Baaghi TV

Tag: فیک نیوز

  • غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا

    غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا

    اسلام باد: غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی :کمیٹی نے پیمرا ترمیمی بل 2023ءکو صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے بل کی تیاری میں حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس جمعہ کو ریڈیو پاکستان میں کمیٹی کی چیئرپرسن جویریہ ظفر آہیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2023ءاور دی پریس کونسل آف پاکستان (ترمیمی) بل 2023ءپر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءکے مندرجات پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے بعد پیمرا قانون میں پہلی مرتبہ ترمیم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا بل پر اپریل 2022ءمیں کام شروع ہوا، اس کی تیاری میں 13 ماہ کا عرصہ لگا جبکہ اس دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت ہوئی۔

    جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس …


    وزیراطلاعات نے بتایا کہ میڈیا کا پورا منظر نام بدل چکا ہے، پہلی مرتبہ صحافی کونسل آف کمپلینٹ میں اپنی شکایت درج کروا سکے گا،اس سے پہلے صحافی کو تنخواہ مانگنے پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا تھا پیمرا قانون میں ترمیم وقت کی ضرورت ہے پہلے چئیرمن پیمرا کے پاس چینل کو بند کرنے کا اختیار تھا اب تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، فیک نیوز کے تدارک کے لئے بھی قانون بنایا، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن پر علیحدہ علیحدہ کام کیادانستہ غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کردیا ہے، یہ بل ایک تاریخی بل ہے، ماضی میں پی ایم ڈی اے جیسا کالا قانون لانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

    تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے کی ایک اور جے آئی ٹی تشکیل

    انہوں نے کہا کہ پہلے کسی چینل پر غلط خبر چلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ صحافی نے یہ خبر ذاتی حیثیت میں دی، اب اسے چینل سے منسلک کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ پیمرا قانون کی 9 سیکشنز میں ترامیم جبکہ پانچ نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیمرا بل میں پیمرا قانون کی شقوں 2، 6، 8، 11، 13، 24، 26، 27، 29 میں ترامیم کی گئی ہیں جبکہ اس بل میں 20، 20 اے، 29 اے، 30 بی، 39 اے کی نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بل کے ابتدایئے میں خبر کی جگہ مصدقہ خبر، تحمل و برداشت، معاشی و توانائی کی ترقی، بچوں سے متعلقہ مواد کے الفاظ شامل کئے گئے ہیں، بل کےتحت عوام کی تفریح، تعلیم اورمعلومات کےدائرہ کو وسیع کردیا گیا ہےالیکٹرانک میڈیا، مصدقہ خبروں، معاشرے میں تحمل و برداشت کے فروغ کا مواد اپنی نشریات میں استعمال کرے گا، عمومی ترقی، توانائی، معاشی ترقی سے متعلق مواد بھی نشریات میں شامل کیا جائے گا۔

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ بل میں الیکٹرانک میڈیا کو ملازمین کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے۔ بروقت ادائیگی سے مراد الیکٹرانک میڈیا ملازمین کو دو ماہ کے اندر کی جانے والی ادائیگیاں ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا اور شکایات کونسل کے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے تمام فیصلوں، احکامات کی پاسداری کا پابند بنایا گیا ہےتنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی اشتہارات متعلقہ الیکٹرانک میڈیا کو فراہم نہیں کئے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ براڈ کاسٹ میڈیا کا لائسنس 20 سال کے لئے اور ڈسٹری بیوشن لائسنس 10 سال کے عرصے کے لئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر معمول کے پروگرام کے دوران اشتہار کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آنے والی خلاف ورزی اس بل کے تحت ”سنگین خلاف ورزی“ تصور ہوگی۔

    اعظم خان نے عمران خان کیخلاف بیان ریکارڈ کروا دیا

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ایک تاریخی بل ہے، پیمرا قانون میں پہلی مرتبہ پی ایف یو جے اور پی بی اے کو نمائندگی دی گئی ہے جبکہ ٹی وی چینل کے ضابطہ کار میں ”ڈس انفارمیشن“ نشر نہ کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس، اداروں اور دیگر شکایات کے ازالے کے لئے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں شکایات کونسلز بنائی جائیں گی۔ شکایات کونسلز الیکٹرانک میڈیا میں کم از کم تنخواہ کی حکومتی پالیسی، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کے نفاذ کو یقینی بنائیں گی۔ شکایات کونسل ایک چیئرمین اور پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، اس میں کام کرنے والے افراد کی مدت دو سال ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ پیمرا کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ صوبے کی ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔ اس موقع پر کمیٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے کہا کہ بل میں ترامیم کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں وقت دیا جائے جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بل کے حوالے سے تمام چیزیں آپ کو مہیا کر دی گئی ہیں، اس بل میں 9 ترامیم کی گئی ہیں جبکہ پانچ نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    باڑہ کمپاؤنڈ پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی تھی

    نفیسہ شاہ نے کہا کہ کسی بھی بل کی تیاری میں حکومت ایک سال لگا لیتی ہے لیکن کمیٹی کو کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس ایک دن کا وقت ہے۔ کمیٹی ممبران کو بھی وقت دیا جائے تاکہ مذکورہ بل کو پرکھا جا سکے۔ کمیٹی کی رکن زیب جعفر نے کہا کہ بل کو کمیٹی میں منظور کیا جائے۔ کمیٹی کی رکن ناز بلوچ نے کہا کہ کیا چینلز کا آڈٹ کیا جاتا ہے جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ٹی وی چینلز اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع کروانے کے پابند ہیں۔

    کمیٹی ممبران نے گلہ کیا کہ اس بل پر اگر 13 ماہ کام کیا ہے تو اسے کمیٹی سے اتنی جلدی منظور کروانے کی کیا ضرورت ہے؟ مریم اورنگزیب نے کہا میری گزارش ہے ابھی وقت کم ہے لہذا کمیٹی اس کو منظور کرے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

    اسٹیٹ بنک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی. اسحاق ڈار

    ٹی وی چینلز پر فحش مواد سے متعلق جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی توجہ دلاؤ نوٹس پر بولے میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی نہیں دیکھ سکتا کمیٹی ممبران نے مولانا عبدالاکبر چترالی سے کہا کہ آپ فحاشی کی تشریح کردیں، جس پر مولانا عبدا لاکبر چترالی نے واک آؤٹ کردیا، ان کے واک آؤٹ کے بعد اجلاس کی کاروائی ملتوی کردی گئی-

    اجلاس میں کمیٹی کی ارکان نفیسہ شاہ، زیب جعفر، ناز بلوچ سمیت وفاقی سیکریٹری اطلاعات سہیل علی خان، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ اور ڈی جی ریڈیو طاہر حسن نے شرکت کی۔

    عمران خان کی آئین توڑنے کی روایت پرانی ہے. بلال اظہر کیانی

  • فیک نیوز پر 3 سال قید کا قانون منظور

    فیک نیوز پر 3 سال قید کا قانون منظور

    استنبول:ترکیہ جس کو ترکی بھی کہاجاتا ہے کی پارلیمان نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر فیک نیوز پپھیلانے پر تین سال قید کا قانون منظور کرلیا۔

    یہ نئے قوانین ترکیہ میں عام انتخابات سے 8 ماہ پہلے نافذ کیے گئے جسے ترک صدر رجب طیب ایردوان حکومت کی میڈیا پر گرفت مضبوط کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔جمعرات کو ترکی میں اس قانون کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے اسکی شدید مخالفت کی۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    اپوزیشن کے ایک رکن براک ایربے نے احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اپنے موبائل فون کو ہتھوڑے سے توڑ دیا۔گزشتہ دسمبر میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ: آج کے دور میں سوشل میڈیا جمہوریت کیلئے ایک خطرہ میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔

    رواں سال کے آغاز میں دنیا بھر میں میڈیا کی آزادی پر نظر رکھنے والے ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنی سالانہ رپورٹ میں میڈیا فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے ترکی کو 149 ویں درجے پر رکھا تھا۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

    یاد رہے کہ پاکستان میں بھی فیک نیوز پر سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، اس سلسلے میں جھوٹی خبروں کو قابل جرم سزا سے متعلق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا ، جسے عدالت نے ختم کردیا تھا

    اس آرڈیننس کے مطابق یہ سزا مقرر کی گئی تھی کہ کسی بھی فرد کے تشخص پر حملے پر قید 3 سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی، شکایت درج کرانے والا متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہوگا۔

    ترمیمی ایکٹ میں شخص کی تعریف شامل کردی گئی جس میں ایسوسی ایشن، ادارہ، تنظیم یا اتھارٹی شامل ہیں جو حکومتی قوانین سے قائم کی گئی ہوں.

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو حاصل استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے۔ترمیمی ایکٹ کی سیکشن 20 میں ترمیم سے کسی بھی فرد کے تشخص کے خلاف حملہ کی صورت میں قید 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی۔

    دانستہ طور پر عوامی سطح پر انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ایسی معلومات نشر کرے جو غلط ہو اور اس سے کسی شخص کی ساکھ یا نجی زندگی کو نقصان پہنچے اس کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی تھی

  • اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    اقوام متحدہ فیک نیوز کیخلاف ٹاسک فورس بنائے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری

    گروپ آف فرینڈز کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ فیک نیوز کی سرکوبی کیلئے انٹرایجنسی ٹاسک فورس بنائے۔ تاکہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کاخاتمہ ہوسکے۔

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق : وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی غلط معلومات کا سراغ لگانے، تجزیہ کرنے اور اسے بے نقاب کرنے کا نظام بنائیں جس میں قومی اور بین الاقوامی محققین اور ان اداروں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے جو غلط معلومات کا سراغ لگانے میں معاون ثابت ہوں۔
    وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ: اقوام متحدہ کا محکمہ اطلاعات اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور اس اقدام سے جھوٹی خبروں کا سدباب کرنا ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ: انسانی حقوق ، مختلف کمیونٹیز اور ریاستوں کے درمیان آپسی تعلقات پر غلط معلومات کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے بھی یہ ضروری ہے ہم سب مل کر فیک نیوز کا جڑ سے خاتمہ کریں تاکہ ریاستوں اور کمیونٹیز کے درمیان کسی بھی پید ا ہونے والی غلط فہمی کو روکا جاسکے۔

  • کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    سوشل میڈیا پر آئے روز آپ کو کچھ نہ کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ماسوائے فیک نیوز پھیلانے کے اسی طرح آج کل سینئر صحافی حامد میر سے متعلق جھوٹی خبر پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں باہر جارہے ہیں۔
    اسی فیک خبر کا سہارا لیتے ہوئے ایک خودساختہ ٹی وی اینکر حفصہ فیاض نے دعوی کیا کہ: اینکرپرسن سلیم صافی کا استعفی دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ صحافی حامد میر کا ایک ماہ چھٹی لیکر باہر جانے کی بھی اطلاع ہے۔

    اس خاتون نے مزید دعوی کیا کہ: ایک معروف چینلز کے تین سینئر اینکرز بھی استعفی دے چکے اور کسی بیرون ملک چلے گئے۔

    اس خاتون کے دعوی کی تردید کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ: "عمران خان کے دور حکومت میں مجھ پر نو ماہ پابندی رہی لیکن میں پاکستان سے نہیں بھاگا تو اس دور میں کیوں بھاگوں گا؟ ہر دور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، آج کل بھی کچھ مشکلات ہیں لیکن میں چھٹی لیکر کہیں نہیں جا رہا ہوں۔”
    حامد میر نے مزید کہا کہ: عمران خان کے دور میں بھی کچھ سیاستدانوں کے انٹرویو سنسر کرائے جاتے تھے اس دور میں بھی کچھ شخصیات کے انٹرویو کرنا مشکل ہے مثال کے طور پر منظور پشتین کا انٹرویو نشر کرنا بہت مشکل ہے منظور پشتین پر وہی مقدمات ہیں جو عمران خان پر بھی ہیں لیکن ایک ٹی وی پر آ سکتا ہے دوسرا نہیں۔


    حامد میر کی تردید کے بعد شبیر جان نے انہیں لکھا کہ: عمران خان کے دور میں آپ پر پابندی جیو نے لگائی تھی ناکہ عمران خان نے اور اگر جیو نے نہیں لگائی تو پھر جنرل رانی نے لگائی ہوگی جس کا آپ نے اپنے بیان میں ذکر کیا تھا۔

    اسلام آباد کے صحافی سید عون شیرازی کہتے ہیں کہ: جس حامد میر کو میں جانتا ہوں اُسکا جینا مرنا اسی ملک میں ہے کیونکہ حامد میر جی دار آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: حامد میر پر ہر دور میں الزامات لگائے جاتے ہیں اور انہیں سرخرو ہونےکی عادت ہے۔

  • انڈین میڈیاپاکستان کے خلاف جھوٹ بولنے سے بازنہ آیا

    انڈین میڈیاپاکستان کے خلاف جھوٹ بولنے سے بازنہ آیا

    لاہور:پاکستان کے خلاف بھارتی سوچ میں تبدیلی نہ آئی ،اطلاعات کے مطابقانڈین میڈیاپاکستان کے خلاف جھوٹ بولنے سے بازنہ آیا،غلط اور منفی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے خلاف جھوٹ بولنا بھارتی میڈیا کا وطیرہ بن گیا ، جس طرح آج بھارتی میڈیا نے سابق صدرپاکستان جنرل پرویز مشرف کی وفات کی جھوٹی خبرپھیلا دی

    یہ پہلا موقع نہیں بلکہ بھارت نے موقع پر پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بویا،

    آج جہاں ایک طرف بھارتی میڈیا سابق صدرجنرل پرویزمشرف کی وفات کی جھوٹی خبریں پھیلا رہا تھا تو دوسری طرف سابق صدر کے خاندان کی طرف سے ایسی جھوٹی خبروں کو نہ صرف مسترد کیا گیا بلکہ جھوٹ قراردیا گیا مگراس کے باوجود بھارتی میڈیا ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹی خبر نشر کرتا رہا

     

    https://www.indiatoday.in/world/story/former-pakistan-president-pervez-musharraf-passes-away-1960875-2022-06-10

     

    معروف بھارتی ترجمان ٹی وی انڈیا ٹوڈے نے تو حد کردی اورمسلسل سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وفات کی جھوٹی خبرنشرکرتا رہا ہے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=0jtDnJkygXQ

    ایسے ہی ٹی وی 9 بھارت ورش بھی یوٹیوب کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلا کرپاکستانیوں کے لیےپریشانی کا سبب بنتا رہا ہے

     

    یاد رہے کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے جھوٹی خبر کی تردید بھی کردی گئی مگربھارتی میڈی باز نہ آیا،سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقال کی جعلی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے لگیں۔

    سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف دبئی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔

    ان خبروں پر  سابق صدر کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے خاندان کی طرف سے بتایا گیا کہ پرویز مشرف وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں، وہ اپنی بیماری (امائلائیڈوسس) کی پیچیدگی کی وجہ سے پچھلے تین ہفتوں سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں

     

    ٹویٹر اکاؤنٹ سے بتایا گیا کہ ایک مشکل مرحلے سے گزرنا جہاں صحت یابی ممکن نہیں اور اندرونی اعضاء خراب اور کام کرنا چھوڑ رہے ہیں۔

     

    ٹویٹر سے آخر میں ایک مرتبہ پھر سب سے استدعا کی گئی کہ ان کی روزمرہ زندگی میں آسانی کے لیے دعا کریں۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ میری پرویز مشرف کے بیٹے بلال مشرف سے بات چیت ہوئی ہے، سابق صدر اپنے گھر پر ہیں اور صحتمند ہیں۔

  • حکومت اورمیڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیک نیوز کے خاتمے کیلئے قانون سازی کرنے کا فیصلہ

    حکومت اورمیڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیک نیوز کے خاتمے کیلئے قانون سازی کرنے کا فیصلہ

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہوئی جس میں فیک نیوز سے متعلق اہم فیصلہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیمرا قانون میں مشاورت سے قانون سازی کی جائے گی، پیمرا قانون میں فیک نیوز کے خاتمے کے لئے شق شامل کی جائے گی کیونکہ فیک نیوز سے قومی سلامتی مفادات، عوام کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا تدارک ہوگا۔

    عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری اور دوست کی اربوں کی کرپشن، تحقیقات کا حکم

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، صحافت کی موت سیاست اور جمہوریت کی موت ہے، جمہوریت اور آئین کی پیداوار ہی اظہار رائے کی اہمیت اور قدر جانتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاست، صحافت اور عوام پر چار سال قیامت کے گزرے ہیں، چینل، کالم، پروگرام، زبان اور آنکھ بند کرکے قوم کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی، پیکا آرڈنس اور پی ایم ڈی اے جیسے کالے قوانین سے 22 کروڑ عوام کو غلام بنانے کی سازش کی گئی۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافیوں کی معاشی تباہی کا احساس ہے، چاہتے ہیں جلد ان کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کریں، صحافی بے روزگار ہوئے، کئی جان سے گئے، تنخواہیں آدھی ہوگئیں، ان کے خاندان اور بچوں کی تکالیف سے آگاہ ہیں۔

    نواز شریف ،مریم نواز،حمزہ شہبازسمیت متعدد افراد کے نام ای سی ایل سے خارج

    انہوں نے غیرملکی سازش میں صحافیوں پر عمران خان کے سنگین الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سازش کے نام پر اداروں، عدلیہ، میڈیا پر کیچڑ اچھالنے والوں کو اسپیس نہ دی جائے، جھوٹ پر مبنی انتشاری فسادی بیانیے کے تدارک میں میڈیا اپنا کردار ادا کرے، سیاستدانوں کی جائے پناہ آزاد، غیرجانبدار میڈیا ہوتا ہے، ہم اسے طاقتور کریں گے۔

    میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد نے جمہوری حکومت کے آتے ہی سابق حکومت کے سیاہ قوانین کالعدم کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ‘آپ نے آتے ہی پی ایم ڈی اے کے کالے ضابطے کو کالعدم کیا، جس پر صحافتی برادری آپ کی مشکور ہے، امید ہے جمہوری حکومت جمہوری مزاج برقرار رکھے گی، آئین سے پھوٹنے والی آزادی کو تقویت دے گی۔

    پنجاب میں کمیشن کھانے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا،مریم اورنگزیب

  • آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب
    وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب سے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے قانون سازی کرنے پر اتفاق کیا گیا ،فیصلہ کیا گیا کہ پیمرا قانون میں مشاورت سے قانون سازی کی جائے گی، پیمرا قانون میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے شق شامل کی جائے گی،فیک نیوز سے قومی سلامتی مفادات، عوام کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا تدارک ہوگا

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،چار سال میں ملک کی معیشت کی طرح میڈیا کو بھی مالی طور پر تباہ کیا گیا،صحافیوں کی معاشی تباہی کا احساس ہے، نقصانات کا ازالہ کرنے کے خواہاں ہیں،ملک کی معاشی تباہی کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں،اداروں، عدلیہ، میڈیا پر کیچڑ اچھالنے والوں کو سپیس نہ دی جائے،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اطلاع ہے کہ کچھ فائلیں غائب کی گئی ہیں،عوام نے فیصلہ کرنا ہے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں کا یا ترقی کا ساتھ دینا ہے، پاکستان کی معیشت تباہ کرنے والے معاشی دہشت گردوں نے اپنے دور میں اقتصادی اشاریوں پر بھی جھوٹ بولا یہ جھوٹے ہیں، ان کا مقصد ہی جھوٹ بولنا ہے یہ ملک میں مہنگائی، قرضوں، بے روزگاری سمیت خراب خارجہ پالیسی کے ذمہ دار ہیں،

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ عارف علوی صدر بنیں، عمران خان کے غلام نہ بنیں اگر صدر کے عہدے کا خیال نہیں ہے تو استفیٰ دیں صدر مملکت کا عہدہ آئینی منصب ہے سیاسی نہیں آئین پر عمل کے وقت صدر، گورنر اور پی ٹی آئی بیمار پڑ جاتی ہے لاہورہائیکورٹ کے حکم کی مسلسل توہین کی جارہی ہے 21دن سے پنجاب وزیراعلیٰ اور کابینہ کے بغیر چل رہاہے

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

  • وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کی ہدایات جاری

    وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کی ہدایات جاری

    وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کی ہدایات جاری
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت میں ابھی تک پیکا کے حوالے سے بات نہیں ہوئی ہے۔پیکا کا معاملہ آئی ٹی سے تعلق رکھتا ہے۔اس پر ابھی کوئی بحث نہیں ہو سکی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی ہے انہوں نے آج کمیٹی کے اجلاس میں آنے سے معذرت کی ہے۔پیکا کے حوالے سے میڈیا کے کچھ خدشات ہیں۔اس حوالے سے جو کمیٹی بنائی ہے ان کو سنے آپ کو سہولت ہو گی میڈیا کے پیکا کے حوالے سے اعتراضات ٹھیک ہیں وزیراعظم آزادی اظہار رائے، میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتے ۔ وزیراعظم اکثر آزادی اظہار رائے کی بات کرتے ہیں ۔ پیکا کے حوالے سے مشاورت ضرور ہونی چاہئے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پیکا کے حوالے سے میڈیا کو سنے اوراگر پیکا کے حوالے سے میڈیا کی تجاویز اچھی آتی ہیں تو اس کو لازمی شامل کرنا چاہئے ۔وزارت پیکا سے اپنے آپ کو بری الزما نہیں کر سکتی۔اگلی میٹنگ میں آئی ٹی اور وزارت قانون کو بھی بلا لیتے ہیں تاکہ پیکا کے حوالے سے ان کو بھی سنا جائے۔ پیکا پر مشاورت لازمی ہونی چاہئے۔

     

    سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اچھی روایت ہے کہ اہم معاملات پر تمام فریقین کو سنا جائے۔سیکرٹری وزارت نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں پیکا کے حوالے مکمل تیاری کر کے آئیں گے اورکمیٹی کو نقطہ نظر دیں گے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جعلی خبروں کا سدباب لازمی ہونا چاہئے۔جعلی خبروں کا سدباب کیسے کرنا چاہئے اس پر اتفاق پیدا کرنے کی ضروری ہے ۔ فیک نیوز اہم مسئلہ ہے اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل ہونا چاہئے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ غلط خبریں چلا کر لوگوں کی پگڑیاں نہیں اچھالنی چاہئے۔

    قائمہ کمیٹی میں وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پہلے وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ ہوا کرتا تھا اب نہیں ہوتا۔ چیئرمین کمیٹی نے 2018 سے اب تک وزیراعظم کی تقاریر کا مجموعہ شائع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم ہاوس کا پریس سیکشن ہوتا ہے ان کو درخواست کریں گے، وہ وزیراعظم کے تقاریر کے حوالے سے مواد ہمیں مہیا کریں گے تو مجموعہ بنا کر کمیٹی میں پیش کردیں گے۔

    وزارت اطلاعات کی پی ایس ڈی پی کیلئے بجٹ تجاویز پر بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2021-2022 کیلئے 15 پی ایس ڈی پی کے منصوبے ہیں جس کیلئے 1899.530 ملین روپے مختص ہیں۔15 منصوبوں میں 11 پروجیکٹس جون 2022 تک مکمل ہو جائیں گے۔باقی 4 منصوبوں میں پی بی سی کی 3 اور پی ٹی وی سی کا ایک فارن فنڈڈ منصوبہ شامل ہے، یہ چار باقی منصوبے اگلے پی ایس ڈی پی 2022-2023 میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت اطلاعات کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد فیصلے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ژوب بلوچستان میں ریڈیو ٹرانسمیٹرکی بحالی،ژوب ریڈیو اسٹیشن سے کلاس فور ملازمین کے تبادلوں اور ریڈیو اسٹیشن ژوب کی زمین پر قبضے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 22 ایکڑژوب ریڈیو کی زمین ہے وہاں کا ٹرانسمیٹر خراب ہو چکا ہے۔ٹرانسمیٹر کو بدلنے کے بجائے زمین پر قبضہ کرلیا گیا۔ژوب ریڈیو اسٹیشن میں کلاس فور کے ملازمین کا سندھ اور پنجاب میں تبادلہ کر دیا گیا جو کہ افسوس ناک ہے۔جس پر پی بی سی حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 1998 میں یہ ٹرانسمیٹر لگایا گیا اور 2014 میں مدت پوری ہونے اور اینالاگ ہونے کی وجہ سے بند کردیا گیا۔ 2015 میں ڈی آئی خان میں 100 کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر لگایا گیا جس کی نشریات ژوب تک جاتی ہیں۔ژوب کی زمین کسی اور کے حوالے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی زیر قبضہ ہے۔ژوب کا ریڈیو اسٹیشن بند ہونے کی وجہ سے وہاں کام نہیں تھا جس کی وجہ سے وہاں کے اسٹاف کو قریب تعین اسٹیشنز میں بھیجا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے قائمہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں ژوب ریڈیو اسٹیشن میں تمام عملے کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر زعرفان الحق صدیقی، مولا بخش چانڈیو، نسیمہ احسان، محمد طاہر بزنجو، انورلعل دین نے شرکت کی جبکہ سینیٹر کامران مرتضیٰ بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے- سیکٹری وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت کے دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی اجلاس میں شریک ہوئے.

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار

    تمام اختیارات وزیراعظم کو دے دیئے گئے،شیخ رشید کا دعویٰ

    عمران خان نےدیرکردی،نسلی دوست ساتھ کھڑاہوتاہے،شیخ رشید کا چودھری برادران کو پیغام

  • اکیسویں صدی،سوشل میڈیا کا ٹائم،کوئی بند نہیں کر سکتا،عمران خان کی 2017 کی ویڈیو وائرل

    اکیسویں صدی،سوشل میڈیا کا ٹائم،کوئی بند نہیں کر سکتا،عمران خان کی 2017 کی ویڈیو وائرل

    اکیسویں صدی،سوشل میڈیا کا ٹائم،کوئی بند نہیں کر سکتا،عمران خان کی 2017 کی ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے سوشل میڈیا پر پابندیوں کے حوالہ سے جن جذبات و خیالات کا اظہار کیا تھا آج اسی کے خلاف چل رہے ہیں، مطلب وزیراعظم عمران خان بدلے نہیں یوٹرن پر یوٹرن لے رہے ہیں،

