Baaghi TV

Tag: فیک نیوز

  • ہمیں احتیاط کرنا ہوگی بہت غلط اور گمراہ کن خبریں پھیل رہی ہیں، اسحاق ڈار

    ہمیں احتیاط کرنا ہوگی بہت غلط اور گمراہ کن خبریں پھیل رہی ہیں، اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ جنگ کوئی مذاق نہیں ہے،ہمیں احتیاط کرنا ہوگی بہت غلط اور گمراہ کن خبریں پھیل رہی ہیں، فیک نیوز کے حوالے سے ہمیں چیزوں کو کلیئر کرنا چا ہیے۔

    سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ گمراہ کن مس انفارمیشن پھیلائی جارہی ہے، احتیاط برتنی چاہیے، امریکی صدر ٹرمپ سے متعلق کل ایک کلپ چل رہا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ اے آئی سے جنریٹ ہوا 13 جون کے بعدکئی جعلی خبریں سامنے آئیں، نیتن یاہو کا انٹرویو 2011 کا ہے، ایسی صور تحال میں سب کو خیال رکھنا چاہیےہمیں احتیاط کرنا ہوگی بہت غلط اور گمراہ کن خبریں پھیل رہی ہیں، فیک نیوز کے حوالے سے ہمیں چیزوں کو کلیئر کرنا چا ہیے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بچوں کا کھیل نہیں سنجیدہ قسم کی جنگ جاری ہے، جنگ کوئی مذاق نہیں ہے، ہمارا نیوکلیئر اور میزائل پروگرام ہماری اپنی حفاظت کے لیے ہے، بھارت کچھ کرےگا تو پہلے سے زیادہ جواب ملےگاعمان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے مجھے اپ ڈیٹ کیے رکھا، پاکستان یواین سکیورٹی کونسل کا ممبر ہے تو ہم نے صورتحال پر یو این سکیورٹی کونسل کی میٹنگ سے متعلق اپنا کردار ادا کیا، ایران نے اس حوالے سے پاکستان کا شکریہ ادا کیا، ایران کے وزیر خارجہ نے مذاکرات میں مسلسل میرے ساتھ رابطہ رکھا۔

    پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے نئے طوفان کو جنم دے گا ،خالد مسعود سندھو

    وزیر خارجہ نے کہا میں نے ایران کے وزیر خارجہ سے پہلے حملےکے بعد بات کی تو انہوں نےکہا کہ اس کا تو ہم جواب دیں گے لیکن اس کے بعد اگر اسرا ئیل نے دوبارہ حملہ نہ کیا تو مذاکرات کی میز پر آنےکو تیار ہیں،ہم نے ایران کی بات آگے ممالک سےکی، اب بھی وقت ہے اسرائیل کو روکا جائے تو ایران تیار ہے، ہم نے کہا کہ مذاکرات میں ہم ان کی سہولت کاری کریں گے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے متعلق قاضی انور کی مبینہ آڈیو لیک

  • پاکستانی ایف-16 گرانے کا دعویٰ سفید جھوٹ اور فیک نیوز ہے، سیکیورٹی ذرائع

    پاکستانی ایف-16 گرانے کا دعویٰ سفید جھوٹ اور فیک نیوز ہے، سیکیورٹی ذرائع

    سیکیورٹی ذرائع نے بھارتی میڈیا پر پاکستانی ایف-16 طیارہ گرانے کی خبر کو سفید جھوٹ اور گمراہ کن پراپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت حالیہ دنوں میں ہیروپ ڈرون حملوں میں مسلسل ناکامی کے بعد شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اپنی خفت مٹانے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائیوں نے بھارت کو مکمل طور پر مفلوج اور کنفیوز کر کے رکھ دیا ہے۔ ڈرون حملوں کی ناکامی کے بعد بھارت نے راجستھان، پٹھان کوٹ اور مقبوضہ کشمیر میں خیالی حملے گھڑنے شروع کر دیے ہیں، تاکہ ان جھوٹے دعوؤں کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کا جواز حاصل کیا جا سکے۔

    ذرائع نے واضح کیا ہے کہ افواجِ پاکستان بھارت کے ہر ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی فضائی اور زمینی دفاعی صلاحیتیں ہر طرح کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہیں، اور قوم کو اپنی افواج پر مکمل اعتماد ہے۔مزید برآں، سیکیورٹی اداروں نے بھارتی عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے میڈیا کی بے بنیاد اور اشتعال انگیز خبروں سے ہوشیار رہیں، کیونکہ اس طرح کی فیک نیوز خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    بھارت کامذموم مقاصد کیلئےناکام پروجیکٹائل حملہ، ڈی جی آئی ایس پی آرنےکیا شواہدکیساتھ بے نقاب

    مودی سرکار کی جعلی اے آئی ویڈیو بنا کر بھارتی قوم کو حوصلہ دینے کی ناکام کوشش

    پاکستان نے مقبوضہ کشمیر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، سیکیورٹی ذرائع

  • تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے غلط خبروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اور اینکر پرسن منصور علی خان ایئرپورٹ پر موجود تھے جب انہیں پہلی بار "القادر ٹرسٹ کیس” کے حوالے سے خبر ملی ،بریکنگ نیوز دی گئی کہ عمران خان کو اس کیس میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ہم دونوں پرواز میں سوار ہوئے اور جب اترے تو ہم نے یہ سنا کہ تین چینلز نے سب سے پہلے "عمران خان کی رہائی” کی خبر بریک کی تھی۔ تاہم، بعد میں یہ چینلز اپنی خبریں تبدیل کر گئے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212338932084749

    مبشر لقمان نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ تین چینلز اتنی بڑی خبر کیسے بغیر کسی مستند ذریعہ کے نشر کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش یا وجہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تین چینلز یکساں طور پر ایسی خبر نشر کریں، جب تک کہ انہیں یہ کہانی ایک ہی ذریعے سے نہ دی گئی ہو۔ ان چینلز کی اس غیر ذمہ دارانہ صحافتی عمل کے پیچھے ایک اور بڑا سوال ہے کہ آیا ان کے پاس اس خبر کی تصدیق کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ تھا یا نہیں؟ جب محسن نقوی کے چینل پر ایسی خبر نشر کی جاتی ہے، تو یہ بات زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں اور ان کے چینل کو دیگر چینلز کی نسبت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212983726362969

    مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان تمام چینلز پر یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے عدالت کے رپورٹر کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، لیکن اس نوعیت کے جھوٹے یا مسخ شدہ خبریں دینے سے صحافتی معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عدالت نے آج فیصلہ سنا یا ہے اور عمران خان کو 14 برس، بشریٰ بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے، بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے،فیصلہ آنے کے بعد اے آر وائی نے سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کی خبر چلا دی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شمع جونیجوکہتی ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا تاریخ کی سب سے بڑی فیک نیوز! آج ARY نے عمران خان کے بری ہونے کی جعلی خبر کیوں چلائی ،تاکہ PTI اسے پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے اور وہی ہورہا ہے!

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1880174060291903779

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    دنیا بھر میں جہاں ہر روز نت نئے چیلنجز جنم لیتے ہیں، وہیں ایک ایسا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو ہماری سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کو جڑوں سے ہلا رہا ہے، اور وہ ہے "فیک نیوز” یا جھوٹی خبریں۔ اس دور میں جب معلومات کا تبادلہ تیز ترین ہو گیا ہے، فیک نیوز نے ہر سطح پر فتنہ و فساد کو بڑھاوا دیا ہے، جس کا اثر نہ صرف افراد کی ذاتی زندگیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذہن سازی اور امن و امان پر بھی سنگین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

    فیک نیوز وہ جھوٹ یا غلط معلومات ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جاتی ہیں، چاہے وہ سیاسی، سماجی، یا معاشی فوائد کے لیے ہو۔ یہ خبریں عام طور پر جذباتی، اشتعال انگیز، یا تضحیک آمیز ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکے یا کسی گروہ یا فرد کے خلاف نفرت یا تعصب پیدا کیا جا سکے۔ جب فیک نیوز پھیلتی ہے تو اس سے لوگوں میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک جھوٹی خبر کسی خاص قوم، مذہب یا علاقے کے بارے میں شائع کی جاتی ہے جس سے نہ صرف ان افراد کا تشخص مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک قوم کے اندر نفرت کا بیج بھی بو دیا جاتا ہے۔ اس سے سماج میں تقسیم اور انتشار بڑھتا ہے۔ فیک نیوز کا سب سے بڑا فائدہ سیاسی جماعتوں یا مفاد پرست افراد کو ہوتا ہے، جو ان جھوٹی خبروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبریں کسی سیاسی رہنما کو بدنام کرنے یا عوام میں حکومتی اقدامات کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا کرتی ہے، بلکہ اقتصادی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جھوٹی اقتصادی خبریں کمپنیوں یا کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا سرمایہ کاروں کو جھوٹی افواہوں کی بنیاد پر غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

    فیک نیوز کا سب سے برا اثر امن و امان پر پڑتا ہے۔ یہ افواہیں اور جھوٹی خبریں فساد اور تشدد کو جنم دیتی ہیں، اور لوگوں کے درمیان نفرت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر اس کا فوری طور پر خاتمہ نہ کیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افراد آپس میں محبت، احترام اور امن کے ساتھ رہیں۔ جب جھوٹی خبریں پھیلتی ہیں تو اصل حقائق اور معلومات چھپ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو فیصلے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ لوگ صحیح، معتبر اور اصل معلومات تک رسائی حاصل کریں، جس سے ان کے فیصلے بہتر اور جاندار ہوتے ہیں۔ ہر فرد اور ادارہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکے اور سچائی کا پرچار کرے۔ اگر ہم سچائی کی ترویج کرتے ہیں اور جھوٹی خبروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ہم سماج میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون کا سختی سے اطلاق ضروری ہے۔ جہاں فیک نیوز کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہے، وہاں عوامی سطح پر شعور بھی بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیک نیوز کا شکار نہ ہوں اور ان کو پھیلانے سے گریز کریں۔

    فیک نیوز سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
    کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی اصل ذرائع کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ آج کل بہت سی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور موبائل ایپلیکیشنز پر خبریں باآسانی پھیلائی جاتی ہیں، لیکن ان کا ہر وقت صداقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خبر کو صرف اس کے سرخی یا عنوان پر نہ پڑھیں، بلکہ اس کی حقیقت کو جانچیں۔ معتبر اور معروف ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر خبروں کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا فیک نیوز کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اگر کسی خبر میں کوئی سنسنی خیز بات ہو یا وہ جذبات کو اُبھارے، تو اس کا ممکنہ طور پر جھوٹ ہونا زیادہ ہوتا ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے طلباء کو میڈیا کی سواد پر تعلیم دیں تاکہ وہ فیک نیوز کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور اس سے بچ سکیں۔

    فیک نیوز کے پھیلاؤ کا فوری خاتمہ نہ صرف ہمارے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر اور پرامن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ ہمیں فیک نیوز کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ لڑنی ہوگی، تاکہ ہم اپنے معاشرے کو ہر قسم کی فتنہ و فساد سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے لیے حکومت، میڈیا، اور عوام کو یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

  • فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز

    فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز

    اسلام آباد: حکومت نے فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کردیں۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق سائبر کرائم ترمیمی بل کے ابتدائی مسودہ میں فیک نیوز دینے والے کو 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے،بل کے ابتدائی مسودہ کے مطابق ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کو سوشل میڈیا پر مواد بلاک یا ہٹانے کا اختیار دیا جائے گا اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔

    علاوہ ازیں مذکورہ اتھارٹی ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والے مواد کو بھی ہٹانے کا اختیار ہوگا اتھارٹی میں ایک چیئرمین اور 6 اراکین شامل ہوں گےاتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف ٹربیونل میں اپیل کی جا سکے گی، یہ بل حکومت کی جا نب سے ڈیجیٹل حقوق اور معلومات کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

  • فیک نیوز پھیلانے کا مقدمہ،ایاز امیر،سمیع ابراہیم کی ضمانت منظور

    فیک نیوز پھیلانے کا مقدمہ،ایاز امیر،سمیع ابراہیم کی ضمانت منظور

    سیشن کورٹ لاہور میں نجی کالج سے متعلق سوشل میڈیا پر مبینہ زیادتی کی فیک نیوز کا مقدمہ ،صحافی ایاز میر ،شاکر اعوان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی

    ایف آئی اے حکام نے کہا کہ انوسٹی گیشن مکمل نہیں ہے 3 ہفتوں کی مہلت فراہم کی جائے. ( ایکس) کو نعیم بخاری اور ایاز میر کے اکاؤنٹس سے متعلق لکھا ہے اس کا جواب آنا باقی ہے، جج سلیمان گھمن نے استفسار کیا کہ دیگر ملزمان کی تفتیش کہاں تک پہنچی ہے،تفتیشی افسر نے کہا کہ دیگر ملزمان کی تفتیش بھی جاری ہے حتمی رپورٹ نہیں بنائی، عدالت نے کہا کہ مجھے 1 مرتبہ بتا دیں آپکو تفتیش کےلیے کتنا وقت درکار ہے، عدالت نے ایف آئی اے کو تفتیش مکمل کرنے کی مہلت دے دی ،تمام ملزمان کی عبوری ضمانت میں 16 دسمبر تک توسیع کر دی گئی، جج نے کہا کہ آپ تفتیش مکمل کریں اور آئندہ سماعت پر تفتیش جمع کروائیں۔ فراء اقرار، سمیع ابراہیم سمیت دیگر کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے کہا کہ غیر حاضر ملزمان کی ایک بار حاضری معافی دے رہا ہوں۔ایڈیشنل سیشن جج سلیمان گھمن نے عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

    وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایاز امیر کے نام سے ایک جعلی ٹویٹر اکائونٹ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے فیک نیوز پھیلائی گئی، ایاز امیر کا اس ٹویٹر اکائونٹ اور پھیلائی گئی فیک نیوز سے کوئی تعلق نہیں ہے ،استدعا ہے کہ درخواست گزار کی عبوری ضمانت منظور کی جائے اور مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے

    لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ جج کے گن مین سےمتعلق خبریں جھوٹی ہیں، پولیس

    سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ جج کے گن مین سےمتعلق خبریں جھوٹی ہیں، پولیس

    سندھ پولیس نے سوشل میڈیا پر سندھ ہائیکورٹ کے جج جناب صلاح الدین پنہور صاحب کے گن مین کے متعلق وائرل خبریں بے بنیاد ہیں اور جھوٹی قرار دے دیں.

    ایس ایس پی سٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سینئر جج جناب صلاح الدین پنہور صاحب کے پاس سلیم نامی گن مین کبھی تعینات نہیں رہا،پولیس ریکارڈ میں سلیم نامی کسی بھی اہلکار کی ڈیوٹی ڈسٹرکٹ سٹی اور سکیورٹی زون میں نہیں رہی.ایس ایس پی سٹی نے مزید بتایا کہ من گھڑ ت اور بے بنیاد خبریں چلانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے،نوائے وفاق نامی اخبار کےحوالےسے سوشل میڈیامیں چھپنے والی من گھڑت خبر کے متعلق اے پی این ایس سے رجوع کیا جارہا ہے.دوسری طرف نوائے وفاق نے ڈسٹرکٹ سٹی پریس ریلیز میں اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح بیان جاری کیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ سٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں ان کے حوالے سے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔ نوائے وفاق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادارے کا ہائیکورٹ جج صلاح الدین پنہور کے خلاف کسی بھی قسم کی خبر شائع کرنے سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی انہوں نے ایسی کوئی خبر شائع کی ہے.

  • عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سائبر کرائمز ،ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل ملتان کی کاروائی ، سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلانے اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے میں ملوث ملزم گرفتار کر لیا گیا

    ملزم کی شناخت محمد یونس کے نام سے ہوئی۔ملزم کو چھاپہ مار کاروائی میں میاں چنوں ضلع خانیوال سے گرفتار کیا گیا،ملزم سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلانے اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے میں ملوث پایا گیا،ملزم نے مبینہ طور پر جعلی زیادتی کے الزامات کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلائیں جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔چھاپہ مار کاروائی میں ملزم کے قبضے سے موبائل فون ضبط کر لیا گیا،ضبط شدہ موبائل فون سے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور دیگر ثبوت برآمد ہوئے،ملزم نے سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلا کر عوام کو ریاست کے خلاف اکسایا، ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا

    غیر اخلاقی ویڈیوشیئر کرنے پر دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہور کے شہری فرحان آصف کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، فرحان آصف کو لاہور سے گرفتار کیا گیا، فرحان آصف نے ویب سائٹ پر جعلی خبر شائع کی تھی جس سے برطانیہ میں فسادات میں تیزی آئی تھی، لاہور پولیس نے تصدیق کی ہے فرحان آصف کو گرفتار کر کے ایف آئی اےکی تحویل میں دے دیا گیا ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے فیک نیوز دینے والے فرحان آصف کی گرفتاری کے حوالہ سے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "برطانیہ کے بارے میں جھوٹی خبریں دینے والا فرحان آصف لاہور سے گرفتار ،برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں مسلسل جھوٹی خبریں دینے والوں کا کیا ہوگا؟ ان کو بھی گرفتار کیا جائے”

    واضح رہے کہ برطانیہ میں عمران خان کے قریبی ساتھی اور عمران حکومت کے وزیر مرزا شہزاد اکبر،ڈاکٹر شہباز گل سمیت دیگر موجود ہیں جو آئے روز فیک خبریں سوشل میڈیا پر دیتے رہتے ہیں، تحریک انصاف ملک دشمنی میں بہت آگے نکل چکی ہے، سوشل میڈیا پر برطانیہ میں بیٹھے تحریک انصاف کے حامی پاکستانی اداروں کے خلاف جھوٹی خبریں دیتے ہیں اور پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں، بھگوڑا عادل راجہ بھی بیرون ملک ہے اور وہ بھی اس گینگ کا حصہ ہے جو پاکستان بارے جھوٹی خبریں پھیلا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں، حیدر مہدی بھی اسی گینگ میں شامل ہے، پاکستان میں اس گینگ کے کئی افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں تو کئی مقدمات میں اشتہاری ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستا ن بارے فیک نیوز دینے والے ایسے افراد کو برطانوی حکومت حراست میں لے گی یا نہیں کیونکہ پاکستان نے تو کاروائی کی ہے اور فرحان آصف کو گرفتار کیا ہے، اب برطانوی حکومت کو بھی چاہئے کہ ایسے افراد جو پاکستان دشمنی پر مبنی فیک نیوز دے کر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں انکو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا جائے،

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • پیمرا ایکٹ میں ترامیم ملازمین کے حقوق کےتحفظ کیلئےضروری تھیں،پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن

    پیمرا ایکٹ میں ترامیم ملازمین کے حقوق کےتحفظ کیلئےضروری تھیں،پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن

    اسلام آباد: پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ترامیم ملازمین کےحقوق کےتحفظ کیلئےضروری تھیں۔

    باغی ٹی وی:پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کے ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی کے ایکٹ میں ترامیم سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیمرا ایکٹ میں ترامیم اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی گئیں یہ ترامیم ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری تھیں ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا،فیک نیوزکےسدباب کیلئےکچھ اقدامات ضروری ہیں ہم وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کی کی تمام تر کوششوں کو سراہتےہیں۔

    غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا

    واضح رہے کہ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کی جانب سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی (پیمرا) کے قوانین میں ترامیم کا نیا بل جمعرات 20 جولائی کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جس پر صحافتی برادری نے تشویش کا اظہارکیا ہے،مریم اورنگزیب کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں ’ڈس انفارمیشن‘ اور ’مس انفارمیشن‘ کا سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ اور اُن کا کہنا تھا کہ نئی ترامیم کا مقصد خبروں مواد کی ساکھ بڑھانا اور گمراہ کن اطلاعات کو ختم کرنا ہے۔

    جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس …

    وزیراطلاعات نے بتایا کہ میڈیا کا پورا منظر نام بدل چکا ہے، پہلی مرتبہ صحافی کونسل آف کمپلینٹ میں اپنی شکایت درج کروا سکے گا،اس سے پہلے صحافی کو تنخواہ مانگنے پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا تھا پیمرا قانون میں ترمیم وقت کی ضرورت ہے پہلے چئیرمن پیمرا کے پاس چینل کو بند کرنے کا اختیار تھا اب تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، فیک نیوز کے تدارک کے لئے بھی قانون بنایا، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن پر علیحدہ علیحدہ کام کیادانستہ غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کردیا ہے، یہ بل ایک تاریخی بل ہے، ماضی میں پی ایم ڈی اے جیسا کالا قانون لانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

    ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی