنس ہوگی۔

    پاکستان کو گرے لسٹ میں کب شامل کیا گیا؟

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو جون 2018ء میں گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے، جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہتے ہیں ۔

    بڑی امید ہے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا:جرمن سفیر

    ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989ء میں جی ایٹ سمٹ کے دوران ترقی یافتہ ممالک کے ایما پر پیرس میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا۔ اس کے اختیارات میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنے اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کرنا بھی شامل ہے۔ اس ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکا، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔ ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

    ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے نکل جائیں گے،وزیر خزانہ

    امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ دہشت گردی کی فنڈنگ کی روک تھام کے لیے بھی مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کےمقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی مالی معاونت کو بھی شامل کر لیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری بھی اسی ٹاسک فورس کے سپرد کر دی گئی۔

    ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کرانے اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی تعریف یکساں ہو اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل کردہ دولت کی نقل و حمل کو مشکل ترین بنا دیا جائے۔

    ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس:پاکستان کی کوششوں کوکامیابی ملنےکا امکان

  • حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،حنا ربانی

    حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،حنا ربانی

    وزیرمملکت خارجی امور حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ خوشی ہے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کلیئر کر دیا ہے،پاکستان نے دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے محنت کی-

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنے اجلاس میں پاکستانی اقدامات کا جائزہ لیا،دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنےکےلیے اقدامات پر عمل سرفہرست تھے،پاکستا ن کی جانب سے تمام شرائط پوری کرنے کی کوششوں کو تسلیم کرلیا گیا-

    پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلانز کی تکمیل بڑی کامیابی ہے۔آرمی چیف

    حنا ربانی کے مطابق فیٹف نےکہا پاکستان نے دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنےکےلیے محنت کی،فیٹف نےکہا پاکستان نےشرائط مکمل کرنےکےلیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،فیٹف کےمطابق رکن ممالک کی جانب سے پاکستان کی کارکر دگی کی تعریف کی گئی ، ایف اے ٹی ایف ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے شرائط کی تکمیل کامزید جائزہ لے گی،امید ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گاہم ایف اے ٹی ایف حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، ایف اے ٹی ایف نے اپنے اجلاس میں پاکستانی اقدامات کا جائزہ لیا،امید ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گا،اس میں شک نہیں کہ فیٹف کی شرائط مشکل تھیں،ایک گھنٹہ قبل پاکستان پہنچے ہیں –

    انہوں نے کہا کہ فیٹف معاملے پر عوام کو آگاہ کرنا ضروری تھا،ایف اے ٹی ایف کا معاملہ اہم تھا، فیٹف نے ٹیکنیکل ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ،ایف اے ٹی ایف نے کہا پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا سلسلہ روکا ،ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے ،مشکل حالات میں متحد قوم بن کر ہم نے کام کیا ،ایف اے ٹی ایف معاملے پر جشن منانا قبل از وقت ہوگا ،ابھی تو گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہواہے،ایف اے ٹی ایف نے بیک وقت 2ایکشن پلان دیئے ،فیٹف اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پرمختلف رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،پاکستان دیگر ممالک کے لیے بھی ماڈل کنٹری بنے گا ،پہلے ایکشن پلان کی تکمیل میں وقت لگا مگر دوسرا جلد مکمل کیا گیا،جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے-

    پاکستان کو گرے لسٹ سے ابھی نہیں نکالا جا رہا،ایف اے ٹی ایف

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ فیٹف اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر مختلف رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،پاکستان دیگر ممالک کے لیے بھی ماڈل کنٹری بنے گا ،پہلے ایکشن پلان کی تکمیل میں وقت لگا مگر دوسرا جلد مکمل کیا گیا،جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے،جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے،قومی اور صوبائی اداروں نے بھی اپنا کام بہترین انداز میں کیا،ہمارے لیے یہ سفر کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے ،ہمیں کوششیں جاری رکھنی ہیں،ہم اب اس پوزیشن میں آچکے ہیں کہ دوسرے ممالک کومعاونت فراہم کریں،اب پاکستان کےذمہ کوئی اقدامات زیرالتوا نہیں،ایک ملک ہمیشہ اس عمل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے-

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئیں،افواج پاکستان کا بھی رہا کلیدی کردار

    وزیرمملکت حنا ربانی کھرنے کہا کہ پاکستان کو آگے دیکھنے کے خواہاں ہیں ،کوئی منفی بات نہیں کریں گے ،پاکستان نے اپنا کام کرلیا اب فیٹف ٹیم جائزہ لینے آئے گی ،کریڈٹ کسی کو نہیں جاتا اصل جیت پاکستان کی ہے ،پاکستان کی کوشش ہوگی دوبارہ کبھی گرے لسٹ میں نہ جائے،پاکستان نے اپنا مقدمہ بہترین انداز میں لڑا،حکومت اورپارلیمنٹ نے پلان سے متعلق قانون سازی کی ،فیٹف ٹیم قانون سازی کے اقدامات اورسیکریٹریٹ کا معائنہ کرے گی،پاکستان کی مسلسل کوششوں کودیکھتے ہوئے فیٹف نے ہاں کردی –

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    وزیرمملکت حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان سے امیدیں زیادہ رکھی گئی تھیں،ہم پر دباو تھا،2023میں ہمسایہ ملک کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی،ہماری کوشش ہوگی وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں جو ہوچکی ہیں،گرے لسٹ میں ڈالنےاور نکلنے کا ایک مرحلہ ہوتا ہے ،دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا پاکستان کی اولین ترجیح رہی ہے،پاکستان نے بیک وقت 2 پلان پر عمل کےلیے حیران کن کام کیا،فیٹف کی بات ہوئی تو کریڈ ٹ لینے کاسلسلہ شروع ہوگیا ہم نے سبق سیکھ لیا ،ہم کسی بھی فہرست کاحصہ نہیں بنیں گے ،فیٹف میں پاکستان کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا،2021کے پلان پر پاکستان نے جلدی عمل کیا-

  • فیٹف نے متحدہ عرب امارات کو گرے لسٹ کر دیا

    فیٹف نے متحدہ عرب امارات کو گرے لسٹ کر دیا

    منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی ادارے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس( ایف اے ٹی ایف) نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو گرے لسٹ میں شامل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے پیرس میں جاری اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے متحدہ عرب امارات کو گرے لسٹ مین شامل کر دیا ہے فئٹف نے یو اے ای کو اپنے نظام میں بڑی اور بنیادی تبدیلیاں لانے کا ٹاسک دیا ہوا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ FATF کی مزید جانچ پڑتال کے علاوہ، ‘گرے’ فہرست میں شامل ممالک کو ساکھ کو پہنچنے والے نقصان، ریٹنگ ایڈجسٹمنٹ، عالمی مالیات کے حصول میں دشواری اور لین دین کے زیادہ اخراجات کا خطرہ ہے۔

    امریکہ کےسامنےڈٹ جانا:پاکستانی قوم کا امتحان:FATF کاپاکستان کوجون تک گرےلسٹ میں ہی رکھنے کا اعلان

    ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات، خطے کا مالیاتی دارالحکومت اور سونے کا تجارتی مرکز ہے، ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کو نافذ کرنے کے لیے کام کرے گا تاکہ اس کے انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے نظام کی تاثیر کو مضبوط کیا جا سکے۔

    فیٹف کی جانب سے جاری بیان کے جواب میں، متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کہا کہ وہ بہتری کے لیے فیٹف کے ساتھ مل کر کام کرنے کا "مضبوط عزم” رکھتی ہے۔

    یو اے ای نے ایک بیان میں کہا، "مضبوط اقدامات اور جاری اقدامات متحدہ عرب امارات کی حکومت اور نجی شعبے کی طرف سے ملک کے مالیاتی نظام کے استحکام اور سالمیت کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔”

    یو اے ای، تیل اور گیس کا برآمد کنندہ جو کھلے کاروبار کے لیے اسناد کا دعویٰ کرتا ہے اور شاندار غیر ملکی طرز زندگی کو قابل بناتا ہے، نے حالیہ برسوں میں غیر قانونی رقم کے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر تصویر پر قابو پانے کے لیے ضوابط کو سخت کیا ہے یہ عہدہ ملک کے لیے ایک دھچکا ہے کیونکہ خلیجی پڑوسی سعودی عرب، دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ اور سب سے بڑی عرب معیشت کے ساتھ معاشی مسابقت تیز ہو رہی ہے۔

    شاورمیں شہریوں ، نمازیوں پرخودکُش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں :افغان طالبان

    واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر فیلو اور سابق امریکی ٹریژری اہلکار، کیتھرین باؤر نے کہا، "متحدہ عرب امارات کو ایک علاقائی تجارتی اور مالیاتی مرکز کے طور پر اپنے کردار کی وجہ سے غیر قانونی مالیات کے لیے موروثی خطرات ہیں۔”

    انہوں نے کہا کہ اماراتی حکام نے اپنی منی لانڈرنگ مخالف نظام کو مضبوط بنانے اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں، خاص طور پر فیٹف کے 2020 کے جائزے کے بعد سے۔

    انہوں نے کہا کہ”آج فیٹف کے بیان میں شامل بقایا آئٹمز ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی بھی کافی مقدار میں کام کرنا باقی ہے۔ یہ ایسی تبدیلیاں نہیں ہیں جو راتوں رات ہو سکتی ہیں۔”

    واچ ڈاگ کی طرف سے 2020 کی تشخیص میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے "بنیادی اور بڑی بہتری” کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پچھلے سال، اس نے 2018 میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا قانون پاس کرنے کے بعد انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے ایک ایگزیکٹو آفس قائم کیا۔

    ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 2020 کی رپورٹ کے بعد سے دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ، مجرمانہ رقم کو ضبط کرنے اور بین الاقوامی تعاون میں شامل ہونے کے معاملات پر "اہم پیش رفت” کی ہے۔

    شہباز شریف بیمار،عدالت نہ پہنچے، بریت کی درخواست بھی کی دائر

    "اس کے علاوہ، متحدہ عرب امارات نے باہمی تشخیص کی رپورٹ سے تجویز کردہ اہم اقدامات میں سے نصف سے زیادہ کو ایڈریس کیا یا بڑے پیمانے پر حل کیا،” اس نے کہا۔

    فیٹف نے کہا کہ خلیجی ریاست کو اب بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ تحقیقات میں سہولت فراہم کرنے، بعض صنعتوں بشمول رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور قیمتی پتھروں اور دھاتوں کے ڈیلروں میں خطرات کے انتظام اور معیشت میں مشکوک لین دین کی نشاندہی پر پیش رفت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    بہتری کے دیگر شعبوں میں منی لانڈرنگ کے خلاف مالیاتی انٹیلی جنس کا استعمال، منی لانڈرنگ کے مقدمات کی "متحدہ عرب امارات کے رسک پروفائل سے ہم آہنگ” کی بڑھتی ہوئی تحقیقات اور پراسیکیوشن شامل ہیں، اور پابندیوں کی چوری کو فعال طور پر شناخت کرنا اور ان کا مقابلہ کرنا بھی شامل ہیں-

    واضح رہے کہ فیٖٹف نے پاکستان کے مزید 4 ماہ یعنی جون تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا ہے جب کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلا ن کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔

    پیکا ترمیمی آرڈیننس،عدالت نے اہم شخصیت کو نوٹس جاری کر دیا

    وفاقی وزیرحماد اظہر ایف اے ٹی ایف کے اس فیصلے سے متعلق کہا کہ پاکستان اب اپنے دونوں FATF ایکشن پلان کو مکمل کرنے سے صرف 2 آئٹمز دور ہے۔ ، ان کا کہنا تھاکہ ایم ایل ایکشن پلان: 7 میں سے 6 آئٹمز کو ایک بے مثال ٹائم فریم کے اندر حل کیا گیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ TF ایکشن پلان: 27 میں سے 26 آئٹمز پر توجہ دی گئی۔ کئی ممالک کا خیال ہے کہ ہم نے یہ منصوبہ پہلے ہی مکمل کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ گرے لسٹ میں شامل ممالک کو ایف اے ٹی ایف کی اضافی نگرانی، ساکھ کو نقصان پہنچنے ، عالمی درجہ بندی ،دنیا بھر سے سرمائے کے حصول میں دشواری اورمالیاتی لین دین میں زیادہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989 میں جی سیون سمٹ کی جانب سے پیرس میں عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مقاصد بڑھا دیے گئے۔

    ان مقاصد میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنا اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات طے کرنا تھا۔

    بلوچستان کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے نام سامنے آنے چاہیے،سلیم مانڈوی والا

    ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکہ، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جب کہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔ ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

    گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کیا ہے؟

    ادارہ عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

    اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔

    بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔

    گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اعادہ کریں۔

    عملہ صفائی کی نااہلی ہر طرف گندگی و تعفن

  • فیٹف اجلاس شروع،پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

    فیٹف اجلاس شروع،پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

    پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس پیرکو شروع ہوا جو 4 مارچ تک جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی :جرمن نشریاتی ادارے کے ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کی نگرانی کرنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو ابھی مزید 4 ماہ تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، پاکستان کے اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ اب آئندہ سیشن میں ہو گا، جو جون 2022 میں ہو گا۔

    پیر سے شروع اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور اس کی روک تھام جیسے معاملات میں پاکستان میں ہونے والی اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کی بنیاد پر رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ ہو گا۔

    ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے نکل جائیں گے،وزیر خزانہ

    رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسیفک گروپ نے بھی پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا،ایف اے ٹی ایف نامی فورس چاہتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کی تحقیقات اور سزاؤں میں شفافیت لائے اور حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔

    ایکشن پلان:
    ایف اے ٹی ایف کے ابتدائی ایکشن پلان میں 27 نکات شامل تھے، جن میں سے پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر تک 26 نکات پر عمل کیا تھا۔ تاہم جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک اضافی ایکشن پلان دیا تھا، جس میں منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے مزید سات نکات شامل تھے پاکستان کو دیئے گئے دونوں ایکشن پلانز کے مجموعی طور پر 34 نکات ہیں، جن میں سے 30 نکات پر اکتوبر تک عمل کیا جا چکا تھا۔

    ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف ، حکومت کیوں مطمئن

    پاکستان کن وجوہات کی بنا پر آئندہ بھی گرے لسٹ میں ہے؟

    ایف اے ٹی ایف چاہتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کی تحقیقات اور سزاؤں میں شفافیت لائے اور حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے منی لاندڑنگ کے خلاف قوانین تو بنائے ہیں لیکن ان قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے FATF بظاہر مطمئن نہیں۔

    ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام شدت پسند گروہوں کے سربراہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے اور خاص طور پر سزائیں سنانے کی شرح کو بہتر بنائے پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینیئر کمانڈروں کو سزائیں دینے کا ہدف بھی پورا کرے۔ ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے مطابق پاکستان کو تحقیقات کے طریقہ کار میں بہتری جبکہ دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی۔

    ایف اے ٹی ایف نے ریئل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے بتایا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے جب مطمئن ہو گی تو ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق اور قانون سازی کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد ہی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    فیٹف اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں طلب،پاکستان زیر بحث آئے گا

    ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا ہم نے ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں تمام تکنیکی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ نتیجہ مثبت سمت میں نکلے گا۔

    ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کے لیے رکھی گئی شرائط پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اور غیر قانونی مالی معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے کے ارکان کی جانب سے سیاسی سوچ بچار ہی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھ سکتی ہے۔

    پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف نہ صرف قوانین بنائے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ افراد کی سرگرمیاں روکنے کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں پاکستانی پارلیمان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی منظوری بھی دی چکی ہے۔

    حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت میں جائے, رحمان ملک

    پاکستانی حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے 12 رکنی قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے کمیٹی کے ممبران میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق تمام اداروں کے سربراہان اور ریگولیٹرز کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی سیکرٹریز برائے خزانہ، امور خارجہ اور داخلہ بھی شامل ہیں۔

    ان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر کسٹمز، اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے ڈی جی بھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی اسٹیک ہولڈرز کے مابین کوآرڈینیشن کے لیے ایف اے ٹی ایف سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔

    پاکستانی پارلیمنٹ نہ صرف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی خود بھی منظوری دے چکی ہے بلکہ اسی ضمن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے وفاقی سطح پر 11 جبکہ صوبائی اسمبلیوں سے تین بل بھی منظور کرائے گئے ہیں۔

    کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ افراد کی سرگرمیاں روکنے کے لیے بھی اقدامات کے دعوے کیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ایف اے ٹی ایف کے اس اجلاس سے پاکستان کے لیے اچھی خبر کی امید کر رہی ہے۔ حکومتی بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تقریباﹰ تمام ایکشن پلانز پر بڑی حد تک عمل کیا ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنمارحمان ملک 70 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

  • فیٹف اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں طلب،پاکستان زیر بحث آئے گا

    فیٹف اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں طلب،پاکستان زیر بحث آئے گا

    سلام آباد: فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف) کا اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں ہوگا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ذرائع نے تصدیق کردی کہ پیرس اجلاس میں پاکستان زیربحث آئے گا ذرائع کا کہنا تھا کہ فیٹف اجلاس سے پہلے فیٹف کے انٹرنیشنل کو آپریشن ریویو بورڈ کا اجلاس 24، 25فروری کو ہوگا، جس میں پاکستان پر سفارشات مرتب کی جائیں گی یہی سفارشات فیٹف اجلاس کے سامنے رکھی جائیں گی

    ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے نکل جائیں گے،وزیر خزانہ

    پاکستان نے فیٹف کی طرف سے متعین کردہ 27 میں سے 26 اہداف مکمل کرلیے تھے، اسکے بعد اینٹی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے 7 مزید اہداف دے دیے گئے۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے تمام اہداف پر کام جاری ہے، پاکستان نیک نیتی سے اہداف پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں وِزیر خزانہ شوکت ترین نے امید ظاہر کی تھی کہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ جائزہ اجلاس میں پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا سینٹ میں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی موجودہ صورتحال بارے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 28 میں سے 27 شرائط پوری کردی ہیں، ہمارے خلاف جن ملکوں نے پوزیشن لی ہوئی ہے وہ ہمارے دوست نہیں ہیں،تاہم یہ کوئی بٹن نہیں جسے فوراً آن یا آف کرلیا جائے۔

    ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنیوالوں کی فہرست طلب کرلی

    سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا تھا کہ یہ اچھا بٹن ہے جوساڑھے تین سال سے آن ہی نہیں ہورہا (ن) لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ اب تک حکومتی وزیر اور ترجمان اپنی ناقص کارکردگی کا ملبہ نوازشریف حکومت پر ڈالتے رہے لیکن آج خود حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں پاکستان کو فیٹف کی گرے سے وائٹ لسٹ میں لے آئی جو حکومت ختم ہونے تک وائٹ میں رہا۔فیٹف

    خیال رہے کہ گزشتہ برس پیرس میں فیٹف کا تین روزہ 19 سے 21 اکتوبر تک اجلاس منعقد رہا جس میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو مزید چار ماہ کے لیے نگرانی کی گرے لسٹ میں ہی رکھے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا پاکستان کے اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ اب آئندہ سیشن میں ہو گا جو اپریل 2022 میں منعقد ہونا ہے۔

    پاکستان کو اپریل تک اپنی گرے لسٹ میں رکھنے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدمات کو سراہا جائے گا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے گا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر مکمل طور پر پورا نہیں اتر پایا ہے۔

    ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف ، حکومت کیوں مطمئن

    ساتھ ہی ایف اے ٹی ایف کی طرف سے کچھ سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی طرف بھی اشارہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو اب بھی دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے جب مطمئن ہو گی تو ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق اور قانون سازی کا جائزہ لے گی۔ جس کے بعد ہی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکاتی ایکشن پلان پر اب تک 26 نکات پر عمل کیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو تمام پوائنٹس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نشست کے دوران پاکستان کی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے شعبوں میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہو گا کہ آیا پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے یا نہیں؟ اس وقت دنیا کو یہ یقین دلانا بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں پابندی کا شکار تنظیمیں اور افراد کے خلاف کار روائی ہو رہی ہے۔

    فیٹف کے فیصلے پر پاکستان کا رد عمل

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہوں۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989ء میں جی ایٹ سمٹ کی جانب سے پیرس میں عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مقاصد بڑھا دیے گئے ان مقاصد میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنے اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات طے کرنا تھا۔ ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکا، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔ ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

    فیٹف کا تین روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری، پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ…

    کسی بھی ملک کو ‘زیر نگرانی‘ یعنی گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ایک ذیلی ادارہ ‘انٹرنیشل کوآپریشن ریویو گروپ‘ یعنی آئی سی آر جی کرتا ہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس میں مختلف ممالک کی نمائندہ تنظیمیں شامل ہیں۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے پاکستان کو گرے لسٹ میں سے نکلنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے 22 اراکین میں سے کم از کم 12 ووٹ درکار ہوں گے جو ایک مشکل کام نظر آتا ہے۔

    ایف اے ٹی ایف عمومی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جن ممالک کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں تو ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اگرچہ ایف اے ٹی ایف خود کسی ملک پر پابندیاں عائد نہیں کرتا مگر ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ممالک کی نگرانی کے لیے لسٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے جنہیں گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کہا جاتا ہے۔ بلیک لسٹ میں ان ہائی رسک ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جن کے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین اور قواعد میں سقم موجود ہو۔ ان ممالک کے حوالے سے قوی امکان ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک ان پر پابندیاں بھی عائد کر سکتے ہیں۔ گرے لسٹ میں ان ممالک کو ڈالا جاتا ہے جن کے قوانین اور ان کے نفاذ میں مسائل ہوں اور وہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ مل کر ان قانونی خامیوں کو دور کرنے کا اعادہ کریں۔

    آئی ایم ایف سُن لے اس کی ہر بات نہیں مان سکتے:شوکت ترین کا واضح اعلان

  • حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت میں جائے, رحمان ملک

    حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت میں جائے, رحمان ملک

    سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ فیٹیف کے متعصبانہ فیصلے کیخلاف حکومت عالمی عدالت انصاف میں جائے۔

    سابق وزیرِداخلہ و پیپلز پارٹی سینیر رہنماء سینیٹر رحمان ملک نے فیٹف کے حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ اور جانبدارنہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے۔ انھوں کہا کہ اس سے بڑی نا انصافی اور کیا ہوسکتی ہے کہ فیٹف نے پاکستان کو جون 2021 تک دوبارہ گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کورونا کیوجہ سے مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان نے 27 میں سے 24 مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا اور فیٹیف کے کہنے پر قانون سازی اور ترامیم کیے۔ انھوں نے کہ کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے فیٹف نے پاکستان پر نگرانی میں اضاف کا اعلان کیا اور اب پاکستان کو جارحانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو فیٹف کا انتہائی متعصب ہونے کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہئے۔
    سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ صدر فیٹف مارکس پلیئر کا پاکستان کی تعریف کرنے کا کیا فائدہ جب گرے لسٹ سے نکالا نہیں اور گرے لسٹ میں ہونے کیوجہ سے ہم پہلے ہی 38 بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فیٹف پاکستان کا اتنے بڑے پیمانے میں معاشی نقصان کا ازالہ کرے گا؟
    انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو مشورہ ہے کہ صدر فیٹف کی کھوکھلی تعریفوں میں آکر جال میں نہ پھنسے بلکہ حکومت کو اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرے کیونکہ پاکستان کی تعریف کو رد عمل نہ دینے سے روکنے کا ایک چال ہے۔
    سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت اب فیٹف کی تعریف کا پرچار کرکے کسی کریڈٹ لینے کی کوشش نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ اچھا ہوا بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا۔
    انھوں نے کہا کہ فیٹف کے فیصلے سے عوام میں بےچینی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ فیٹف کا پاکستان پر نگرانی میں اضافے کا فیصلہ ایک نیا ہتھکنڈہ ہے۔ میں پہلے کہہ چکا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل تک فیٹیف پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا۔