    تحریک انصاف کی حکومت سوشل میڈیا پر شکنجہ کس رہی ہے، حکومت پر کی جانے والی تنقید کو روکنے کے لئے ایسا قانون لایا گیا جس پر سیاسی جماعتیں بھی احتجاج کر رہی ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے اس قانون کو عدالت میں لے جانے کا اعلان کیا ہے،اب وزیراعظم عمران خان کی سوشل میڈیا کے حوالہ سے 23 مئی 2017 کو کی جانے والی گفتگو کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں عمران خان کہتے ہیں کہ میڈیا کو کوئی نہیں روک سکتا، سوشل میڈیا پر کیمپین کا ری ایکشن آتا ہے، کئی بار میں نے فیصلہ کیا ہو تو ہماری ٹیم ہمارے ہی خلاف ری ایکشن کرتی تو کیا اب اسکا حل ہے کہ میں سوشل میڈیا بند کروں، یہ اکیسویں صدی ہے، سوشل میڈیا کا ٹایم ہے، لوگوں کو پکڑ کر ایف آئے اے حراست میں لے،شرم آنی چاہئے سوشل میڈیا کو اب کوئی نہیں روک سکتا، ٹرمپ سوشل میڈیا سے جیتا ہے، فوج کی آڑلے کر آزادی اظہار رائے کا منہ بند کریں گے اپنی حکومت کو تنقید سے بچانے کے لئے،

    17 مئی 2017 کو ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جو بھی سوشل میڈیا کو بند کیا جا رہا ہے، اسکو سمجھ ہی نہیں ہے کہ سوشل میڈیا ہے کیا، یہ جو کر رہے ہیں اسکا غلط تاثر جائے گا

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں،صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پیکا آرڈیننس کو مسترد کیا عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں آرڈیننس پر تنقید کو بلا جواز قرار دیا گیا ، اگر آرڈیننس فیک نیوز کو روکنے کے لیے ہے تو اس میں تشریح کیوں نہیں کی گئی؟آرڈیننس کا سیکشن 20 آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے، حکومت کا کاروبار آرڈیننس پر ہی چل رہا ہے، ساڑھے 3سال میں 70 سے زائد آرڈیننس جاری کیے گئے ہیں،اگر نیت ٹھیک تھی تو ترامیم پارلیمان میں کیوں پیش نہیں کی گئی؟پارلیمان کے اجلاس کیوں ملتوی کیے گئے؟ نئی ترمیم میں آن لائن ہتک عزت کو ناقابل ضمانت اور قابل سزا جرم بنا دیا گیا آرڈیننس کے مطابق ہتک عزت کا دعویٰ متاثرہ فریق کے ساتھ کوئی بھی کر سکتا ہے،ہتک عزت ہوئی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ ایف آئی اے کا دائر وسیع کر دیا گیا ،مارشل لا کے قانون ناقابل قبول ہیں حکومت پر تنقید ریاست پر تنقید نہیں، پی ٹی آئی خود کو ریاست سمجھنا بند کرے،ہم پیکا قانون کو چیلنج کریں گے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اچانک آرڈیننس لانا سمجھ سے بالاترہے حکومتی آرڈیننس تمام پاکستانیوں پر لاگو ہوگا،حکومت کی جانب سے زبان بندی کیلئے کالا قانون لایا گیا ہے، حکومتی آرڈیننس اظہاررائے کی آزادی کو روکنے کے لیے لایا گیا ہے،ہرقانون میں بہتری لانا ضروری ہوتا ہے، تبدیلی کے نعرے لگانے والے اس ترامیم کو پڑھ لیں،عمران خان نے عوام کوذہنی غلام بنانے کیلئے ترمیم کی،کسی حکومتی ادارے پر تنقید پرضمانت نہیں ہوسکے گی،تمام سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا گفتگو اس میں شامل ہے پیکا 2016 کا قانون ہے جس میں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کیں ،حکومت بتائے پیکا قانون میں اچانک ترامیم کیوں کی گئی؟پیکا قانون میں ترامیم اس لیے کی گئی ہیں کہ عمران خان کو تنقید برداشت نہیں،سب سے پہلے یہ قانون عمران خان پر لاگو ہونا چاہیے ،جھوٹے الزامات پرعمران خان کو گرفتار کر کے 10سال سزا دینی چاہیے،ڈیلی میل میں شہبازشریف کے خلاف جھوٹی خبر چلوائی گئی، یہ کالا قانون ،زبان بندی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کوئی بھی ادارہ جو حکومت نے بنایا اس پر تنقید قابل سزا جرم بنا دیا گیا ،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے فیک نیوزدینے والے کوبغیروارنٹ گرفتاری پکڑ لے گی، کالے قانون میں فیک نیوزکی کوئی تعریف موجود نہیں ،فیک نیوز تصور کر کے مقدمہ درج اور گرفتار کر لیا جائے گا 5سال بعد فیک نیوزنہ نکلے تو یہ اس کی قسمت ہے الزام کی کوئی تعریف موجود نہیں ہے اس قانون میں فیک نیوز کہہ دینے سے سزا ہو جائے گی ،ری ٹویٹ کرنے پر بھی 5 سال سزا ہوگی،

    فیک نیوز،جھوٹی خبروں پرپابندی کا قانون:آزادی رائے کے اظہارپرپابندی ہے:مریم نوازآرڈیننس پرسخت برہم 

