Baaghi TV

Tag: قائد اعظم

  • پاکستان میں مسیحی برادری امن اور سکون سے رہ رہی ہے،وزیراعظم

    پاکستان میں مسیحی برادری امن اور سکون سے رہ رہی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی فلاح ، ترقی و خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے، یہ پاکستان کے قابل فخر مساوی شہری ہیں، پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب نےمل کر پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانا ہے، تحریک پاکستان اور اس کے بعد آج تک تعلیم ، صحت سمیت دیگر شعبوں میں مسیحی برادری کا نمایاں کردار رہا ہے۔

    وہ بدھ کو وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں کرسمس کی خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی خطاب کیا اور بشپ ڈاکٹر جوزف اشرف نے کرسمس کا پیغام پڑھ کر سنایا، مسیحی بچوں نے کرسمس کے نغمے پیش کئے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عیسیٰ امن کے داعی تھے جن کا قرآن پاک میں واضح ذکر ہے اور وہ اللہ کے پیغمبر ہیں، آج بدقسمتی سے حضرت عیسیٰ کی جائے پیدائش پر معصوم بچوں، خواتین ، بزرگوں اور نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے، ہم نے اس دن کی مناسبت سے پوری دنیا میں جہاں بھی عیسائی بستے ہیں مل کر فلسطین میں اس خون کی ہولی کو ختم کرانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم کرنا ہے۔انہوں نےکہاکہ حضرت عیسیٰ امن کے داعی تھے، ان کے مشن کے فروغ کےلئے فلسطین میں جنگ بندی وقت کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مسیحی برادری امن اور سکون سے رہ رہی ہے، ان کی قیام پاکستان اور اس کے بعد تکمیل پاکستان میں آج تک نمایاں خدمات ہیں، تعلیم اور صحت کے میدان ، سرکاری اور دفاع وطن کےلئے ان کی خدمات، 1965 اور 1971 کی جنگ سمیت پاکستان کےلئے ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ آج کے دن ہم نے مل کر امن ، ترقی کے سفر کو فروغ دینے کا عزم کرنا ہے، تفریق در تفریق کا خاتمہ کرنا ہے ، اپنے اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر برداشت اور تحمل سے کام لینا ہے، اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنے کا عزم کرنا ہے، ان کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو پاکستان کا باوقار شہری سمجھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مل کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے، آج کے دن اس پیغام کو ہر جگہ پھیلانا چاہئے کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب کو مل کر قائد کے پاکستان کو عظیم تر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا بھی یوم پیدائش ہے، اس وجہ سے بھی اس دن کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم کا اقلیتوں کے حوالے سے یہ بیان ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور فروغ ہماری اولین ترجیح ہے، یہ پاکستان کے برابر کے قابل فخر شہری ہیں، ان کی فلاح اور ترقی ہمارے ایجنڈے کا بنیادی نقطہ ہے۔

    وزیراعظم نے پاکستان میں بسنے والی اقلیتی برادری کو یقین دلایا کہ آپ کا تحفظ بہبود ، خوشحالی اور ترقی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر کرسمس نغمے پیش کرنے والے بچوں کو سراہا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شرکا کے ساتھ مل کر کرسمس کیک بھی کاٹا اور کرسمس نغمہ پیش کرنے والے بچوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

    سیالکوٹ: یوم قائداعظم اور کرسمس کے موقع پر ریسکیو 1122 کا ہائی الرٹ

    کرسمس کے حوالے سے جنوبی پنجاب کے مختلف گرجا گھروں میں تقریبات

    ڈسکہ پریس کلب میں قائداعظم کی سالگرہ اور کرسمس کا پروقار تقریب منعقد کی گئی

  • بانی پاکستان  قائداعظم محمد علی جناح کی آج 76 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی آج 76 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی آج 76 ویں برسی منائی جا رہی ہے، سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا، ہزاروں افراد آج ان کے مزار پر حاضری دے رہے ہیں اور فاتحہ خوانی کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں اپنے آبائی شہر سے کیا۔ اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ 1896 میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس لوٹ آئے،محمد علی جناح پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ اور وطن واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم کا شمار برصغیر کے مایہ ناز قانون دانوں میں کیا جانے لگا تھا۔

    قائد اعظم محمد علی جناح نے ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے الگ ریاست قائم کرکے برصغیرکا نقشہ تبدیل کر کے انگریز اور کانگریس کو تنہا شکست دی، قائد اعظم محمد علی جناح نے گاندھی اور نہرو جیسے گھاگ سیاستدانوں کو سیاسی میدان میں مات دی، لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے، اپنوں کے گِلے دور کئے اور انہیں پاکستان کی جدوجہد میں شامل کیا۔

    برصغیر واپسی کے بعد قائداعظم نے سیاست میں باضابطہ طور پر حصہ لیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس کا حصہ بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ جماعت برصغیر کے تمام باسیوں کی نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔

    قائداعظم نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی مگر امید کا دامن نہ چھوڑا اور کانگریس کے ساتھ بھی کام کرتے رہے لیکن جب احساس ہوا کہ بٹوارے کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو مسلمانوں کیلئے علیحدہ ریاست کیلئے دن رات ایک کردیا کانگریس کی ہندو نواز پالیسیوں سے تنگ آکر بالآخر 1920 میں قائداعظم نے کانگریس کو خیرآباد کہہ دیا اور آخری سانس تک مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ سے وابستہ اختیار کر لی۔

    اسی جماعت کی چھتری تلے ہی قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیا قیام پاکستان کے بعد قائداعظم اس پاک وطن کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اور 11 ستمبر 1948 میں وفات تک اس عہدے پر تعینات رہے۔

    قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دِلایا۔آزادی کے بعد بکھرے ہوئے پاکستان کو مستحکم کرنے کیلئے قائداعظم نے آخری حد تک کوششیں کیں لیکن زندگی نے زیادہ موقع نہ دیا،پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہش مند تھے۔ لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔

    اپنی وفات سے پہلے قوم کے نام پیغام میں مستقبل کا راستہ، قائد اعظم نے ان الفاظ میں بیان کیا کہ "آپ کی مملکت کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، اب آپ کا فرض ہے کہ اس کی تعمیر کریں قائداعظم محمد علی جناح کا انتقال 11 ستمبر 1948 کو کراچی میں ہوا اور آج ان کی 76 ویں برسی منائی جا رہی ہے،قائد اعظم کی برسی کے موقع پر ان کے مزار پر قرآن خوانی ہوگی، بانی پاکستان کی برسی کے موقع پر بدھ کو مزار قائد پر گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ۔ مسلح افواج کے نمائندے،وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ، میئر سمیت سول و عسکری حکام حاضری دیں گے اور فاتحہ خوانی کریں گے-

  • قائد اعظم کی اسرائیل کے معاملے پر رائے سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں

    قائد اعظم کی اسرائیل کے معاملے پر رائے سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےکہا ہےکہ ‘دو ریاستی حل’ ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک انٹرویو میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ "دو ریاستی حل” ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے، قائد اعظم نے اسرائیل کے معاملے پر جو رائے دی تھی اس سے اختلاف کرنا "کفر” نہیں ہوگا فلسطین کے دو ریاستی حل کی تجویزپاکستان یا میں نے نہیں دی، فلسطین کا دو ریاستی حل دنیا دے رہی ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہم نے دیا۔

    نگران وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ایک بیان میں کیا کہ یہ صرف قائداعظم کی نہیں علامہ اقبال کی بھی پوزیشن تھی جو کہ عدل، انصاف، بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھی اور ہے،یہ بھی غلط ہے کہ پوری دنیا ایسا کہہ رہی ہے، دنیا میں اس موضوع پر کئی آرا پائی جاتی ہیں، صرف مغربی بلاک امریکی قیادت میں یہ راگ الاپ کر اپنے جرائم کی سزا فلسطینوں کو دینا چاہتا ہے۔
    https://x.com/SenatorMushtaq/status/1735235655741870585?s=20
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی پوزیشن کو تبدیل کرنےکا اختیار کسی نگران وزیراعظم کو نہیں ہے، پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں ہوئی اور نہی ہی کسی منتخب حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی ہے، ایک نگران وزیراعظم کیسے دو ریاستی حل کی پالیسی دے سکتا ہے اور وہ بھی اس حالت میں کہ وہاں پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں، اس موقع پر دو ریاستی حل کی بات زخموں پر نمک پاشی ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ میں برطانوی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی سفیر زیپی ہوٹو ویلی نےکھلے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کو غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا، بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہےاسرائیل آج یہ جانتا ہے اور پوری دنیا کو بھی یہ جان لینا چاہیےکہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنی ریاست قائم نہیں کرنا چاہتے، جس طرح آج بھی فلسطینی اسرائیلی ریاست کے بغیر اپنا نقشہ اور نعرہ اونچی آواز میں پیش کر رہے ہیں کہ وہ ‘من النہر الی البحر’ اپنی ریاست چاہتے ہیں، اسی طرح یہی ہمارا موقف ہےکہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو سکتی۔

  • ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوارالحق کا کہنا ہے کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے، ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے 75ویں یوم وفات پراپنے پیغام میں نگراں وزیراعظم بے کہا کہ ہم قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں،ان کی قیادت کےبغیرآزادریاست کاخواب پورانہ ہوتا، آئین قائداعظم کے 14نکات کی نمائندگی کرتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل دورسےگزررہاہے اور ہمیں قائد کے اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے آئیں عہد کی تجدید کریں کہ ہم اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    نگران وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم کی زندگی اصول پسندی، آئینی جدوجہد، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے اصولوں کا عملی نمونہ تھی، قائد کے پاکستان میں کسی کو لسانی، طبقاتی، مذہبی اور عددی بنیادوں پر فوقیت حاصل نہیں۔

    قائد اعظم کے درجات کی بلندی کی دُعا کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑنے مزید کہا کہ سب کومل کرپاکستان کی ترقی کیلئےمحنت کرنی ہوگی-

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • اور پشین گوئی سچ ثابت ہوگئی ، یہ پشین گوئی کس نے کی اور کس کے بارے میں کی ، جانیئے اس خبر میں‌

    اور پشین گوئی سچ ثابت ہوگئی ، یہ پشین گوئی کس نے کی اور کس کے بارے میں کی ، جانیئے اس خبر میں‌

    لاہور : تاریخ میں ایسےواقعات اکثر ملتےہیں‌ جن میں بڑی بڑی پشین گوئیوں کی صداقت کے بارے میں انکشافات کیے گئے تھے ، پھر دنیا نے دیکھا وہ پشین گوئیاں سچ ثابت ہوئی ایسے ہی ایک پشین گوئی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں کی گئی ، سوانح حیات جناح کری ایٹر آف پاکستان کے مصنف ’ہیکٹر بولیتھو‘ کے مطابق محمد علی جناح کے دائیں پاﺅں پر پیدائشی نشان دیکھ کر ایک بزرگ نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہوکر برصغیر کا بےتاج بادشاہ ہوگا،

    پاکستان کے ایک معروف قومی روزنامے کے مطابق یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور انہوں نے انگریزوں سے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ملک پاکستان حاصل کیا ۔قائد اعظم محمد علی جناح کا پہلے پہل داخلہ ایک پرائمری اسکول میں کروایا گیا لیکن ننھے جناح کا زیادہ وقت کھیل میں گزرتا تھا۔یہ سلسلہ بھی دو ماہ سے زیادہ نہ چل سکا۔

    شیلا ریڈی لکھتی ہیں قائد اعظم کی والدہ نے شرط رکھی کہ لندن جانے سے قبل محمد علی جناح کو شادی کرنا ہوگی۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب’مائی برادر‘ میں لکھتی ہیں کہ اپنے فیصلے خود کرنے والے جناح نے شاید یہ پہلا اور آخری فیصلہ کسی اور کی مرضی سے کیاتھا۔

    وہ اپنی ماں کا کہا نہیں ٹالتے تھے۔کاروباری رموز سیکھنے کی غرض سے لندن جانے والے جناح نے قانون پڑھ کر آگیا اور پھر وہ محمد علی جناح واقعی برصغیر کے بے تاج بادشاہ بن گئے ، اس ایک مرد مجاہد نے کئی محاذوں پر سکھوں ، ہندووں اور انگریزوں کا مقابلہ کرکے ہمارے لیے پاکستان حاصل کیا

  • 11ستمبر 1948 رات 10 بج کر 20 منٹ پر اس قوم کے قائد اپنے خالق حقیقی سے جاملے

    11ستمبر 1948 رات 10 بج کر 20 منٹ پر اس قوم کے قائد اپنے خالق حقیقی سے جاملے

    لاہور : اس قوم کے قائد ، برصغیرکے مسلمانوں کے قائد ، جنہیں‌ قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے تاریخ یاد رکھے گی 11 ستمبر 1948 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، رپورٹ کے مطابق مملکت ِخداداد پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے ، مسلمانوں کے حقوق اورعلیحدہ وطن کے حصول کے لئے انتھک جدوجہد نے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کئے۔

    قائداعظم کی تاریخ پر نظر رکھنے والے مورخین کا کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو سن 1930 میں انہیں ٹی بی جیسا موزی مرض لاحق ہوا جسے انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقاء کے علاوہ سب سے پوشیدہ رکھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتحال میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور آپ کو دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں ناکام ثابت ہورہیں تھیں

    مورخین لکھتے ہیں کہ قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹرکرنل الٰہی بخش اوردیگر معالجین کے مشورے پر وہ چھ جولائی 1948 کو آب و ہوا کی تبدیلی اورآرام کی غرض کے لئے کوئٹہ تشریف لے آئے، جہاں کا موسم نسبتاً ٹھنڈا تھا لیکن یہاں بھی ان کی سرکاری مصروفیات انہیں آرام نہیں کرنے دیں رہیں تھیں لہذا جلد ہی انہیں قدرے بلند مقام زیارت میں واقع ریزیڈنسی میں منتقل کردیا گیا، جسے اب قائد اعظم ریزیڈنسی کہا جاتا ہے

    طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کو گیارہ ستمبر کو انہیں سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی ذاتی گاڑی اورایمبولینس انہیں لے کرگورنر ہاؤس کراچی کی جانب روانہ ہوئی۔ بد قسمتی کہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظارکیا گیا۔ شدید گرمی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اورقوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح کی موت بھی بڑی عجیب تھی ، کوئٹہ سے کراچی وارد ہونے کے دوگھنٹے بعد جب یہ مختصرقافلہ گورنرہاؤس کراچی پہنچا توقائداعظم کی حالت تشویش ناک ہوچکی تھی اوررات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دارِفانی سے رخصت فرما گئ

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں