Baaghi TV

Tag: قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی

  • علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی نے کراچی میں پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری بیان میں علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور واٹر کارپوریشن نے 16 سال میں پانی کی ایک بوند کا اضافہ نہیں کیا، واٹر کارپوریشن کے نکمے اور نااہل افسران پانی کے فراہمی کے بجائے رشوت ستانی میں لگے ہوئے ہیں، عوام مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، ہائیڈرنٹس پر پانی دستیاب ہےمگر نلکوں میں نہیں آرہا، پانی کی قلت سے عوام ذہنی ازیت کا شکار ہیں،قائد حزب اختلاف نے فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی قلت ناقابل برداشت ہے.واضح رہے کہ کراچی کے اکثر علاقوں میں پانی کی قلت بحرانی شکل اختیار کرگئی، مہنگائی کے مارے لوگ پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔کراچی واٹر کارپوریشن نے بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر گزشتہ ہفتے چار دن کیلئے پانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود اولڈ سٹی ایریاز، لیاری، کھارادر، لانڈھی، نارتھ ناظم آباد اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی تاحال بند ہے۔پانی نہ ہونے کے باعث گھریلو معمولات بری طرح متاثر ہیں اورلوگ گھریلو استعمال کا پانی بھی ٹینکرز کے ذریعے خریدنے پر مجبور ہیں۔

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

    12سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث تیسرا ملزم بھی گرفتار

  • ایم کیو ایم کے ہر رکن نے اپنے حلقے کے 3 اسکولوں کی ذمہ داری لے لی، علی خورشیدی

    ایم کیو ایم کے ہر رکن نے اپنے حلقے کے 3 اسکولوں کی ذمہ داری لے لی، علی خورشیدی

    ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نےسندھ کے تباہ حال اسکولوں کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھالی ہے، ہر رکن اسمبلی نے اپنے حلقے کے تین اسکولوں کو گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے محکمہ تعلیم سندھ نے اراکین اسمبلی سندھ کے اسکول گود لینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔علی خورشیدی کا کہنا ہے سندھ میں تعلیم کے نظام کو ٹھیک کرنے کی اشدضرورت ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے شروع دن سے تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین اسمبلی کا اپوزیشن میں رہتے ہوے اسکولوں کو گود لینا انقلابی اقدام ہے۔واضح رہے کہ صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے ارکان اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے حلقے کے اسکولز ایڈاپٹ کرنے کی دعوت دی تھی، ارکان اسمبلی کی طرف سے اسکولز ایڈاپٹ کرنے کے لئے تجاویز جمع کروانے کا سلسلہ شروع ہونے اور ضروری کارروائی کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس عمل کو Minister Initiative for Adoption of School پروگرام کا نام دیا گیا ہے، پروگرام کا مقصد سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری اسکولوں کی نگرانی اور ان کو مزید فعال کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہے، اس ضمن میں ارکان سندھ اسمبلی کی طرف سے آنے والی تجاویز کے مطابق حلقے کے اسکولوں کی نگرانی ان کے حوالے کردی گئی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں کراچی 74 اسکولز کو 32 ارکان سندھ اسمبلی کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، کراچی کے اسکول ایڈاپٹ کرنے والے قائد حزب اختلاف و ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے علی خورشیدی کے علاوہ ایم پی ایز سید محمد عثمان، معید انور، محمد عامر صدیقی، فیصل رفیق، محمد دانیال، محمد دلاور کے علاوہ ایم پی اے ریحان، فہیم احمد، شیخ عبداللہ، نصیر احمد، سید اعجازالحق، ریحان اکرم، عبدالوسیم، عبدالباسط، عادل عسکری، محمد افتخار عالم بھی اسکول کی ذمہ داری لینے والوں میں شامل ہیں، کراچی سے منتخب اسمبلی ارکان نے محمد معاذ محبوب، محمد مظاہر عامر، جمال احمد، شریف جمال، نجم مرزا، شوکت علی، ارسلان پرویز، فرحان انصاری نے اسکولز کو ایڈاپٹ کرلیا ہے، جبکہ مہیش کمار ہسیجا، انیل کمار، سمیتا افضال، سکندر خاتوں، فرح سہیل، قرت العین، بلقیس مختار بھی اسکول سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔

    آئینی ترمیم پر مشاورت جاری، حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے، خالد مقبول صدیقی

    بچوں کی اسمگلنگ کا کیس، صارم برنی کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ

  • سندھ حکومت کا صوبے کے سکول اراکین اسمبلی کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا صوبے کے سکول اراکین اسمبلی کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے صوبے کے سکول اراکین اسمبلی کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کرلیا، جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان سندھ حکومت کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کے سندھ اسمبلی ممبران کو لکھے گئے خط پر مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں صوبائی وزیر تعلیم نے ارکان اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے حلقے کے سکول اڈاپٹ کرنے کی دعوت دی تھی، اس کے بعد ارکان اسمبلی کی طرف سے سکولز اڈاپٹ کرنے کے لیے تجاویز جمع کروانے کا سلسلہ جاری ہے، درخواست پر ضروری کارروائی کے بعد محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری سکولوں کی نگرانی اور ان کو مزید فعال کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہے، ارکان سندھ اسمبلی کی طرف سے آنے والی تجاویز کے مطابق حلقے کے سکولوں کی نگرانی ان کے حوالے کردی گئی ہے، پہلے مرحلے میں کراچی 74 اسکولز کو 32 ارکان سندھ اسمبلی کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے سکول اڈاپٹ کرنے والوں میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے علاوہ ایم پی ایز میں سید محمد عثمان، معید انور، محمد عامر صدیقی، فیصل رفیق، محمد دانیال، محمد دلاور شامل ہیں، ایم پی اے ریحان، فہیم احمد، شیخ عبداللہ، نصیر احمد، سید اعجازالحق، ریحان اکرم، عبدالوسیم، عبدالباسط، عادل عسکری، محمد افتخار عالم نے بھی سکول کی ذمہ داری لی ہے، محمد معاذ محبوب، محمد مظاہر عامر، جمال احمد، شریف جمال، نجم مرزا، شوکت علی، ارسلان پرویز، فرحان انصاری نے سکولز کو اڈاپٹ کرلیا، مہیش کمار ہسیجا، انیل کمار، سمیتا افضال سید، سکندر خاتوں، فرح سہیل، قرت العین، بلقیس مختار بھی سکول سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ حیدرآباد سے 3 ارکان اسمبلی صابر حسین، محمد راشد خان اور ناصر حسین قریشی کو اڈاپٹیشن پروگرام کے تحت 11 سکولز کی نگرانی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، ٹھٹہ اور سجاول کے 9 سکولز کو 2 ایم پی ایز نے اپنی نگرانی میں سنبھال لیا ہے، ٹھٹہ اور سجاول سے ارکان اسمبلی سید ریاض حسین شاہ شیرازی اور ہیر سوہو کی درخواست پر سکول کی نگرانی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، ارکان اسمبلی کی طرف سے آنے والی درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے، ضروری کارروائی کے بعد سکول اڈاپٹیشن کے نوٹیفکیشن کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    نمبر گیم پوری،پی ٹی آئی اراکین اغوا،کیا عمران خان رہا ہوں گے؟

  • ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ناراض ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے لئے ترقیاتی فنڈز کا اجرا نہ ہونے پر ایم کیو ایم ناراض ہے، طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد میں پیشرفت نہ ہونا بھی وجہ تنازع ہے۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے ن لیگ کے ساتھ اتحاد پر سوال اٹھا دیئے۔علی خورشیدی نے کہا کہ کارکنان، ووٹر، سپورٹر پوچھ رہے ہیں وفاق میں اتحادی ہونے کا کیا فائدہ ہے، کراچی کی ترقی کے لئے وفاقی حکومت نے توقعات کے مطابق کردار ادا نہیں کیا، لگتاہے کہ سندھ کو ترقی کی دوڑ سے دور نکال دیا ہے۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے ذاتی ایشوز نہیں کراچی کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

    گھر سے بھاگنے والی 3نابالغ بچیاں انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئیں

    واضح رہے کہ سندھ میں اور کراچی بلدیہ عظمی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باعث ایم کیو ایم کو فنڈ کے اجرا میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث پارٹی نے کئی دفعہ معاملہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے ساتھ اٹھا یا ہے.

  • قائد حزب اختلاف سندھ کی اراکین کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری

    قائد حزب اختلاف سندھ کی اراکین کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری

    قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی نے قائداعظم کے یوم وفات کے موقع پر متحدہ قومی موونٹ پاکستان کے اراکین سندھ اسمبلی کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علی خورشیدی نے مزار قائد پر حاضری کے موقعے پر کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو ان کی 76 ویں برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اپوزیشن لیڈر قائد اعظم نے 14 اگست 1947 کو ایک سیاسی معجزہ کرکے دکھایا،آج کے دن ہمیں قائد اعظم کی تعلیمات اور ریاستِ پاکستان کیلئے اُن کے وژن کو سمجھنے کی ضرورت ہے،قائد اعظم محمد علی جناح کا وژن ہی ہمیں ایک خودار قوم بنا سکتا ہے.

    واضح رہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے الگ ریاست قائم کر کے برصغیر کا نقشہ تبدیل کر کے انگریز اور کانگریس کو تنہا شکست دینے والی تاریخ ساز شخصیت قائدِ اعظم محمد علی جناح کی آج 76 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کا انتقال 11 ستمبر 1948ء کو کراچی میں ہوا اور آج ان کی 76 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

  • اسکول میں بچے تو نہیں بھینسیں پہنچ گئیں!

    اسکول میں بچے تو نہیں بھینسیں پہنچ گئیں!

    قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا دادو کے گرلز ہائی اسکول غریب آباد کا اچانک دورہ

    پی ٹی آئی رہنما رجب شاہانی، غلام حیدر سیال، عامر ابڑو و دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ اسکول کھلنے کے اعلان بعد اسکول میں بچے نہ پہنچے سینکڑوں بھینسیں پہنچ گئیں۔

    کروڑوں کے بجیٹ سے بننے والا دادو کا اسکول مویشیوں کے باڑی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ کچھ ماہ قبل بھی حلیم عادل شیخ نے اسکول میں مویشیوں کی نشاندہی کی تھی۔جس کے بعد اسکول مویشیوں سے خالی کروایا گیا نااہلی کے باعث دوبارہ مویشی اسکول پہنچ گئے۔
    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے سندھ کے نااہل وزیر کی وجہ سے تعلیم تباہ ہوچکی ہے۔ تعلیم سب کے لئے کا قانون ہونے کےباوجود سندھ میں ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ میں ہزاروں اسکول مویشوں کے باڑوں اور وڈیروں کی اوطاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ سندھ کے ستر فیصد سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ اور ان کی نااہل ٹیم سندھ کو تباہ کر رہی ہے۔ کرونا کے بعد اسکول کھل گئے ہیں آج ہم یہ چیک کرنے آئے تھے۔ اسکول میں بچے تو نہ پہنچ سکے البتہ مویشی ضرور پہنچ گئے ہیں۔ آج ہم یہاں دادو سے مویشیوں کو علامتی طور پر نکالتے ہیں سندھ بھر کے اسکول مویشیوں سے خالی کروائیں گے۔ سعید غنی کو ایوارڈ دیا جائے بچوں کو پڑھانے کے بعد اب بھینسیں بھی پڑھا رہے ہیں۔ نااہل ٹیم کے سربراہ بلاول زرداری بھی نااہل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان پی ڈی ایم کی تحریک سے فارغ ہوگئے ہوں تو تھوڑا دھیان ادھر بھی دے دیں۔ سندھ کے وسائل کو لوٹ کر مسائل پیدا کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان وفاق کے خلاف بغلیں بجانے کے بجائے سندھ کی عوام کے مسائل حل کرائیں۔ کرپش، چوری ، لوٹ مار کرنے والے موجودہ حکومت میں بچ نہیں سکتے حساب دینا ہوگا۔

    سندھ میں کرمنل گورنرس اور چوروں کی حکومت چل رہی ہے۔ خیرپور تھانے میں دلہہ دلہن کو اٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ دو لاکھ نہ دینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دلہہ دوران حراست فوت ہوگیا۔ پیپلزپارٹی پولیس کے ڈنڈے پر حکومت چلا رہی ہے۔ سندھ میں کرپٹ افسران کو دوبارہ نوکریاں پر لگا دیا گیا۔ سندھ میں گورنمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ جاتے جاتے تمام رہ جانے والے غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے ان افسران کو ہٹانے کے بجائے ترقیاں دے دی ہیں۔ حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے سندھ کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کو ہم نے کہہ دیا ہے سندھ کی عوام کو رلیف دلوائیں گے پ پ نے تباہ کر دیا ہے۔ سندھ میں 13 سالوں میں 7 ہزار 88 ارب روپے سندھ حکومت نے خرچ کئے۔ 16 سو ارب روپے صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے گئے۔ 12 سو ارب روپے کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں آچکا ہے۔

    اگر اتنی رقم خرچ ہوجاتی تو آج سندھ گل گلزار ہوتا۔ آج سندھ میں صحت، تعلیم سمیت تمام بنیادی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں۔ ایمبولنس تک عوام سے دور رکھی گئی ہیں۔ اسمبلی میں ایسی قانون بنانے گئے جس سے ان کو اپنا فائدہ تھا۔ اعجاز شاھ کو پروموشن دی گئی ان کے لئے ایک الگ قانون پاس کروایا گیا۔ بچل راھوپوٹو سمیت اپنے فرنٹ مینوں کو پروموشن دی گئی۔ ای اینڈ رولز کے تحت کرپٹ افسران کو سندھ سے خاتمہ ہونے والا ہے سندھ کے افسران ہوشیار رہیں وزیر اعلیٰ کے غیر قانونی کام نہ کریں۔ وزیر اعلیٰ جانے والے ہیں افسران کو یہیں رہنا ہے ۔ 15 گریڈ کے افسران کو ڈسٹرکٹ اکائونٹ افسران لگانے کے لئے وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے۔ جس میں زیادہ تعداد باجاریوں اور راہوپوٹو کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ تاریخ کے نااہل وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے ترجمان وفاقی حکومت کی فکر چھوڑیں سندھ حکومت کی خیر منائے۔ وزیر اعظم کے حکم کے منتظر ہیں کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک لاکر سندھ سے پ پ حکومت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ سندھ کے وسائل کو لوٹ کر مسائل پیدا کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