Baaghi TV

Tag: قائداعظم ٹرافی

  • سیالکوٹ نے قائداعظم ٹرافی جیت لی

    سیالکوٹ نے قائداعظم ٹرافی جیت لی

    سیالکوٹ نے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں پشاور کو ایک وکٹ سے شکست دے کر قومی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

    کپتان عماد بٹ اور شاہ زیب بھٹی کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے اس جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔یوبی ایل اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں کھیلے جانے والے فائنل میں سیالکوٹ کو جیتنے کے لیی173 رنز کا ہدف ملا تھا۔میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر اس کی 5 وکٹیں صرف 59 رنز پر گرچکی تھیں اور اسے کامیابی کے لیے مزید 114 رنز بنانے تھے۔سیالکوٹ کے کپتان عماد بٹ اور احسن حفیظ بھٹی نے اننگز شروع کی لیکن صرف 10 رنز کے اضافے پر احسن حفیظ 5 رنز کے انفرادی اسکور پر عامر خان کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔عامر خان نے افضل منظور کو بھی ایک رن پر آؤٹ کردیا۔کپتان عماد بٹ کی مزاحمت جاری رہی لیکن جب سیالکوٹ کی ٹیم جیت سے صرف 22 رنز دور رہ گئی تھی وہ 65 رنز بناکر ساجد خان کی گیند پر بولڈ ہوگئے ان کی اننگز میں 9چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔شاہ زیب بھٹی اور شعیب اختر نے نویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی21 رنز بناکر ٹیم کو جیت کے قریب کردیا لیکن جب سیالکوٹ کو جیت کے لیے صرف ایک رن درکار تھا تو شعیب اختر4 رنز بناکر اسرار اللہ کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ اس موقع پر شاہ زیب بھٹی نے ساجد خان کی گیند پر چوکا لگاکر اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کردیا۔ انہوں نی51 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 4 چوکوں کی مدد سے 32رنز اسکور کیے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔آخری بیٹر علی رضا نے پانچ گیندوں کا سامنا کیا اور وہ صفر پر ناٹ آؤٹ رہے۔پشاور کی طرف سے نیاز خان چار اور عامر خان تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ نیاز خان نے میچ میں نو وکٹیں حاصل کیں۔اس قائداعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ 844 رنز سیالکوٹ کے نوجوان بیٹر اذان اویس نے اسکور کیے جس میں 4 سنچریاں اور 2 نصف سنچریاں شامل ہیں۔پشاور کے نیاز خان نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 39 وکٹیں حاصل کیں۔ٹورنامنٹ میں سب سے کامیاب وکٹ کیپر سیالکوٹ کے 19 سالہ افضل منظور رہے جنہوں نے مجموعی طور پر ایک اسٹمپڈ اور 38 کیچز لیے۔ٹورنامنٹ میں بہترین انفرادی اننگز لاہور وائٹس کے علی زریاب نے کھیلی انہوں نے سیالکوٹ کے خلاف206 رنز بنائے جبکہ بہترین انفرادی بولنگ فاٹا کے آفاق آفریدی کی رہی جنہوں نے لاہور بلوز کے خلاف 57رنز دے کر8 وکٹیں حاصل کیں۔

    ٹریفک کی روانی میں بہتری کیلئے لاہور میں نئے چھ ٹریفک سیکٹرز

    ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود تبدیل، محمد اشفاق نئے ڈی سی تعینات

  • قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں پہلے روز کا کھیل مکمل

    قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں پہلے روز کا کھیل مکمل

    قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں پہلے روز کا کھیل مکمل خاص خاص باتیں پہلے دن کے میچ کیں باغی ٹی وی کی زبانی

    • سدرن پنجاب کی جانب سے سمیع اسلم اور عدنان اکمل کی سنچریاں

    • سندھ کی اوپننگ جوڑی کے درمیان 212 رنز کی شراکت

    • خیبرپختوانخوا کرکٹ ٹیم کے اشفاق احمد کی سنچری

    • ایونٹ کے آغاز کے موقع پر جادوگر اسپنر عبدالقادر کو خراج عقیدت

    لاہو ر:قائداعظم ٹرافی کے ابتدائی راؤنڈ میں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں سدرن پنجاب نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان شان مسعود 26 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔ سدرن پنجاب کی دوسری وکٹ 50، تیسری 70 اور چوتھی 74 رنز پر گری۔ تاہم اوپنر سمیع اسلم کی دوسرے اینڈ سے مزاحمت جاری رہی۔ سمیع اسلم نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں عدنان اکمل کے ساتھ مل کر 217 رنز جوڑے۔

    باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق آج پہلے دن کے اختتام پر سمیع اسلم نے 19 چوکوں کی مدد سے 151اور عدنان اکمل نے 14 چوکوں کی مدد سے 106 رنز بنائے ۔ دونوں کھلاڑی میچ کے دوسرے روز سدرن پنجاب کی جانب سے 291 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کھیل کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ شان مسعود 12، عمران رفیق 5، صہیب مقصود 6 اور عمر صدیق 4 اسکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سنٹرل پنجاب کی جانب سے وقاص مقصود نے 3 اور حسن علی نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں کھیلے جانے والے میچ میں نو ٹاس قانون کا استعمال کیا گیا۔ بلوچستان کرکٹ ٹیم کے کپتان حارث سہیل نے ٹاس کیے بغیر بطور مہمان ٹیم پہلے فیلڈنگ کا انتخاب کیا۔ سندھ کی اوپننگ جوڑی نے سست رفتار بیٹنگ سے اننگ کا آغاز کیا تاہم خرم منظور 105رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے جبکہ عابد علی 120رنز بنا کر ناٹ آؤٹ ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 212رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ سعد علی 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اسد شفیق اور عابد علی سندھ کی جانب سے کل اننگ کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ بلوچستان کی جانب سے یاسر شاہ نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پہلے روز کے اختتام پر سندھ کا اسکور237 رنز رہا اور اس کے 2 کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔

    ناردرن اور خیبرپختوانخوا کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ میچ میں ناردرن کرکٹ ٹیم نے بطور مہمان ٹیم ٹاس کرنے کی بجائے پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میزبان ٹیم نے دن کے اختتام تک 4 کھلاڑیوں کے نقصان پر 343 رنز بنائے۔ خیبرپختوانخوا کی جانب سے فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان نے اننگ کا آغاز کیا۔ فخرزمان نے 33 رنز بنائے جبکہ صاحبزادہ فرحان 29 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق اشفاق احمد اور افتخار احمد کے درمیان 117 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ اشفاق احمد نے 106 رنز کی شاندار اننگ کھیلی۔ ان کی اننگ میں 14 چوکے اور 1 چھکا شامل تھا۔ مڈل آرڈر بیٹسمین افتخار احمد 35رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ خیبرپختوانخوا کی جانب سے میچ کے دوسرے روز کپتان محمد رضوان 84 اور عادل امین 49 رنز سے اپنی اننگز کا آغاز کریں گے۔ ناردرن کی جانب سے عماد وسیم، صدف حسین اور موسیٰ خان نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    قائداعظم ٹرافی کے آغاز کے موقع پر لیجنڈری کرکٹر عبدالقادر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ تینوں سنٹرز پر میچ سے قبل جادوگر اسپنر کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سوگ میں تمام کھلاڑیوں نے سیاہ رنگ کی پٹیاں پہن رکھی تھیں۔

  • قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی  کی زبانی

    قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر، 47 سالہ سفر کی کہانی باغی کی زبانی

                    قائداعظم ٹرافی، پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ماتھے کا جھومر

    فرسٹ کلاس کرکٹ کسی بھی کرکٹ کھیلنے والے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹیسٹ کھیلنے والے تمام بڑے ممالک میں ایک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ایسا ضرور ہوتا ہے جس کے گرد اس ملک کی ڈومیسٹک کرکٹ گردش کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ مقام قائداعظم ٹرافی کو حاصل ہے جو بانیِ پاکستان کے نام سے منسوب ہے۔

    قومی کرکٹ کی تاریخ میں پہلا فرسٹ کلاس کرکٹ میچ آزادیِ پاکستان کے چند ماہ بعد 2 صوبائی ٹیموں پنجاب اور سندھ کے درمیان کھیلا گیا۔ باغِ جناح لاہور میں کھیلا گیا میچ 27تا 29 دسمبر 1947 تک جاری رہا تاہم پاکستانی تاریخ کے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز 6 سال بعد ہوا۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے منسوب قائداعظم ٹرافی کے پہلا ایڈیشن کا انعقاد 1953-54 میں کیا گیا۔

    ابتدائی ایڈیشن:

    قائد اعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 3 صوبائی اور 2 ڈیپارٹمنٹل سمیت کل 7 ٹیموں نے شرکت کی۔ ایونٹ میں پنجاب، سندھ، سرحد، بہاولپور، کراچی، کمبائنڈ سروسز اور پاکستان ریلویز نے شرکت کی۔ ٹورنامنٹ کے میچز کے جی اے گراؤنڈ کراچی میں کھیلے گئے۔ قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم بہالپور ٹھہری۔ فائنل میچ میں بہاولپور نے پنجاب کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔7 ٹیموں سے شروع ہونے والے اس ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد آنے والے برسوں میں 26 تک پہنچ چکی تھی تاہم آئندہ سیزن میں قائداعظم ٹرافی میں 6 ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل آئیں گی۔ ٹیموں کی محدود تعداد میں شرکت سے ایونٹ میں معیاری کرکٹ کو فروغ ملے گا۔

    ڈومیسٹک سیزن 1967-68 تک مختلف وجوہات کی بناء پر قائداعظم ٹرافی کے 4 ایڈیشنز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1960-61 میں قائداعظم ٹرافی کی بجائے ایوب ٹرافی کا انعقاد کیا گیا۔ 1965 میں جنگ کے باعث قائداعظم ٹرافی 1965-66 کے ایڈیشن کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ 1967-68 اور 1971-72 ڈومیسٹک سیزن میں بھی قائداعظم ٹرافی کے میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا تھا تاہم گذشتہ 47 سالوں سے قائداعظم ٹرافی کے میچز بلا تعطل جاری ہیں۔