    پینڈورہ پیپرز،فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کرنیوالے حکومتی اراکین فیک نیوز پھیلاتے رہے

    فیک نیوز کیخلاف قوانین سخت ہوگئے تو عمران خان تقریر کرنی ہی بھول جائے گا،مائزہ حمید

    جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    پیپلز پارٹی الیکشن ایکٹ اور پیکا قانون میں ترامیم لاکر عوام کو خاموش کرانے کے حکومتی سازش کی بھر پور مخالفت کرتی ہے،پی پی رہنما شازیہ مری کہتی ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئندہ انتخابات میں دھاندھلی کا ایک نیا منصوبہ ہے،حکومت کو اپنی نااہلی اور ناکامی واضح طور پر نظر آ رہی ہے اس لئے اب ذاتی مفادات کے لئے قانون ہی تبدیل کیا جا رہا ہے،حکومت کو غیر قانونی اقدامات کے ذریعے انتخابات چوری کرنے نہیں دیں گے،شازیہ مری نے مزید کہا کہ عوام کو نا گھبرانے کا مشورہ دینے والی حکومت اب خود کیوں گھبرا رہی ہے؟پیکا قانون کے تحت عام لوگوں کی آواز کو دبانا غیر جمہوری عمل اور عام شہری کے حقوق کی خلاف ورزی ہے،

    اینکر پرسن کامران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تمام تقاریر وعدے دعوے بھول گئے اب چند نام نہاد VVIPs بچاؤ کے لئے میڈیا آزادی کو قید کرنے کا PECA آرڈیننس جاری کردیا اس ڈراؤنے قانون نے صحافیوں ایڈیٹرز میڈیا مالکان انسانی حقوق تنظیموں کو متحد کردیا ہے خانصاحب آرڈیننس فوری واپس لیں ورنہ میڈیا غیض وغضب کا انتظار کریں

  • فیک نیوز،جھوٹی خبروں پرپابندی کا قانون:آزادی رائے کےاظہارپرپابندی ہے:مریم نوازآرڈیننس پرسخت برہم

    فیک نیوز،جھوٹی خبروں پرپابندی کا قانون:آزادی رائے کےاظہارپرپابندی ہے:مریم نوازآرڈیننس پرسخت برہم

    لاہور:فیک نیوز،جھوٹی خبروں پرپابندی کا قانون:آزادی رائے کے اظہارپرپابندی ہے:مریم نوازآرڈیننس پرسخت برہم ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان الیکٹرانک ایکٹ ترمیمی آرڈیننس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین عمران اینڈ کمپنی کے خلاف استعمال ہونے والے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے لکھا کہ حکومت جو بھی قوانین بنا رہی ہے کہنے کو تو میڈیا اور اپوزیشن کی آواز بند کرنے کے لیے ہیں، مگر یہ قوانین عمران اینڈ کمپنی کے خلاف استعمال ہونے والے ہیں، پھر نا کہنا بتایا نہیں! ۔

     

     

    خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان الیکٹرانک ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا ہے جس کے مطابق کسی بھی فرد کے تشخص کے خلاف حملہ کی صورت میں قید کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے۔

    پاکستان الیکٹرانک ایکٹ ترمیمی آرڈیننس صدر مملکت کی جانب سے جاری کیا گیا، ترمیمی ایکٹ میں شخص کی تعریف شامل کردی گئی، شخص میں کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی شامل ہیں جبکہ کسی بھی فرد کے تشخص کے خلاف حملہ کی صورت میں قید 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے اورسیکشن 20 میں ترمیم کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ شکایت درج کرانے والا شخص متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہوگا۔

    جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا ہے، یہ ناقابل ضمانت ہوگا، ٹرائل کورٹ 6 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی، ٹرائل کورٹ ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائیکورٹ کو جمع کرائے گی، ہائیکورٹ کو اگر لگے کہ کیس جلد نمٹانے میں رکاوٹیں ہیں تو رکاوٹیں دور کرنے کا کہے گی۔

    آردیننس میں کہا گیا کہ وفاقی، صوبائی حکومتیں اور افسران کو رکاوٹیں دور کرنے کا کہا جائے گا، ہر ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسز کیلئے نامزد کرے گا۔

    صدرمملکت نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بھی آرڈیننس جاری کردیا جس کے مطابق تمام اسمبلیوں، سینیٹ اور مقامی حکومتوں کے ممبران الیکشن مہم کے دوران تقریر کرسکیں گے، کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر اور منتخب نمائندے حلقے کا دورہ کرسکیں گے۔