    کراچی کی حکمرانی:

    ڈومیسٹک سیزن 1954-55 میں کراچی کرکٹ ٹیم نے پہلی مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نا م کیا۔ ڈومیسٹک سیزن 1971-72 تک کراچی سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے قائداعظم ٹرافی کے 14 میں سے 9 ٹائٹل اپنے نام کیے جبکہ قائداعظم ٹرافی کے 1958-59 سے 1966-67 تک مسلسل 7 ایڈیشنز شہرِ قائد کے نام رہے۔ مجموعی طور پر کراچی کی نمائندگی کرنے والی مختلف ٹیموں نے 20 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل جیتا۔ یہ قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں کسی بھی علاقائی ٹیم کی ریکارڈ تعداد میں جیت ہے۔

    کراچی بلیوز سب سے زیادہ 9 مرتبہ ایونٹ اپنے نام کرچکی ہےتاہم مسلسل 3 مرتبہ قائداعظم ٹرافی جیتنے کا ریکارڈ کراچی وائٹس کی ٹیم کے پاس ہے۔ کراچی وائٹس کی ٹیم سیزن 1990-91 سے 1992-93 تک مسلسل 3 مرتبہ ٹائٹل جیت کر فتوحات کی ہیٹ ٹرک کرنے والی واحد ٹیم ہے۔

    ڈیپارٹمنل ٹیموں کا عروج:

    قائداعظم ٹرافی کے پہلے ایڈیشن میں 2 ڈیپارٹمنٹل ٹیموں پاکستان ریلویز اور کمبائنڈ سروسز نے شرکت کی تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز قائداعظم ٹرافی جیتنے والی پہلی ڈیپارٹمنٹل ٹیم تھی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز قائداعظم ٹرافی 1969-70 کی فاتح ٹیم تھی تاہم قومی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں 70 اور 80 کی دہائیوں کو ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے عروج کا دور کہا جاتا ہے۔ان 20 سالوں میں 15مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل کسی نہ کسی ڈیپارٹمنٹل ٹیم نے جیتا۔ اس دوران 4 مرتبہ ایونٹ کی فاتح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ٹیم نے مجموعی طور پر 7 مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

    70 اور 80 کی دہائیوں میں قائداعظم ٹرافی میں میچز راؤنڈ رابن یا گروپ مرحلے پر مشتمل فارمیٹ میں کھیلے جاتے تھے۔ ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد بھی 10 سے 12 ہوتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم ٹرافی کو صرف ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کے لیے مختص کردیا گیاتھا جبکہ علاقائی ٹیمیں پیٹرنز ٹرافی میں نبرد آزما ہوتی تھیں۔

    اس کے بعد 9 سیزنز میں قائداعظم ٹرافی میں شہروں کی کرکٹ ایسوسی ایشنز کو ایک بار پھرشامل کرلیا گیا۔ اب ٹیموں کی تعداد کم سے کم 8 اور زیادہ سے زیادہ 11 رکھی گئی تھی۔

    دیگر شہروں کی کامیابیاں:

    قومی ڈومیسٹک کرکٹ کے پریمیئر ٹورنامنٹ، قائداعظم ٹرافی سےجہاں معیاری کرکٹ کوفروغ ملا تو وہیں اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے کرکٹ کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں بھی مدد ملی۔ یہ قائداعظم ٹرافی کاہی ثمر تھا کہ 90 کی دہائی میں قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کئی ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا جو لاہور یا کراچی سے نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیر تھے۔ محدود سہولیات کے حامل ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے قائداعظم ٹرافی میں بھی اپنی قابلیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    2000-01 سے 2013-14 تک سیالکوٹ نے 2 جبکہ پشاور، فیصل آباد اور راولپنڈی نے ایک ایک مرتبہ قائداعظم ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1986-87 میں راولپنڈی نے حبیب بنک لمیٹیڈ کی مضبوط ٹیم کو زیر کرکے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ 1998-99 میں پشاور کی ٹیم نے کراچی وائٹس کو ایک اننگ کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی۔

    قائداعظم ٹرافی کی تاریخ میں 6 ایڈیشنز ایسے بھی رہے جب یہ ٹورنامنٹ 2 ڈویژنزمیں کھیلا گیا۔ 2005-06 اور 2006-07 میں یہ ٹورنامنٹ گولڈ اور سلور ڈویژنز کی طرز پر کھیلا گیا۔ قائداعظم ٹرافی میں 14 ریجنز کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں دونوں گروپس کی 4 بہترین ٹیموں نے "سپر ایٹ” جبکہ آخری 6 ٹیموں نے "باٹم سکس” کی بنیاد پر میچز کھیلے۔

    قائداعظم ٹرافی کے آئندہ ایڈیشن کا آغاز 14 ستمبر سے ہورہا ہے۔ ایونٹ میں 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کی فرسٹ اور سیکنڈ الیون ٹیمیں 2 مختلف ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔

    نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر سے معیاری کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا جس سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